دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو – گلِ رعنا مسعود تحریر : آسیہ راشد

کوئی تبصرہ نہیں

فی سبیل للہ ٹرسٹ کا قیام محنت ، عزیمت، استقامت کی قابل تقلید داستان ہے ۔ یہ ان درد دل رکھنے والوںکی کہانی ہے جو بنی نوع انسان کی بہتری اورخدمت کے لیے اپنے شب و روز کا آرام تج کے صرف اور صرف اللہ کی رضا اورانسانیت کی بھلائی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دیتے ہیں ۔ اس ٹرسٹ کی بانی آپا زہرہ وحید صاحبہ بلا شبہ انتھک محنت ، ہمت اور خلقِ خدا کی خدمت کا استعارہ تھیں۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب 1970ء کی دہائی میں بہت سے محب الوطن پاکستانی مشرقی پاکستان سے ہجرت کر کے پاکستان آگئے ۔ یہ لوگ بہاری کہلائے ۔ ان کی رہائش کے لیے حکومت پاکستان نے لاہور میں ایک جگہ مختص کی یہاں بہاریوں کے لیے گھر بنائے جائیں گے۔ یہ علاقہ ٹائون شپ اور گرین ٹائون کے درمیان واقع ہے ۔اس زمین پر جماعت اسلامی نے 5،5مرلہ کے تین سو گھر تعمیر کیے اوریہ جگہ بہاری کالونی کہلائی ۔ اس علاقے میں آپا جی نے بہاریوں کی امداد ان کی صحت اور تعلیم و تربیت کے حوالے سے بہت کام کیے ۔ جومہاجر یہاں آتے وہ بے شمار بیماریوںمیںمبتلاہوتے جن میں سر فہرست ٹی بی ، پیٹ کے کیڑے ، آنکھوںکی بیماریاں اورجلدی امراض شامل تھے۔
آپا زہرہ ڈاکٹر عائشہ قیوم کو جن کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا ساتھ لے کر بہاری کالونی جاتیںاور وہاں کی تنظیم کی مدد سے لوگوں کودوائیاںدی جاتیں اور ساتھ ہی درس و تدریس کا سلسلہ بھی شروع کیا ۔ ان کے ساتھ بیگم عامر اور ساجدہ صاحبہ بھی ہوتیں ۔یہ دونوں خواتین انسانیت کی خدمت سے سرشار دل رکھتی تھیں ۔ جب تک ان میں ہمت رہی یہ ہر محاذ پر آپا کے ہمراہ رہیں۔
ان دنوں زہرہ آپا اپنی ساتھی آپازبیدہ بلوچ کے پاس 51فیروزپور روڈ ان کی رہائش گاہ پرتشریف لے جاتیں ۔ میں ان دنوں آپا زبیدہ بلوچ سے قرآن کاترجمہ پڑھ رہی تھی انہی کے توسط سے میرا ان سے تعارف ہؤا ۔آپا زہرہ نے مجھے اپنے ساتھ ملنے کی دعوت دی ۔ میںبھی خلق خدا کی خدمت کرنا چاہتی تھی اس لیے فوراً حامی بھر لی اوران کے ساتھ بہاری کالونی جانا شروع کر دیا۔ میرے میاںان دنوں دوائیوں کا کام کرتے تھے ۔ ہمیں تیس فیصد ڈسکائونٹ پر دوائیاں مل جاتی تھیں ۔ میرا بیٹا لوہاری گیٹ سے جا کر دوائیاں لاتااورہم دوائیاں میڈیکل باکس میںڈال کر بہاری کالونی جاتے ۔ آپا وہاں سے ٹی بی کےمریضوں کو ڈھونڈڈھونڈ کر اپنی گاڑی میںبٹھاتیں اورانہیںگلاب دیوی ہسپتال میں داخل کرواتیں۔ وہاں کی ٹی بی فائونڈیشن کی مدد سے ان کا علاج کیا جاتا ۔ سوشل ویلفیئر آفیسر خالدہ بٹ بھی آپا کی مدد کرتیں ہم ایک بار جماعت اسلامی کی سربراہ عائشہ منور کو بھی گلاب دیوی کا وزٹ کروانے لے کر گئے تھے ۔ گلاب دیوی ہسپتال کی ڈاکٹر فہمیدہ ، ڈاکٹر طلعت ، اورڈاکٹرشگفتہ نے آپا کے ساتھ بہت تعاون کیا ۔
آپا کی عادت تھی کہ وہ ہر ایک کو بہت اہمیت دیتی تھیں جو انہیں ایک بارمل لیتا ان کاگرویدہ ہو جاتا ۔ میںایک بار بہاری کالونی کے متاثرین کے لیے دس دس روپے کے نوٹوں کی گڈی لے کر گئی اورآپا سے کہا آپ یہ رقم مہاجرین میں بانٹ دیں تو انہوں نے مجھے کہا تم خود یہ رقم اپنے ہاتھوں سے بانٹو۔ان کے کہنے پر میں نے وہ رقم اپنے ہاتھوں سے تقسیم کی۔
انہی دنوںڈاکٹر ثمین ذکا فلاح وبہبود کے کام کرنا چاہ رہی تھیں انہیںمخلص دوستوں کی تلاش تھی ۔ انہیںکوئی درست سمت نہیںمل رہی تھی ۔ انہوںنے ایک روز آپا جی بنت الاسلام جو ان کی عزیزہ تھیں سے ذکر کیا کہ اس معاملے میںان کی رہنمائی کریں توانہوںنے کہا آپ آپا زہرہ وحید صاحبہ سے رابطہ کریںوہ ویلفیئر کے بہت کام کرتی ہیںاوریوں ڈاکٹر ثمین ذکا بھی اس قافلے میں شامل ہوگئیں۔
میںنے آپا کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔ آپ بلا شبہ انتھک محنت کرنے والی خاتون تھیں ۔ وہ کبھی کسی کام سے گھبراتی نہیں تھیں ۔ انہوں نے اپنے مسائل کوکبھی رکاوٹ نہیںبنایا تھا اور نہ ہی ذہنی طورپر اپنے اوپر مشکلات کو حاوی ہونے دیا تھا ۔ جب تک ہمت رہی کام کرتی رہیں ۔ مجھے یاد ہے ایک بار ہم کہیںگئے ہوئے تھے آپا کا وہاںدرس تھا ۔ اس روزان کی طبیعت بہت خراب تھی۔ زکام ،کھانسی فلو کی شکایت تھی شاید بخار بھی تھا مگر چونکہ کمٹمنٹ تھی لوگ انتظار میںتھے ،وہ وہاںپہنچیں اور درس دیا ۔ پہلے انہوں نے مجھے کہا کہ تم درس دے دو مگر میری تیاری نہیں تھی دوسرے اتنا بڑا مجمع تھا میں کیسے درس دیتی ۔ وہ کسی پر زورزبردستی نہیں کرتی تھیں۔میرے انکار پر انہوں نے خود ہی درس دیا ۔ وہ چاہتیں تو گھر سے ہی نہ آتیںمگر وہ ہمت ہار نے والوںمیںسے نہیں تھیں۔
شیخوپورہ کے ایک گائوں ننکانہ صاحب میں بہت تباہی ہوئی ۔ ہر گائوںآندھی اوربگولے کی زد میں آگیا لوگوں کے گھر وں کی چھتیں اڑ گئیںبے شمار لوگ بے گھر ہوگئے ۔ آپا امدادی سامان لےکر گئیں۔ میںاور ریحانہ رفیق صاحبہ بھی آپا کے ساتھ تھے ۔آپا بہترین منتظم تھیں۔مجھےان کا امداد بانٹنے کاطریقہ بہت اچھا لگا ۔ ان کے ساتھ دو تین ڈرائیور تھے ۔ کسی ایک محلے میںجا کر ڈرائیورلوگ امدادی پرچیاںبنا کر دے آتے اورمستحق اپنی اپنی پرچی لے کر امدادی سامان لے جاتے ۔ اس طرح کبھی کوئی بھگدڑ نہ مچتی اور نہ ہی رش کاسامنا ہوتا۔ یہاں کے لوگوںکودین سکھانے کے لیے آپا جی نے درس دینا شروع کیا ۔ ان کا یہی طریقہ کار تھا جہاں جہاںامدادی سامان لے کر گئیں وہیںوہیں اللہ کے دین کو پھیلانے کی سعی کی۔
اسی طرح شیخوپورہ کے قریب نارنگ منڈی میںبھی آپ کی درس کی کلاس ہؤا کرتی تھی ۔ ایک بچی جس کا نام رقیہ تھا وہ دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی اس علاقے میں ایساکوئی انتظام نہ تھا ۔ آپا جی اس کے والدین کی اجازت سےاسے اپنے ساتھ لاہور لے آئیں اور اسے اپنی ایک دوست شمیم صاحبہ جودلو خوردکی رہائشی تھیں اور وہاں کے گورنمنٹ سکول کی ہیڈمسٹریس بھی تھیں ان کے ہاں ٹھہرایا ۔ شمیم کے ہاںبھی آپا کی کلاس ہؤا کرتی تھی ۔ وہ دینی ذہن کی حامل خاتون تھیں ، بہت عرصے سے آپا کو توجہ دلا رہی تھیں کہ اس علاقے میںمدرسہ کھولیں جہاںتعلیم کے ساتھ ساتھ بچیوں کی تربیت بھی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا میں پانچ مرلے کا ایک رقبہ جس میں چار کمرے بنے ہوئے ہیں مدرسے کے لیے ہدیہ کرنا چاہتی ہوں ۔ اور پھرانہوں نے پانچ مرلے کی وہ عمارت کو ہدیہ کر کے مدرسے کی بنیاد رکھ دی اورنارنگ منڈی کی بچی رقیہ اس مدرسے کی پہلی طالبہ تھی۔
رقیہ کی دیکھا دیکھی اس کے علاقے کی اور بچیاں بھی لاہورآکر پڑھنے کے لیے تیار ہوگئیں۔ اب ان کی رہائش کا مسئلہ تھا۔ اب مدرسے کے ساتھ ہی ہاسٹل بھی بن گیا جیسے جیسے ضرورت پڑتی ویسے ویسے اللہ کی طرف سے انتظامات ہوتے چلے گئے ۔ اس بچی نے اسی مدرسے سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی اس مادرِ علمی میںپڑھانا شروع کر دیا ۔ رفتہ رفتہ طالبات کی تعداد بڑھتی چلی گئی ۔دور دراز کے علاقوںجیسے مری ، مانسہرہ ، ایبٹ آباد اور کشمیر وغیرہ سے بچیاں یہاں تعلیم حاصل کرنےآتی رہیں اورڈگری لینے کے بعد اپنے اپنے علاقوںمیں علم کی شمعیں جلاتی رہیں۔ ان سب نے اپنے شہروں ،قصبوںاور گائوںمیں جا کر مدرسے کھول لیے ۔ ان سب مدرسوں کی نگرانی آپا خود کرتیں۔بنفس نفیس خود جا کر دیکھتیں اپنے مفید مشوروںسے نوازتیں ان کے مسائل حل کرتیں۔ گرمی ہویا سردی انہوںنے کبھی پروا نہیںکی ،کسی چیز کو آڑے نہیںآنے دیا اور اپنا کام جاری رکھا ۔انہی کی فنڈنگ سے یہ سب ادارے چل رہے تھے ۔ انہوںنے تقریباًپچاس کے لگ بھگ سکولوںمدرسوںاورمختلف اداروں کی فنڈنگ کی ذمہ داری اپنے اوپر لے رکھی تھی۔
مدرسہ بہت اچھا چل رہا تھا ۔ آپا نے محسوس کیا کہ اگران بچیوں کو سکول کی تعلیم بھی دی جائے تو ان کے لیے بہتر ہوگا ۔ وہ مدرسے کے ساتھ سکول بنانے کےبارےمیںسوچ رہی تھیں۔ انہی دنوںڈاکٹر نبیہہ حسن (پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج )نے ڈاکٹر ثمین ذکا سے رابطہ کیا ۔ وہ ریٹائر منٹ کے بعد ویلفیئر کے کام کرناچاہتی تھیں۔ ان کی خواہش تھی کہ پسماندہ علاقوں میں معیاری درسگاہ تعمیر کی جائے ۔ فی سبیل ا للہ ٹرسٹ کی ایک میٹنگ میںانہیںمعلوم ہؤا کہ آپا اپنے مدرسے کے ساتھ ایک سکول بھی بنانا چاہ رہی ہیںتو انہوں نے آپا جی کی اس تجویز کوسراہا اوراسکول کی تعمیر کے سلسلےمیں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا اوراس خیال کو فوری طور پر عملی جامہ پہناتے ہوئے دس مرلے جگہ سکول کے لیے خرید کر دے دی ۔ بعد میںٹرسٹ کی ایک اورممبر تسنیم نعیم صاحبہ نے اس پر سکول کی عمارت تعمیر کروائی ۔ انہی دنوں ایک دیندار خاتون فرحت روشن صاحبہ نے مدرسے کے ساتھ ہی’’ روشن مسجد‘‘ کے نام سے ایک مسجد بھی تعمیر کروا دی۔
اس سکول میںچار سالہ عالمہ فاضلہ کے کورس کے بعدبچیوں کو میٹرک کا امتحان دلوایا جاتا ہے ۔ پانچویں جماعت تک لڑکے بھی یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔
آپا جی کے اسکول کے سالانہ جلسے بہت معیاری اور شاندار ہؤا کرتے تھے ۔ ٹرسٹ کے تمام ممبران کو مدعو کیا جاتا ،کسی دینی معروف شخصیت کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا جاتا ۔ ٹرسٹ کے تمام ممبران باری باری قابل طالبات کو انعامات سے نوازتیں جن میں کپ، میڈل اور کتابیں تحفے میںدی جاتیں ۔طالبات بہترین ٹیبلو ،قرأت، نعت ، تقاریر پیش کرتیںجس سے اندازہ ہوتا کہ گائوں اور کچی آبادیوںکی بچیوں کی تعلیم و تربیت کس نہج پر کی جا رہی ہے ۔ ٹیبلو کی تیاری آپا کی بیٹیاںاور ٹیچرز مل کرکرواتیں۔
فی سبیل ا للہ ٹرسٹ کا دوسرا بڑا پراجیکٹ شاہدرہ کا سکول اور کلنیک تھا۔
1988ء میں لاہور میں سیلاب آگیا بہت تباہی ہوئی ۔ آپا جی نے حسب روایت سیلاب زدگان کے لیے بہت کام کیا ۔ آپا کے ہمراہ میںبیگم عامر اورساجدہ ہوتیں ۔ یہ سب خواتین بلا شبہ بہت نڈر اور بہادر تھیںہم سب کشتیوںمیںبیٹھ کر امدادی سامان لے کر پہنچے۔ آپا ان علاقوںمیں جاتیں جہاںحکومتی ٹیمیں پہنچنے سے گھبراتی تھیں۔پانی میں بہت سے حشرات الارض کے ساتھ ساتھ سانپ بھی بہت ہوتے تھے مگروہ بنا گھبراہٹ کے دور دراز کے علاقوں میں پہنچ جاتیںتاکہ مستحق لوگوں کو ہرصورت مدد ملے ۔سیلاب جب آتا ہے تو اپنے ساتھ بہت تباہی لاتا ہے لوگ بے گھر ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوںکے بھی شکار ہو جاتے ہیں۔سیلابی علاقوںمیںاگرچہ پانی نکل چکا تھا مگر انہیں طبی امداد کی ابھی بھی ضرورت تھی ۔ ڈاکٹر خواتین کا ایک گروپ ڈاکٹر ثمین ذکا کی قیادت میںعارضی کلینک لگانےشاہدرہ کے علاقے میںپہنچا تو جس گورنمنٹ سکول کی عمارت میںکلینک لگانا تھا وہاںکا چوکیدار غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے سکول کی عمارت کو تالا لگا کر غائب تھا ۔ سخت سردی کے دن تھے خواتین نے کافی دیر انتظار کیا مگر وہ نہ آیا جن مقامی خاتون نے وہاں ان کے کلینک کا انتظام کیا تھا انہوں نے کسی اور خالی حویلی میں ان کو کو بٹھا دیا مگر وہ جگہ سیلاب کی وجہ سے گیلی تھی اور جس جگہ پر بٹھایاگیا وہاں بھی سیلن تھی گیلی چار پائیوں پر بیٹھ کر مریضوں کا معائنہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ڈاکٹر ز کایہ وفد دل برداشتہ ہوکر واپس آیا اورڈاکٹر ثمین ذکا کے ہاں سبھی لوگ جمع ہوئےاورایک میٹنگ میںیہ طے پایا کہ ہم اس علاقے میں اپنا مستقل کلینک بنائیں گے ۔ لیکن یہ کیسے ہوگا اس بارے میں کسی کو علم نہیںتھا۔
انہی دنوں ڈاکٹر ثمین ذکا کی بیگم نعیمہ جہانگیرسے ملاقات ہوئی بیگم خورشید نیازی پاکستان گرل گائیڈ کی ہیڈ بھی ان کے ہمراہ تھیں دونوں خواتین فلاح و بہبود کے کاموں میں دلچسپی رکھتی تھیں انہوں نے ان کا ساتھ دینے کاوعدہ کیا۔
آپا ان دنوں آپا زبیدہ بلوچ کے ہاں تقریباً روزانہ جا رہی تھیں ۔ دونوں خواتین باہمی مشاورت سے اس نکتے پر سوچ رہی تھیں کہ کیسے لوگوںمیں جہالت کاخاتمہ کیا جا سکے آپا نے کہا کشمیرکے جہاد سے تعلیمی جہاد کرنا زیادہ اہم ہے۔ نوجوان بچیوں کی تعلیم و تربیت سے بڑھ کر کوئی جہاد نہیں ہو سکتا ۔ اس وقت اس کی زیادہ ضرورت ہے ۔
آپاانہی دنوں گلبرگ کے علاقے میں ذکیہ ظفر صاحبہ نیشنل ٹینری والوں کے ہاںدرس قرآن دیا کرتی تھیں ۔ اتفاق سے ان کی بہن آپا اختر ان دنوں کراچی سے آئی ہوئی تھیں ۔ انہیںوہاںمعلوم ہؤا کہ یہ لوگ شاہدرہ میںکوئی سکول کھولنا چاہ رہے ہیں اور ساتھ ہی کلینک بھی بنائیں گے ۔ان کو یہ تجویز بہت پسند آئی اوران کی بیٹی تسنیم نعیم نے شاہدرہ ڈسپنسری کی عمارت کے لیے زمین خرید کر دی ۔ اس خاندان نے لوگوں کی بھلائی کے کاموں کے لیے بہت مالی امداد دی اوربڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالا، شروع شروع میں اس زمین پر ایک کمرہ تھا جس میں کلینک شروع کیا گیا ۔ کسی نے پتھر کی ایک مضبوط میز دے دی جو دوائیاں رکھنے کے کام آتی تھی اورہمارا کام شروع ہو گیا ۔
ڈاکٹر ثمین ، میں ، بیگم عامر اورساجدہ ہم چار لوگ شروع میں جایا کرتے تھے ۔ بعد میں بہت سی ڈاکٹرز ہمارے ساتھ وقتاً فوقتاً جانا شروع ہوگئیں جن میں ڈاکٹرجمیلہ ، ڈاکٹرسعیدہ عظمت، ڈاکٹر راشدہ ، فوزیہ ، ڈاکٹر خورشید ملک ، ڈاکٹر ساجدہ احمد شامل تھیں ۔ ڈاکٹر نبیہہ حسن ایک سال تک ہرماہ میں ایک دن شاہدرہ ڈسپنسری میں وقت دیا کرتیں ۔ پھرسبھی ٹرسٹیز کے تعاون سے سکول کی عمارت بھی بن گئی ۔ سکول کی انتظامیہ میں بہت سے لوگ آئے گئے جن میں شہلا صحاف، فرزانہ ، آسیہ راشد، فاخرہ ، بیگم ریحانہ رفیق، امبر پرویز وغیرہشامل رہیں ۔ذکیہ ظفر صاحبہ نے ایک لال رنگ کی بارہ سیٹوںوالی بڑی گاڑی بہت ہی کم قیمت پر ٹرسٹ کودے دی جس سے آنے جانے کی بہت سہولت ہوگئی ۔بعد میں وہاں سلائی سکول کا بھی آغاز ہؤا جسے آپا کی ایک شاگرد شبانہ چلاتی رہیں ۔ ان سب کے ساتھ آپا شہناز صاحبہ کا ذکر کرنا ناگزیر ہے یہ شاہدرہ کی رہائشی خاتون تھیں ۔ ہرمرحلہ میں انہوںنے ہمارا ساتھ دیا اور ہماری رہنمائی کی۔ انہوں نے اپنے گھر میں سلائی سکول بنایا ہؤا تھا ۔ انہوںنے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا ۔ ہم لوگ جب دوائیاں دینے جاتے تو پہلے مسجد میں اعلان ہوتا اور سب لوگ اکٹھے ہو جاتے اور مریضوں کے معائنے شروع ہوجاتے ۔
اب فی سبیل ا للہ ٹرسٹ میںبہت زوروں سے کام ہو رہا تھا ۔ ہر ممبربڑھ چڑھ کر اس میں مالی تعاون کے ساتھ اپنی خدمات بھی دے رہا تھا ۔ یہ میٹنگ کسی ایک ممبر کے ہاں ہرماہ ہوتی جس میں پورے ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا اور میزبان سبھی ممبران کی بھرپورتواضع کرتا ۔ مجھے آپا سے بہت عقیدت تھی میںان سے متاثر بھی بہت تھی میںنے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ ان کی ذات ہمارے لیے مشعل راہ ہے ۔انہیں دیکھ کر مجھ میں ہمت اور طاقت آجاتی۔
آپا بہت متاثرکن درس دیا کرتیں ۔ ان کے دروس میں بہت اچھی تمثیلات سننے کوملتیں میںانہیںکہتی کہ آپا آپ مثالیں بہت اچھی دیتی تھیں ، انہیں دیکھ کر اورسن کر میںبھی مثالیں دینے لگ گئی تھی ۔
آپا کا ایک اوربڑا پراجیکٹ گلاب دیوی ہسپتال اورچلڈرن ہسپتال میںامدادی کاموں کا ہے ۔یہ دونوں ہسپتال فیروز پور روڈپر واقع ہیںاورسرکاری ہسپتال ہیں ۔ شروع شروع میں جب چلڈرن ہسپتال بنا تو وہاں کی حالت نا گفتہ بہ تھی ۔ آپا نے ان دونوںہسپتالوں میںفرنیچر جس میں بیڈ ، بستر ، کرسیاں، میزیں، پردے ، میڈیکل کا سامان رکھوایا۔ اس سلسلے میں ہماری ٹرسٹ کی ممبرتسنیم نعیم (شفیع ٹینری والے ) نے بھرپور تعاون کیااوردل کھول کرمالی امداد کی ساتھ ہی آپا نے وہاں کی لیڈی ڈاکٹرز کی دینی تربیت کے لیے قرآن کلاس شروع کردی ۔ کچھ عرصہ بعد ناگزیر وجوہات کی بنا کلاس بند کرنی پڑی۔
بیگم نشاط ،مسزانیس ، مسز اکرم کینٹ والی ، بیگم صحاف ، مسز اخلاص ( دہلی سودگران والے ) نے بھرپور مالی تعاون کیا ۔ بہت سے ایسے لوگ بھی ملے جنہوںنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کاوعدہ لیا۔
آپا بے شمار خوبیوں کی حامل تھیں ۔ جو بھی ان سے ایک بار ملتا ان سے جڑ جاتا ۔ہم ان سے بہت بے تکلف تھے ان کی محبت نے ہمیں یہ جرأت دی تھی کہ ہم ہر بات ان سے کر لیتے ۔ جب کبھی ہمیںاچھرہ بازار جانا ہوتا تواگر کبھی نماز کاوقت ہو گیا ہے یا کسی نے واش روم میںجانا ہوتا تو ہم بے دھڑک ان کے گھر چلے جاتے ۔ ان کے گھر کے دروازے ہمیشہ کھلے پاتے ۔انہوں نے کبھی بھی برانہیں منایا ۔ ہم نے انہیں کبھی بھی آرام کرتے ہوئے نہیںپایا ۔ ہمیشہ ہشاش بشاش ہی دیکھا۔
آپا کی اتنی زیادہ دینی و سماجی خدمات ہیں کہ ان کو بیان کرنے کے لیے ایک ضخیم کتاب چاہیے جس میں ان کی تمام کاوشوں کو لکھا جا سکے ۔ اقامت دین ، معاشرے کے سدھار اور انسانیت کی فلاح و بہبودکے لیے انہوں نے بے شمار کام کیے جس کے لیے ہم ان کے احسان مند ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کو شرف قبولیت بخشے اورہم سب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بننے کی توفیق دے اور انہیں جنت کے باغوںمیںداخل کرے (آمین )۔
نذرِ اشکِ بےقرار از من پذیر
گریۂ بے اختیار ازمن پذیر
٭ ٭ ٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp