2022ءکے آخری مہینوں کی بات ہے آپا زہرہ وحید صاحبہ سرپرست ادارہ بتول کی زیر صدارت زوم پرمیٹنگ طے ہوئی ۔ اُن کی بیٹی راحیلہ کو خصوصاً تاکید کی گئی کہ اُن کو لازمی شرکت کروائیں۔ آپا جی چونکہ اپنی شدید علالت کی وجہ سے آنے سے قاصر تھیںلیکن اُن کے بغیر پروگرام کے انعقاد […]
آہ ڈاکٹر عبد القدیر خان (ڈاکٹر ممتاز عمر ، کراچی) وائے قسمت دید کو ترسیں گی آنکھیں عمر بھر بن کے ابرِ خوں فشاں برسیں گی آنکھ عمر بھر آپ کے طوفانِ غم میں ہر سفینہ بہہ گیا اب میری تقدیر میں رونا ہی رونا رہ گیا ڈاکٹر عبد القدیر خان اس عظیم ہستی کا […]
گاڑی فراٹے بھرتی جا رہی ہے ۔ یہ ان کی دس بارہ سالہ زندگی کا پہلا سفر ہے۔ شب ہجر نے چاروں طرف سیاہ چادر تانی ہوئی ہے ۔ بڑے بھیا ، بھابھی اور چھوٹی گڈی سے ڈھائی تین سال بڑی بہن کے ہمراہ سفر کا آغاز ہو چکا ہے ۔ دس سال کا عرصہ […]
پورے گائوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ گھر گھر مٹھائیاںتقسیم ہونے لگیں ۔ چوہدری احتشام نے خزانوں کے منہ کھول دیے۔ حویلی کے بڑے دروازے پر شیریںکے پتوںکا سہرا باندھ دیا گیا جو اس بات کی نشانی تھی کہ چوہدری کے گھر بیٹا پیداہؤا ہے ۔ بچے تو پہلے بھی تھے لیکن یہ […]
حویلی کا آہنی گیٹ دھڑا دھڑ بج رہا تھا ، ڈھول کی تھاپ، گھنگھرئوں کی جھنکار اور تالیوں کی زور دار آوازیں سماعت سے ٹکرا رہی تھیں ۔ جتنا شور باہر تھا اُس سے زیادہ حویلی کے اندر ٹائیگر نے مچا رکھا تھا۔ اُس نے تو پوری حویلی سر پر اٹھا رکھی تھی اُس کا […]
جیسے ہی اطلاعی گھنٹی بجی ،تینوں بڑے بچوں نے دروازہ کی طرف دوڑ لگا دی ، شازیہ نے کچن سے آواز لگائی ’’ کون ہے ؟‘‘ ’’ ماسی بی بی آگئیں ماسی بی بی آگئیں ‘‘بچوں نے جالی والے دروازہ میں سے دیکھ کر کورس میں جواب دیا۔ شازیہ کام چھوڑ تولیہ سے ہاتھ صاف […]
گڈو کی آنکھ نور کے تڑکے ہی کھل جاتی ،سماں ہی کچھ ایسا ہوتا۔ کانوں میں مدھر، دلکش اور مسحور کن ساز اور آوازکی سنگت رس گھولنے لگتی اور پانچ سالہ گڈو کو کوئی غیبی قوت خوابوں سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں کھینچ لاتی ۔ نرم گرم بستر میں دُبکی گڈو آنکھیں پٹ […]
زمین و آسمان پر بہار ہی بہار ہے خدائے مہرباں مرے لیے یہ تیراپیار ہے نکل پڑی ہیں کونپلیں خزاں رسیدہ شاخ پر اثر یہ کس ہَوَا کا ہے، کہاں کا یہ نکھار ہے یہ کہکشاں زمین پر فلک سے آئی ہے اتر ندی رواں ہے نور کی، اندھیرا سوگوار ہے جہاں جہاں نظر اٹھے، […]
للہ بھلا کرے مدیرہ بتول کا جنہوں نے برسوں سے اُبلتے دماغی لاوہ کو قلم و قرطاس کے حوالے کرنے کے لیے ایسا اچھوتا عنوان دیا کہ دل باغ باغ ہو گیا۔ ایسے تمام جذبات، احساسات، تجربات اور اسباق کو ’’ چمن بتول‘‘ کے صفحات پر بکھیرنے کا موقع دینے پر میری طرف سے پیشگی […]
کہانی کے کردار ہماری آنکھوں دیکھے ہیں ۔ کچھ موجود ہیں کچھ ملک عدم کو سدھار گئے ۔ ان میں دیہاتی اور شہری تڑکے کا حسین امتزاج ہے ۔ یہ گائوں کی ’’مچھیاں ‘‘ ( ٹافیاں ) اور شہر کی چاکلیٹ ہیں ۔ پڑھیے، کبھی ہنسیے اور کبھی روئیے ۔ بھائی ماکھا ابا ہندوستان سے […]
’’اّماں، امّاں، جلدی آؤ، دیکھو تو بوا رحیم بی بی نے کیسے اپنے سر پر خاک ڈالی ہوئی ہے……مٹی میں بیٹھی ہیں اور انگلیوں سے مٹی میں لکیریں مار رہی ہیں ……ساتھ ساتھ بڑبڑاتی بھی جا رہی ہیں، میری طرف دیکھ ہی نہیں رہیں‘‘۔ چھوٹی بیٹی جو اپنے بچوں کے ساتھ سسرال سے چھٹیاں گزارنے […]
غزل ہم سفر پھر نئے سفر میں ہیں ہم اسی آرزو کے گھر میں ہیں حالِ دل کی خبر نہ پھیلا دیں وہ جو بے تابیاں نظر میں ہیں بیش قیمت ہیں ہر گہر سے وہ سچے موتی جو چشمِ تر میں ہیں غم نہ کر ان دیوں کے بجھنے پر ساعتیں چند اب سحر […]