دور تک آسماں ۔ مریم روشن
مسجود ملائک خود اپنی خواہشات کے آگے ڈھیر ہو جائے، ازلی دشمن کو اس سے بڑھ کے اور کیا چاہیے ؟سکرین کے ساتھ ڈوبتے ابھرتے دل کی کہانی
سبزے نے زمین کو دھانی ، کاہی رنگوں کی چادر پہنا دی تھی، جو کہیں کہیں سے سرک کر نیچے چھپا بھورا رنگ دکھا دیتی ۔ ایک جانب لگے پودوں میں سے جامنی چمکتے بینگن جھانک رہے تھے ۔ درمیان میں پانی کی چھوٹی سی کھائی، پھر گندم کی نرم کونپلیں سر اٹھائےکھڑی تھیں ۔ ان کے بیچوں بیچ ایک پگڈنڈی گزرتی جس کے ساتھ ساتھ زرد پھولوں سے سجے لوکی کے پودے مسکرا رہے تھے۔ کھیتوں میں ٹھہرے پانی کی خوشبو پا کر فضا میں اونچی اڑان بھرتے پرندے کچھ لمحے نیچے اتر کر اپنی پیاس بجھاتے اور تازہ دم ہو کر پھر محو سفر ہوتے۔
آرزو وہیں نیم کے درخت تلے چارپائی پہ گاؤتکیہ سے کمر ٹکائے بیٹھی تھی ۔ فطرت کے حسین مناظر کو اپنے اندر اتارتی ، پلنگ پر بچھی سبز ، لال ، سیاہ رنگوں سے سجی رلی پر انگلیاں پھیرتی، جو ہر ٹانکے کے ساتھ ایک کہانی کہتی تھی۔ برسوں پہلے سنا تھا کہ سیاہ فام غلام عورتوں نے آزادی کی چادریں بنی تھیں، جن پر سلے نشان…

