آپا زہرہ عبدالوحید ؒ ایک مثالی تحریکی خاتون رہنما تھیں، ان کے شوہر محترم عبد الوحید خان ؒ بھی ایک مثالی تحریکی رہنما تھے،اور آپا زہرہ اور محترم عبد الوحید خان ؒ کا گھرانہ بھی ایک مثالی تحریکی گھرانہ تھا،اور ہے۔
محترم عبدالوحید خان ؒ کو میں نے پہلی مرتبہ 1963 ء کے اجتماع عام کے موقع پر دیکھا تھا۔میں اس وقت آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔ابا جی مولانا گلزار احمد مظاہری مرحوم تو پہلے ہی لاہور میں تھے۔اور میں اماں جی مرحومہ کے ہمراہ سرگودھا سے قافلے کے ساتھ آیا تھا۔جب اجتماع عام پر حکومتی غنڈوں کا حملہ ہؤا اور انہوں نے سٹیج پربراہ راست فائرنگ کی تو میں اسٹیج پر ہی اپنے ٹیپ ریکارڈر کے ہمراہ موجود تھا۔ مولانامودودی ؒ محترم کھڑے تقریر فرما رہے تھے۔کسی نے کہا کہ مولانا آپ بیٹھ جائیےآپ نشانہ ہیں۔تو مولانا نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ اگر آج میں بیٹھ گیا تو یہاں کھڑا کون رہے گا۔یہ تاریخی جملہ میں نے خود سنا۔جب غنڈے قناتیں توڑ کر نکلے تو میں اور ارشاد اصلاحی بچگانہ تجسس میں ان کے پیچھے نکلے۔
اسٹیج کے دائیں طرف کتابوں کے اسٹال تھے۔ہم نے دیکھا کہ غنڈے اسٹالوں کو الٹا رہے تھے۔ایسے میں محترم عبد الوحید خان ؒ کو پہلی مرتبہ دیکھا۔وہ اسلامک پبلی کیشنز کے اسٹال پر تھے۔انہوں نے دونوں ہاتھ پھیلا کر کتابوں کو محفوظ کرنے کے لیےا سٹال کو اپنے دامن میں سیمٹ لیا۔غنڈے جلدی میں تھےاس لیے وہ مزاحمت کیے اور اسٹال کو الٹائے بغیر آگے بڑھ گئے۔یہ محترم عبد الوحید خان ؒ سے میرا پہلا تعارف تھا۔ایک تاثر دل و دماغ پر نقش ہوگیا کہ انہوں نے اپنی جان کی پروا نہیں کی، غنڈوں سے خوفزدہ نہیں ہوئے۔ اورتفہیم القرآن سمیت دینی کتب کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے اوپر لیٹ گئے۔جیسے کوئی اپنی متاع عزیز کو بچانے کے لیے تمام تر توانائیاں صرف کردیتا ہے۔
پھر محترم عبد الوحید خان ؒ مرحوم سے بے شمار ملاقاتیں ہوئیں۔وہ جماعت اسلامی لاہور کے رہنما تھے۔وہ ایک زمانہ میں روز نامہ کوہستان کے منتظم تھے اسی طرح وہ اسلامک پبلیکیشنز کے روح رواں تھے۔اپنے دور طالب علمی،بالخصوص پنجاب یونیورسٹی کے اپنے دور صدارت میں ان سے بے شمار ملاقاتیں رہیں۔ہمارا گھرانہ 1975ء میں سرگودھا سے لاہور منتقل ہوگیا اور 1976ء میں ہم نے ذیلدار پارک اچھر ہ میں مکان کرائے پر لیا۔ذیلدار پارک میں ہی 5۔اے ذیلدار پارک میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی رہائش تھی۔4۔اے ذیلدار پارک میں اسلامی جمعیت طلبا کا دفتر تھا۔1۔ذیلدار پارک میں مہمان خانہ تھاجو بعد میں اسلامی جمعیت طلبا کے دفتر میں تبدیل ہوگیا۔8۔ذیلدار پارک میں محترم نعیم صدیقی کی رہائش تھی۔اور سامنے 11۔ذیلدار پارک میں ہم منتقل ہوئے۔
فیروز پور روڈ کے سامنے سلطان احمد روڈ پر محترم عبدالوحید خان ؒ کی فیملی کی رہائش تھی۔یوں عبد الوحید خان ؒ کی فیملی سے روابط بڑھے۔میں نماز رسول پورہ مسجد میں ادا کرتا تھا۔نماز فجر کے بعد محترم عبد الوحید خان ؒ کی قیادت میں سیر کرنے نکلتے،شاہ جمال روڈ پر شمشیر علی صاحب اور دیگر احباب ہمراہ ہوتے۔اس دوران حالات حاضرہ پر تبصرے ہوتے اور دینی امور پر گفتگو ہوتی۔اسی دوران عبد الوحید خان سے معلوم ہو ٔا کہ کبھی مولانا محترم (سید مودودی ؒ)صبح کی سیر کرتے تھے اور یہ کہ مولانا نےیہ اصول بتایا کہ پیدل چلنے والوں کو سڑک کے دائیں طرف چلنا چاہیے۔
محترمہ آپا زہرہ عبدالوحید ؒ سے ہمارے گھرانے کے رابطے اور بڑھ گئے۔ہمارے گھرانے والوں کو آپا زہرہ عبدالوحید کی خصوصی توجہ اور شفقت حاصل تھی ۔ وہ بہت جلد گھل مل جانے والی انتہائی رحیم و شفیق خاتون تھیں۔تحریکی لگن ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔انہیں میں نے دعوتی و تحریکی کام میں ہمہ پہلو سرگرم عمل دیکھا۔ان کی اپنی فیملی وسیع تھی۔ماشاء اللہ بیٹے اور بیٹیاں،یعنی کثیر العیال تھے۔لیکن پتہ نہیں آپا زہرہ کس طرح اپنے بچوں کی نگہداشت بھی کرتیں اور ان کی تعلیم کی طرف توجہ بھی دیتیں۔ان کی تربیت کو بھی اولیت دیتیں۔اہل علاقہ کے بچوں بچیوں کے لیے گھر میں تعلیم القرآن کا سلسلہ بھی جاری رکھتیں۔پھر دعوتی و تحریکی کام کے لیے وقت بھی نکال لیتیں۔
میں نے انہیں ہمیشہ سرگرم عمل ہی دیکھا۔پہلے قریبی علاقوں میں،پھر دور دور کے علاقوں میں انہوں نے درس قرآن کے حلقے شروع کیے۔وہ آپا زہرہ کے علاوہ خالہ زہرہ کے نام سے بھی معروف تھیں۔کم عمر بیٹیوں کے لیے وہ خالہ زہرہ تھیں۔اس دور میں خواتین میں بیگم واصل خان،بنت مجتبیٰ مینا (بیگم عبد السلام خان ؒ)بیگم اسعد گیلانی،آپا صفیہ (اہلیہ صابر قرنی ؒ) اور دیگر خواتین رہنما سرگرم عمل تھیں۔آپا زہرہ کا کمال یہ تھا کہ وہ گھروں کی خواتین بالخصوص بیٹیوں اور بہوؤں کو خصوصی توجہ و شفقت سے تحریک کے ساتھ وابستہ کرتیں۔ظاہر ہے کہ اس مقصد کے لیے بڑا وقت بھی درکار ہوتا ہےاور بار بار رابطہ بھی۔آپا زہرہ میں یہ تحریکی لگن موجود تھی۔انہوں نے میری اہلیہ کوثر،میری بہن عابدہ،میاں محمد عثمان کی اہلیہ بہن ناہید،اعجاز چوہدری کی فیملی،مسز رضی الدین شیخ،بیگم حاجی محمد یونس،محمد علی درانی کی بہن عابدہ درانی وغیرہ ان سب سے بھرپور رابطے رکھے اور انہیں تحریکی لٹریچر پڑھایا۔اپنے ہمراہ دروس قرآن کی محفلوں میں لے جاتیں۔
77ء کے انتخابات میں میں اچھرہ وحدت کالونی کے حلقہ سے پی این اے کا صوبائی امیدوار تھا جبکہ چوہدری رحمت الٰہی مرحوم قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ہمارا پہلا جلسہ محترم عبد الوحید خان صاحب نے اپنے گھر کے قریب ذیلدار روڈ پر منعقد کروایا انہوں نے صدارت کے لیے جمعیت علمائے پاکستان کے مقامی رہنما کا نام تجویز کیااور خود سٹیج سیکرٹری بنے۔بڑا پر جوش اور بھرپور جلسہ تھا۔آپا زہرہ نے خواتین میں انتخابی کام کو منظم کیا۔خواتین کے جلسے،کارنر میٹنگز ڈو ر ٹو ڈور مہم،خواتین پولنگ ایجنٹس کا تقرر اور ان کی تربیت ہر کام میں نہ صرف بھرپور حصہ لیا بلکہ ان سب شعبہ جات کو منظم کیا۔مسز چوہدری رحمت الٰہی،میری اہلیہ کو ثر، مسزناہید عثمان وغیرہ کے پروگرام آپا زہرہ ہی طے کرتیںاور ان پر اپنی نگرانی میں عمل کراتیں۔ان کا پورا گھرانہ اس انتخابی مہم میں سرگرم عمل تھا۔ان کی بیٹیاں خواتین پروگراموں میں متحرک تھیں۔اسی طرح ان کے بیٹے،راشد،ناصر،عامر بھی پوری طرح سرگرم تھے۔عمار ابھی چھوٹے تھے۔
انتخابات کے بعد تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ شروع ہوئی تو اس تحریک میں خواتین کی بھرپور شرکت تھی۔جماعت اسلامی لاہور کے دفتر 9۔شارع فاطمہ جناح سے خواتین کے بڑے بڑے جلوس نکلے۔خواتین کے جلوس پر آنسو گیس پھینکی گئی تشدد ہؤا۔لیکن ہماری خواتین نے جرأت و استقامت کی بہترین تاریخ مرتب کی۔آپا زہرہ اس جلوس میں میری اہلیہ کوثر کو بھی لے کر گئیں۔میرا بیٹا فیصل اس وقت چھ ماہ کا تھا وہ بھی ہمراہ تھا۔اخبارات نے اس بات کو نمایاں کرکے شائع کیا۔اس موقع پر میں پہلے کیمپ جیل میں تھاجہاں محترم عبد الوحید خان بھی ساتھ قید تھے۔ حبیب جالب،مولانا زاہد الراشدی اور کئی بڑے بڑے رہنما ہمراہ قید تھے۔میں نماز عصر کے بعد خود چائے تیار کرکے ان رہنماؤں کو پیش کرتا۔اس دوران آپا زہرہ اور دیگر خواتین رہنماؤں نے تمام قیدیوں کی عموما ً اور ہمارے گھر کی خصوصی خبر گیری کی۔1986میں ہمارے والد گرامی مولانا گلزار احمد مظاہری ؒ ہسپتال میں بیمار رہ کر رحلت فرما گئے۔اس موقع پر بھی آپا زہرہ قریباً روزانہ ہمارے گھر آتی رہیں اور اماں جی مرحومہ اور ہمارے گھر کی تمام خواتین کو دلاسہ دیتیں،دلجوئی کرتیں اور صبرواجر کی تلقین کرتی رہیں۔اسی طرح فروری 1988ء میں میری اہلیہ کوثر گردن توڑ بخار سے بے ہوش ہوگئیں اور ان کا ڈیڑھ ماہ تک ہسپتالوں میں بے ہوشی کے عالم میں ہی علاج ہوتا رہا۔بالا ٓخر 25مارچ 1988کو ان کا جنرل ہسپتال لاہور میں انتقال ہوگیا۔یہ سارے دن ہمارے لیے رنج و الم اور تشویش و اضطراب کے دن تھے۔آپا زہرہ ہسپتالوں میں بھی آتی رہیں۔یہ ان کے کردار کا عظیم الشان پہلو ہے۔وہ بلا شبہ اپنوں سے بڑھ کر اپنائیت کا برتاؤ کرتی رہیں۔اور کوئی بھی گھرانہ اس طرح کی توجہ کا ہمیشہ معترف ہی نہیں،مقروض رہتا ہے۔اور ہم بھی آج تک ہیں۔
میں پہلے سمجھتا تھا کہ آپا زہرہ بھی اردو سپیکنگ ہیں اس لیے کہ محترم عبد الوحید خان ؒ تو محض اردو سپیکنگ ہی نہیں،اردو کے ادیب بھی تھے۔بعد میں مجھے پتہ چلا کہ آپا زہرہ تو ٹھیٹھ پنجابی ہیں۔ان کے بھائی رکن جماعت تھے،ان کی وجہ سے مجھے معلوم ہؤا کہ آپا زہرہ پنجابی ہیں لیکن انہوں نے عبدالوحید خان صاحب کی زبان ہی نہیں ان کے طرز معاشرت کو اس طرح اپنا لیا تھا کہ کوئی بھی پہچان نہیں سکتا تھا۔میں نے انہیں کبھی پنجابی بولتے نہیں سنا۔ہم نے1985ء میں اکٹھے حج کیا۔آپا زہرہ اور عبد الوحید خان صاحب ؒ اپنے اہتمام میں گئے تھےلیکن منیٰ عرفات میں ہم اکٹھے تھے۔ میرے ساتھ میری اہلیہ کوثر،ہمشیرہ عابدہ،محترم میاں محمد عثمان صاحب اور ان کی اہلیہ بہن ناہید،ہم اکٹھے تھے۔منیٰ عرفات میں اکٹھے رہے۔یہاں بھی محترم خان صاحب اور آپا زہرہ کی عبادات،رجوع الی اللہ،تقویٰ للہیت کا خوب صورت نقش تھاجو آج تک دلوں میں تازگی پید ا کرتا ہے۔ہم شیطانوں کو کنکریاں مارنے چلے،تو محترم خان صاحب نے پانی کا تھر موس اٹھا رکھا تھا۔میں نے کہا کہ آپ نے یہ بوجھ کیوں اٹھالیا ہے۔انہوں نے کہا کہ راستے میں پانی پیتے چلیں گےاور آخر میں بچا ہؤا آب زم زم شیطان پر پھینک دیں گے۔میں نے کہا کہ شیطان کے لیے یہ لفظ ہی کنکری سے بڑھ کر شدت کا ہوگا۔
اللہ کریم دونوں پاکیزہ روحوں کی مغفرت فرمائے۔آپا زہرہ ہمارے درمیان ایک شاندار زندگی گزار کر گئی ہیں۔نیکی اورتقویٰ والی طہارت قلب اور تزکیہ نفس والی،دعوت و عزیمت والی،ایثا رو قربانی والی زندگی۔اللہ کریم ان کو اس پاکیزہ زندگی کے لمحے لمحے کا اجر عظیم عطا فرمائے۔آمین ۔
اَللَّھُم اْغفِرُ لَھٰا وارْحَمْھَاَ وَاَدْخلْھَا فِیْ جَنّتِ الْفِرْدُوْسْ
٭ ٭ ٭