امی جی جو ہماری نانی جان تھیں، اگرچہ ہماری زندگی کا کوئی بھی پہلو اُن کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں اور ان کی باتوں سے جی نہیں بھرتا،مگر ان کی ذات سے جُڑے اس تعلق پرلکھنا کس قدر مشکل ہو سکتا ہے،اس کا اندازہ نہیں تھا۔ الفاظ ساتھ نہیں دے رہے اور ربط ہے کہ ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک نیوکلئیس جس کے گرد ہماری پوری دنیا گھومتی تھی، وہ ختم ہوگیا، کوئی محرومی سی محرومی ہے ، اور کس میں یارا کہ اس محرومی کو الفاظ میں بیان کر سکے۔
لوگ عام طور پر ماں باپ کے گھر کو میکہ کہتے ہیں مگر میری لغت میں امی جی کا گھر ‘جگت میکہ ‘ہے۔اچھرہ میں اس گھر کی بنیاد مولانا محترم نے رکھی اور اس کا نام دارالعباد طے پایا۔ اور پھر چشمِ زمانہ گواہ ہے کہ کیسے یہ دارالعباد ہمیشہ لوگوں سے بھرا رہا۔ اکرام اور اہتمام اس گھرانے کی اہم ترین خصوصیات ہیں۔ ہم نے ہمیشہ تمام لوگوں کے لیے جو کسی بھی حوالے سے امی جی یا ابا جی (نانا جان اور نانی جان) سے ملنا چاہتے تھے، ایک جیسی توجہ، اکرام، التفات اور اہتمام پایا جس سے ہر ملنے والا باغ باغ ہو جاتا۔یہ گھر امی جی اور اباجی کی ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی بے مثال تاریخ ہے، ایک ایسا گھر جہاں کتنے ہی والدین نے پورے اعتماد سے اپنی بیٹیوں کو رہنے بھیج دیا، جہاں غیر مسلم خواتین نے اسلام قبول کر کے اپنا ٹھکانہ بنایا اور میکے کے پورے مان سے اپنے سسرالوں کو رُخصت ہوئیں۔ کتنی ہی بیٹیاں یہاں مختلف حالات میں مختلف ضروریات کے تحت آ کر ٹھہریں، یہ گھر جگت میکہ رہا اور ہر لڑکی نے یہاں سے ایسا ہی مان پایا اور آج تک یہ تعلق اسی طرح قائم ہے۔ صرف یہی نہیں، جمعیت اور جماعت کے اجتماعات، کارنر میٹنگز ، اجلاس اور دوسری کئی انتظامی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اچھرہ بازار کے کسی بھی کام کے لیے ہمہ وقت ایک آرام گاہ میسر تھی اور آج سے نصف صدی قبل بھی پوری آب وتاب سے ہمہ وقت حاضر تھی۔ یہ گھر، ایک انجمن تھا۔ ایک ایسا مرکزجو دن رات کی تفریق کے بغیر مہمانوں کی کسی بھی تعداد کی مہمانی کے لیے ہمہ وقت تیار تھا ۔ ایک گھر جہاں ہر وقت رونق رہتی اور تقریب کا سا ماحول ہوتا۔ رمضان میں سحری اور افطاری کی رونق اور عام ناشتے اور کھانے سے لے کر خاص دعوتوں اور تقریبات تک ایک خاص ترتیب اور اہتمام جس میں سادگی نمایاں تھی۔ کچھ بھی پُر تکلف نہیں ہوتا تھا مگر اتنا بھرپور ہوتا تھا کہ کوئی تشنگی باقی نہیں رہتی تھی۔اس گھر کی روحِ رواں امی جی تھیں۔
جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام تیرے
اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے
امی جی کے لیے اگر میں ایک اصطلاح آج کی لغت سے اُٹھانا چاہوں گی تو وہ انگریزی میں ’’ونڈر وومن‘‘ہے ۔ اور اس کی اہم ترین وجہ ان کی ہماری زندگیوں میں اتنی بھرپور اور ہمہ وقت موجودگی ہے جو تمام تر کاروبارِ زندگی کے ساتھ ساتھ ہمیشہ رہی۔ زندگی میں کسی کو بھی دیا جانے والا سب سے قیمتی تحفہ ’توجہ‘ اور ’وقت‘ ہے۔ یہ مخاطب کو تکریم کا احساس دیتا ہے۔ یہ احساس امی جی سے جڑے تمام لوگوں کو حاصل ہؤا اور ان کی زندگی کے ہر دور میں سب کو اسی تسلسل کے ساتھ ملا، خواہ یہ چار بچوں کے ساتھ تھا یا تیرہ بچوں کے ساتھ، مگر اس تمام عرصے میں کسی بھی جگہ پر توجہ کی کمی نہیں تھی۔ ہمہ وقت، ہر جگہ موجود اور پوری طرح باخبر۔ گھر میں ہر بچے پر پوری نظر تھی اور باہر بھی اپنے کام پر پوری گرفت تھی۔ گھرداری، میل ملاقات، مہمان داریاں بھی پورے زوروشور سے چلتی تھیں اور سکول، دروس، قرآن کی کلاسیں اور تحریکی مصروفیات بھی اسی آب وتاب سے قائم تھیں۔ اس ہمہ گیریت اور پختگی نے جو کردار تخلیق کیا وہ لائقِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے کیونکہ آج کا سب سے بڑا چیلنج یہی ہے۔ ہر محاذ پر اس شان سے ڈٹ کے مقابلہ کرنے والی امی جی نے یہ سب عمل سے مثال بنا ڈالا ۔
معاملہ فہمی کا یہ عالم تھا کہ ایک نظر میں سب کچھ بھانپ لیتی تھیں ۔ کمال یہ ہے کہ گھر اور باہر کی تمام تر مصروفیات کے ساتھ صرف اپنے بچوں تک نہیں بلکہ اپنے نواسوں پوتوں تک ہم سب کی زندگیوں میں اتنا بھرپور کردار کہ ہماری پڑھائیوں اور دلچسپیوں سے لے کر پسند ناپسند تک ہر بات کا خیال تھا۔ وہ ہماری سوچ سے بہت آگے بڑھ کے ہر کسی کا خیال رکھتی تھیں۔ ہر بچے سے علیحدہ اور خاص تعلق تھا۔جو بچہ جس وقت بھی ان کے پاس ہوتا تھا، وہ اس کی پسند ناپسند کے مطابق کھانے اور آرام کا خاص خیال رکھتی تھیں ۔ اپنے بچوں کے فون نمبر تو یاد ہونا شاید اتنا کمال نہیں مگر نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں کے نمبر تک یاد ہونا ایسی بات ہے کہ یہ مثال کہیں نہیں ملتی۔ مگر امی جی کو ہمارے نمبر یاد تھے اور کئی مواقع پران کا حافظہ بہت کام آیا۔ہر بیماری، تندرستی ،غمی، خوشی اور ایسے تمام مواقع پر ہر ایک کی علیحدہ اہمیت اور سب کے شامل ہونے کو ممکن بنانا ان ہی کے دم سے تھا۔ ہر کامیابی و ناکامی پر بچوں کے جذبات کی بہت فکر ہوتی تھی۔ ہر موقع پر تمام بچوں کی انتہائی تسلی وتشفی اور ہم سب کے والدین کو اولاد سےحسنِ سلوک کی خاص تاکید کی جاتی ۔ا س تعلق میں جو محبت، خلوص، توجہ اور رچاؤ ہے وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا، صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
گھر میں اور باہر مجھے ان کے ساتھ وقت گزارنے کے نسبتا”زیادہ مواقع میسر رہے۔ جب ہم لاہور نہیں تھے تو ہمیشہ چُھٹیوں میں آکر رہنا اور امی جی کا ہمیشہ اصرار سے اپنے پاس روکنا ان کی خاص محبت تھی۔ لاہور میں دلو خورد میں مدرسہ اور سکول کے انتظام میں میری والدہ امی جی کی معاون تھیں اور یہ معمول تادیر قائم رہا۔ خصوصاً ان بارہ سالوں میں جب رہائش بھی وہیں تھی تو امی جی سے تقریباً روز ملاقات ہوتی۔یہ تعلق شاید باقی سب بچوں سے الگ تھا۔وہ بارہ سال انتظام و انصرام اور نظم و ضبط کے معاملات کے حوالے سے بہت اہم تھے اور ان میں بہت سی ایسی باریکیاں سیکھیں جو پوری زندگی کے لیے کارآمد ہیں۔ امی جی مجھے ہر ممکن جگہ ساتھ لے جاتی تھیں، جہاں درس، کلاس یا کوئی جلسہ ،اجتماع ہو اور سکول کالج کا حرج نہ ہو تو ضرور ساتھ جانے کوکہہ دیتیں۔ ہر رمضان میں ان کا دورۂ قرآن اور ہفتہ وار قرآن کلاس تو معمول کاایک مستقل سلسلہ تھا ۔رمضان کے لیے ہمیشہ خاص اہتمام کرتیں ، شعبان میں کئی کلاسوں میں استقبال رمضان کے پروگرام شروع ہو جاتے اور ہم جہاں جہاں ممکن ہوتا لازماً جاتے۔اس کے بعد رمضان تو بے حد مصروف گزرتا ایک زمانے تک رمضان میں تین جگہ کلاس لیتی تھیں ۔ جمعے کا اہتمام اور گھر پر درس اس کے علاوہ تھا۔ سحر اور افطار کا خصوصی اہتمام تو خیر معمول کا حصہ تھا۔اس رمضان میں ہرموقع پر اس کمی کا احساس ہے جو ہماری زندگیوں میں در آئی ہے۔
اس سب کے ساتھ زندگی کے ہر مرحلے پر امی جی کی بھرپور توجہ حاصل تھی۔کتنی چھوٹی باتیں کتنی اہم تھیں اور ان کو معمولی تفصیلات کا کتنا خیال تھا، آج ایک لمحے میں زندگی کے اتنے ماہ وسال سمٹ آتے ہیں۔ پڑھائی، سیروتفریح، نصابی و غیر نصابی سرگرمیاں، رشتہ داریاں، میل ملاقات، دوستیاں غرضیکہ ہر شعبۂ زندگی میں امی جی کی بھرپور شمولیت رہی۔ کیونکہ امی جی سے ہمیشہ مختلف موضوعات پر بات چیت میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ کتابوںاور ادب سےشغف کے باعث امی جی اور اباجی کے ذخیرہ پر دسترس کااستحقاق بچپن سےمیرے پاس رہا اور تا عمر باعثِ فخر ہے۔ امی جی ہمیشہ اپنی کتابیں مجھ سے ترتیب دلواتیں اور یہ ایسا اعزازتھا کہ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا تھا۔ ان کے کمرے کی الماری میں ابھی بھی میرے ہاتھ کی لکھی کتابوں کی فہرست آویزاں ہے۔ کتابوں کے موضوع پرہمیشہ گفتگو کا ایک جہان آباد رہتاتھا۔ خصوصاً نئی چھپنے والی کتب ہر ملاقات پر لازماً زیرِ بحث آتیں۔ اسی طرح ذاتی ذخیرۂ کتب میں جو اضافہ ہوتا اس پر ضرور تبادلۂ خیال ہوتا۔ ہر سال ایکسپو سینٹر کے کتاب میلے پر باقاعدگی سے حاضری اور امی جی کو اس کی رپورٹ دینا معمول تھا۔ کالج یونیورسٹی کے زمانے میں تقریری مقابلوں، مباحثوں، مشاعروں کی رودادسنتیں ، تبصرہ کرتیں اور ہمیشہ نت نئے موضوعات اور پہلو زیر بحث رہتے۔ خصوصاً ایک زمانے میں پنجابی صوفیانہ شاعری کے لیے امی جی نے بہت شوق سے کئی کتابیں منگائیں اور ان پر اکثر بات چیت رہتی۔طالب علمی کے زمانے میں میرے لکھنے پر خوش ہوتی تھیں اور کچھ عرصہ پہلے اچانک پوچھا کہ رافی….اب تم لکھتی ہو؟ میں نے کہا کہ امی جی اب بس وقت ہی نہیں ملتا کئی سالوں سے نہیں لکھا کہنے لگیں، لکھا کرو،اللہ نے ایک صلاحیت دی ہے،اگر ہم استعمال نہیں کرتے تو ضائع ہو جاتی ہے۔
چھوٹےسے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کتنے ہی مسئلے تھے جن کا حل امی جی کے پاس ہمیشہ ہوتا تھا۔ دہی پھلکیوں کے نرم نہ ہونے سے لے کر سبزیوں کی چاٹ کے ذائقے میں کسر رہ جانا اور قمیض کی آستین میں جھول یا شلوار کی کریز خراب ہونے تک، ہر ٹوٹکا اور ہر مسٔلہ یہیں پر حل ہوتا تھا۔دفتر کے مسائل ہوں یا صحیح اور غلط کے الجھاؤ، امی جی رسان سے ہر معاملے میں رہنمائی کرتیں۔ ہر سوال پر ایک کتاب اپنے تمام تر حاشیوں کے ساتھ کھل جاتی اور مطلوبہ مواد فراہم ہوجاتا۔ جب لاہور سے باہر پوسٹنگ رہی تو جب بھی آنا ہوتا، امی جی کی طرف رات رہنا لازمی تھا۔ کورونا کے دنوں میں میری پوسٹنگ چارسدہ میں تھی اور مختلف ماحول کی وجہ سےامی جی کافی فکرمند رہتی تھیں۔ ان حالات پر تفصیلی بات چیت ہوتی اور بے شمار معاملات میں ان کی فراست اور مشاورت نے بہت مدد کی۔ہر مسئلے کا وجود ختم ہوجاتا جب امی جی کہہ دیتیں ،بیٹا فکر نہیں کرو، میں بہت دعا کروں گی۔ اب اس آواز کو کان ترستے ہیں۔
اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا
اپنے خانوادے کو اکٹھا دیکھ کر امی جی ہمیشہ بہت خوش ہوتی تھیں۔جب رنگ برنگے آنچلوں سے اچھرہ کا آنگن سج جاتا اور کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی ہوتی تھی تو امی جی مسکرا کے ہمیں کہتی تھیں’’نانی اماں کے دم سے ہے گڑیوں کا گھرانہ‘‘۔ان کے چہرے کی اس الوہی چمک اور لہجے سے پھوٹنے والے انبساط کو اب آنکھیں ترستی ہیں ۔تحفے دینے کے لیے ہمیشہ مواقع کی تلاش میں رہتی تھیں۔ عیدین اور ہر موسم میں ہم سب کے کپڑے اور ان سب کو اتنے پیار سے تقسیم کرنا باقاعدہ ایک رواج تھا اور عید پر عیدی وصول کرنا تو گویا ایک اعزاز تھا۔ پیار محبت سے گندھے اس گھرانے کی کرنیں بہت دور تک پھیلی ہیں مگر ان سب کی روشنی اسی آفتاب کی مرہونِ منت ہے جو ہماری امی جی تھیں۔
زندگی جن کے تصور سے جِلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دامِ اجل میں آئے
گھر کے انتظام کے علاوہ سب سے اہم خاندان بھر کی اکٹھے سیر کا اہتمام تھا۔ اسلام آباد،مری، گلیات، سوات، کالام، مالم جبہ، پشاور، کراچی، غرضیکہ خاندان بھر کے یہ اسفار اور ان سب کی اتنی تفصیلی منصوبہ بندی اور انتظام امی جی پر ختم تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ لاہور میں جلو ، چھانگا مانگا ، شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، شالامار باغ اور ایسی کتنی ہی سیریں حافظے میں موجود ہیں اور پھر ایسی تفریحات کا آج تک کوئی نعم البدل نہ مل سکا۔ آج ملکوں ملکوں گھوم کر بھی اس سیر کی لذت ڈھونڈنا ناممکن ہے جو امی جی کے ساتھ کی گئی سیروں میں ہے۔سفر کو کتنا بہترین بنایا جا سکتا ہے، یہ امی جی سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا تھا۔
ایک بڑا خاندان جو دنیا بھر میں پھیلا ہؤا ہو، اس کو جوڑے رکھنا ایک بہت اہم کام تھا اور رشتوں کی حرمت اور باہم جُڑے رہنے کی اہمیت امی جی اور اباجی نےعملا” ہمیں سکھائی۔ مثلاً جب بیرونِ ملک سے یا دُور سےمہمان آ رہے ہوں تو یہ یقینی بنانا کہ سب بچے اپنی اولادوں سمیت ہر آنے والے مہمان سے مل لیں، تیسری نسل بھی اپنے والدین کے سب رشتہ دار اور ان کے بچوں سے خوب واقف ہو، تمام رشتوں کی پہچان ہو اور سب اس سلسلے کو قائم رکھیں۔ اس سب کے لیے اہتمام کرنا امی جی کی دور اندیشی اور ہمہ گیر شخصیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایسی تمام محفلوں کے باعث ہم اپنے والدین کے عزیزوں اور تمام رشتہ داریوں کو سمجھتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ میل ملاپ کا یہ سلسلہ قائم رہے۔
باہر کی زندگی کے ساتھ ساتھ گھر کی اتنی بھرپور زندگی اور اس سب کے ساتھ کسی معمول میں کوئی بےقاعدگی نہ آنے دینا ان ہی کا خاصا تھا۔ پھر جماعت کی ذمہ داریاں، ٹرسٹ کے معاملات، سکول، مدرسہ، شفاخانے اور دوسرے شہروں میں شا گردوں کے مدرسہ جات، اور پورے لاہور میں پھیلی قرآن کی کلاسیں۔ان سب معاملات میں پوری توجہ اور محنت سے سب کچھ سنبھالنا اور پوری خبرگیری کرنا اور موجود رہنا، یہ سب جگر کا خون کیے بغیر کہاں ممکن تھا ! امی جی نے پوری زندگی رب کے راستے میں رب کے بندوں سے معاملات میں تج دی ۔ ربِ رحیم سے یہ التجا ہے کہ جیسے وہ تیرے راستے میں، تیرے بندوں کے لیے ہمہ وقت موجود رہیں، تیرے بندوں کو قرآن سے جوڑنے کی سعی کرتی رہیں، تو اپنے راستے میں یہ جدوجہد قبول کرلے اور ان کی قبر کو جنت کا ایک باغ بنا دے۔ان کی بہترین مہمانی فرما اور ان کو علیین میں جگہ عطا کر۔اور ہمیں ان کا بہترین صدقہ جاریہ بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔
مثلِ ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا
٭٭٭