نا ممکن کو ممکن کردینے والی خاتون
ڈاکٹر شگفتہ اطہر۔گلاب دیوی ہسپتال
آپا کے بارے میں مَیں اپنے اندر کچھ بھی کہنے کی ہمت نہیں پا رہی دل غم سے لبریز ہے ۔ان کی ذات ایک سمندر کی مانند تھی ۔آپ بلا شبہ بہت خوبیوں کی مالک تھیں ۔ آپا جان سے اگر ہم کسی مریض کا ذکرکر دیتے کہ اسے مدد کی ضرورت ہےتووہ اسے اپنا ایمان بنا لیتی تھیں ۔ اسے پورا کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتی تھیں اور ہمیں پتا ہوتا تھا کہ جب ہم اپنا یہ مسئلہ آپا جان کےسامنے رکھیں گے تو وہ اسے ضرور حل کریں گی اور ہم انہیں اپنی مشکل بتا کر بے فکرہوجاتے ۔آپا ہروقت مالی اورفزیکل سپورٹ دینے کو تیار رہتیں ۔ وہ ہمیں دین کی طرف لے کرآئیں۔ ترجمےکے ساتھ قرآن پاک پڑھنا سکھایا اورہم لوگوں نے آپا کے توجہ دلانے کے بعد حجاب کرنا شروع کیا ۔ وہ ایک عظیم انسان تھیں ان کے دنیا سے جانے کے بعد ہم ایک بہت بڑی نعمت سے محروم ہوگئے ۔ جب میرے والد صاحب کی وفات ہوئی توآپا نے کہا تمہاری کمر ٹوٹ گئی ہے۔ اس کے بعد وہ میری کمر بن گئیں ۔ ان کا میرے اورمیرے شوہر اطہرکے ساتھ انتہائی محبت وشفقت بھرا رویہ تھا ۔ انسانوں سے محبت کرنے والی شخصیت تھیں جن کوملنے کے بعد اللہ پرایمان بڑھ جاتا ہے۔
آپا جان کے شوہر جنہیں ہم ابا جی کہتے تھے وہ آپا کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ توجن ہے،جوکام یہ اپنے ذمہ لے لیتی ہے اسے پورا کرتی ہے، یہ نا ممکن کوبھی ممکن بنا دیتی ہے۔
٭٭٭
عظیم لوگ روز روز پیدانہیں ہوتے اس کے لیے تاریخ کو صدیوں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔آپا زہرہ وحید صاحبہ انہی لوگوںمیںسے ایک تھیں ۔ ان کی زندگی کاہر گوشہ الگ الگ روشنی پھیلاتا ہے ۔ میرا اُن سے تعلق نصف صدی پر محیط ہے۔ان کی زندگی کے ساتھ جڑے بہت سے واقعات ایک البم کی طرح میری آنکھوںمیںجذب ہیں وہ ہمارے خاندان کے ساتھ سگے رشتوں سے بھی زیادہ مضبوطی کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں ۔امی جان کی وفات پر سارے بچوںکوبلکہ ابا جان کو بھی اس محفل میں بٹھا کر بہت کچھ بول گئیں جیسے گھر کی فرد ہوں ۔پھر میرے ساتھ میرے بیٹے کی شادی ٹوٹنے پر انہوں نے اس کو قائم رکھنے کے لیے جو جدوجہد کی، بیٹے کے ساتھ بہت کونسلنگ کی، اپنی مصروف زندگی سے بہت سا وقت نکالا ، میں ان کی اس ہمدردی کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتی۔ ابا جان کی وفات پر ہمارے خاندان کو اس طرح سنبھالا دیا کہ کوئی ماں ایسا نہیں کر سکتی ۔ان کے زندگی کے ساتھ جڑے اتنے واقعات ذہن کے پردے پر ہیں کہ نہ ختم ہونے والی اک داستان ہے۔
عابد ہ اکرام ۔ لاہور
٭٭٭
پیاری خالہ جان
شازیہ عبد اللہ۔لاہور
اللہ پاک خالہ جان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین۔ غالباً جنوری بروز جمعرات صبح 9:30بجےواٹس ایپ پر راحیل باجی کا Forwardedپیغام موصول ہؤا کہ ہماری پیاری خالہ جان زہرہ آپا صاحبہ کا انتقال ہو گیا ہے ۔ ہر ذی روح نے اپنی مدت عمر پوری کر کے اپنے ابدی گھر سدھارنا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیںہماری زندگی میںجن کی جدائی بہت ہی تکلیف کا باعث ہوتی ہے ۔ خالہ زہرہ بھی میرے لیے ایسی ہی ایک ہستی تھیں۔
آپا زہرہ کا نام سامنے آتے ہی بچپن سے لے کر شادی تک کی میری زندگی کی پوری کہانی آنکھوںکے سامنے ایک فلم کی طرح چلنے لگ گئی ۔ میرے گھر کے چھوٹے بڑےمعاملات حتیٰ کہ میری شادی تک کے تمام مراحل میںان کی مشاورت ، رہنمائی اوربھرپورتعاون شامِل حال رہا ۔یہ 1988ء میںآنے والے تباہ کن سیلاب کے دنوںکی بات ہے جب ہمارے چچا جان عنایت اللہ روز گھر آکر شاہدرہ میں آئے ہوئے سیلاب اوراس میں جماعتِ اسلامی کی جفا کش خواتین خاص طور پر آپا زہرہ اور گلفرین خالہ جان کا بہت ذکر کیا کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ کس طرح یہ خواتین پانی اورکیچڑ میںسے گزر کر سیلاب زد گان تک پہنچتی ہیں اور ہرممکن طریقے سے ان کی امداد کرتی ہیں ،چاہےوہ کھانا فراہم کرنا ہو، کپڑے پہنچانے ہوں ،طبی امداد ہو یا رہائش کے مسائل ہوں۔
ہم بچے بہت شوق اور دلچسپی کے ساتھ ان کی روزانہ کی یہ روداد سنا کرتے تھے ۔ان مجاہد خواتین کےبارے میںکم از کم میرے ذہن میں توسلف صالحین کی خواتین کانقشہ بنتا جاتا تھا۔ اورہم نے ذہن بنا لیا تھا کہ یقیناً جنت کی حقدار یہی خواتین ہیں ۔اللہ پاک انہیں حقیقتاً اعلیٰ جنتوں سے نوازے آمین۔
پھر ایک دن کیا ہؤا کہ ابو جان ( محمد عبد اللہ صاحب منیجر ادارہ بتول)نے نویدسنائی کہ ’’ آپا جان زہرہ وحید صاحبہ آج ہمارے گھر افطاری کےلیے تشریف لا رہی ہیں ۔ ساتھ میںخان صاحب یعنی آپا کے شوہرنامدار ( عبد الوحید خان صاحب) بھی ہوں گے ۔ بہت ذوق وشوق سے سارا دن سارے گھر والوںنے افطاری کی تیاری کی۔ اس دور میںادارہ بتول کے منیجر کی کیا تنخواہ ہو گی سب بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیںلیکن آپا جان اور ان کی فیملی سےاس قدر عقیدت تھی ہم سب کی کہ دل چاہتا تھا کوئی کمی نہ رہے ۔ الحمد للہ سب بہت اچھا بنا اور اللہ کے یہ منکسر مزاج بندے ہمارے غریب خانے تشریف لائے تو آپا کی بیٹی راحیلہ باجی بھی ساتھ تھیں ۔ہم بچیوں اور امی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔
اکیلے ابو جان کمانے والے اور چار بچے جن کے کھانے پینے اور تعلیم کے اخراجات بھی اورساتھ میںکرائے کا گھر ،بجلی ، گیس ، پانی کے بلز اورگائوںمیں بھی دادا ، دادی اور گھر کی ذمہ داریاں ۔ ایسے میں آپا جان کی نوازش یہ ہوئی کہ ہم بہن بھائیوں کے لیے پیش کش تھی کہ ان کے سکول میں داخل کرا دیا جائے ۔ میں،مجھ سے چھوٹی بہن اورچھوٹا بھائی ہم تین بچے زہرہ آپا کے سکول میںزیر تعلیم رہے ، میٹرک بھی وہیں سے کیا ۔ حفصہ باجی ، راحیلہ باجی ، نسرین باجی ، سعدیہ اورعاشی باجی سے مختلف مضامین پڑھنےکاشرف حاصل رہا ۔ ادب و احترام کا حامل بہت ہی مضبوط رشتہ رہاان باجیوںسے اور آج تک قائم ہے الحمد للہ ، اب ہم سارے بہن بھائی ماشاء اللہ بچوں والے ہیں۔میرے توبچے بھی سب جوان ہیںماشاء اللہ لیکن جبکہ کبھی باجیوںسے ملاقات ہوئی ہے سکول کے زمانے میںپہنچ جاتی ہوں ۔اپنا آپ ان کے سامنے ہمیشہ ایک سٹوڈنٹ ہی کی طرح محسوس ہوتا۔
مجھے بہت اچھی طرح سے یاد ہے عید اور رمضان میں ہمارے گھر بھر کے لیے آپا جی کی طرف سے تحفے آتے تھے ۔ان کے سکول میںپڑھنا کسی سعادت سے کم نہ تھا ۔ قرآن کا ترجمہ اورتعلیم حاصل کرنے کا مقصد وہیںسے جانا ۔ رمضان میںآپا کے ساتھ جمعہ کے جمعہ تسبیح نماز پڑھنا یادگار لمحات میں سے ایک ہے ۔شاید اسی اسکول اور اساتذہ کی برکت تھی کہ چھٹی جماعت سے لے کر ( جب میرا آپا کے سکول میںداخلہ ہؤا) میٹرک تک پہلی پوزیشن برقرار رہی اور الحمد للہ جب وحدت کالج سے گریجویشن کر کے نکلی تو بھی کالج بھر میں پہلے نمبر پر آئی تھی جبھی توپنجاب یونیورسٹی میں (IER)ایجوکیشن میںٹاپ پانچ سٹوڈنٹس میںداخلہ ہؤا ۔ اللہ پاک بہت جزا دے ہمارے ان محسنوںکو۔
تعلیم کے بعد جب عملی میدان میں داخل ہوئی تو اپنے بچوں کو بھی انہی خطوط پر پروان چڑھانے کی کوشش کی ۔ گھر میں تیاری کرا کر اعلیٰ سکولوںمیںداخلے کے امتحانات دلا کر میرٹ پر ایڈمیشن کرائے ۔ آج الحمد للہ بچے خودبولتے ہیں کہ ماماآپ نے ہماری تعلیمی بنیاد بہت اچھی رکھی جس کی وجہ سے ہمیں آج تک نہ گرامر میںوہ اردو ہو یا انگریزی اور نہ کسی اور تعلیمی معاملے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔
بھلاجس کے استاد اتنے قابل ہوں ، ان کی دعائیں ساتھ ہوں وہ طالب علم ناکام کیسے ہو سکتا ہے ۔
میری تو زندگی میں جتنی بھی راحتیں اور آسانیاں آئیںوہ یقیناً ماںباپ کی دعائوں اوران اساتذہ کی شفقتوں اور مہر بانیوںکانتیجہ ہیں ۔ ہم نے تو آپا جی زہرہ وحید کی سر پرستی میںرہتے ہوئے جانا کہ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ اساتذہ روحانی ماںباپ ہوتے ہیں۔ اللہ پاک پیاری خالہ جان اوران کی تمام اولاد کو جزائے خیر کثیر سے نوازے اور ہمیں ان کے لیے بہترین صدقہ جاریہ بنائے ۔آمین
میں آج ایک سکول ٹیچر ہوں۔جب کبھی اپنے سٹوڈنٹس یا ان کی مائوں کے منہ سے سننے کو ملتا ہے کہ آپ بیسٹ ٹیچر ہیںتو یوں لگتا ہے کہ اس تعریف میںایک کثیر حصہ میرے انہی اساتذہ کی شفقتوں اور محنتوں کاہے ۔
اللہ تعالیٰ نے یقیناً ان کے لیے بہت بلند درجے پسند کر رکھے ہوںگے ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ان کا استقبال بھی مبارک سلامت کے شور کے ساتھ فرشتوںکے جلوس میں ہؤا ہوگا ۔ اللہ سے دعا ہے کہ :
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
٭٭٭
آپا زہرہ وحید ایک پیار کرنے والی ہستی، اخلاص و محبت کا پیکر تھیں۔میری ان سے ملاقات آج سے 25سال قبل ہوئی۔وہ سادہ سے لباس میں تھیں،ایک پروقار شخصیت کی مالک۔بہت مخلص سچی خیر خواہ اور ہر ایک کا درد محسوس کرنے والی۔میں جب ان سے ملی تو اتنی اپنائیت سے ملیں لگا کہ برسوں کی شناسا تھیں۔مجھے ان سے مل کر تحریک ملی کہ اللہ کے دین کے کام کےلیے خود کو وقف کیسے کیا جاتا ہے۔
میں نے ان سے ایک جامعہ کھولنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔میں نے کہا آپا جی وسائل نہیں ہیں کہ یہ کام کیا جا سکے۔ بہت محبت سے مجھے دیکھا میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور مسکرا کے بولیں،بیٹی!اللہ اپنے دین کے کام کے لیے خود راستے کھولتا ہے،صرف اخلاص نیت رکھو اور اللہ کا نام لے کے اس نیک کام کا آغاز کرو۔یوں ان کے الفاظ نے ہمت و حوصلہ دیا اور ہم نے جامعہ تفہیم القران کی بنیاد رکھی ۔زہرہ آپا نے اس جامعہ کی تعمیر کے لیے خود جگہ دیکھی،اسی جگہ ہم نے ایک افتتاحی تقریب رکھی اور آپا نے اپنے انفاق فی سبیل اللہ سے جامعہ کے کام کا آغاز کر دیا۔ اور مسلسل اس ادارے کے مکمل اخراجات کی ذمہ داری انہوں نے اٹھائے رکھی ،ادارہ کے لیے ضرورت کا جملہ سامان بھیجتی رہیں۔سٹاف کے لیے عید کے سوٹ ،غربا کے لیے راشن پیکج ۔ ہر قدم پہ آپا نے رہنمائی دی کبھی لاہور بُلا کرکبھی فون پر۔جامعہ تفہیم القرآن سے پہلا بیچ 65بچیوں کا فارغ ہوا جو ان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔اور پھر تسلسل کے ساتھ بچیاں قرآن و حدیث پڑھ کے نکلتی رہیں۔یقیناً یہ بچیاں مرحومہ کے لیے بہترین صدقہ جاریہ ہیں۔
میری شادی ہوئی تو آپا نکاح کا بہت خوب صورت جوڑا میرے لیے لائیں ۔پھر مجھے راشدہ بھابی، ندیم بھائی اور میرے شوہر ضیاء صاحب ہم چاروں کو لاہور بلایا کہ کچھ دن سیر و تفریح کرو ۔ہمارےلیے گاڑی اور ڈرائیور مختص کر دیا کہ پورا لاہور میرے ان بچوں کو دکھاؤ۔ہر سال ماؤں کی طرح عیدی بھیجتی تھیں۔
آج جب ان کے لیے لکھنے بیٹھی ہوں تو باتیں اور ان کے ساتھ گزارے پل لکھنےکے لیے الفاظ نا کافی ہو رہے ہیں۔ ان کا چہرہ آنکھوں کے سامنے اور آنسو ہیں کہ ان کی یاد میں تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔میری پیاری مشفق ماں کہاں چلی گئیں….ہم ان کو کبھی نہیں بھول سکیں گے۔ آج وہ ہم میں نہیں رہیں لیکن ہماری دعاؤں میں ہمیشہ رہیں گی۔واقعی آپا کی زندگی کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ سعادت کی زندگی گزار کے اپنے رب کی جنتوں میں پہنچ گئیں۔یقیناً ان کی قبر میں جنت کی کھڑکی کھولنے کا حکم فرشتوں کو ملا ہو گا ۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جنتوں میں اعلی درجات عطا فرمائے آمین ۔
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں،ملنے کےنہیں نایاب ہیں ہم
شازیہ ضیا ۔مری
٭٭٭
ہر دلعزیز آپا کے لیے قلم اٹھانا کوئی آسان بات نہیں کیونکہ نگاہو ں میں جب ان کاچہرہ بنتا ہے تو پھر الفاظ،جذبات اور احساسات سب ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ۔ سمجھ نہیں آرہا کہ اس نگینے کو کن لفظوں سے مزین کروں کہاں سے ابتدا کروں ان سے اتنی خوشگوار یادیں ، باتیں اور واقعات وابستہ ہیں کہ ان کو بیان کرنا مشکل ہو رہا ہے ۔ بہت کچھ ذہن میں آنے کے باوجود لکھا نہیںجا رہالیکن لکھنے کے لیے دل بھی تڑپ رہا ہے اپنی شفیق ماں جیسی استاد کے بارے میں لکھنا میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے گو کہ ان کاحق تو ادا نہیںکر سکتی مگرحصہ توڈال سکتی ہوں۔
وہ صبرکااستعارہ خوش کلامی کا پیکروہ مربی اورداعی الیٰ للہ کی رول ماڈل تھیں ان کی استقامت ان کاتقویٰ ان کی یکسوئی صلاحیت اور صالحیت سب ان کی شخصیت کے وہ پہلو ہیں جوکہیںنظرنہیں آتے۔
کسی بناوٹ کے بغیرسادہ لباس ، سادہ تکلم اورسادگی کا پیکرمونس و غمگسار اخلاص و وفا کانمونہ تھیں ، بہترین قوت فیصلہ کی مالک اپنے دکھ کو چھپا کر لوگوں کا غم بانٹنے کا ہنر جانتی تھیںحکمت وفراست ذہانت ان کی باتوں سے جھلکتی تھی محبت، عزت اورخیال لحاظ ان کے نمایاںاو صاف تھے ۔ اپنے دل میں ہر ایک کے لیے ہمدردی رکھتی ۔ان سے میرا قریبی قلبی اور گہرا تعلق تھا ۔میں سمجھتی تھی کہ وہ مجھے جتناعزیز رکھتی ہیں اتنا کسی اور کونہیں۔ان کی جدائی کا غم صرف خاندان کا غم یا جماعت اسلامی کانقصان نہیںبلکہ امت مسلمہ کا نقصان ہے ۔ اب ایسے افراد کم ہوتے جا رہے ہیںجو پوری امت کی فکر کرتے ہوں جن کی سوچ واضح ہو اورچھوٹے سے کام کوبھی اس طرح کریں کہ آگے چل کر امت کا سرمایہ بنے گا ۔یہ بلند ظرف لوگوں کے ہی کام ہوتے ہیں۔نہایت شفیق ہستی میری ماں کا عکس ان سے ایسا تعلق گویا ان کے علاوہ کوئی نہیں ۔ میںجب پہلی بار ملی وہ ایسا وقت تھا کہ مجھے مخلص رہبر و رہنما کی ضرورت تھی اور میںاللہ کا لاکھوں کروڑوں بار شکر ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ جو تربیت کی ہے وہ کسی اورکے پاس سے شایدنہیں ہو سکتی تھی ۔ زندگی گزارنے کے اصول سمجھائے زمانے کی اونچ نیچ سے واقف کروایا آج میں جہاں ہوں وہ سب انہی کی بدولت ہوں ۔میں اپنے حالات اورمجبوریوں کی وجہ سے اپنی سٹڈی جاری نہ رکھ سکی جب ان کوخبر ملی توکہنے لگی کہ اپناداخلہ بھیجو ۔ میں نے کہا صرف 3 ماہ ہیں کس طرح تیاری کروں گی ، کہنے لگی مجھے پتا ہے آپ کر لو گی۔ بس داخلہ بھیجا اورپھر بکس خرید یں توان کی دعااور بھروسہ نے مجھے ہمت دی ، میں نے بی اے فرسٹ ڈویژن میںپاس کیا میری ہرجگہ حوصلہ افزائی کی ہمت بندھائی۔ کبھی اتنا کام اتنی زیادہ ذمہ داریاںڈال دینی کہ ہمیںلگتا بہت بوجھ ہے ہم نہیں کر سکتیں جب ان کے پاس جاتیں تو پھر یہی کہتیں کہ مجھے علم ہے آپ کرلو گی تویقین جانیں وہ سارے کام آسانی سے پایہ تکمیل کو پہنچ جاتے جوشروع میںبوجھ لگتے تھے ۔سچ میںانہیں چہرہ پڑھنا آتا تھا ۔ جو بات ہم منہ سے نہیں نکالتی تھیں انہیں پتا ہوتاتھا۔
بعض دفعہ ماں سے بھی زیادہ شفیق لگتی تھیںمیرے بچوں کو یہی پتا تھاکہ یہ ہماری حقیقی نانو جان ہیںاور یہی وجہ ہے کہ ان کی موت کے بعد آج تک ہر روز بس انہی کے تذکرےہیں میرا آپا جان کے ساتھ 30سال کاتعلق ہے لیکن بد قسمتی تو دیکھیں کہ 2018ء کے بعد ان سے بات نہیں ہو سکی بس مجھے ہمیشہ یہی ہوتا کہ جائوں گی تو ملاقات کروں گی لیکن اللہ کو کچھ اورمنظورتھا ان کی خیریت کی اطلاع ملتی رہی دل میں تسلی رہی کہ ٹھیک ہیں انتقال سے دو دن پہلے ملنے کے لیے گئی توبہت نحیف لاغر مگر پہچان صحیح، جو بات پوچھتی تھی وہ جواب دیتی رہیں ، سب کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اورمسکراتی رہیں ۔ میں نے رونا شروع کر دیا ان کی حالت دیکھ کر مگرانہوں نے منع کیا کہ اب بس کردوپھررات اپنے پاس رکنے کے لیے کہا ۔ نماز کی تاکید سب کو کرتی رہیںموت کے وقت بھی نماز کی فکر دامن گیر رہی اللہ نے ان کے ساتھ بہت عافیت والا معاملہ کیا ہوگا وہ ان خوش نصیب بندوں میں ہوں گی جن کے ساتھ رب آسان حساب کامعاملہ کرے گا ۔
وہ ہمارا اثاثہ تھیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ رب کریم ہماری جان سے پیاری آپا جان رب سے کیے گئے وعدے کو آخری سانس تک خوب نبھا کر گئی ہیں۔آئیں ہم ان کا صدقہ جاریہ ضرور بنیں ان کی طرح اپناوقت ، قوت اور صلاحیت کوتحریک کی دین کی سر بلند ی کے لیے لگا دیں۔ اللہ پاک ان کی بہترین مہمان نوازی فرمائے ۔آپ کو ابا جان کے ساتھ جنت الفردوس کے شاندار محل عطافرمائے ۔ میری دعا ہے کہ جو دعائیں وہ ہمارے لیے اور ہماری اولاد کو دیا کرتی تھیںوہ ان کے حق میں بھی قبول ومقبول فرمائے ان کی محنتوں ،قربانیوں اور صبر کو اپنی خاص رحمت سے ڈھانپ لے اورجنت الفردوس کے بالا خانے نصیب کرے ، آمین ۔
زہرا اشرف وفا
٭٭٭
ایک چاند تھا جو ڈوب گیا
سعید احمد عباسی۔ ایبٹ آباد
عزیزہ راشدہ ندیم کی آہوںاورسسکیوںمیںڈوبی ہوئی آواز صبح سویرے سنائی دی ۔’’ سعید بھائی میری آپا اب ہم میںنہیںرہیں، وہ اپنے حقیقی گھر کی جانب روانہ ہوچکی ہیں ‘‘۔
مجھے آپا کی البم سے ایک ایک تصویر نظر آنے لگی ۔ میں سوچنے لگا کہ اے مولا میرا آپا سے کیا رشتہ تھا؟ ہاں پہلی ہی ملاقات میںمعلوم ہؤا کہ انہوں نے مولانامودودی سے قرآن عظیم الشان براہ راست پڑھا تھا۔ یہ وہی رشتہ تھاجوتا دم مرگ شفقت کا محبت کا تربیت کا اورحوصلے، کا اللہ کے دین کی سر فرازی کے لیے اٹھنے کا ذریعہ بنتا رہا۔ اللہ تعالیٰ آپا کو جنت میںکروٹ کروٹ راحت نصیب فرمائے ۔ آمین
لاہور سے 14،12 گھنٹے کی مسافت پرواقع بیروٹ ایبٹ آباد سے ایک طالبہ ان کے مدرسے فارغ التحصیل ہوکر واپس لوٹنے لگی تو آپا نے قرآن عظیم الشان کے وژن اودور اندیشی کو پھیلانے ، غلبہ دین کی تحریک کی آبیاری کے لیے اپنی طالبہ کو او سیاہ مری میںایک شاندار درسگاہ کی بنیاد رکھ کر دی جو آج بھی تحریک اسلامی کامرکز اور تعلیمی خدمات انجام دے رہی ہے۔ یہ صدقہ جاریہ ابھی چند سال کا ہؤا تھا کہ بیروٹ تر مٹھیاں میں ایک قطعہ زمین فی سبیل ا للہ ٹرسٹ کے نام خرید لی اور اس طرح خود ان درسگاہوں کی نگرانی کرتی رہیں ۔ اس سلسلے میں آپ کے دورہ جات اورتحریریں ،خواتین جماعت کے نظام کے لیے ان کے گزرے ہوئے لمحات ہم سب کے لیے آج بھی ہمارے پاس امانت اور ان کے لیے توشہِ آخرت ہیں۔ ان کا حوصلہ ، ہمت ، خلوص، لگن، شفقت باعث تقلید ہے ، اللہ تعالیٰ ہماری آپا کو جنت الفردوس میںاعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ ان کے لگائے ہوئے یہ پودے اوران کے کیے ہوئے کام ان کے لیے صدقہ جاریہ بن جائیں ۔
٭٭٭
آپا زہرہ وحید سےمیرا تعارف میری شادی کے بعد ہؤا کیونکہ میری زوجہ ان کی شاگردہ تھیں ۔ شادی کے بعد انہوں نے ہمیں دعوت پر بلایا تو مجھے انہیںجاننے کاموقع ملا ۔ وہ اپنی طالبہ یعنی میری زوجہ سے اپنی بیٹیوں کی طرح محبت کرتی تھیں تواس ناطے وہ مجھے اپنا داماد کہتیں اورسمجھتی تھیں اسی انداز سے وہ میری عزت کرتیں ۔ان سے مکمل تعارف توکبھی نہیں ہو پایا کیونکہ ہر نئی ملاقات میں ان کی زندگی اور شخصیت کے نئے پہلو دریافت ہوتے تھے ۔ وہ اتنی شفیق تھیں کہ ان سے جڑا ہر آدمی یہ سمجھتا تھا کہ جتنا وہ مجھ سے شفقت و محبت کرتی ہیںشاید وہ کسی اور سے نہیںکرتیں۔ وہ گفتگوکرتیں تو دوسرے دل کےکانوںسے سننے پر مجبور ہو جاتے۔
ندیم احمد ۔ ایبٹ آباد
٭٭٭
آج بڑے افسوس سے یہ لکھنا پڑھ رہا ہے کہ پیاری آپا زہرہ وحید آج اس دنیا فانی میںنہیں رہیں وہ پیاری آپا جان جنہوں نے ہمیں اپنے بچوں کی طرح پڑھایا لکھایا ۔ ان کی وہ شفقت ، پیار محبت، وہ اندازِ بیاںوہ ہماری تربیت کرنے کا انداز کاش کہ وہ وقت واپس آئے اور ہم دوبارہ آپا جان سے فیض یاب ہوں۔
اللہ تعالیٰ آپا کے درجات بلند فرمائے ۔ اوران کی قبر کو وسیع اورجنت کاباغ بنائے اور ان کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
، سلمیٰ عبد الغنی
٭٭٭
سیرت سے فتح کرتے ہیں لوگوں کے دلوں کو
فوزیہ عبداللہ
آپا زہرہ وـحید جماعت اسلامی کا درخشاں ستارہ، ایک فعال رکن اور دردِ دل رکھنے والی عظیم خاتون تھیں۔ وہ انتہائی زیرک، مدبر اور فہم و فراست کی مالکہ تھیں ۔ اُن کا لہجہ انتہائی پر شفیق اور سادہ تھا گویا کہ آپ کا وجود خلوص و محبت کی بے نام مہک تھا۔ کسی بھی معاملے کو بہت حکمت سے طے کرنے والی اماں جان جب کوئی فیصلہ لینے پر آتیں تو ڈٹ جاتیں، مجبور اور بے بس کے لیے عصائے موسیٰ کا سا کردار ادا کرتیں۔
وہ اپنی اور بے شمار خوبیوں کے ساتھ ساتھ ایک بے مثال ماں بھی تھیں جو نہ صرف اپنی حقیقی اولاد کے لیے قیمتی اثاثہ تھیں بلکہ اپنے ماتحت اور متعلقہ افراد کے لیے بھی ماں کا درجہ رکھتی تھیں اور اُن کے مسائل کو ایک حقیقی ماں کی طرح سلجھانے کی کوشش کرتیں۔
میں اُن کے تعلیمی ادارے ’’دبستانِ زہرہ‘‘ کی طالبہ رہ چکی ہوں اور ان کی دخترانِ نیک اختر کی تعلیم و ترتیب سے فیض یاب ہونے کا شرف حاصل کر چکی ہوں۔ والدہ (زہرہ وحید) کا عکس میری تمام اساتذہ میں بخوبی جھلکتا ہے۔کوئی فہم و تدبر میں بے مثال، تو کوئی نرم خو اور شفیق اورکسی کو بہترین منتظم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ گویا کہ آپ نے زندگی کے ہر کردار کو بخوبی انجام دیا۔
روشنی بانٹتا پھرتا تھا وہ سورج کی طرح
ڈوبتا ہے تو ستاروں کو جنم دیتا ہے
اُن کے دل میں خلق خدا کے لیے بہت درد موجود تھا اور یہی جذبہ اُنہیں لوگوں میں مقبول کر گیا۔اللہ رب العزت سے دست بہ دُعا ہوں کہ اللہ انہیں اپنے رحم کے سائے میں رکھے اور جنت الفردوس میں خاص مقام عطا فرمائے۔
٭ ٭ ٭
آپا کے بارے میںلکھنا کوئی آسان بات نہیں ہے وہ ایک عظیم ہستی تھیںاورہماری شفیق ماں جیسی استاد تھیں۔ انہوںنے اپنی پوری زندگی دین کی سر بلندی واقامات کے لیے لگا دی ۔ وہ اللہ سے کیے گئے وعدےکو آخری سانس تک نبھا کر گئی ہیں ۔ آپا بہترین قوت فیصلہ کی مالک تھیں ۔ حکمت، فراست، ذہانت ان کی باتوںسے جھلکتی تھی۔ وہ اپنے دل میں ہر ایک کے لیے ہمدردی رکھتی تھیں ۔ ان کی لگائی ہوئی پنیری ملک کے کونے کونے میںاپنی بساط کے مطابق دین کی سربسندی کے لیے کوشا ں ہے۔انہوں نے صحیح معنوںمیں اپنی زندگی اقامت دین کے لیے وقف کی ہوئی تھی ۔ آپا ہمارا اثاثہ تھیں ہماری بہت اچھی استاد تھیں۔ماںکی کمی محسوس نہیںہونے دیتی تھیں پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہماری بہت اچھی تربیت بھی کرتی تھیں ۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپا جی کی قبر کو نورسے بھر دے اورجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
شازیہ کمال دین
٭٭٭