امی جی فرد نہیں ادارہ، شخصیت نہیں کیفیت – سلمان غنیــ

کوئی تبصرہ نہیں

ہر ذی نفس کے لیے موت کا وقت مقرر ہے اور زندگی کا سفر موت پر اختتام پذیر ہوتا ہے ۔ غیر معمولی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے ایسے ان مٹ نقوش دنیا میںچھوڑ جاتے ہیں کہ دنیا ان کو یاد کرتے ہوئے ان کی تعریف کرتی ہے ،ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔
آپا زہرا وحید بلاشبہ ایک غیر معمولی شخصیت تھیں بلکہ اگر انہیں ایک ادارہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ ان کی ساری زندگی جدوجہد سے عبارت تھی خواتین اور خصوصاً بچیوں میں قرآن اور اسلام کی تعلیمات کی ترویج کے لیے انہوں نے زندگی وقف کر رکھی تھی اور اس طرح انہوں نے ہزاروں نہیں لاکھوں میں اسلام کی تڑپ قرآن پاک کے ذریعے پیدا کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ہر طبقہ کی خواتین میں ان کا احترام تھا اور زیادہ تر خواتین اور عام عزیز و اقارب میں انہیں ’’امی جی‘‘ ہی کہہ کر پکارا جاتا تھا اور وہ امی جی حقیقی معنوں میں سب سے اپنی بچیوں کی طرح پیار کرتی تھیں۔جو بھی ان کے پاس اپنے مسئلے اور مشکلات لے کرجاتا تو وہ ایک ماں کے طور پر اس کے حل کے لیے سرگرم ہو جاتیں اور اس کے لیے جو بھی ممکنہ آپشنز ہوتے بروئے کار لاتیں ۔کسی کے مسئلہ کے حل پر ان کے چہرے پر بکھری مسکراہٹ ان کے دل کے اطمینان کا اظہار ہوتا اور یہی خوشی دراصل ان کی طاقت تھی، ا س عمل نے انہیں سب میں مقبول اور قابل قبول بنا رکھا تھا۔
ان کا تعلق تو جماعت اسلامی سے تھا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ سراپا جماعت اسلامی تھیں تو یہ بے جا نہ ہوگا لیکن انہوں نے خود کو جماعت اسلامی تک محدود نہیں کر رکھا تھا ان کی سرگرمیوں کا محور عام طبقات کی خواتین تھیں۔وہ انہیں اسلام کے اصل پیغام اور قرآن پاک کی طرف مبذول کرتی نظر آتیں ۔ہزاروں خواتین ان کی اس تحریک پر مقصد کی طرف آتیں اور خواتین کی زندگیوں میں آنے والی یہ تبدیلی دراصل ان کے پورے خاندانوںمیں اچھے اثرات کا باعث بنتی۔
رشتے میں تو وہ میری خوش دامن اور میں ان کا داماد تھا لیکن میرے اور ان کے درمیان ایک جذباتی تعلق اس سے بھی بڑھ کر تھا ۔وہ حقیقی معنوں میں ایک ماں کا درجہ رکھتی تھیں۔ ان کی طرف سے ہمیں خیر ملی حوصلہ ملا اور اس کی ا یک بڑی وجہ خود میری اہلیہ راحیلہ سے ان کا تعلق تھا ۔بہت سارے معاملات میں ان کا انحصار راحیلہ پر تھا اور وہ اس میں ان کی مددگار بنتی۔ امی جی اپنے بہت سے کاموں کی ذمہ داری بھی انہیں دیتیں جس وجہ سے ان کا دن رات رابطہ رہتا۔اپنی صحافت کے ابتدائی دنوں میں جب کوئی زیادہ مالی آسودگی نہیں تھی وہ اپنے مخصوص انداز میں ہر ممکن مدد کے لیے تیار رہتیں اور میں انہیں یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ جب مجھے کسی چیز کی ضرورت ہوگی تو میںآپ کی طرف ہی رجوع کروں گا لیکن حقیقی معنوں میں ان کی یہ پیشکش ہی میرے بہت سے مسائل حل کر دیتی۔
اپنی شادی کے بعد اپنی اہلیہ سے دیر سے گھر آنے پر کبھی تلخی بھی ہوئی تو ’’امی جی‘‘ کا واضح جھکاؤ میری طرف ہوتا اس لیے کہ انہیں صحافتی مجبوریوں کا پوری طرح ادراک تھا، وہ خود ایک سچے کھرے اور مخلص انسان عبدالوحید خان کی اہلیہ تھیں جن کی صحافت کا دور آسودگی کا دور نہ تھا ، صحافت کے اس دور میں کسی بھی صحافی کو اس بات کا کامل یقین نہیں ہوتا تھا کہ انہیں اسی ماہ میں اپنی تنخواہ مل پائے گی۔ عبدالوحید خان صرف ایک صحافی ہی نہیں تھے بلکہ جماعت اسلامی کے سرگرم رہنما کے طور پر ان کی زندگی میں آرام کم البتہ اطمینان زیادہ تھا۔ وہ دن رات اپنے مقصد اور مشن میں سرگرم نظر آتے تھے لہٰذا یہ انہیں کی تگ و دو کا اعتماد تھا کہ ’’امی جی‘‘ میری صحافتی مجبوریوں سے واقف تھیں۔ایک مرتبہ گھر دیر سے آنے پر تلخی بڑھی تو میری اہلیہ نے امی جی کو فون کر ڈالا، اس کا یہ خیال تھا کہ وہ آئیں گی اور میری خبر لیں گی۔ وہ اچھرہ سے میرے گھر اتحاد کالونی پہنچیں تو انہوں نے اس کی ایسی خبر لی کہ دوبارہ شکایت کی نوبت نہیں آئی اور ان کے یہ تاریخی الفاظ آج کی بچیوں اور خواتین کے لیے مشعل راہ ہیں کہ ہر طرح کے حالات میں گھر میں رہنا اور جینا سیکھو، تمہیں نہیں معلوم کہ گھر والا کس طرح روزی روٹی کے لیے دنیا میں گھومتا ہے اور پھر ان کے الفاظ نے تو مجھے ہر طرح کی شکایت سے محفوظ بنا دیا کہ شکایت لےکر میرے گھر نہ آنا۔
مذکورہ واقعہ اس لیے بتانا مقصود ہے کہ ’’امی جی‘‘ کی یہ حکمت عملی اپنی آٹھ بیٹیوں کے لیے ہی نہیں تھی بلکہ وہ اپنی اس کامیاب حکمت عملی سے بہت سی بچیوں کے گھر بنانے اور بسانے کا باعث بنیں۔ خواتین کے ایشوز کا انہیں اس حد تک ادراک تھا کہ ایک دن میں نے انہیں ٹی وی کی نیوز اینکر کی گھریلو ناچاقی کا مسئلہ حل کرنے کی استدعا کی تو انہوں نے مجھے انہیں گھر بھجوانے کو کہا۔ مذکورہ اینکر کی ساتھی اینکر جو انہیں امی جی کے پاس لےکر گئیں تو انہوں نے اس کی ساری رام کہانی سن کر شوہر کی شکایت کے ازالہ کا ایسا فارمولہ دیا کہ وہ آج بھی خوش و خرم اپنے میاں کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ میں نے آفس سے واپسی پر اچھرہ میں ان کی رہائش گاہ پر جا کر ’’امی جی‘‘ سے پوچھا کہ کیا آپ نے مسئلہ حل کر دیا تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ بچی کا خاوند نہیں اس کی دوست تھی جو اسے میاں کے خلاف اکسا کر اپنی من مانیوں پر مجبور کرتی تھی، میں نے بچی کو علیحدہ سے سمجھا دیا ہے مسئلہ حل ہو جائے گا۔
’’امی جی‘‘ گھریلو ناچاقیاں ختم کرانے پر کامل دسترس رکھتی تھیں اور بہت سے واقعات میرے علم میں ہیں جس میں ان کے بڑے کردار نے بعض گھروں میں خواتین کے بڑے مسائل حل کرا دیے۔ البتہ انہوں نے اپنی آٹھوں بیٹیوں کی تربیت ایسی کی تھی کہ انہیں یہ اختیار حاصل نہ تھا کہ وہ اپنی گھریلو مشکلات اپنے گھروںکے یا دیگر معاملات ان کے سامنے بیان کر سکتیں۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ وہ ان کی ذمہ داریوں سے غافل رہیں۔ ہر بیٹی کے ہر طرح کے مسائل کا انہیں علم تھا اور انہوں نے کبھی انہیں یہ احساس نہ ہونے دیا کہ ان کے باپ کا سایہ ان کے سر پر نہیں رہا، ان کی جائز مشکلات اور مسائل کا ازالہ ایسے کرتیں کہ کسی کو کانوں خبر نہ ہوتی اور اس میں ان کے پیچھے ان کے چاروں بیٹوں کاکردار بھی ہوتا جنہوں نے ’’امی جی‘‘ کی ہر طرح کی ضرورتوں کا خیال بھی رکھا ۔
گو کہ ان کا زیادہ جذباتی تعلق تو بڑے بیٹے راشد بھائی سے تھا مگر امی جی کی ضروریات کا زیادہ خیال عامر بھائی رکھتا تھا اور اس کا بڑا دل کبھی ’’امی جی‘‘ کو مایوس نہ ہونے دیتا۔ ناصر بھائی نے والدہ کی خدمت کا حق اس طرح ادا کیا کہ وہ سالہا سال تک اپنے بچوں کو چھوڑ کر اچھرہ میں ماں کے پاس آ کر سوتے جبکہ سب سے چھوٹے بیٹے ڈاکٹر عمار کے لیے ان کے محبت کے جذبات کچھ زیادہ ہی تھے اور جب بھی وہ ’’امی جی‘‘ کے حضور پیش ہوتا تو ماں بیٹے کے ملنے کے جذبات دیدنی ہوتے ۔ عمار ایک بڑا ڈاکٹر ہونے کے باوجود ماں سے آ کر ایسے لپٹتا کہ جیسے ابھی وہ کم عمر بچہ ہے اور امی جی اسے اس طرح اپنی آغوش میں لے لیتیں کہ دیکھنے والا رشک کرتا ۔گو کہ چاروں بیٹوں نے امی جی کی خدمت کا حق ادا کیا لیکن اس حوالہ سے عامر بھائی کی غیر معمولی خدمت اور آخری ایام میں انہیں اچھرہ سے اپنی رہائش گاہ ڈیفنس میں منتقل کرنا اور میاں بیوی کا ان کی خدمت کے لیے ممکنہ سہولیات کی فراہمی کرتے رہنا ایسا غیر معمولی عمل تھا جس کا صلہ انہیں خدا کے ہاں سے ہی مل سکتا ہے۔
اچھرہ میں امی جی کا گھر صرف ان کا گھر نہیں باقاعدہ ان کی سٹیٹ تھی اور اچھرہ سے ڈیفنس منتقلی تک طبیعت کی خرابی کے باوجود ان کی رِٹ یہاں قائم رہی جس میں کسی کو دخل دینے کی جرأت نہ تھی۔ چار بیٹوں اور نو بیٹیوں کے یہاں آنے جانے کے باوجود یہ اختیار امی جی کا ہی تھا کہ گھر میں آنے والوں کی خاطر مدارت کیا ہونی ہے کیسے ہونی ہے اور کتنی ہونی ہے اور یہ امی جی کی برکت کے بدولت ہی تھا کہ اچھرہ میں ان کے گھر آنے والا کوئی عزیز رشتہ دار یا جماعت اسلامی کا کوئی ذمہ دار یا خاتون کھانا کھائے بغیر نہیں جا سکتا تھا۔ ان کے گھر میں کام کرنے والی بچیاں سب کی خدمت میں مصروف نظر آتیں اور کام کرنے والی ان بچیوں کو ڈانٹنے کا اختیار کسی بیٹے اور بیٹی کو نہ تھا۔ اچھرہ میں امی جی کی ’’سٹیٹ‘‘ کے اخراجات آخری چند سالوں میں ماہانہ لاکھوں سے تجاوز کر چکے تھے لیکن امی جی کی مہمانداری اور ان کی خدمت گزاری میں کوئی فرق نہ آیا اور مہمانوں کی خاطر تواضع خوب ہوتی اور بلاامتیاز ہوتی۔
طبیعت کی ناسازی کے باوجود وہ اچھرہ میں اپنی آبائی رہائش گاہ چھوڑنے کو تیار نہ تھیں لیکن عامر بھائی کا دل اس بات پ اٹل نظر آتا تھا، بڑی منت سماجت کے بعد وہ اپنی ڈیفنس کی رہائش گاہ میں لے تو گئے اور ان کی خدمت میں طرح کی سہولتوں کی بھرمار کر دی مگر حقیقت یہی ہے کہ امی جی کا دل اچھرہ میں اپنی رہائش گاہ میںہی اٹکا رہا، آخر اس جگہ سے ان کا دہائیوں کا تعلق تھا اور یہ رہائش گاہ محض ایک رہائش گاہ نہیں ایک تاریخ تھی مشکلات سے آسودگی کی تاریخ، یہی وجہ تھی کہ ان کی وصیت کے عین مطابق یہ تاریخی رہائش گاہ جو بند کردی گئی تھی، اس کو کھلوا کر ان کا جنازہ یہاں سے اٹھایا گیا۔ اس موقع پر جہاں اچھرہ کی گلی محلوں سے بڑی تعداد میں لوگ جنازہ میں شریک ہوئے وہاں ہر شخص کی زبان پر یہی فقرے تھے کہ کیا عظیم اللہ والی خاتون تھی جس نے اپنی بامقصد زندگی سے لاکھوں خواتین اور بچیوں کی زندگی میں انقلاب پیدا کیا، انہیں اسلام کی طرف قرآن کی طرف موڑنے کے لیے تمام زندگی وقف کر ڈالی اور آخری سانس تک اسی مقصد اور مشن پر قائم رہیں۔ اپنے رب کی طرف ان کا سفر اس وقت شروع ہوا جب فضا میں فجر کی اذانیں گونج رہی تھیں۔ دل میں یہ احساس پیدا ہؤا کہ بے شک موت کا ایک وقت مقرر ہے مگر فجر کی اذان کے ساتھ اللہ کی اس بندی کا دنیا سے جانا ان کے خدا سے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
بلاشبہ امی جی دنیا سے تو چلی گئیں لیکن آج بھی وہ اپنی خدمات اپنی بامقصد زندگی اور خصوصاً قرآن اور اسلام سے اپنے اٹل تعلق کے باعث آج بھی زندہ ہیں اور انہیں جاننے والا ہر شخص ان کے کردار کو سراہتا انہیں خراج تحسین پیش کرتا نظر آتا ہے۔دنیا میں نام ان کا زندہ رہتا ہے جو اپنے نقوش دنیا میںچھوڑ جاتے ہیں۔ امی جی کے نقوش ہر طرف ثبت نظر آتے ہیںاور انہیں نقوش پر ان کا ذکر اچھے الفاظ میں ہوتا ہے۔
٭ ٭ ٭

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp