بتول اپریل ۲۰۲۲

بزرگوں کی نگہداشت – بتول اپریل ۲۰۲۲

ہمارے بزرگ ہمارے لیے بہت بڑی نعمت، رب کی رحمت اور برکت کا باعث ہیں ، ان کی خدمت بہت بڑی سعادت ہے ۔
اس دنیا میں انسانی زندگی کے مختلف مراحل ہیں ۔ اپنی زندگی میںانسان بچپن ، جوانی ، ادھیڑ عمر اور بزرگی کے مختلف ادوار سے گزرتا ہے(بشرط زندگی ) قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ اے انسان تو کشاں کشاںاپنے رب کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے ‘‘۔
بزرگ جب تک چلتے پھرتے ہیں ، اپنے ہاتھ سے اپنے کام کرنا پسند کرتے ہیں بلکہ دوسروں کے کام بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ عمر کے ساتھ البتہ جو جسمانی تبدیلیاں آتی ہیں ، جن کا زمانہ زندگی کے تیسرے عشرے سے شروع ہو جاتا ہے، اس سے کچھ بیماریوں کا تناسب بڑھ سکتا ہے ۔
Geriatric Careیابزرگوں کی نگہداشت کے ماہرین کے مطابق بڑھاپا دو قسم کا ہے ۔
(۱) Physiolgicalیا قدرتی تبدیلیاں جو عمر کے ساتھ آتی ہیں ۔
(۲)Pathalogical جو کسی بیماری کی وجہ سے بڑھاپے کے اثرات کو بڑھا دیتی ہیں۔
عمر کے ساتھ کچھ تبدیلیاں تو نا گزیر ہیں ۔ بچپن ، جوانی ، ادھیڑ عمر ، پھر بڑھاپا جس میں بچپن کی کچھ عادتیں واپس آجاتی ہیں مگر ان…

مزید پڑھیں

علم روشنی ہے! – بتول اپریل ۲۰۲۲

علم کسی شے کی حقیقت کا ادراک ہے۔علم انسانوں کی زندگی پر بالواسطہ اور بلاواسطہ اثرات مرتب کرتا ہے، کیونکہ وہ کائنات کے اسرار کھولنے اور ان تک رسائی کا وسیلہ ہے۔ علم زندگی کے لیے روشنی اور اسے بلند کرنے کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خاص صفت عقل عطا کی اور علم انسان کی عقل کے لیے غذا کی حیثیت رکھتا ہے۔اور یہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا اہم ذریعہ ہے۔
علم کے اسلام میں بہت وسیع معنی اور مفہوم ہیں۔ہر وہ علم جو نافع ہو وہ اس کے مفہوم میں شامل ہے، اگرچہ وہ مخصوص معنی میں دینی علم نہ ہو۔رسول اللہ ﷺکے قول سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، آپؐ نے فرمایا:
’’جب انسان مر جائے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے؛ صدقہء جاریہ، یا وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جا رہا ہو، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہو‘‘۔ (رواہ الالبانی، ٹحیح الجامع، ۷۹۳)
پس ہر وہ علم جو دین سے متعلق ہو یا دنیا سے، مگر ہو نفع بخش علم تو اس کے حاصل کرنے پر ابھارا گیا ہے۔
قرآن کریم میں ’’علم‘‘ کا لفظ اپنے مشتق حروف…

مزید پڑھیں

عہدِ نبویؐ میں نظام تعلیم – بتول اپریل ۲۰۲۲

عہدِ نبوی ؐ میں نظامِ تعلیم کے مطالعہ سے پہلے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے نظامِ تعلیم پربھی نظر ڈالی جائے۔
زمانہ جاہلیت کے بارے میں ڈاکٹر حمید اللہ اپنی کتاب کے ایک باب’’ زمانہ جاہلیت میں تعلیم ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیںکہ ’’مدرسوںکے معاملے میں کیسے یقین آئے گا کہ اس زمانے میںوہاں نہ صرف تعلیم گاہیں تھیں بلکہ ایسی تعلیم گاہیں تھیں جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوںتعلیم پاتے ہوں۔ بہرحال ابن قتیبہ نے بیان کیا ہے کہ مکہ کے قریب رہنے والے قبیلہ ہذیل کی ضرب المثل فاحشہ عورت ظلمہ جب بچی تھی تو مدرسہ جاتی تھی جہاں اس کا دلچسپ مشغلہ یہ تھا کہ دواتوںمیں قلم ڈال اور نکال کر کھیلا کرے ۔ اس دلچسپ واقع سے اتنا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ قبیلہ قریش کے رشتہ دار قبیلہ ہذیل میں ایسے مدرسے تھے جوچاہے کتنے ہی ابتدائی نوعیت کے کیوں نہ ہوں ان میں لڑکے اور لڑکیاںدونوں تعلیم پانے کے لیے جاتی تھیں ‘‘۔(ڈاکٹرحمید اللہ ،’’ عہد نبوی میں نظام حکمرانی ‘‘ صفحہ نمبر 188)
عکاظ کا میلہ ہر سال اپنی ادبی سر گرمیوں کے لیے خاص شہرت رکھتا ہے ۔ عربی زبان کو معیاری زبان بنانے کے لیے اس…

مزید پڑھیں

پریشان کن حالات سے چھٹکارا حاصل کریں – بتول اپریل ۲۰۲۲

غصہ ، پریشانی ، چڑچڑاہٹ یہ سب ہماری معمول کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ تنازعات ، اختلافات، کام کا دبائو بعض اوقات ہم سب کے لیے پریشان کن ثابت ہوتا ہے۔ خوشی قسمتی سے انسان چاہے تو ان پر بہت حد تک قابو پا سکتا ہے۔ اصل کام یہ ہے کہ آپ ان حالات سے کس انداز میں نمٹتے ہیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ایسا رویہ اختیار کریں کہ حالات بہتری کی جانب بڑھیں ۔ یقینا اُس کے لیے ہمیں ضروری معلومات کے ساتھ عملی طور پر کچھ چیزوں کی مشق کرنا ہو گی۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ پریشان کن لمحات سے باہر آنے کے لیے ماہرین کیا مشورے دیتے ہیں۔
دس تک کی الٹی گنتی
کسی کے ناپسندیدہ عمل پر غصہ آنا فطری ہے۔ جب آپ کو لگے کہ غصے کی کیفیت بڑھ رہی ہے تو سب سے پہلے دس تک الٹی گنتی گنیں۔ اس سے آپ کے احساسات اور دماغ کو کچھ وقت مل جائے گا۔ جب آپ گنتی گن رہے ہوں تو آپ کو تصور کرنا ہو گا کہ ہر عدد کے دوران آپ کے غصے میں کمی آ رہی ہے۔ یہاں تک کہ جب آپ ایک پر پہنچیں تو آپ کے اعصاب…

مزید پڑھیں

تقویٰ کیا ہے؟ – بتول اپریل ۲۰۲۲

رات کے اندھیرے میں ایک صاحب جوتے ہاتھ میں لیے گلی میں سے خاموشی سے گزر رہے ہیں۔ ایک دوسرے صاحب پاس سے گزرتے پہچان لیتے ہیں اور حیرانی سے پوچھتےہیں۔
’’اندھیراہے پاؤں میں کنکر لگ سکتا ہے۔ کیڑےمکوڑے کاٹ سکتے ہیں۔ یہ بے احتیاطی کیسی ؟‘‘
اشارے سے چپ کرواتے سرگوشی میں کہتے ہیں، یہی تو احتیاط ہے۔ صاحبِ سوال کے تجسس پر وضاحت کرتے ہیں ۔
’’رات کا وقت ہے لوگ سو رہے ہیں میرے جوتے کی آواز ان کی نیند خراب کرسکتی ہے‘‘۔
صاحبِ سوال کو تجسّس ہے رات کے اس پہر کہاں جا رہے ہیں۔خاموشی سے پیچھا کرتے ہیں۔ایک بڑھیا کی کٹیا میں انھیں کھانا کھلاتے خدمت کرتے پاتے ہیں۔
یہ صاحب کوئی عام شخص نہیں ،خلیفۃ المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔یہ ان کا تقویٰ ہے جو انھیں ذاتی خطرے سے بے نیاز کر کے لوگوں کی نیند میں خلل نہیں ڈالنے دیتا اور دنیا سے چھپ کر ایک بڑھیا کی خدمت پر ابھارتا ہے۔
تقویٰ کی تعریف عموماً ڈر اور خوف ،پرہیز کرنا،نگرانی کرنا،بچاؤ کرنا ،حفاظت کرنا سے کی جاتی ہے۔لیکن تقویٰ کے لفظ کی گہرائی پر ان میں سے کوئی لفظ پورا نہیں اترتا۔
تقویٰ دراصل بہت ہی پیارا جذبہ ہے۔ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔
ایک انسان کسی شیر…

مزید پڑھیں