بتول کا تعارف

Idara Batool:

The aims and objectives of Idara Batool (Trust) are to publish, print, edit, promote, maintain and support educational and literary material in the form of books, booklets and periodicals. The purpose of these endeavors is to disseminate knowledge that enable to lead a purposeful life, promote positive thinking, and spread a message of peace among the members of society.

Founders:

Inaugurated in 1957, Idara Batool has a prestigious history of social and literary service spread on nearly three-quarters of a century. The venture took a start when a group of literary-minded friends mindful of the need to spread the message of truth and peace as Muslims decided to establish a publishing house; The aim was to provide reader-friendly material for women in Pakistan, a large majority of whom was engaged in their house-hold routines devoid of good knowledge resources that could enhance knowledge and help in personal development to lead a purposeful life. They also aimed to create constructive and educative material for children who are the future of Pakistan. Hameeda Begum was the founder of Idara Batool along with other founding members namely Rakhshanda Kaukab, Nayyer Bano, Bintul Islam, Zohra AbdulWaheed, Surrayya Asma, and Nusrat Mehmood. Idara is pursuing its noble mission with the same zeal and commitment as of its founders up till today.

Periodicals:

Under the auspices of Idara Batool, the monthly magazine Batool is being published since 1957. It is the only literary magazine in Pakistan benefitting the readers without intermission since its inception. The same is true for Noor which is another monthly magazine by Idara aimed at young children aged 12 years and below. From the very first day these magazines are run by passionate volunteers, committed to the purpose and objectives of the Idara, and anxious to promote literature that enlighten the minds and souls of the readers.

Monthly Batool:

ماہنامہ بتول زندگی بخش ادب کا ترجمان، اور ادب کے ذریعے معاشرے میں مثبت اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں ہے

Monthly Batool aims to serve Urdu literature through original and creative pieces of writing in all genres especially afsana. ghazal, nazm, safarnama,tanz-o-mizah and rudad etc. It also includes columns on religious knowledge, social issues, current affairs and life skills. Columns on review of books and literary critique are also a regular part of the contents. In the age of commercialism, Batool is honored with the volunteer association of all the dedicated writers. Along with the regular contributions of the seasoned writers, it has a special place for the writing ambitions of novice writers. That is why it is home to hundreds of passionate beginners, most of them women, who took a start from Batool and are still associated with it as established writers. Along with a wide circle of subscribers in Pakistan, Batool is read by Urdu reading population in India and diaspora community all over the world.

Editors:

Hameeda Begum was also the founding editor of Monthly Batool. The subsequent editors were Rakhshanda Kaukab, Bintul Islam, Safiya Sultana, Salma Yasmeen Najmi, and Saeeda Ahsan consecutively.

Current Editorial Board:

Surayya Asma, Asia Rashad (Chief Patrons) Saima Esma (Editor)

Monthly Noor:

Noor consists of Urdu compositions aimed at children of age 12 years and below. It includes material in the form of short stories, poems and anecdotes that generate interest of young children and hone their reading skills. The purpose of these compos is to inculcate good values in them and grow them into useful, positive-minded members of society.

Founding Editors:

Bintul Islam
Saeeda Ahsan
Bint e Mujtaba Meena

Current Editor:

Zirwa Ahsan

Publications:

Since being founded, Idara is home to publication of hundreds of authored, edited and volumed books and booklets on a variety of topic. It accepts manuscripts which abide by the purpose of Idara and can grab a market for having an appeal to the reader.

بتول کا تعارف

: ادارہ بتول

ادارہ بتول (ٹرسٹ) کے اغراض و مقاصد میں کتب، کتابچوں اور رسائل کی صورت میں تعلیمی اور ادبی مواد کی اشاعت، طباعت، تدوین، ترویج، تحفظ اور معاونت شامل ہے۔ ان تمام کاوشوں کا مقصد ایسے علم کو عام کرنا ہے جو بامقصد زندگی گزارنے میں معاون ہو، مثبت طرزِ فکر کو فروغ دے اور معاشرے کے افراد کے درمیان امن و آشتی کا پیغام عام کرے۔

بانیان

ء1957 میں قائم ہونے والا ادارہ بتول سماجی اور ادبی خدمت کی تقریباً پون صدی پر محیط ایک باوقار تاریخ رکھتا ہے۔ اس سفر کا آغاز اس وقت ہوا جب ادب سے شغف رکھنے والے چند احباب نے، بحیثیت مسلمان حق اور امن کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے، ایک اشاعتی ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس کا بنیادی مقصد پاکستان کی خواتین کے لیے ایسا مفید، بامقصد اور آسان فہم مطالعاتی مواد فراہم کرنا تھا جو ان کے علم میں اضافہ کرے، شخصیت سازی میں معاون ہو اور انہیں ایک بامقصد زندگی گزارنے میں مدد دے۔ اس دور میں خواتین کی ایک بڑی تعداد گھریلو مصروفیات میں مشغول تھی اور معیاری علمی و مطالعاتی وسائل تک ان کی رسائی محدود تھی۔

بانیان کا ایک اہم مقصد بچوں کے لیے بھی تعمیری، تربیتی اور علمی مواد تیار کرنا تھا، کیونکہ بچے پاکستان کا مستقبل ہیں۔

حمیدہ بیگم ادارہ بتول کی بانی تھیں۔ دیگر بانی اراکین میں رخشندہ کوکب، نیر بانو، بنت الاسلام، زہرہ عبدالوحید، ثریا اسماء اور نصرت محمود شامل تھے۔

ادارہ بتول آج بھی اپنے بانیان کے اسی جذبے، عزم اور وابستگی کے ساتھ اپنے اس اعلیٰ مقصد کی تکمیل کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

رسائل

ادارہ بتول کے زیرِ اہتمام ماہنامہ بتول 1957ء سے مسلسل شائع ہو رہا ہے۔ یہ پاکستان کے ان منفرد ادبی رسائل میں شامل ہے جو اپنے آغاز سے اب تک بلا تعطل قارئین کی علمی و ادبی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

اسی طرح ادارے کا ایک اور ماہنامہ نور ہے، جو بارہ سال اور اس سے کم عمر بچوں کے لیے شائع کیا جاتا ہے۔

اپنے آغاز ہی سے ان رسائل کی اشاعت ایسے پُرجوش رضاکاروں کے تعاون سے جاری ہے جو ادارہ بتول کے اغراض و مقاصد سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ایسے ادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں جو قارئین کے ذہن و روح کو روشنی عطا کرے۔

ماہنامہ بتول

ماہنامہ بتول زندگی بخش ادب کا ترجمان، اور ادب کے ذریعے معاشرے میں مثبت اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔

ماہنامہ بتول کا مقصد اردو ادب کی خدمت اور تمام اہم ادبی اصناف میں معیاری، تخلیقی اور طبع زاد تحریروں کو فروغ دینا ہے۔ ان اصناف میں بالخصوص افسانہ، غزل، نظم، سفرنامہ، طنز و مزاح اور روداد وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ رسالے میں دینی و مذہبی معلومات، سماجی مسائل، حالاتِ حاضرہ اور زندگی گزارنے کی مہارتوں سے متعلق مستقل مضامین اور کالم شامل کیے جاتے ہیں۔ کتابوں پر تبصرے اور ادبی تنقید بھی اس کے مشمولات کا باقاعدہ حصہ ہیں۔

تجارتی رجحانات کے اس دور میں ماہنامہ بتول کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے ساتھ وابستہ اہلِ قلم رضاکارانہ طور پر اپنی ادبی خدمات پیش کرتے ہیں۔ تجربہ کار اور معروف لکھاریوں کی مستقل تحریروں کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور تربیت کو بھی خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سیکڑوں نوآموز قلم کاروں، بالخصوص خواتین، نے اپنے ادبی سفر کا آغاز بتول سے کیا اور بعد ازاں مستند اور معروف لکھاری بننے کے باوجود اس ادارے سے وابستہ رہے۔

پاکستان میں قارئین اور خریداران کے ایک وسیع حلقے کے علاوہ ماہنامہ بتول بھارت کے اردو قارئین اور دنیا بھر میں مقیم اردو داں افراد میں بھی پڑھا جاتا ہے۔

مدیران

حمیدہ بیگم ماہنامہ بتول کی بانی مدیر بھی تھیں۔ ان کے بعد بالترتیب رخشندہ کوکب، بنت الاسلام، صفیہ سلطانہ، سلمیٰ یاسمین نجمی اور سعیدہ احسن نے ادارت کی ذمہ داریاں انجام دیں۔

موجودہ مجلسِ ادارت

ثریا اسماء، آسیہ راشد — سرپرستانِ اعلیٰ
صائمہ اسماء— مدیرہ

ماہنامہ نور

ماہنامہ نور بارہ سال اور اس سے کم عمر بچوں کے لیے اردو میں تیار کردہ تحریروں پر مشتمل ہے۔

اس میں مختصر کہانیاں، نظمیں، دلچسپ واقعات اور دیگر تحریریں شامل کی جاتی ہیں جو بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا کرتی ہیں اور ان کی پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو بہتر بناتی ہیں۔

ان تحریروں کا بنیادی مقصد بچوں میں اچھی اخلاقی اور سماجی اقدار پیدا کرنا اور ان کی ایسی تربیت کرنا ہے کہ وہ بڑے ہو کر معاشرے کے مفید، تعمیری اور مثبت سوچ رکھنے والے افراد بن سکیں۔

بانی مدیران

بنت الاسلام
سعیدہ احسن
بنتِ مجتبیٰ مینا

موجودہ مدیرہ

زروہ احسن

مطبوعات

اپنے قیام سے اب تک ادارہ بتول مختلف موضوعات پر سیکڑوں طبع زاد، مرتب شدہ اور مجلد کتب و کتابچے شائع کر چکا ہے۔

ادارہ ایسے مسودات اشاعت کے لیے قبول کرتا ہے جو ادارہ بتول کے اغراض و مقاصد سے ہم آہنگ ہوں، قارئین کے لیے علمی و ادبی افادیت رکھتے ہوں اور اپنی کشش، معیار اور موضوع کے اعتبار سے قارئین میں مقبولیت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔