نور اپریل ۲۰۲۱

نوری ساتھیو! السلام علیکم۔ جب بچپن میں ہم حساب سیکھنا شروع کرتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے جمع کا قاعدہ سکھایا جاتا ہے کیوں کہ یہ سب سے آسان ہوتا ہے ۔2+2=4 سے شروع کر کے ہم ہزاروں ، لاکھوں اور
حمد ِ باری تعالیٰ ہیں نور کے شرارے شمس و قمر ستارے تیرے حسیں نظارے
ماہ رمضان اور قرآن پاک کا آپس میں گہرا تعلق ہے ۔ کلامِ پاک میں ارشاد ہے: ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ۔‘‘(البقرۃ،۱۸۵)
دن گزرتے جا رہے تھے ۔ اسکپ اب اور بھی غور سے محمدالمصری کے ہر انداز کو پرکھ رہا تھا ۔ اس کا رہن سہن ، بات چیت ، گوں کے ساتھ معاملات ہر چیز گویا اس کے لیے حیرت کے نئے در
مومو نے امی اور دادی جان کو آمنہ کے اسکالر شپ کے امتحان میں پاس نہ ہونے کی خبر دی تو امی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ ’’ آمنہ اسکالر شپ حاصل نہیں کر سکی؟ مگر کیسے ؟ آمنہ تو ہمیشہ ہی اول آتی رہی ہے ۔‘‘ ان کا صدمے سے برا حال تھا۔
’’میں نہیں رکھ سکتی روزہ!‘‘ عائشہ نے ڈرتے ڈرتے اپنی زبان سے یہ جملہ ادا کیا۔ ’’ کتنی بری بات کر رہی ہیں آپ آپی! آج ہی مس نے بتایا تھا کہ روزہ رکھنا فرض ہے۔‘‘ دس سالہ عمر نے اسے دیکھتے ہوئے غصے سے کہا۔
ستمبر1947 کی ایک سرد رات تھی ، میں اپنے خیمے میں لیٹا ہوا تھا ۔ ہم چند لا وارث بچے تھے جن کے ماں باپ آزادی کے سفر میں کھو گئے تھے۔ ہمیں مختلف قافلوں کے ساتھ شامل کر کے
گاڑی فراٹے بھرتی ابو ظہبی کی طرف رواں دواں تھی ۔پھوپھا جان ہمیں جامع مسجد شیخ زاید کی چیدہ چیدہ خصوصیات بتا رہے تھے۔’’ یہ مسجد دنیا کی دس بڑی مساجد میں سے ایک
بی گوبھی کے گھر کافی چہل پہل تھی کیوں کہ اُن کے دوست جاپان سے آ رہے تھے۔ بی گوبھی نے تمام سبزیوں کو اپنے گھر دعوت دے رکھی تھی تاکہ اُن کے نئے دوست کو خوش آمدید کہا
وہ ایک خوبصورت باغ تھا ۔ جہاں طرح طرح کے پھول کھلتے تھے ۔ جن میں بھینی بھینی خوشبو تھی ۔ اس باغ میں ایک بڑا سا نیم کا گھنا درخت تھا ۔ اس درخت کی ایک شاخ پر شہد کا بڑا
پیارے بچو! بہت عرصہ گزرا ایک گائوں میں تین چوہیاں رہتی تھیں ۔ ایک کا نام ’’ چک چکیسر‘‘ دوسری کا ’’ راہ رہیسر‘‘ اور تیری کا’’ دھان دھنیسر‘‘تھا۔ وہ تینوں آپس میں سگی بہنیں تھیں
کرونا وطن میں جب سے آیا ہے کرونا مسلسل پڑ رہا ہے ہم کو رونا
سردیوں کی یخ بستہ رات میںزیبانہ جانے کن سوچوں میں گم تھی۔ سب سورہے تھے اور وہ اکیلی جاگ رہی تھی۔بسترپہ لیٹےلیٹے وہ سوچ رہی تھی کہ کاش میں کوئی حسین پری ہوتی۔ جودل چاہتاکرتی۔ کھاتی، پیتی، مزے اڑاتی اور سکول سے بھی جان چھوٹ جاتی ۔یہی کچھ سوچتے سوچتے وہ نیند کی وادی میں کھو گئی۔
شاہ زیب اور سلیمان اپنے والد شاہنواز صاحب کے ساتھ چڑیا گھر کی سیر کو آئے تھے۔ جب سے انھوں نے سنا تھا کہ چڑیا گھر میں بہت سے پرندے اور جانور ہوتے ہیں ، تو ان کا دل انھیں دیکھنے کو مچل رہا تھا ۔ان کے شہر میں چڑیا گھر نہیں تھا ۔اُن کے والد نے وعدہ کیا تھا کہ
٭ استاد : بتائو جہلم، راولپنڈی اور پشاور کہاں ہیں ؟ شاگرد: ’’ مجھے کیا معلوم ماسٹر صاحب ۔ اپنی چیزیں آپ خود سنبھال کر رکھا کریں ۔‘‘
دن بہ دن بڑھتی ہوئی آلودگی زندگی کے لیے خطرہ بنتی جارہی ہے ۔ ایک طرف توجنگلی اور آبی حیات ختم ہورہی ہے، دوسری طرف نت نئی بیماریاں انسان کوکھوکھلا کررہی ہیں اور یہ
ایکتھا بادشاہ اس کی ایک ہی بیٹی تھی ۔شہزادی بہت زیادہ گوری تھی اس لیے بادشاہ نے اس کا نام بیانکا(بالکل سفید) رکھ دیا۔شہزادی کو اپنے گورے رنگ
’’ ارے بیٹا!اب بس بھی کرو ۔ کب سے چکر لگا رہے ہو ۔‘‘ حماد کی امی نے اسے ٹہلتے ہوئے کہا۔حماد جوبہت دیر سے کمر میں ادھر سے اُدھر ٹہل رہ
نماز دین اسلام کا نگینہ نماز زندگی کے لطائف کا قرینہ نماز قربِ الٰہی کا وسیلہ نماز گناہوں کی بخشش کا حیلہ نماز
؁ٔآپ نے پوچھا فارعہ حسن عمر ۔نارووال س: آپ خوش قسمت ہیں یا بد قسمت، اس کا فیصلہ کون کرتا ہے ؟ تے تھے کہ ہم سے زیادہ ستم رسیدہ اورکوئی
اللہ بخش درزی محسن ابڑو پنجتنی اللہ بخش کی شروع سے ہی پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ والد صاحب بہت سمجھاتے تھے کہ بیٹا

فہرست     اللہ کے نام سے آپ کی باجی (حمد(نظم ظفر محمود احمد قرآن اور ہم ام حبیبہ روشنی کا سفر نزہت وسیم رم جھم لاج مدیحہ نورانی انعام انعام توصیف بدلتا آسمان غلام زادہ نعمان صابری جامع مسجد شیخ زاید ریان سہیل بینگو میاں آئمہ بخاری بھن بھن مکھی ڈاکٹر الماس روحی چک […]