پہچان ۔ بشریٰ تسنیم
اللہ رب العزت نے ہر شے کو پیدا کیا اور اس کو مخصوص شناخت،یا پہچان عطا کر دی۔ ہر چیز اپنی شناخت اور پہچان ہی کے دم سے قائم ہے۔ ہر شے کا وجود اسی وقت تک قابلِ ذکر ہے جب تک اس کی شناخت زندہ ہے۔ کائنات کا ذرّہ ذرّہ اپنا وجود، اپنی پہچان اور اپنے تشخص کا داعی ہے۔ آسمان کا وجود ان گنت اسرار و رموز سے وابستہ ہے۔ کچھ نظر آنے والے اور بہت کچھ نظر نہ آنے والے شہود ہی اس کی شناخت ہیں۔ دیکھنے والے کی نظر کے محدود یا لامحدود ہو جانے کے ساتھ ساتھ آسمان و کائنات کی شناخت بدلتی جاتی ہے۔ یہ نظر کے زاویے ہی ہیں جو دل کے سمندر میں اٹھنے والے طوفان کو افلاک سے جا ملاتے ہیں۔
آفتاب اپنی حرارت اور روشنی سے ممیز ہے۔ ماہتاب، ٹھنڈی روشنی،نور، خوبصورتی کے اسرار سے موسوم ہے۔ ستارے اپنی معصومیت، جگمگاہٹ، راستہ کی نشان دہی کرنے کی شناخت پر نازاں ہیں۔ پھول،پھل، پودے، شجر، حجر، صحرا، موسم، دریا، پہاڑ، پانی، ہوا، سب اپنی شناخت رکھتے اور اس کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ کائناتِ رنگ و بو میں ہر شے اپنی حقیقت کو جانتی ہے اور اسی کے مطابق اپنی راہ پہ…

