ایک بہو کے لیے اپنی ساس کی توصیف میں قلم اٹھانا اور وہ بھی بعد از مرگ یقیناََ ایک بے حد خوشگوار اور خوبصورت ماضی کی غمازی کرتا ہے اور پھر اپنی ساس جوکہ سگی چچی تھیں اپنے حسنِ اخلاق اور محبت کی وجہ سے ماں سے بھی بڑھ کر درجہ حاصل کرلیں یقیناََ قابلِ تحریر ہے ۔
میری والدہ کا انتقال 1998 میں امریکہ میں ہؤا۔ چچی صاحبہ نے پچھلے 25 سال نہ صرف اس خلا کو انتہائی محبت و شفقت سے پُر کیا بلکہ اپنے حسنِ سلوک سے اپنی بہوؤں کے دل جیت لیے ۔ ہمارا گھر ایک بھرا پُرا گھرانہ ہے اور 9 بیٹیوں اور 4 بیٹوں کے ساتھ ہمیشہ خوشیوں اور قہقہوں سے گونجتا،چچا صاحب کے مترنم اور گونجدار قہقہے اسے مزید جاندار و شاندار بنا دیتے۔ چچی صاحبہ کے اپنے اصول تھے جن کے تحت سب لوگ اپنی اپنی حدود کی حفاظت کرتے۔ صوم وصلوٰۃ کی پابندی رمضان میں سحر و افطار کی رونقیں ، عید بقر عید پر دعوتیں۔ تحریکی اجتماعاتِ خواتین ، درس قرآن و دورہ قرآن کی محافل ، اکثر اوقات دیگر شہروں سے آئی ہوئی جماعت کی خواتین جن کا قیام و طعام بھی ہمارے ہی گھر ہوتا، گھر کی رونقوں اور مصروفیات کو بے حد بڑھا دیتی تھیں۔ اس کے علاوہ صبح سے شام تک مختلف سائلین کا چچا صاحب اور چچی صاحبہ کے پاس تا نتا بندھا رہتا ۔ زکوٰۃ کی تقسیم سے لےکر ناداروں اور ضرورت مندوں کے مسائل ، دیگر معاشرتی مسائل میں مدد کے طالب، غرض یہ کہ مکمل فلاحی و دینی سلسلے صبح سے شام تک جاری رہتے ۔
میں ایک بالکل مختلف پس منظر کے ساتھ ، مختلف رسوم و رواج اور کلچر سے اس ماحول میں بحیثیت بہو نومبر 1984 میں داخل ہوئی ۔ گویہ میرے سگے چچا اور چچی کا گھر تھا مگر کراچی اور لاہور کے رسوم و رواج کلچر ، تہذیب ، حتیٰ کہ موسم بھی بالکل مختلف تھے ۔ میں اس گھر کی پہلی بہو تھی اور مجھ سے پہلے نسرین باجی اور پروین باجی کی شادی ہو چکی تھی ۔ چھوٹے بہن بھائیوں نے بے پناہ محبت اور عزت سے میرا استقبال کیا جو الحمد اللہ تادم تحریر نہ صرف جاری ہے بلکہ ان کی بے پا یاں محبت اور خلوص نے مجھے اپنے ماں باپ اور بہن بھائی بُھلا دیے اور میں نے اپنی ہستی کو اس پر خلوص ماحول میں ضم کر دیا ۔
تا کس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
چچی صاحبہ 13 بچوں کی بجا طور پر ایک سخت گیر ایڈمنسٹریٹر، انتہائی ذہین اور معاملہ فہم خاتون تھیں ۔ انہوں نے اپنے تمام بچوں کی پرورش کچھ اس انداز میں کی کہ انتظامی سخت گیری ، شفقت و محبت اور ایثار کا ایسا امتزاج کہ تاعمر سب بچے ان کے بے حد تابعدار اور فرماں بردار رہے ،کبھی ان کی حکم عدولی نہ کی ۔ اس کے برعکس چچا صاحب بے حد نرم مزاج اور دوست مزاج شخصیت رکھتے تھے مگر چچی صاحبہ ان کا رعب بٹھائے رکھتی تھیں۔ اگر کسی لڑکے سے خفا ہوتیں تو کہتی تھیں کہ’’آنے دو تمہارے باپ کو، بتاؤں گی سب کچھ‘‘ ۔ ابا جی اس شکایت پر ایک مصنوعی سی خفگی ظاہر کرتے اور آخر میں معاملہ ہنسی خوشی رفع دفع ہو جاتا ۔
میں نے شروع ہی میں ان کے اصولوں کو بھانپ لیا تھا اور بخوشی اپنے آپ کو اس ماحول میں ڈھال لیا تھا ۔ نسرین باجی ، پروین باجی، راحیلہ، حفصہ، عامر، ناصر ہر لمحہ میرے معاون ہوتے ۔ چچی صاحبہ اگرچہ اپنی پوشیدہ طمانیت کو ظاہر نہ ہونے دیتیں تاہم ہم لوگ ان کے اطمینان و تشکر کو واضح محسوس کرتے ۔ وہ ایک بے حد غیور اور خوددار خاتون تھیں اور اپنی کسی کمزوری کا اظہار بچوں کے سامنے نہ کرتیں۔
تقریباََ میری شادی کے 8 سال بعد ناصر کی شادی ہوئی اور سعدیہ دوسری بہو بن کر گھر پہ آئی جو ایک بے حد محبت کرنے والی خاموش طبع اور سادہ طبیعت لڑکی تھی ۔ اگلے سال عامر کی شادی کے بعد شانو جوکہ رشتے میں ہماری بھانجی تھی گھر میں شامل ہوئی ۔ چچی صاحبہ نے سینیارٹی کا رتبہ برقرار رکھا۔ دونوں آنے والی بھابھیاں جلد ہی خاندان میں گُھل مل گئیں ۔ چونکہ 8،9 سال کے وقفے کے بعد یہ بہوئیں گھر آئی تھیں تو چھوٹے بہن بھائی ان سے گھل مل گئے۔ اگرچہ سعدیہ اسلام آباد اور شانو پشاور اپنے شوہروں کے ساتھ چلی گئیں تاہم جب بھی سب لوگ اکٹھے جمع ہوتے وہی محفلیں وہی رت جگے وہی دعوتیں ۔ یہ رونقیں گھر کا حصہ بن چکی تھیں ۔
چچی صاحبہ گھریلو ہدایات بیٹیوں اور بیٹوں کو دیتی تھیں اور بہوؤں سے علاوہ مشاورت کے کوئی دخل اندازی نہ کرتی تھیں۔ اگر کوئی چیز خلاف مرضی ہو تی تو بیٹے کو بلا کر ہدایات جاری کرتی تھیں ۔ عموماََ ہم تینوں اُن کے بیڈ کے ساتھ کرسیوں پر یا بیڈ کے پائنتی بیٹھتے۔ گھنٹوں خاندان کے ماضی کے قصوں پر گفتگو کرتی تھیں ۔ لڑکوں سے سیاسی مباحث یا مذہبی گفتگو زیادہ ہوتی ۔ مجھ سے کھانوں کی تراکیب و دیگر خانہ داری امور پر بات کرتی تھیں ۔ میرے ہاتھ کے چند پکوان انہیں بے حد مرغوب تھے، فرمائش کرکے پکواتی تھیں اور بے حد تعریف کرکے کھاتی تھیں ۔انتقال سے دو روز قبل بھی اپنی فرمائش پہ وہی کھانے بنوائے جس میں کڑھی ، دھی پھلکیاں، دہی بڑے، پلاؤ اور قورمہ شامل تھے ۔ محض تین چار چمچ کھا سکتی تھیں۔ مگر ان لمحات میں بھی تعریف کی ۔ کسی شادی بیاہ یا پارٹی میں جانا ہوتا تو جب میں کپڑے بدل کے تیاری مکمل کر لیتی تو خاص طور پر بلا کر تحسین آمیز نظروں سے دیکھتی تھیں اور بے حد تعریف کرتی تھیں۔ اکثر اپنی کوئی شال یا چادر جو خصوصی تقریبات کےلیے رکھتی تھیں مجھے اوڑھنے کو دیتیں اور بے حد خو ش ہوتیں ۔ جب کبھی میں ساڑھی باندھتی بے حد خوش ہوتی تھیں ۔ راشد بھی جب تقریبات میں جاتے تو عموماََ سوٹ اور ٹائی زیب تن کرتے ۔ خصوصی طور پر بلا کر دیر تک ستائشی نظروں سے جائزہ لیتی تھیں۔ کبھی کسی بہو کی بات دوسری بہو کے سامنے نہ کرتی تھیں ۔ تمام بہوؤں اور بچوں کا بے حد خیال کرتیں ان کے کھانے سے لے کر اور اگر رات کو قیام کرتے تو تمام بستروں کے انتظامات کرتیں کمبل تکیے گدے وغیرہ ۔عید بقر عید پر پہلے سے عیدی کے طور پر بہو اور بچوں کے لیے عیدی اور تحائف جن میں موسم کے حساب سے کپڑے اور شالیں وغیرہ ہوتے تیار رکھتیں۔
بقرعید پر طویل عرصے تک عید کے اگلے دن باربی کیو پارٹی ہوتی جس میں تمام بچے اور اہل خاندان بھر پور شرکت کرتے ۔ اپنی ذاتی نگرانی میں گوشت کی تقسیم، حصے بنانا اور بھجوانا ۔ کھانے کے انتظامات کا حتمی جائزہ لیتی تھیں ۔ سدرہ کی شادی پر ان کی خوشی دیدنی تھی۔ کراچی کی تمام تقاریب میں ان کی انتہائی ذوق و شوق سے شرکت بعد ازاں لاہور میں خصوصی تقریب جو محض امی کی خوشنودی کے لیے رکھی تھی بے حد اور جوش و خروش سے شرکت کی۔
میں چونکہ کراچی سے تعلق رکھتی تھی اور ان کے جیٹھ کی بیٹی تھی ، میرا خصوصی خیال رکھتیں اور میری رائے کو ہمیشہ بے حد اہمیت دیتیں اور مقدم رکھتیں ۔ میں 1984 نومبرمیں شادی کے بعد لاہور آئی ۔ اگرچہ یہ میرے چچا کا گھر تھا اور اس سے پہلے بھی چند مرتبہ آنا ہؤاتھا مگر شادی کے بعد میری ذمہ داریوں کی نوعیت اور گھر میں پہلی بہو کی حیثیت سے ایک کڑا امتحان تھا مگر ان کی بے مثال شفقت اور میرے بہن بھائیوں کی محبت نے مجھے بے حد سرخرو کیا ۔ چچا صاحب اور چچی صاحبہ ہم لوگوں کی اس بے مثال محبت اور یگانگت کو دیکھ کر نہال ہوتے ۔ راشد کی ملازمت ایسی تھی کہ ان کی تعیناتی کراچی میں تھی اور وہ مہینے میں دو سے تین ہفتے ملک سے باہر گزارتے۔ میں سال میں تین سے چار مرتبہ مہینہ بھر اپنے چچا، چچی اور بہن بھائیوں کے ساتھ گزارتی۔ خوشی کا ایک عالم ہوتا۔ ہر روز پکنک ہر روز تفریح، طرح طرح کے کھانے موسم کے حساب سے سہ پہر کی چائے کے ساتھ لوازمات گرمیوں میں قلفی یا آئسکریم اور سردیوں میں مونگ پھلی ، ریوڑیاں یا گزک وغیرہ ، ناصر، عامر دفتر سے آنے کے بعد نت نئی فرمائشیں کرتے جو پوری کی جاتیں۔ چھوٹی بہنیں دن بھر پھرکی کی طرح پورے گھر میں گھومتیں غرضیکہ ایک سماں ہوتا۔ چچا صاحب اور چچی ان لمحات سے بے حد محظوظ ہوتے ۔ میری شادی سے پہلےنسرین باجی اور پروین باجی کی شادیاں ہو چکی تھیں پروین باجی تو لاہور سے باہر رہتی تھیں البتہ نسرین باجی تقریباََ روزانہ اپنے بچوں کے ساتھ آجاتیں اور ہماری خوشیوں میں شامل ہوتیں۔ راحیلہ ، حفصہ ، عفیفہ ، حمیرا اور ربیعہ مجھ سے کھانوں کی تراکیب پوچھتیں اور میں آہستہ آہستہ گھریلو مینجمنٹ اور بجٹ کے طریقے سمجھاتی۔
پہلے پانچ سے چھ سال یونہی پر لگا کر اُڑ گئے ۔ دسمبر 89 میں راشد نے کوشش کرکے لاہور ٹرانسفر کروالی ۔ اب بہنوں اور بھائیوں کی شادی کے زمانے آ رہے تھے۔ ہمارا لاہور آنے کا اصل مقصد بھی یہی تھا کہ راشد چونکہ بڑے بیٹے تھے اور گھر کی ذمہ داریوں سے بخوبی واقف۔ الحمد للہ ناصر اور عامر نے قدم قدم پر ان کا ساتھ نبھایا بلکہ بڑھ کے نبھایا۔ اگرچہ عمروں میں زیادہ فرق نہ تھا مگر چھوٹے بہن بھائی بالخصوص ناصر اور عامر بڑے بھائی اور بھابھی کا بے حد ادب کرتےاور ان کے رائے یا فیصلے کو من و عن تسلیم کرتے۔ راشد ہمیشہ ہر مشورے میں ناصر، عامر اور مجھے شامل رکھتے اور فیصلے کرتے۔ بعد میں امی اور ابا جی سے اس کی منظوری لے لی جاتی ۔
چچی صاحبہ گھر کے معاملات اور ڈسپلن پر کڑی نظر رکھتیں ۔ تمام اخراجات اور روز مرہ ضروریات شروع میں نسرین باجی بعد میں راحیلہ اور درجہ بدرجہ چھوٹی بہنوں کے پاس ہوتے ۔ کسی کمی بیشی یا فوری ضرورت کی وجہ سے اگر ضروری ہوتا تو وہ دخل اندازی کرتیں ۔ میری شادی کے بعد کے چند سال ان کی جماعتی مصروفیات کے اور بعد میں ٹرسٹ کی مصروفیت اور درس قرآن کی کلاسز کے رہے ۔ عموماََ 10 سے 12 گھنٹے روزانہ ان کی جماعت کی اور بعد ازاں ٹرسٹ اور شفاخانوں وغیرہ کی مصروفیات ہوتیں ۔ اسی دوران راحیلہ ، ناصر، حفصہ اور عامر کی شادیاں تقریباََ ایک ڈیڑھ سال فرق سے ہوئیں۔ وہی ہم چار لوگوں کی ٹیم فیصلہ کرتی اور چچی عموماََ بے حدسراہتیں۔ عامر تمام کھانے کے انتظامات اپنے دوستوں کے ہمراہ اور ناصر تمام دیگر انتظامی امور سنبھالتے۔ میں مشاورت کا مرکز ہوتی اور راشد مکمل نگرانی کرتے الحمدللہ تمام شادیاں اور تقریبات بے حد خوبی کے ساتھ انجام پاتیں ۔ سفید پوش گھرانوں کے بجٹ ہمیشہ بے حد محدود ہوتے ہیں تمام بہنوں کے مناسب انداز کے جہیز، بارات کے انتظامات اور اہتمام طویل مہمانداریاں اللہ کریم نے ان ماں باپ کی شب و روز کی دعاؤں کے طفیل بے حد آسودگی سے کروائے ۔
میں نے ان ماں باپ کے تربیت کے نمونے ان کے بچوں میں دیکھے۔ بہن بھائی آپس میں بے حد جڑے ہوئے، یکسو اور ذمے داری ادا کرنے کے جذبے سے سر شار۔ میں سمجھتی ہوں دورِ حاضر کی خود غرض اور مسابقت پسند دنیا میں شاید ہی ایسی مثالیں ہوں گی یا بے حد کمیاب۔ راشد میرے شوہر تھے ، بے لوث اور ہر لمحے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی محبت سے سرشار ایثار و قربانی کا مجسم روپ، بالکل وہی عادات خصائل ناصر اور عامر میں تھے اور تمام بہنوں میں بھی۔ عمار چونکہ چھوٹے تھے اورابھی انہیں موقع نہیں ملا تھا تاہم بعد میں اپنے بھائیوں کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے انہوں نے بھی اپنے کردار کو خوب نبھایا۔ چچی صاحبہ اور چچا صاحب اپنے گلستان کو دیکھ کر نہال ہوتے ۔
اب میرے ساتھ ناصر اور عامر کی بیگمات بھی شامل ہو چکی تھیں ۔ سعدیہ اور شانونے اپنے کردار کو خوبی سے نبھایا اور اسی انداز میں اپنے آپ کو ڈھال لیا ۔ ہمیشہ میری بہت عزت کی اور میرے مشوروں پر من و عن عمل کیا۔بعد میں عامر پشاور اور ناصر اسلام آباد چلے گئے ۔ چچی صاحبہ اپنی بہوؤں کو انڈیپنڈنٹ دیکھنا چاہتی تھیں۔ وہ کسی بیٹے یا بہو کو شادی کے بعد اپنے ساتھ محض اس لیے کبھی رکھنے پر رضا مند نہیں تھیں کہ وہ ان کی یا گھر کی خدمت کرے گی۔ بے حد آزاد اور روشن خیالی کے جذبات رکھتیں ۔ گھر کے بنیادی اصولوں پر نہ وہ خود کبھی سمجھوتہ کرتیں اور نہ کسی سے چاہتیں۔ بہوئیں ان کے مزاج کو سمجھ چکی تھیں سو وہ انہیں شکایت کا موقع نہ دیتیں۔ عیدوں بقر عیدوں اور تہواروں اور دیگر تعطیلات میں دوسرے شہروں سے بچے آجاتے۔ سب لوگ خود اپنے کام سنبھال لیتے۔ مجھے اپنی نگرانی میں ہدایات دیتی تھیں کھانے کے مینیو، رہائش کے انتظامات، میں، سعدیہ اور شانوان کے ساتھ مل کر ان کے منشا کے مطابق معاملات چلاتے ۔
اس دوران لگ بھگ تین سال کے وقفے کے بعد عفیفہ ، ربیعہ اور پھر تین سال بعد حمیرا اور سعدیہ کی شادی کے مواقع آئے ۔ اسی طرح تمام انتظامات جہیز ، فرنیچر اور دیگر انتظامات بحسن و خوبی طے پائے ۔اس مرتبہ میری دوچھوٹی بھابھیاں سعدیہ اور شانو شامل رہیں ۔ چیزیں مزید آسان اور بابرکت ہو گئیں۔ بچیوں کے لیےبرکا دیکھنا اور فیصلہ کرنا اب ہمارے ذمے تھا ۔ چچی صاحب اور چچا صاحب صرف ہماری رائے پہ صاد کرتے ۔ دونوں بڑی بہنوں کی شادیاں مجھ سے پہلے ہو چکی تھیں ۔ راحیلہ کے بعد سے تمام شادیوں میں میرا کردار آنے والے بہنوئی بھی خوب سراہتے ۔ سلمان غنی تو اکثر راشد سے کہتے کہ میں آپ بہن بھائیوں کی مثالی محبت سے بہت مرعوب ہوتا ہوں ۔ راحیلہ کی محترمہ ساس مرحومہ اکثر ملاقاتوں پر میری بہت تعریف کرتیں ، دوسری بہنوں کی خوش دا منیں بھی میرے کردار کو بے حد سراہتیں، چچی صاحبہ بے حد خوش ہوتیں۔
چند سال کے وقفے سے حمیرا اور سعدیہ کی شادیاں اکٹھے ہوئیں۔ اب ان معاملات میں سعدیہ بھابھی اور شانو بھی بے حد مددگار رہے اور ٹیم کا مربوط حصہ رہے ۔ اور تین سال بعد عمار اور عائشہ کی شادیاں الحمدللہ بخوبی انجام پائیں ، عمار کی بیگم مہوش شادی کے بعد امریکہ عمار کے ساتھ چلی گئیں جہاں وہ تقریباََ 2 سال رہے۔ اب چچا صاحب اور چچی صاحبہ بحمد للہ بے حد مطمئن اور مسرور تھے کہ اللہ نے عزت کے ساتھ تمام ذمہ داریوں سے سرخ رو کیا۔
میں اور راشد اپنے معمول کے پروگرام کے مطابق ایک ماہ کے لیے چچی کے پاس آئے تھے ان کی مرضی کے خلاف انہیں چند ماہ پہلے عامر اور شانو کے گھر شفٹ کر دیا گیا تھا کیونکہ ایک جِلدی بیماری کی وجہ سے ان کاانتہائی پُر توجہ علاج درکار تھا ۔ عامر شانو نے ہم سب کے مشورے سے 24 گھنٹے کے لیے نرس رکھ لی تھی جو امی کو روزانہ نہلاتی، دھلاتی ، باتھ روم لے جاتی اور وضو کروا کر نمازپڑھواتی اور جسم کے متاثرہ حصوں پردوا لگاتی ۔ اگست میں چچی کے ساتھ عامر کے ہاں رہے اور اب چچی قدرے صحت یاب ہورہی تھیں ۔ اس دوران شانو نے امی کی نہ صرف بے انتہا خدمت کی بلکہ مہمانداری کا بھی طویل سلسلہ چلا۔ شانوکی اس بے مثال خدمت کو راشد اور سب بہن بھائی بے حد سراہتے اور حوصلہ افزائی کرتے ۔ شانو فون پر مستقل راشد سے رابطے میں رہتی ۔ دسمبر کی 28 تاریخ کوہم ایک ماہ کے لیے امی سے ملنے عامر کے ہاں پہنچے۔ چچی صاحبہ بے حد منتظرتھیں، اس دوران عائشہ آسٹریلیا سے آئی ہوئی تھی اور عفیفہ مکہ سے آکرمل کے جا چکی تھی۔ امی کا کھانا پینا بالکل ختم ہو تا جا رہا تھا ۔ تمام رپورٹس بالکل نارمل تھیں۔ راشد کے استفسار پہ عمار نےبتایا کہ اب امی کی طبیعت گرتی جائے گی اور واپس نہیں پلٹے گی ۔ ہم لوگ بے حد پریشان ہوئے ۔ عمار نے مزید بتایا کہ اب زیادہ مہلت بھی نہیں ہے اور واللہ اعلم ، غا لباََ دو تین ہفتے سے زیادہ کا وقت نہیں ہے ۔ عامراور شانو عمرے پر روانہ ہو رہے تھے ۔ مختصر پروگرام تھا سو ہماری موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ایک ہفتے کے لیے عمرے پر روانہ ہو گئے ۔ اس دوران سب بہن بھائی روزانہ امی کو دیکھنے آتے۔ راحیلہ حفصہ حمیرا نسرین آپا پروین آپا اور اسلام آباد سے دونوں بہنیں بار بار آتی تھیں اور رات کو بھی قیام کرتیں ۔ طبیعت روز بروز گرتی جا رہی تھی ۔ راشد نے تمام عزیز و اقارب اور احباب سے دعاؤں کی اپیل کردی۔ لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ میری بیٹی سدرہ کو بھی چچی نے لندن سے خصوصی ہدایت پر بلالیا۔ میں یا شانو یا کبھی بہنیں امی کو چمچ سے کھانا کھلاتی تھیں جو وہ دو سے تین چمچ سے زیادہ نہ کھاپا تیں۔ مجھے ہر چمچ کھلاتے ہوئے انتہائی پر تشکر نظروں سے دیکھتی تھیں جو میں تا عمر نہ بھول پاؤں گی۔ آواز نحیف ہوتی جا رہی تھی ۔
17 جنوری بدھ کی رات سدرہ تقریباََ 8 بجے پہنچی۔ شدید دھند تھی۔ چچی صاحبہ بے حد مسرت سے ملیں اور دیر تک گلے لگائے رکھا۔ عامر کو تاکید کی سدرہ کو اس کے مرضی کے کھانے پکاکے کھلائے جائیں اور اس کے لیے قیمتی تحائف خرید کے اسے رخصت کیا جائے ۔ رات بارہ بجے طبیعت میں قدرے بے چینی تھی مجھ سے بار بار وضو کی فرمائش کر رہی تھیں۔ بالآخر میں نے تیمم کروا کر گرم تولیہ سے اچھی طرح چہرہ و بازو پونچھ دیے ۔ مطمئن ہو کر سو گئیں ۔ سعدیہ اور ربیعہ ان کے ساتھ لیٹ گئیں تقریباََ 2 بجے عامر شانو اور ہم لوگ اپنے کمروں میں چلے گئے کہ انشا ء اللہ فجر پر ملاقات ہوگی ۔
تاہم فجر سے ذرا پہلے سعدیہ نے بتایا کہ امی کی طبیعت بگڑ رہی ہے اور سانس میں خرخراہٹ کی آواز آ رہی ہے۔ ہم چند ہی لمحوں میں ان کے سرہانے پہنچے، عامر شانو پہلے سے موجود تھے ۔ اگلے چند منٹوں میں وہ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئیں ، انتہائی پر سکون و پر نور چہرہ ، چہرے کی جھریاں یکدم ختم ہوگئیں ، میں نے نسرین باجی راحیلہ اور حفصہ کے ساتھ غسل دیا۔ کفن میں ان کا چہرہ مزید پر نور اور خوبصورت لگتا تھا ۔ ان کی وصیت کے مطابق ان کی میت اچھرہ کے آبائی گھر پہنچا دی گئی سینکڑوں کی تعداد میں خواتین و حضرات ان کے جنازے میں پہنچے۔ خواتین نے میت پر اپنے رب کے حضور ان کی گواہی پیش کی ۔
اب ایک واقعہ جو میں کبھی نہ بھلا پاؤں گی۔ راشد کی ایک عزیزہ دو خواتین کو لے کر مجھے تلاش کرتی ہوئی پہنچی تھیں کہ ہمیں ان کی بڑی بہو سے ملنا ہے ۔ میں نے اس سے پہلے انہیں کبھی نہ دیکھا تھا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں آپ سے ملنے کا بے حد اشتیاق تھا اور یقیناََ ہم آپ سے پہلے نہیں ملے۔ میں نے اس اشتیاق کی وجہ پوچھی ،انہوں نے چچی صاحبہ کے جنازے کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کی بے انتہا تعریف کرتی تھیں ۔ ہم نے ان سےکئی بار پوچھا کہ آپ اتنا وقت جماعت اور درس کے کاموں کو دیتی ہیں تو آپ نے اپنی بچیوں کی شادیاں کیسے کیں اور جہیز وغیرہ کے لیے وقت کیسے نکالا۔ چچی صاحبہ نے انہیں کہا کہ میری بڑی بہو نے یہ ذمہ داری اٹھائی ہے اور مجھے بے فکر کر دیا ہے ۔ اس دن سے ہم آپ سے ملنا چاہتے تھے ، میں بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی ۔
جانے والی نے کس احترام اور محبت سے میرے حق میں اپنی گواہی دی اور اللہ نے ان کا جنازہ اٹھنے سے پہلے مجھے ان کی یہ آخری شاباش مجھ تک پہنچائی ۔ یقیناََ انہوں نے یہ بات صرف ان دو خواتین ہی سے نہیں کی ہوگی ۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ان کی کامل مغفرت فرمائیں اور ان کی قبر کو نور سے منور کردیں۔
وہ چاند سا جن کا چہرہ تھا وہ آنکھوں سے کیوں دور ہوئے
جب یاد ہمیں وہ آئیں گے ہم کیسے آنسو روکیں گے
٭٭٭