امی ! – راشد حمید خان

کوئی تبصرہ نہیں

کیا کہا جائے اور کیا لکھا جائے ۔ فقط اس کے کہ مرنے والی کی یادیں ہیں آہیں ہیں اور اِن یادوں سے اکتساب نور ہے۔ یہ ایک عجیب ہستی کی داستانِ حیات ہے جسے خلقِ خدا نے بے انتہا چاہا، عقیدت اور عزت دی، نہ انہیں نام و نمود کی خواہش نہ ستائش کی تمنا اور نہ صلے کی پروا۔ ایسے لوگ دنیا میں کمیاب ہی نہیں ، نایاب ہوتے ہیں بلکہ نادر و نایاب ۔ آپ چراغ لے کے بھی ڈھونڈیں تو شاذ ہی کبھی کوئی مل پائے گا ۔آپ حیرت زدہ رہ جاتے ہیں کہ کس طرح اللہ کی رحمت ان ہستیوں پہ ٹوٹ کے برستی ہے ۔ ایسے لوگ کبھی کبھی کہیں کہیں ملتے ہیں کسی بستی میں کسی قریہ میں ، جب تک کہ گردشِ لیل و نہار قائم ہے ۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ زمین پر اللہ کا نام لینے والا ایک بھی نہ ہوگا، تب قیامت قائم ہوگی۔
والدہ محترمہ عام عبادت گزاروں سے قدرے مختلف، کچھ سوا اور سچ تو یہ ہے کہ بہت کچھ سوا ۔ ایک سچا مسلمان تعصبات سے آزاد ہوتا ہے شاید اس لیے بھی کہ کوئی ضرورت مند محروم نہ رہ جائے، جو بھی چلا آئے کچھ نہ کچھ مل ہی جائے ۔ خاتم النبیین کا ارشاد مبارک ہےکہ جو دوسروں کے کام میں لگا رہے اللہ اس کے کام خود نبٹا دیتا ہے ۔ جانے والی نے سبھی کا حق ہمیشہ اور بخوبی ادا کیا، شوہر اور بچوں کا، سسرال اور میکے کا، عزیزوں اور رشتہ داروں کا،بچوں کی سسرالوں اور عزیز داریوں کا، افتاد گانِ خاک کا ، ملک و ملت کا ، اپنی جماعت اور ٹرسٹ کا، زلزلوں اور سیلابوں میں متاثرین کا،یتیم بچوں بچیوں اور مدارس کا ، بیواؤں ناداروں اور خستہ حالوں کا۔
 غرض یہ کہ کیا کہا جائے صبر ہے اور صدقہ ہے ۔ جانے والی کی یادیں ہیں اور ان یادوں سے اکتسابِ نور ہے ۔
مرد انسانیت کے ایک حصے کی نمائندگی کرتا ہے تو عورت دوسرے حصے کی ترجمانی کرتی ہے۔ گو یا عورت نصف انسانیت ہے عورت کو نظر انداز کرکے نوع انسانی کے لیے جو بھی پروگرام بنے گا وہ ادھورا اور ناقص ہوگا ۔ہم ایسے کسی معاشرے کا تصور بھی نہیں کر سکتے جو فقط مردوں پر مشتمل ہو اورجہاں عورت کی ضرورت نہ ہو۔ معاشرے کے افراد کا نصف یا کچھ زیادہ حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور معاشرے کو سنوارنے یا بگاڑنے میں عورت کا بہت ہاتھ ہوتا ہے ۔ اسلام نے دنیا کو یہ درس دیا کہ جس طرح معاشرے میں مرد ایک بامقصد وجود رکھتا ہے اسی طرح عورت کی تخلیق بھی بامقصد ہے ۔ گویا ایک متوازن اور صالح معاشرے کے قیام کےلیے عورت کا کردار بے حد اہم ہے ۔ عورت کے وجود سے ہی گھر آباد ہوتے ہیں اور گھر کے افراد لڑی میں پروئے جاتے ہیں ۔
ماں گھر میں ایسی قوت ہے جو صحیح تربیت اور ایثار کے ذریعےاپنی اولاد کو منشائے خداوندی کے مطابق ڈھالتی ہے ۔ اس لیے ماں کے پاؤں تلے جنت کی خوشخبری دی گئی ہے ۔ گھریلو ذمہ داریوں کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ عورت کےلیے امور خانہ داری کے علاوہ دنیا کے باقی کام ممنوع ہیں ۔ مسلمان عورت علوم وفنون،شعرو ادب ،تحقیق غرض ہر اعتبار سے اپنی صلاحیتیں منوا سکتی ہے۔
والدہ محترمہ ان تمام ارشادات کو بخوبی سمجھتی تھیں ۔ میں نے ان کی لائبریری میں شامل کتب میں پڑھا کہ بی بی عائشہ صدیقہؓ اپنے دور میں اسلامی قانون، عربی زبان ، شاعری ، تاریخ ِعرب، ریاضی ، علم الادویات اور دیگر علوم کی ماہر سمجھی جاتی تھیں ۔ اس کے علاوہ حافظ قرآن ،بلند پایہ محدثہ ، مجتہدہ تھیں۔ دین کا ایک تہائی علم انہیں کی بدولت ہم تک پہنچا۔ خلافتِ فاروقی میں اہم معاملات میں ان کی رائے کو بہت فضیلت دی جاتی ۔والدہ محترمہ نے سنتِ بی بی عائشہ ؓپر عمل کیا ۔
ابتدائی تعلیم
والدہ محترمہ نے قرآن ترجمہ ، تفسیر، تفہیم کی ابتدائی تعلیم مولانا مودود ی سے کم عمری میں حاصل کی۔ چارطالبات اور تھیں جن میں بیگم مودودی ، بیگم ملک غلام علی، آپار خشندہ کوکب اور آپا ام زبیرشامل تھیں۔ بیگم مودودی دروازے پر بیٹھ جاتیں اور خواتین دیوار کی اوٹ میں بیٹھ کر قرآن کی تعلیم حاصل کرتیں ۔
خاندانی پس منظر
والدہ محترمہ پنجاب کے ایک سادہ دینی ملک اعوان گھرانے میں مئی 1934 کوپیدا ہوئیں۔ ان کے والد ملک علی حسن اعوان ایک متوسط درجےکے سرکاری ملازم اور حصار میں رہائش پذیر تھے ۔ والد کا سایہ 1944 میں جبکہ والدہ تقریباََ 9 برس کی تھیں سر سے اٹھ گیا۔ دونوں بھائی ملک احسان الحق اعوان ریٹائرڈ ڈپٹی سیکریٹری پنجاب اور ملک ریاض الحق اعوان ریٹائرڈ ڈپٹی سیکریٹری پنجاب اوربہن ام کلثوم سمیت پہلے وزیر آباد اور بعد ازاں لاہور منتقل ہو گئے اور اچھرہ میں سکونت اختیار کی۔ ریاض الحق اعوان صاحب دینی ذہن کے مالک اور جماعت اسلامی کے قریب تھے۔ انہوں نے تقریباََ 14 سال کی عمر میں اپنی بہن کو مولانا مودودی کے ہاں قرآن کی لفظی ترجمہ و تفسیر کی کلاس میں داخل کروادیا۔ آپ کی والدہ جو محلے میں بے جی کے نام سے مشہور تھیں قرآن کی ناظرہ تعلیم دیتی تھیں ۔ دونوں بڑے بھائی اور بہن عمر میں کافی بڑے تھے ان کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ بہنوئی مسرور احمد قریشی اپنا میڈیکل اسٹور چلاتے تھے اور علاقے میں خلقِ خدا کی خدمت کےلیے مشہور تھے۔
دس پاروں کی تکمیل ہو چکی تو مولانا محترم کی تجویز پر عبدالوحید خان کا رشتہ ملک ریاض الحق اعوان کو بھیجا گیا ۔ خان صاحب اس وقت 23 سال کے تھے ۔ بریلی، یوپی کے ایک معزز پٹھان گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور 15 سال کی عمر سے مولانا مودودی سے بے انتہا متاثر تھے لہٰذا جماعت اسلامی میں شرکت اختیار کی اور پٹھان کوٹ منتقل ہوگئے ۔ اپنی جوشیلی طبیعت اور کم سنی کی وجہ سے مولانا مرحوم سے قربت تھی ۔ جماعت اسلامی کے اولین ناظم المال بنائے گئے کہ مولانا مرحوم کی نگاہِ مردم شناس نے آپ کے خواص بھانپ لیے تھے ۔
شادی اور دو معاشرتوں کا خوبصورت امتزاج
ریاض الحق صاحب عبدالوحید خان صاحب سے بار ہا مل چکے تھے اور ان کی شفاف طبیعت ، نیک سیرت اور خاندانی پس منظر سے واقف تھے ۔ انہوں نے اپنی والدہ اور بڑے بھائی سے مشورے کے بعد مولانا محترم کی درخواست خندہ پیشانی سے قبول کر لی ۔
اسی دوران عبدالوحید خان کے اہل خانہ ہجرت کرکے پاکستان پہنچ چکے تھے اور کراچی ، پشاور اور لاہور میں سکونت پذیر تھے ۔عبدالوحید خان کی والدہ نے بالمشافہ ملاقات کے بعد بخوشی رضا مندی دے دی اور یوں 10 دسمبر 1950 کو یہ تحریکی جوڑا نئی زندگی کی راہوں پر گامزن ہؤا ۔ نکاح مولانا محترم نے پڑھایا۔ عمائدین میں مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا عبدالغفار حسن، مولانا عبدالجبار غازی ، میاں طفیل محمد اور دیگر زعما شامل تھے ۔ تقریب کی خصوصیت یہ تھی کہ مولانا محترم کے خانساماں نے شادی کا کھانا تیار کیا ۔ بیگم مودودی نے خواتین کو اپنے ہاتھوں سے اور مولانا محترم نے اپنی ذاتی نگرانی میں مردوں کی مہمان نوازی فرمائی ۔
چونکہ زہرا خاتون چند سالوں سے مولانا مرحوم کے ہاں تعلیم کے لیے جاتی تھیں سواس عرصے میں وہ یوپی کے کلچر سے بخوبی واقف ہو گئی تھیں۔ بعد ازاں ان کی خوش دامن نے انہیں یوپی کے رہن سہن اور رسوم و رواج سے مزید آگاہ کیا اور انہوں نے بہ حسن و خوبی اپنے آپ کو یوپی کے مزاج میں ڈھال لیا ۔ انہوں نے 13 بچوں کی والدہ ہونے کے باوجود ہر گام پر اپنے تحریکی شوہر کا انتہائی عزیمت اور ثابت قدمی سے ساتھ دیا اور درس قرآن، بعد ازاں حدیث، فقہ ، دورہ قرآن اور دیگر معاملات میں اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا۔
اولاد
اللہ تعالیٰ نے اس تحریکی جوڑے کو اولاد کی نعمت سے مالا مال کیا اور چار بیٹے اور نو بیٹیاں عطا فرمائیں ۔ الحمدللہ تمام بچے دین و دنیا کی دولت سے مالا مال اور معاشرے میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ تین بڑے بیٹے MBA اور چوتھا بیٹا ڈاکٹر ،ہارٹ سرجن ہے ۔ تمام بیٹیوں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی ۔ الحمدللہ تمام بیٹیاں ترجمہ قرآن و تفسیر پر مکمل عبور رکھتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کی اولاد کو ان کےلیے بہترین صدقہ جاریہ بنائے ۔ آمین ۔
جماعتی و سماجی مصروفیات
جماعت اسلامی کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد ممبر مجلس شوریٰ، ناظمہ جماعت اسلامی لاہور ناظمہ جماعت اسلامی پنجاب کے علاوہ دیگر جماعتی عہدوں پر طویل عرصہ منتخب ہوتی رہیں ۔ بعد ازاں قیادت نوجوان خواتین کے سپرد کردی اور عہدوں سے معذرت کرلی ۔ جماعت کی ارکان خواتین ان کے دلیرانہ رویہ اور صا ف گوئی کی معترف ہوتیں ۔ دلو خورد اور شاہدرہ میں فی سبیل اللہ ٹرسٹ کے نام سے اسکول ، ڈسپنسریاں، گشتی شفا خانے قائم کیے ۔ دلوخوردمیں خواتین کا دینی مدرسہ بھی قائم کیا، جہاں دور دراز سے آنے والی بچیاں رہائش اختیار کرتیں اور قرآن حدیث فقہ اور درس نظامی کی تعلیم حاصل کرتی تھیں ۔ اس کے علاوہ ہائی اسکول بھی قائم کیے ۔
در س قرآن اور دورہ قرآن
پچھلے چالیس سال سے کچھ زیادہ عرصے سے ہر سال رمضان میں دورہ قرآن اور شہر کے کئی مقامات پر ہفتہ وار درس قرآن و حدیث دیتی تھیں۔ ان کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ شہر کے اکثر عمائدین کی بیگمات و خواتین متعدد صنعتی شعبوں کے مالکان کی بیگمات و خواتین حتیٰ کہ صاحب اقتدار و اختیار لوگوں کی بیگمات اور بیٹیاں باقاعدہ شرکت کرتیں ۔ پنجابی اور اردو زبان پر عبور کی وجہ سے انہیں ترجمہ و تفسیر خواتین کے فہم کے مطابق پہنچانے میں مہارت تھی اور اس وجہ سے ان کے درسِ قرآن کا خصوصی اہتمام کیا جاتا۔ درسِ قرآن کا سلسلہ ان کے انتقال سے چند ماہ پہلے تک جاری رہا۔ کئی خواتین کو قبولیت اسلام میں مدد کی اور ان کی شادیوں اور معاشرے میں با عزت قبولیت کا اہتمام کیا۔
زلزلے، سیلاب یادیگر آسمانی آفات، جنگوں یا دیگر افتاد گان خاک کے لیے ان میں ایک عجیب و غریب ولولہ و جوش پیدا ہو جاتا۔ وہ اپنے درس قرآن کی صاحبِ ثروت خواتین سے، صنعتی مالکان سے اور دیگر اعلیٰ مرتبوں پر فائز حضرات سے بڑےاصرار کے ساتھ کمبل، بستر، گندم ، چاول ، کپڑے اور دیگر اجناس خیمے وغیرہ جمع کرتیں اور اپنی بے مثال لیڈرانہ اور انتظامی صفات کو بروئے کار لاتے ہوئے کثیر اہتمام کرتیں۔ بارہا 8 سے 10 ٹرک سامان اپنی زیر نگرانی متاثرہ مقامات تک پہنچائےاور سامان اپنے ہاتھوں سے تقسیم کیا۔ اس دوران ان کا قیام کسی قریبی بستی میں جماعت کی کسی دوست یا اپنی شاگرد کے ہاں ہوتا جو بڑی سعادت مندی سے ان کے کام آتیں۔ اللہ نے انہیں حج اور عمرے کی سعادت بھی عطا کی ۔
عادات و خصائل
مجموعی طور پر بے حد ملنسار اور مہمان نواز خاتون تھیں ۔ زندگی میں بڑی مشقت اور تنگدستی بھی دیکھی ۔ 13 بچوں کی پیدائش اور پرورش، تعلیم و تربیت کپڑے لتے مہمانداری، شادی بیاہ کی رسومات ، سب ہی کچھ بہت سفید پوشی سے نبھایا۔ تحریکی شوہر جن کا ذریعہ معاش قلم و تحریر تھا۔ پھر کچھ عرصہ جیل میں بھی گزرا، بے روزگار بھی ہوجاتے۔ ایسے میں اتنا بڑا کنبہ پالنا یقیناً ایک جہد مسلسل تھی۔ لہٰذا خاتون ہونے کے ناطے کبھی طبیعت میں تندی اور چڑ چڑا ہٹ آجاتی ،بچوں کی بیماری آزاری، اسکول کی فیسیں وغیرہ ۔ کبھی سوچتا ہوں کہ اللہ غیب سے اپنے ان بندوں کو حوصلہ عطا فرماتے ہیں۔ انتہائی خود دار و غیور طبیعت پائی تھی۔ اولاد کا بھی احسان اٹھانا پسند نہ کرتیں۔میں اکثر ان سے کہتا کہ اولاد پر ماں باپ کا حق ہے کوئی احسان نہیں۔ مگر ان کا مزاج یقیناًکچھ اور ہی تھا ۔ تقریباً13 سال پہلے ابا جی کے انتقال کے بعد ہم نے درخواست کی کہ اب آپ ہمارے ساتھ رہیں مگر انہوں نے بڑی محبت و شفقت سے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ مجھے سنبھالنا بہت مشکل ہے ، میں اپنے بچوں کو اس مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی ۔ میں اپنے شوہر کی زندگی سے ہر فیصلہ خود کرنے کی عادی ہوں ، مجبوری اختیار نہیں کر سکتی ۔
بچے انہیں ایک معقول رقم ماہانہ پہنچا دیتے اور وہ اپنی مملکت میں خوش و مطمئن رہتیں ۔ ہر رات کوئی بیٹا، نواسہ یا بیٹی اُن کے ساتھ ہوتے اور صبح کام پر روانہ ہو جاتے ۔ بالخصوص ناصر حمید خان دو ملازمتوں کے باوجود 6 سال تک ثابت قدمی سے یہ ڈیوٹی نبھاتے رہے ۔ اللہ انہیں اجر عطا فرمائے ۔ دن بھر وہ اپنے ملازمین اور ڈرائیور کے ہمراہ گزارتیں۔ ان کے 8 بچے مستقلاً لاہور میں رہائش پذیر تھے جو ہفتے میں دو یا تین بار انہیں ملنے آتے ۔ شادیوں، عید بقر عید اور دیگر تعطیلات میں تمام بچے ان کے گھر جمع ہوتے ۔ کیا سماں ہوتا۔ ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ ہوتا ۔ ملازمین کے ذریعے اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی مرضی کے کھانے اہتمام سے بنواتیں۔ رہائش کے انتظامات، بستر ، گدے ، تکیے ، چادریں ، تولیے اپنی ذاتی نگرانی میں کرواتیں۔
الحمدللہ اپنے بچوں سے بہت خوش ، مطمئن تھیں اور ان پر بجا طور پر فخر کرتیں۔ ان کے گھر میں ہر وقت 10 سے 15 افراد کا کھانا بنتا جو وہ ہر آتے جاتے مہمان یا سائل کو ضرور کھلاتیں ۔مہمانوں کو تحائف دے کر رخصت کرتیں۔ بچے پشاور ، کراچی ، اسلام آباد اور فیصل آباد بسلسلہ روزگار مقیم رہے ۔ بڑے اہتمام اور شوق سے ان کے ہاں قیام کرتیں ۔ اللہ نے انہیں طویل عمر عطا فرمائی اور اس کا کوئی لمحہ انہوں نے بغیر مصروفیت کے نہیں گزارا۔ ان کی زندگی کے اہم ترین ادوار 1973 سے بعد کے تھے ۔
ان کے قریبی ساتھیوں میں محترمات رخشندہ کوکب، نیربانو ، حمیدہ بیگم، نصرت محمود، زبیدہ بلوچ ، بنتِ مجتبیٰ مینا، بیگم اسعد گیلانی، بیگم عاصم الحداو ، بیگم فقیر حسین ، ثریا اسماء، حمیرا مودوی، اسماءمودودی ، بیگم میاں طفیل محمد، بیگم شمشیر علی جیولر ، آپا خورشید ،بیگم ملک اسلم، بیگم امین جاوید ،بلقیس صوفی ، عائشہ منور اور ڈاکٹر ثمین ذکاشامل ہیں۔بے شمارلوگ جن سے اپنوں کی طرح بہت محبت کرتی تھیں اپنے پیچھے چھوڑ گئی ہیں جن سب کے نام لکھنا ممکن نہیں ۔
علالت
اللہ تعالیٰ نے امی کو قابل رشک صحت اور ہمت سے نوازا تھا۔ اگست 2023 تک وہ باقاعدہ درس و تدریس سے وابستہ رہیں تاہم جولائی 2023 میں انہیں جلد میں فنگس کی تکلیف شروع ہوئی۔ انہیں فوری طور پر ان کی مرضی کے خلاف ان کے بیٹے عامر حمید خا اورشانوسے باہمی مشاورت کے بعد التجا کرکے انہیں اپنے گھر واقع ڈیفنس فیز 6 لے گئے جہاں چھوٹے بیٹے ڈاکٹر عمار کی ہدایت پر 24 گھنٹے کے لیے نرس رکھ لی گئی جو انہیں نہلانے دھلانے اور دوا ، انجکشن باقاعدہ لگانے کا کام سر انجام دیتی ۔ اکتوبر کے آخر تک وہ جِلدی بیماری سے شفایاب ہو گئیں ۔ نومبر 2023 سے ان کی غذا محدود ہوتی چلی گئی ۔ جسمانی صحت مناسب تھی ۔ تمام رپورٹس نارمل تھیں ۔ تاہم کم خوراکی کی وجہ سے نقاہت بڑھ رہی تھی ۔ خوراک میں پھلوں کے جوس اور ENSURE کو شامل کیا گیا مگر حکم ِ الٰہی کچھ اور ہی تھا۔ اس دوران ان کی بیٹی عفیفہ مکہ سے اور عائشہ آسٹریلیا سے دو، دو مرتبہ آکر ان کے پاس کچھ دن گزار کر گئیں۔
 دسمبر کے شروع میں خوراک سے طبیعت اچاٹ ہو گئی تھی ۔شانو بار بار مجھے فون کرتی اور اپنی پریشانی کا اظہار کرتی تاہم اس تمام عرصے میں عامر اور شانو نے امی کی نہ صرف بےمثال خدمت کی مثال قائم کی بلکہ مہمان نوازی کا ایک لامتناہی سلسلہ جوکہ امی کے انتقال کے بعد بھی تا دیر رہا انتہائی خوبی سے نبھایا۔ اللہ انہیں اجر عظیم دے۔ دسمبر کے آخر میں میں کراچی سے ناصرہ کے ہمراہ پہنچا۔ یہ میرا نارمل دورہ تھا جو ہر تین ماہ بعد میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک ماہ ان کے ساتھ گزارتا۔ عامر اور اس کی فیملی نے عمرہ کا پلان بنایا تھا ،ہم نے اس کے گھر کا چارج سنبھال لیا تاکہ وہ ایک ہفتے کے عمرے کے پروگرام سے جا سکیں۔ اس دوران میں نے اپنے چھوٹے بھائی ڈاکٹر عمار سے تفصیلی گفتگو کی کہ اگرامی کی تمام رپورٹس درست ہیں تو نقاہت اور کھانا نہ کھانے کی کیا وجوہات ہیں۔ اس نے اشارتاً بتایا کہ اب امی کی تندرستی کے امکانات بہت کم ہیں اور غالباً زیادہ مہلت بھی نہیں ہے ۔ ہم بڑے اپ سیٹ ہوئے کہ یہ کیا تشخیص ہے ، اس نے بتایا کہ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ مرض الموت کی علامات ہیں اور شاید مزید دو ہفتے بھی نہ مل پائیں یا جو اللہ کا حکم ہو۔ اس دوران عمار اور مہوش امی سے ملنے بارہا آتے رہے۔
ہم نے تمام احباب اور رشتہ داروں کو امی کی طبیعت کے بارے میں مطلع کر دیا اور امی کےلیے دعاؤں کی درخواست کردی ۔ خواتین، رشتہ داروں اور امی کی شاگردوں کی بڑی تعداد نے روزانہ امی سے ملنے آنا شروع کردیا۔ بیرونِ ملک سے فون پر روزانہ بے شمار کالز موصول ہوتیں۔ بہن بھائی روزانہ صبح سے رات تک امی کے پاس بیٹھتے اور بہنیں راحیلہ ، حمیرا، نسرین ، پروین رات کو بھی قیام کرتیں۔ امی کے سب بچے ان کی آنکھوں کے سامنے رہتے۔ناصر اور سعدیہ بھی دِن بھر قیام کے بعد رات کو دو بجے واپس گئے۔ اسلام آباد سے بھی دونوں بہنیں آچکی تھیں۔ ایک دن پہلے میری بیٹی سدرہ کو بھی انہوں نےخواہش کرکے لندن سے بلوایا جوان کے انتقال سے 8 گھنٹے پہلے پہنچی۔ بڑا والہانہ استقبال کیا۔
دم واپسیں
بدھ 17 جنوری کی مغرب کے بعد سے طبیعت میں کچھ بے چینی تھی۔ سدرہ کے آنے کے بعد قریباً دو گھنٹے بہتر گزرے۔ ناصرہ ان کو بار بار آب زم زم پلاتی اور ان کی خواہش پر عجوہ کھجور کا گودا آب زم زم میں گھول کر چمچ سے کھلاتی ۔ تقریباً10 بجے عشا کی نماز ادا کی ۔ علالت کے تمام عرصے میں مکمل ہوش و حواس میں تھیں اور ہر بات کا جواب دیتیں یا فرمائش بیان کرتیں ۔
رات بارہ بجے ناصرہ سے وضوکروانے کی خواہش کی ۔ اس نے کہا کہ آپ نے عشا کی نماز ادا کر لی ہے اب انشاء اللہ فجر کے وقت آپ کو وضو کرواؤں گی ۔ انہوں نے دوبارہ وضو کا کہا ۔ دو تین مرتبہ کی تکرار کے بعد ناصرہ نے ان کو تیمم کروایا اور گرم تولیے سے ہاتھ اور چہرہ اچھی طرح صاف کیا ۔ اب وہ مطمئن ہو گئیں ۔
تقریباً دو گھنٹے بعد رات کے دو بجے وہ غنودگی میں چلی گئیں ۔ ہم لوگ بھی برابر کے کمرے میں کمر ٹکانے چلے گئے۔ سعدیہ اور ربیعہ ان کے ساتھ لیٹی تھیں ۔ تقریباً ساڑھے چار بجے صبح سعدیہ نے بھاگتے ہوئے آکر بتایا کہ امی کی سانس اکھڑ رہی ہے ۔ چند ہی سیکنڈ میں ہم ان کے سرہانے تھے۔ وہ آخری سانسیں لے رہی تھیں اور چند ہی سیکنڈ بعد اپنے رب کے حضور پیش ہو گئیں۔ انتہائی پر نور، شفیق چہرہ جو یکدم جانے کیسے تمام جھریوں سے پاک ہو گیا تھا۔
ان کی وصیت کے مطابق ان کا جنازہ اچھرے کے آبائی گھر پہنچا دیا گیا ۔ نسرین ، راحیلہ، حفصہ اور ناصرہ نے غسل دیا۔ اچھرے کے بازار بند ہو گئے تھے ۔ جنازے کا وقت نماز عصر کے بعد رکھا گیا ۔ لوگ جوق در جوق آ رہے تھے ،خواتین بہت بڑی تعداد میں پہنچ چکی تھیں۔ راحیلہ کی تفصیلی رقت آمیز دعا سے پہلے سمیعہ راحیل قاضی نے اور چند اور خواتین نے باری باری ان کےلیے دعا کروائی اور اپنے رب کریم کے حضور گواہی دی کہ انہیں قرآن کا فہم ، پیغام اور شعور آپا زہرہ نے عطا کیا ۔
غسل کے بعد کفن میں کیا خوبصورت اور حسین چہرہ نظر آتا تھا ۔ میں نے اپنی تقریباً68 سالہ زندگی میں اتنا خوبصورت اور حسین اپنی امی کو کبھی نہیں دیکھا ۔ یقیناَ جنتی خواتین کے یہی چہرے ہیں ۔ ہم چاروں بھائی ان کے قدموں سے لپٹ رہے تھے کہ زندگی میں انہوں نے اس گستاخی کا کبھی موقع نہ دیا ۔
چاروں بیٹوں نے ڈولا اٹھایا اور کلمہ شہادت کا ورد کرتے ہوئے انتہائی وقار اور متانت کے ساتھ اس نیک بی بی کو سفر آخرت پر لے چلے ۔ جنازے میں سینکڑوں لوگ شامل تھے۔ حافظ ادریس صاحب نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور خصوصی خطاب فرمایا ۔ جنازے کے اجتماع میں جماعت اسلامی کے عمائدین بشمول لیاقت بلوچ، فرید پراچہ و دیگر عمائدین شہر ، محلے کے احباب، رشتہ داروں اور کثیر تعداد میں دوستوں نے شرکت کی ۔
اچھرہ کے قبرستان میں ان کے بیٹوں نے ان کے شوہر کے پہلو لحد میں اتارا اور پر نور چہرہ قبلہ رو کیا ۔ اور یہ بے مثال ہستی ، یہ شفیق چہرہ ہمیشہ کے لیے منوں مٹی تلے چھپ گیا۔
خورشید مثال شخص کل شام
مٹی کے سپرد کر دیا ہے
اندر بھی زمین کے روشنی ہو
 مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے
لوگ مٹھیاں بھر بھر کے مٹی ڈال رہے تھے ؎
مٹھیوں میں خاک لے کر لوگ آئے وقتِ دفن
زندگی بھر کی محبت کا صلہ دینے لگے
اچھرے کے گھر میں چار روز تک ہم سب بہن بھائی جمع ہوئے۔ لوگ تھے کہ قطار اندر قطار تعزیت اور دعا کےلیے چلے آ رہے تھے ۔ خواتین ایسی غم زدہ کہ جیسے کوئی انتہائی قریبی عزیز چلا گیا۔ ہم بہن بھائی کہ اسی گھر میں ہمیشہ پلے بڑھے مگر والدین کی سرپرستی ، موجود گی میں ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم سب تھے اور ماں باپ نہ تھے ۔ہم ایک ایک کونے کو دیوانوں کی طرح دیکھتے ۔ ایک ایک دیوار پر ہاتھ پھیرتے ۔
اک عجب بوئے نفس آتی ہے دیواروں سے
ہائے کیا لوگ رہا کرتے تھے ہم سے پہلے
(قدرے تصرف کے ساتھ)
کئی پیغامات واٹس ایپ پر اندرونِ ملک اور بیرون ملک سے امی کی ساتھیوں ، دوستوں اور شاگردوں نے بھیجے اور ہمیں حیران کر دیا ۔ یہ گل ہائے عقیدت بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ ٭
Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp