2022ءکے آخری مہینوں کی بات ہے آپا زہرہ وحید صاحبہ سرپرست ادارہ بتول کی زیر صدارت زوم پرمیٹنگ طے ہوئی ۔ اُن کی بیٹی راحیلہ کو خصوصاً تاکید کی گئی کہ اُن کو لازمی شرکت کروائیں۔ آپا جی چونکہ اپنی شدید علالت کی وجہ سے آنے سے قاصر تھیںلیکن اُن کے بغیر پروگرام کے انعقاد کا تصور محال تھا ۔ انہوں نے حامی بھر لی اور یہ پروگرام انہی کی زیر صدارت ان کے گھر میں ہؤا جس پر ہم سب بہت خوش تھے ۔ آپا زہرہ نے ہی خاص نکتہ ایجنڈا میں رکھوایا تھا کہ ’’ میں اپنی مستقل علالت اور بیماری کی شدت کی وجہ سے چیئر پرسن ادارہ بتول کی ذمہ داری سے رخصت چاہتی ہوں ، یہ ذمہ داری کسی اور ٹرسٹی کو سونپ دی جائے ‘‘۔
اُن کی موجودگی میں نئے ذمہ دار کا انتخاب عمل میں آیا ، اور یہ طے ہؤا کہ آپا زہرہ تا حیات سر پرست ادارہ رہیں گی اور کام کی نگرانی نئے چیئر پرسن کو دے دی جائے گی ۔ زہرہ آپا نے ہی 2000ء کی دہائی میں چیئرپرسن کی ذمہ داری اٹھائی تھی جبکہ بنت ِ مجتبیٰ مینا مرحومہ کی وفات کے بعد یہ مرحلہ پیش آیا تھا ۔ آپا نے اُس وقت مینا باجی کی بیٹی زہرا نہالہ اور مجھ ناچیز کو اپنی نائب بنانے کا اعلان کیا تھا اور ہم دونوں کوادارہ بتول کا ریکارڈ بھی پڑھنے کے لیے دیا تھا ۔اب آپا نے 2022ء کے آخر میں اسی طرح کا ایک اور اعلان بورڈ کی متفقہ رائے سے کروا دیا تھا کہ اب ادارہ بتول کی چیئرپرسن نا چیز( شاہدہ اکرام) ہوں گی ۔ میں نے اپنی جگہ اور ٹرسٹیز کے نام پیش کیے ، اپنی صحت اورکم علمی و کم مائیگی کا اظہار کیا لیکن میں ناکام رہی ۔ چارو نا چار سب کی دعائوں کی طلب گار بن کر حامی بھری ۔ میری معذرت پر آج زہر ہ آپا خاموش تھیں ۔ حکم پرمیں نے سرتسلیم خم کر دیا ۔ آپا سے میری یہ آخری ملاقات تھی۔
اس سے پہلے تو بہت ملاقاتیں رہی تھیں ۔90ء کی دہائی کے ابتدائی دور سے لے کر اس آخری ملاقات کے دورانیہ میںبے شمار اورمختلف النوع مواقع پر ہم ملتے اوربچھڑتے اور پھر ملتے رہے ۔ سمندر کی لہروں کی طرح ، دریائوں کی روانی کی طرح ، موسموں کی تبدیلی، بہاراورخزاں کے بدلتے رنگوںکی طرح ، ہر ایک موڑ پر زہرہ آپا کو میں ایک نئے روپ میںدیکھتی اورہر زاویہ نگاہ مجھے ایک نیارستہ سمجھاتا اورنیا سبق دیتا رہا۔ انہوںنے نائب صدر کی ذمہ داری دی تو اپنے پاس بلا کر ادارہ بتول کا تاریخی ریکارڈ نہ صرف پڑھایا بلکہ سمجھایا ۔ زہرہ نہالہ کاجب لاہورجانا ہوتا تو وہ بھی آپ کی صحبت سے فیض یاب ہوتی تھیں اورحکمت و دانش کے موتی جھولی بھر بھر لاتیں۔
ایک دفعہ میں اور اُس وقت کی قیمہّ پاکستان ڈاکٹر رخسانہ جبین ، نائب قیمہ عافیہ سرور اور مَیں آپا جی کی خدمت میںحاضر ہوئیں تاکہ تاریخ ادارہ بتول سے آگاہی حاصل کریں ۔ میرے پاس حریم ادب پاکستان کی ذمہ داری تھی اور میں ادارہ کی ممبر بھی تھی ۔ آپا ادارہ کی چیئر پرسن تھیں۔ اُن میں سے کسی ایک نے کہا آپا !آپ تو ماشاء اللہ ساری تاریخ جانتی ہیں ۔ آپا نے فوراً پر اعتماد لہجہ میں جواب دیا ’’ ہم نے تاریخ پڑھ اور سُن کر نہیں جانی بلکہ ہم نے تاریخ بنائی ہے ۔ ہم خود تاریخ میں سے گزرے ہیں، تاریخ کی داستان کا ایک ایک لفظ ہم نے خود اپنے ہاتھوں اور خون پسینہ سے لکھا ہے ، پڑھی سُنی تو آپ لوگوں نے ہے ‘‘ اور میں اپنی پُر نم آنکھوں کے ساتھ رشک و تفاخر سے لبریز ہو کر اُن کو تکتی رہ گئی۔
بلا شبہ وہ ایک مکمل دور اور انوکھی داستا ن تھیں وہ تاریخ بھی تھیں اور تاریخ ساز بھی ، صنفِ نازک ہوتے ہوئے ان کی شخصیت ایک رہنما مثال ہے ۔زندگی کے ہر پہلو میںانہوںنے علم و عمل کے مثالی نمونے چھوڑے ہیں ۔ادارہ بتول میں اگر اُن کا کردار ایک مضبوط ، اصول پسند صائب الرائے اور نڈر ، بے خوف اور دلیر خاتون کی حیثیت کا ہے تو باقی ہر میدان میں ایک سچی مومنہ ، مبلغہ اور مجاہدہ کی حیثیت سے ان کو لوگوںنے دیکھا ہے ۔انہوں نے قرونِ اولیٰ کی ہستیوںکے نقشِ قدم پر چل کر راہوںمیںایسے روشن دیے جلائے ہیں جن سے اندھیرے چھٹے ہیں اورسویرا نمو دار ہؤا ہے ۔ خانگی زندگی ، بھرا پُرا خاندان ، بے شمار تعلقات کے تانے بانے ہمیشہ سلجھائے رکھے ہیں۔ آپا جی کا داعیانہ کردار بھی خوب ہے ؎
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میںعشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
آپا اس شعر کی مصداق تھیں ۔ دنیاوی سود وزیاں سے بے نیاز ، صرف رب کےساتھ کیے گئے سودے پر راضی و مطمئن تھیں ۔ آپا صاحبِ علم و عمل خاتون تھیں ۔ یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ انہیں احادیث اورفقہ پرعبور تھا ۔ اُن کی ایک قریبی عزیزہ عافیہ سرور صاحبہ نے مجھے ایک دفعہ بتایا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کےان مضامین کے پی ایچ ڈی اساتذہ کی چھٹی کے دن کلاس آپا زہرہ لیتی تھیں ۔ ادارہ بتول کی معاونت میںآپا جی کے رفیق زندگی عبد الوحید خاں مرحوم کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ وہ ادارہ کے شعبہ دفتری اُمور کے نگران تھے اور یوںآپا کی کارکردگی کئی گنا بڑھ جاتی تھی۔
آپا بے حد مہمان نواز اور دل کی سخی تھیں ۔نہ کوئی سوالی خالی جاتا اورنہ ضرورت مند ، سب اپنی جھولیاں بھر کر لے جاتے ، چاہے مادی ضرورت ہو یااخلاقی ،اُن کے گھر اوردل کے دروازے ہمہ وقت کھلے رہتے تھے۔ وہ سخاوت کا بحرِ بیکراں تھیں ۔ اپنا سب کچھ انہوں نے اپنے دین کے لیے وقف کیا ہؤا تھا ۔ یہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا ۔ اولاد کے لیے بھی علم و عمل کا ورثہ چھوڑ کر گئی ہیں۔ وہ صاحب خیر اورصاحبِ دل خاتون تھیں۔ ہمیشہ گِرتوں کو اُٹھانے والی تھیں ۔مایوسی اُن کوچھو کر نہ گزری تھی ۔ وہ نیکی کا ایسا سمندر تھیں جوخزانوں سے بھرا ہؤا تھا ۔ اُصول و ضوابط کی پاسداری کرنے والی ایسی مضبوط خاتون تھیں کہ کوئی بھی ان کے ساتھ ان پہلوئوں پر سمجھوتہ نہ کر سکتا تھا ۔ خواہشات و جذبات کو آڑے نہ آنے دیتی تھیں چاہے کوئی بھی قربانی دینا پڑے ۔مجھے ایسا تجربہ اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے اپنی صدارت ادارہ بتول کے دوران ایک پروگرام رکھا۔ تحریر ی تجاویز پہلے مانگی گئیں ساتھ تاکید لکھی کہ فلاںتاریخ تک آنے والی تجاویزکو پروگرام میں ڈسکس کیا جائے گا ۔ بوجوہ میری تجاویز تاریخ مذکورہ سے دیر سے پہنچیں جبکہ میںخود حاضر تھی۔میرے پاس نائب صدر کی بھی ذمہ داری تھی ۔ اب آپا باقی ممبران سے بات چیت کر رہی تھیں اورمیری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھ رہی تھیں۔ کوشش کے باوجود آپا نے میرا خط نہ پڑھا نہ سُنا نہ پروگرام میں رکھا گیا ۔ خفگی صاف ظاہر تھی۔ یہ سوچ بھی دماغ میں ہلچل مچا رہی تھی کہ ہائے کیا ہوجائے گا اگر میرا خط پڑھ لیاجائے ، اتنی ساری تجاویز لکھ کربھیجی ہیں، خود بھی تو آگئی ہوں…. مگر کیا مجال کہ شنوائی ہو۔
آج سوچ رہی ہوں کہ آپا کو میرے اوپر مان تھا ، محبت تھی اور نظر انداز کرنا اُن کا اصول تھا ۔ وہ مجھے بھی اورباقی سب کو بھی یہ سبق دینا چاہتی تھیں ، یہ تربیت کرنا چاہ رہی تھیں کہ خواہشات و جذبات مقدم نہیںہوتے ، اُصولوں کو نہیںان کو قربان کیا جاتا ہے ۔ آفرین ہے آپا آپ پر ! اُس وقت تو میں سمجھ ہی نہ سکی کہ آپ نے مجھے کعب بن مالک ؓ کا سبق یاد کرایا تھا ۔میںقربان جائوں ان کی حکمت پر۔
کیا لوگ تھے جو گزر گئے ، زہر ہ آپا بھی رخصت ہو گئیں ، سرخرو ہوگئیں ۔ ادارہ بتول کو اکابرین کے ساتھ مل کر لمحہ بہ لمحہ سینچا، اس کو نرسری سے گلستان بنایا ، اُن کی قربانیوںسے ہی وہ پھل پھول دینے کے قابل ہؤا۔ وہ داغ مفارقت دے گئیں اور اس کی باگ ڈور دوسروںکے حوالے کرگئیں۔
آپا کی لغت میںمشکل اور مسئلہ کا لفظ نہ تھا بلکہ اُن کے حل کے لیے بے شمار راستے موجود ہوتے تھے ۔ وہ نا ممکن کوممکن بنانے کا فن جانتی تھیں۔90ء کی دہائی میںہم نے منصورہ آڈیٹوریم میں حریم ادب پاکستان کے تحت ایک پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ دعوت نامہ جاری کیا گیا۔ اُس وقت یہ ذمہ داری مجھ ناچیز کے پاس تھی ۔جن ہستیوںکوہم نے مہمانان خصوصی بنایا اُن میں بنت مجتبیٰ میناؔصاحبہ اور سعیدہ احسن صاحبہ تھیں۔ادب کے یہ ماہ پارے زمین پر اپنی آب و تاب دکھا رہے تھے۔ مینا باجی بتول کی نگران ، ادارہ بتول کی صدر ، سعیدہ احسن صاحبہ نور کی مدیرہ اور ادارہ کی ممبر تھیں ۔ دونوں صاحبِ فراش تھیںچہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ آپ لوگوںنے رات کے جس وقت کا انتخاب کیا ہے وہ دونوںبیمار خواتین بالکل نہیں آ سکیں گی۔ ہم تو پریشان ہوگئے ، زہر ہ آپادم اورخم ٹھونک کرمیدان میںآئیں ، ہمیں حوصلہ دیا اور یقین دلایا کہ لڑکیو! تم اپنا کام اورتیاری جاری رکھو، ان دونوںمعزز ہستیوں کولانا اور چھوڑنا میرے ذمے ہے ۔لوجی ! ہم تو بھول ہی گئے کہ کبھی پریشان تھے ، اور تب دیکھا جب یہ ماہ پارے منصورہ آڈیٹوریم میںکہکشاں بن کر اُتر آئے تھے ۔ صائمہ اسما میزبانی کر رہی تھیں، مجھے افتتاحی گفتگو کے لیے بلایا جا رہا تھا ، پورا سٹیج جگ مگ جگ مگ کر رہا تھا ، ثریا اسما ساتھ بیٹھی تھیں اور پورے پنجاب سے آنے والے ذوق و شوق سے اپنا اپنا کلام سنا رہے تھے ۔ان کے ہوتے ہوئے سٹیج پر ہمارے جلائے ہوئے ننھے دیے ماند پڑ گئے تھے۔ہم نے یہ سہانا منظر اپنی نم آنکھوںسے دل کے نہاں خانہ میں اُتار لیا ۔
زہرہ آپا ! اللہ آپ کی قبر کو نور سے بھر دے ۔ یہ میری تحریر تو ایک قطرہ کے برابر بھی نہیں ہے آپ پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ، لکھا جائے گا ان شاء اللہ ، آپ بھرپور زندگی گزار کر گئی ہیں، آپ پر ہر پہلو سے بہت لوگ لکھتے رہیںگے مگراصل لکھائی تو وہ ہے جو آپ اپنے ہاتھوں سے لکھ کرجا چکی ہیں، جوثبت ہو چکی ہے ، وہاں پہنچ چکی ہے ۔ وہ مٹائے نہ مٹے گی ، دنیا میںعمل کی کھیتی بن کرپھلتی پھولتی رہے گی، نسلوںمیں چلے گی۔ آپ اپنے ابدی گھر جا چکیں ، آپ کے پیچھے نیکی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آپا ! آپ سے جلد ملاقات ہو گی ان شاء اللہ ، اللہ کرے جگہ بہترین مقدر ہو جائے ملاقات کے لیے … اللہ کرے… اللہ کرے… آمین۔
٭٭٭