تمھارے دم سے ہمیں بھی اذنِ حیات اب تک ملا ہو&ٔا ہے خزاں کے موسم میں دل کے اندر گلاب سا اک کھلا ہوا ہے وفا شعاری وجاں نثاری کی سب مثالیں ہیں تم پہ نازاں شہِ زمانہ کی بےحسی کا خراج تم نے اداکیا ہے ڈرون حملوں کاوار جس نے بس اک چھڑی سے […]
نبیلہ کوفتوں کا سالن دم پر لگا کر دوسرے چولہے پر پسندوں کی کلیا کی طرف متوجہ ہوئی جواکلوتے لاڈلے وجاہت کی فرمائش تھی ۔ کوفتے گھر بھر کی پسند سہی مگر اسے قطعاً ناپسند تھے۔ابھی ساتھ میں مٹر پلاؤ بھی بنانا تھا۔ چاول دھو بھگو کے رکھےہی تھے کہ موبائل بیپ بجی۔اسکرین پر ’’باجی […]
یہ کون گیا ہے گھر سے مرے ہر چیز کی رونق ساتھ گئی ہوں اپنے آپ سے بیگانہ بے چین ہے پل پل قلبِ حزیں اک سایہ ٹھنڈا میٹھا تھا اک رم جھم سی برسات گئی کیا تپتا جیون سامنے ہے ہر لطف وکرم کی بات گئی لیکن یہ جس کے اذن سے ہے وہ […]
میری نانی امی حفصہ سعید میری نانی جان، ’’صدیقہ‘‘ میری امی ہی تھیں کیونکہ میں نے ان کی گود میں ہی آنکھ کھولی اور پرورش پائی۔ نانا جان محمد عمر کی وفات کے بعد جب نانی امی کا جوان اکلوتا بیٹا ’’محمد فاروق عمر‘‘ اچانک حادثے میں خالقِ حقیقی سے جا ملا تو یہ صدمہ […]
گمنامی کی چادر اوڑھے دکھلاووں کے بیچ کھڑی ہوں اندر کوئی چیخ رہاہے نقلی ہیں سب رنگ و روغن ہر منظر میں سلگا جیون سونا سونا دل کا آنگن پریت کی آشا پریم کا بندھن ریزہ ریزہ خواب کا مدفن لیپا پوتی کے پیچھے اب جتنا کچھ ہے روپ نگر میں کھنڈر، بنجر ،ویرانی ہے […]
بہتات درد کو سہنا مشکل تھا یا بے دردی کو جسم وجاں پہ بیتنے والے دونوں ہی آزار بہت تھے (کچھ تو گھاؤ کے بھر جانے میں ساماں بھی درکار بہت تھے) زہریلی سی آب و ہوا میں خوابوں کے کچھ پھول کھلے تھے اور رستے پر خار بہت تھے درد کا دارو کیا مل […]
وبا کے دو گزشتہ برسوں کی یاد میں کچھ احساسات نظم ہوئے) مکالمہ تو خدا سے تھا بس خدا کے عہدِ وفا سے تھا بس قبولیت تھی اسی کے آگے اور اس سے ہٹ کےجو بات بھی تھی اسی تسلسل کا مرحلہ تھا اسی تکلم کا سلسلہ تھا جو التجا تھی جو مشورہ تھا سوال […]
نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بلندیِ خیال میں،جواب میں سوال میں وفا کے ہرکمال میں، عمل کے ہرجمال میں عروج میں ،زوال میں غرض کسی بھی حال میں ہیں آگہی کاراستہ، وہی حبیبِ کبریا منازلِ شعور میں، محافلِ سرور میں دل و نگہ کے نور میں ، فضائلِ وفور میں جلالِ کوہ طور […]
برف رتوں کا المیہ گھروں کے آنگن ،دلوں کے دامن ،تمام ڈیرے ہوس کی دہشت نے ہیں بکھیرےکئی بسیرے کہر میں لپٹی ہوئی فضا میں نہ جانے کتنی ہی سسکیاں ہیں لہو جماتی یہ جاں گھلاتی ہوا میں کیسی خموشیاں ہیں جدائیوں کے جو المیے ہیں وفاکی قسمت کچل رہے ہیں خنک شبوں کی طوالتوں […]
’’ارے یہ کیا ؟ گرمیوں کے کپڑوں پہ اتنا اہتمام ؟بھئی ہم تو لان کے سوٹ پہ کوئی بیل یا لیس نہیں لگاتے ….خواہ مخواہ کی فضول خرچی‘‘ ۔ رضیہ خالہ نےماتھے پہ بل ڈال کر سامنے والی خاتون کو دیکھ کر کہا ۔ ویسے ان کے علاوہ بھی کئی خواتین لان کے سوٹ پہ […]
لک تیرے غلام ہیں سر کو- جھکائے ہم در پہ ترے کھڑے ہوئے نظریں اٹھائے ہم مانا کہ زندگی کے ستم بےشمار ہیں اور بندگی میں راہ کے پتھر ہزار ہیں لیکن تیری عطا کے ہی امیدوار ہیں آنکھوں سے آنسوؤں کے ہیں موتی لٹائے ہم مشکل بڑی ہے یارب اس عہدِ جدید میں ہم […]
سنہرے گنبد سے اپنارشتہ تو اس قدر ہے خدا نے رکھی جہاں پہ برکت یہی وہ در ہے گئے تھے آقا فلک کی جانب یہی تو وہ جائے معتبر ہے ہزار نبیوں کو جس نے پالا یہی وہ گھر ہے حصارِ جوروجفا جہاں اب سواہوا ہے بہت ہی ملعون وحشیوں میں گھرا ہوا ہے زمینِ […]
گیت کیا سناؤں میں ،شادماں نظاروں کا غم زدہ سے موسم میں خوش بیاں نظاروں کا تلخ سی حقیقت میں قہقہوں کے افسانے کھوکھلی سی جدت میں لذتوں کے دیوانے روشنی کی قیمت میں جل رہے ہیں پروانے ماجرا تو ایسا ہے بس ٹھہر کے دیکھو تو واسطہ تو ایسا ہے آنکھ بھر کے دیکھو […]
یہ میرے ہونے کا اک پتہ ہے ہر اک سفر میں ہراک خطر میں جوتھام لیتا ہے بن کے رہبر کبھی یہ دھیرے سے لاج رکھ لے،کبھی بنا ہے یہ سرکی چادر جو نوعِ انساں کودے تمدن،عطائے رحمت ہے جو سراسر یہ میرے ہونے کاایک پتہ ہے ہراک تعلق کاراستہ ہے یہ معجزہ جوہر عہدکاہے […]
درد کی رفاقت میں بے طرح کی شدت ہے بے کسی کے ہاتھوں میں چیختی ہے تنہائی منتظر زمانوں میں مضطرب فسانوں میں وحشتوں کے پہرے ہیں اور بہت ہی گہرے ہیں جسم وجاں بھی گھائل ہیں،یاسیت پہ مائل ہیں دل کشی کے منظر بھی ہرقدم پہ زائل ہیں بے حسی کے نرغے میں بے […]
مبارزت ہے لعینِ دوراں! مبارزت ہے (مگر کدھر سے؟) گھرے ہوئے غم زدہ نگر سے نہیں وسیلہ جنھیں میسر نہ کوئی سامانِ جنگ حاصل جو اپنے گھر میں ہوئے ہیں بے گھر جو رزم گاہوں میں ہیں مسلسل ادھورے پن میں بھی ہیں مکمل نہتے لوگوں کے دستِ بےکس میں سنگ پاروں کا اسلحہ ہے […]