امی کو میں نےپہلی دفعہ اپنے گھر مغل پورہ میںدیکھا ۔ میری والدہ فرزانہ شوکت اُن سے ترجمے سے قرآن پڑھتی تھیں۔ مغل پورہ ریلوے کالونی میں امی کی بہت سی شاگردتھیں جو ہفتہ میںایک دن ہمارے گھر درس قرآن میںموجود ہوتی تھیں ۔ میرے والدمحترم شوکت خلیل ریلوے میںسینئر پوسٹ پہ انجینئرنگ کے شعبے میں کام کرتے تھے اور ہمیں ریلوےڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک گھر ملا ہؤا تھا ۔ ہم تین بہنیںاورتین بھائی ہیں ۔ میرے والد محترم اور والدہ محترمہ اللہ کے حضور پہنچ چکے ہیں ۔
اچانک ایک دن پتہ چلا کہ امی ( زہرہ آپا ) نے اپنے بیٹے ناصر حمید خان کے لیے میری والدہ سے میرے رشتے کی بات کی ہے ۔میری والدہ بہت خوش ہوئیںاور امی سے کچھ وقت مانگا کہ وہ اپنے عزیز و اقارب سے مشاورت کریں گی ۔ ہمارے عزیز و اقارب کراچی میں رہائش پذیر ہیں ۔ کچھ دن بعد جب سب لوگوںسے خاندان میں مشورہ ہو گیا تو پتہ چلا کہ میری ممانی جان کاکراچی جماعت کی بہترین رکن آپا بلقیس صوفی کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور اُن کا امی ( زہرہ آپا ) سے بہت گہرا تعلق ہےتو اطمینان ہو گیا یہ اللہ کا فیصلہ تھا جو 20 فروری 1992ء کو ناصر حمید خان سے شادی کی صورت میں پورا ہو گیا اورمیںرخصت ہو کر اچھرہ میںامی کے گھر آگئی۔
مجھے اب اس گھر میں آنے کے بعد نو بہنوں اور تین بھائیوں (چوتھے ناصر تھے جو میرے شوہر ہیں) کے درمیان زندگی گزارنی تھی کیوں کہ بڑی بھابھی ناصرہ راشد کا تعلق ان کے ددھیال سے تھا اورمیںاس خاندان میں نئی تھی لیکن جب اُن لوگوں کے درمیان رہنے کا موقع ملا تو معلوم ہؤا کہ میںخوش نصیب ہوں جسے اللہ نے محبت کرنے والے لوگوں میںشامل کر دیا ۔ میںشروع میںعبایا نہیں لیتی تھی لیکن جب شادی ہوئی تو امی نے رخصتی کرواتے ہوئے کہا کہ میںچادر میں رخصت کروائوں گی ۔ اگلے دن ولیمہ تھا میرے تینوں بھائی مجھے صبح لینے آئے تو مجھے اورناصر کو مغل پورہ جانا تھا ۔ مجھے ناصر نے کہا یہ عبایا موجود ہے جو تمہارا دل چاہے وہ کر لو ۔ یعنی اُن کی طرف سے زبردستی نہیںتھی ۔ کافی دیر گزر گئی ناصر نے اپنی بھانجی رافعہ کو مجھے بلانے بھیجا جو اس وقت بہت چھوٹی تھی لیکن بہت سمجھدار ( اور اب تو ماشاء اللہ سی ایس ایس کر چکی ہے اور اعلیٰ عہدے پر فائز ) اُس نے آکر کہا کہ ممانی جان دروازہ نہیں کھول رہیں ۔ اصل میں میں یہ فیصلہ نہیں کرپا رہی تھی کہ اب کیا کرنا ہے ۔ بالآخر اللہ نے عقل اور سمجھ دی اور میںعبایاپہن کرباہر آگئی ۔ جب ہم مغل پورہ پہنچے تو میری سہیلیاں کہنے لگیں کہ ایک دن میں ہی بدل گئیں تو میں نے جواب دیا کہ جب انہیں اپنا لیا تو اب ہر چیز بھی اپنا لی اور یہ تو اللہ نے مجھے صراط مستقیم پر کھڑا کردیا، میںاپنے اللہ کی بہت مشکور ہوں۔
اب جبکہ میں اس گھر کا حصہ بن گئی تو اب زندگی انہی کے طور طریقوں کے مطابق بسر ہونے لگی ۔ دن گزرتے گئے اور ہمارے آنگن میں چار پھول کھل گئے ۔ یوںہماری زندگی کا باغ مہک اٹھا ۔ اس باغ کی باغبان امی ( زہرہ آپا ) تھیں ۔ اُنہوں نے اپنی بے پناہ محبت سے اس باغ کا ہر غنچہ کمال مہارت سے سینیچا، گھر گرہستی کے اسرار و رموز بھلا میں کہاں جانتی تھی ، یہ تو ان کی شفقت اور اور سلیقہ شعاری کاکرشمہ تھاکہ مجھ اناڑی سے اپنے بچوں کی تربیت اتنی خوب ہوئی کہ اس پر آج میں جتنا فخر کروںاتنا ہی کم ہے ۔
شادی کے بعد کچھ عرصہ اسلام آباد میںگزرا ۔ناصر واپڈا میںملازم تھے اُن کی ٹرانسفر لاہورسے اسلام آباد ہوگئی تھی۔ امی لاہور میںتھیں، اُن کی محبت کا عالم یہ تھا کہ تقریباً ہرماہ دو ماہ کے بعد ان کا اسلام آباد ضرور آنا ہوتا تھا ، بعض دفعہ تمام گھر والوںکے ساتھ اوربعض دفعہ درس و تدریس کے سلسلے میں جماعت کی خواتین کے ساتھ اس تمام تناظرمیں میںنے جو امی میں خصوصیت دیکھی وہ اللہ پہ یقین اور بھروسہ تھا ۔ انہوںنے ماشاء اللہ سب بچوں کی تعلیم اور خصوصی طور پر تربیت کا خیال رکھا ، ساری عمر حلال رزق کھایااور اولاد کو کھلایا۔ انہوںنے جو سب سے پہلا قدم اسکول کھولنے کا اٹھایا اُس کی وجہ بھی یہ تھی کہ اُن کی دو بیٹیاں بڑی آپا ( نسرین )اور چھوٹی آپا ( پروین ) اس عمر میں آگئیں کہ انہیں اسکول میں داخلہ دلانا پڑا تو انہوںنے گھر میں ہی اُس کی ابتدا کی چار پانچ بچوں کے ساتھ جن میںمحترم چراغ دین صاحب کی بیٹی باجی خدیجہ بھی شامل تھیں۔وہ ایک اسکول جس کا نام دبستانِ زہرہ تھا وہ اچھرہ کا بہترین اسکول شمار ہونے لگا جس کی وجہ یہ تھی کہ یہاں بچوں کو دین کی تعلیم بھی دی جاتی تھی ۔
امی کوکبھی کسی عہدےکی ضرورت نہیں تھی لیکن انہوں نے اپنے بچوں کو ایسی تربیت دی کہ ان کے بچے آج بھی کسی محفل میں جاتے ہیں تو ہر جگہ امی ( زہرہ آپا ) یا عبد الوحید خان ( ابا جی ) کا ذکرضرور آتا ہے کیوںکہ جب بھی کوئی بیٹا کسی منصب پر گیا تو وہاں امی یا ابا جی کا ذکر ضرور ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ اُن کا لوگوں سے اوراللہ سے تعلق ہے ۔میں امی کے ساتھ 4 سال رہی میں نے امی کو جتنا مہمان نواز دیکھا شاید بہت کم ہی کم لوگ ہوں گے ۔ اچھرہ میں امی کے گھر سے نہ کوئی بھوکا اورنہ ہی کوئی پیاسا جاتے دیکھا کیا کمال شخصیت تھیں۔
میری بیٹی کے رشتے کے موقع پر لڑکے والوں کی طرف سے رابطہ ہؤا تو فون پر تمام سوال جواب ہوتے رہے ۔ اتفاق سے اچھرہ کا ذکر آیا تو انہوں نے پوچھا آپ اچھرہ میںرہے ہیں ؟ جب انہیںیہ پتا چلا تو فوراً امی کا ذکر آیا کہ کیا آپ انہیںجانتے ہیں؟ ناصر نے کہا وہ میری والدہ ہیں تو انہوں نے کہا کہ نہ کوئی سوال اور نہ کوئی جواب ۔ اس طرح امی کی پوتی کارشتہ طے ہو گیا ۔ اللہ نے اس رشتے کو ہمارے لیے باعث عزت ، باعث برکت اور باعث خوشی بنا دیا ۔ آج حسن حفیظ جو آمنہ ثمین کے شوہر ہیں حافظ قرآن بھی ہیں، ہمارے خاندان کاحصہ ہیںاوران کی والدہ نزہت حفیظ ہماری پیاری بہن جماعت کی رکن ہیں۔ اللہ یہ خوشیاںاور محبتیں تا حیات رکھے آمین ۔ اسی طرح سے میری بیٹی مریم خنسا جنھوں نے ڈاکٹر آف فزیو تھراپی کی ڈگری حاصل کی ہے انہیںدوران پڑھائی کچھ ریسرچ ورک کرنا تھا اس سلسلے میں وہ انمول ہسپتال مریضوں سے ملنے گئیں تو وہاں ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ہم مریض نہیںدیکھنے دیتے ۔ مریم خاموش رہیں۔اچانک مریم نے ڈاکٹر صاحب سے امی کاذکر کیا تو ڈاکٹر ابو بکر انمول ہسپتال کے ڈائریکٹر تھے انہوںنے کہا کہ آپ ناصربھائی کی بیٹی ہیں ؟ اور امی کا نام سنتے ہی انہوں نے اجازت دے دی۔ یہ ہے امی کو اللہ کی دی ہوئی عزت جو اللہ نے لوگوںکے دلوںمیں ڈال دی۔
امی کو بچوں سے بہت محبت تھی ۔ میری بیٹی آمنہ 4سال کی تھیں۔ امی میرے گھر اسلام آباد آئی ہوئی تھیں ۔ امی بستر پر بیٹھی ہوئی تھیں آمنہ آئیں اور امی کے بال کھول دیے اور بال بنانے لگیں اور پھر لپ اسٹک بھی لگا دی ۔ امی خوب کھلکھلا کے مسکرائیں ۔ کوئی غصہ نہیں جبکہ میں اورناصر حیران اور پریشان مگر امی نے آمنہ کو بہت لپٹایا اور پیار کیا کہ اُس کو اپنا شوق پورا کر لینے دو ۔ میں نے امی میں ایک چیز دیکھی اور سیکھی وہ امی کا ملازمین کے ساتھ برتائو تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب بھی کھانا میز پر لگتا تھا تو امی کا پہلا سوال ہوتا تھا کہ ملازمین کو کھانا دے دیا ۔ بعض دفعہ امی کے ساتھ ہم لوگ بھی ہوتے تھے تو فوراً امی کہتی تھیں کہ پہلے ملازمین کودو اور جو بھی گھر میں پکتا تھا اُن سب میں ملازمین کا برابر کا حصہ ہوتا تھا ۔ میں نے امی کو بہت سے موقعوںپر بہت ہی نرم دل پایا۔ اُن سے کسی کا دکھ برداشت نہیں ہوتا تھا۔
امی کو بیٹے تو پسند تھے ہی لیکن بیٹیوں سے بھی بہت خاص محبت پائی جاتی تھی ۔ مجھے یاد ہے کہ مریم کی جب پیدائش ہوئی تو یہ میری تیسری بیٹی تھی ۔ امی میرے پاس ہسپتال میں تھیں ، بڑی آپا ( نسرین ) بھی موجودتھیں میںاندر تھی ، ناصر بھی آدھی رات کو اسلام آباد سے لاہور پہنچے وہ رات شب برات تھی یعنی 15 شعبان ، بقول ناصر کے وہ بہت حسین رات تھی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ، امی اور آپا قرآن پاک پڑھ رہی تھیں ، یہاں تک کہ لیڈی ڈاکٹر جودت نزہت جو کہ امی کی شاگرد تھیں وہ بھی اس دوران قرآن پڑھ رہی تھیں ۔ میں جب مریم کی پیدائش کے بعداچھرہ آئی تو ہماری بہت ہی قریبی عزیزہ نے کہا اوہ ! تیسری بیٹی ہے ؟ تو امی سے نہ رہا گیا ، اُسی وقت ڈرائیور بھیج کر مٹھائی منگوائی اور اُن عزیزہ کو کھلائی اور کہنے لگیں سعدیہ ! تمہیںحضور پاکؐ نے سلام بھیجا ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب ابا جی مرحوم میرے پاس ہسپتال آئے تو انہوں نے بھی ناصر سے یہ فقرہ کہا اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے ’’ ماشاء اللہ‘‘ یہ ان کی خوشی کی انتہا تھی بچے آج بھی دادی جان اور دادا جان کا تذکرہ کرتے ہوئے نم دیدہ ہوجاتے ہیں اللہ امی اور ابا جی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین۔
میںاُن کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کو کیسے بھول سکتی ہوں کہ رمضان کی آمد آمد ہوتی تھی تو ناصر کو بلاتی تھیں اور پوچھتی تھیں تمہارے پاس کتنے مستحق لوگوں کی فہرست ہے اور پھر رمضان میں صدقہ اور زکوٰۃ کی رقوم تقسیم کرتی تھیں اور کیا چہرے پر خوشی ہوتی تھی ۔ ہر عید پر اپنی چاروں بہوئوںکے لیے مختلف تحائف پہلے سے لا کر رکھتیں تھی اور ہر بہو کے سامنے رکھ کر کہتی تھیں کہ اپنی مرضی کا تحفہ لے لو جو جسے پسند ہو۔
میں اس فقرے کو کیسے بھول سکتی ہوں جو ناصر کی پھوپھی زاد بہن نے میرے سامنے امی کے لیے ادا کیے ۔ ہم کچھ بہن بھائی بیٹھے ہوئے تھے کہ نصرت( جنہیںبے بی کے نام سے بلایا جاتا تھا ، اب مرحومہ ہو چکیں اللہ درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاکرے آمین)امی اور ابا جی کی باتیںہو رہی تھیں تو کہنے لگیں کہ یہ ممانی صاحب ہی ہیں کہ جن کے گھر سے کوئی تحفہ لیے بغیر رخصت نہیں ہو سکتا۔
مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب زلزلہ آیا اور بہت شدید زلزلہ تھا 2005 کی بات ہے ۔ امی نے دن رات ایک کردیا اور سامان اکٹھا کرنا شروع کیا جب سامان اکٹھا ہو گیا تو اس کی تقسیم کرنے باغ جانا تھا جو مظفرآباد سے آگے آتا ہے ۔ یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے یہاں بہت تباہی ہوئی تھی وہاںدو ٹرک بھیجے گئے جو ناصر کی سربراہی میں وہاں پہنچے اُن کے ساتھ ضرار بھائی بھی تھے ( نسرین کے شوہر ) امی کا جو ش و جذبہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔
2008 میںامی کو عمرہ پر جانے کی سعادت حاصل ہوئی اُن کے ساتھ ناصر ، راحیلہ اور سلمان غنی بھی تھے ۔ بہت خوش تھیں ، اُنہوں نے 1985ء میںمیری شادی سے پہلے ابا جی کے ساتھ حج کیا تھا اس کے قصے بھی سنایا کرتی تھیں ۔ جب عمرہ کر کے آئیں تو مجھ سے کہنے لگیں کہ یہ میرا بہترین عمرہ تھا اور اب اگر مجھے اللہ نے حج کی سعادت دوبارہ نصیب کی تو میں وہ حج ناصر کے ساتھ کروںگی ۔ پتہ نہیں اُنہیں ناصر کی کیا ادا پسند آئی کہ اتنی بڑی دعا دی ۔میں امی کی غیر موجودگی میں بچوںسمیت ابا جی کے پاس رہی۔ حیان ریان بھی ہمارے ساتھ اچھرہ میں رہے ۔ ابا جی مرحوم کی بھی کیا شخصیت تھی لیکن میرے بچوں نے دادی جان کی بہت کمی محسوس کی ۔ کہنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن میں اپنی باتیں اس دعا کے ساتھ ختم کرتی ہوں کہ۔
اَللَّھُم اْغفِرُ لَھٰا وارْحَمْھَاَ وَاَدْخلْھَا فِیْ جَنّتِ الْفِرْدُوْسْ
٭٭٭