1984ء میں ادارہ بتول لنک میکلوڈ روڈسےسلطان احمد روڈ اچھرہ منتقل ہوا۔یہ اماں جی کے گھر کے سامنےان کے بڑے بھائی کی بلڈنگ میں تھا ۔
ان کے گھر حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی عہدے دار خواتین آتیں ۔ایک دن ان کے ہمراہ آ پا نیر بانو (قیمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان) اور آ پا زبیدہ بلوچ تشریف لائیں اور مختلف ا مور جن میں کتابوں کی اشاعت ، ترسیل اور نور ، بتول کے سلسلہ میں پوچھا اور ہدایات دیں۔یہ میری اماں جی سے پہلی ملاقات تھی۔ یہاں دفتر تقریباً ڈیڑھ سال رہا۔ اس دوران وہ ، کوئی کام ہوتا کتابیں منگوانا ہوتیں یا نور،بتول جاری کروانے کے لیے ایڈریس دینا ہوتےتو گھر بلوا لیتیں۔ کام بتانے کے بعد پوچھتیں کہ کھانا کھایا ہے کہ نہیں اور بضد ہوکر کھانا کھلا کر ہی بھیجتیں۔
میں انہیں اماں جی کہہ کر مخاطب کرتا تھا اور میرے بچے دادی اماں کہتے تھے۔ مجھےانہوں نے ہمیشہ بیٹا کہہ کر ہی بلایا۔
ایک دفعہ آ پا نیر بانو کے ہمراہ دفتر تشریف لائیں، آپا جی نیر بانو نے پوچھا کہ آ پ کا اپنا گھر ہے یا کرائے پر رہتے ہیں ۔’’ یہ کرائے پر رہتا ہے ،اسے کہا ہےکہ کوشش کرکے اپنا گھر بنائو کرائے رہنا بہت مشکل ہے‘‘۔اماں جی نےکہا۔
’’آ ج کل مختلف سکیمیں بن رہیں جن میں قسطوں پرپلاٹ مل جاتے ہیں اس میں کچھ ایڈوانس دے کر پلاٹ لےلیں‘‘۔
آ پاجی نیر بانو کے استفسار پر میں نے بتایا کہ کم ازکم پانچ ہزار ہوں تو پلاٹ کی بکنگ ہو سکتی ہے۔تو انہوں نے 5ہزار روپے دیے۔ان دنوں روپے کی ویلیو بہت اچھی تھی 5ہزار روپے بہت اچھی رقم تھی۔
اماں جی کی پوری زندگی تبلیغ دین اور رفاہی کاموں میں گزری ۔ انہوں نے اپنے گھر میں مدرسہ اسکول بنایاجس میں زیادہ ترکم آ مدن والے لوگوں کے بچےتعلیم حاصل کرتے تھے۔ میرے بچوں نے بھی ابتدائی تعلیم اسی سکول سے حاصل کی۔
اس کے بعد انہوں نے فی سبیل اللہ ٹرسٹ قائم کیا جس میں مدرسہ اسکول اورمختلف ڈسپنسریاں قائم کیں۔ وہ خود روزانہ ڈسپنسریوں میں خواتین ڈاکٹروں کے ہمراہ جاتیں۔مدرسہ میں دور دراز مقامات سے بچیاں یہاں آ تیں ان کی رہائش کا بندوبست بھی کیا ہؤا تھا۔ ان کے مدرسہ اسکول سے بچیوں نے دینی تعلیم کے ساتھ بی اے، ایم تک تعلیم حاصل کی ۔
ہر غمی خوشی میں وہ اپنے ملازمین خصوصاً ڈرائیوروں کا بہت خیال رکھتیں، میرا بھی بھرپور ساتھ دیا۔
ہمارا آبائی گائوں دریائے راوی کے قریب تھاوہاں تباہ کن سیلاب سے ہماری فصلیں تباہ ہو گئیں اور مکان زمین بوس ہو گئے۔ اس وقت انہوں نے ہر ممکن مدد کی۔ میرے چچاشدید بیمار تھےا نہیں کینسر جیسا موذی مرض لاحق تھا، ان کے علاج کے لیے بھی مدد کی اوران کے بیٹے ڈاکٹرعمار صاحب نے بھی بہت ساتھ دیا۔ڈاکٹر عمار آج بھی جب ملتے ہیں مجھے بھائی جان کہہ کر بلاتے ہیں۔
سیلاب کے بعد چھوٹا بھائی عنایت اللہ لاہور آ یا وہ گائوں میں کھیتی باڑی کرتا زمینوں پر ٹریکٹر چلاتا تھا ۔انہی دنوں اماں جی نے مجھے کہا کہ ہمیں ٹرسٹ کے لیے ایک ڈرائیور کی ضرورت ہےجو با ا عتماد ہو ۔میں نے انہیں بتایا کہ چھوٹا بھائی آ یا ہؤا ہے اسے ٹریکٹر چلانا آ تا ہے اس کو کچھ دن ٹریننگ کی ضرورت ہے کیونکہ ٹریکٹر اور گاڑی چلانے میں فرق ہوتا ہے ۔ توانہوں نے کہا کہ اسے ٹریننگ سنٹر میں داخلہ دلوائو۔
اس کے بعد عنایت اللہ(چھوٹا بھائی)تین چار سال پہلے تک مستقل ان کے ساتھ رہا۔ایک دفعہ وہ نوکری چھوڑ کر چلا گیا تو اماں جی خود جا کر چیچہ وطنی سے واپس لے آ ئیں ۔
مدرسہ کے لیےاجناس ،دودھ کا بندوبست خود کرتیں۔ ایک دفعہ عنایت اللہ کے ساتھ بھینسیں خریدنے ہمارے گائوں گئیں انہوں نے مویشی منڈی اور مختلف جگہوں سے بھینسیں دیکھیں لیکن انہیں پسند نہ آئیں ۔ ہمارے والد صاحب بھی ساتھ تھے انہوں نے کہاکہ یہ زیادہ دودھ دینے والی اچھی نسل کی بھینسیں ہیں۔ کہنے لگیں کہ شکل سے اچھی نہیں لگ رہیں۔ یہ جو آ پ کے گھر میں ہیں یہ مجھے پسند ہیں یہ مجھے دے دیں۔
’’آ پ ہماری مہمان ہیں آ پ کو انکار نہیں کر سکتے آپ لے جائیں‘‘۔والد صاحب نے کہا۔
ڈرائیور شفیع(مرحوم)ان کی گاڑی ڈرائیو کرتا تھا وہ کافی عرصہ ان کے ساتھ رہا۔ایک دفعہ چاول خریدنے نارنگ منڈی گئیں وہاں سے واپسی پر راستے میں اماں جی نے شفیع کو کسی بات پر ڈانٹا تو وہ ناراض ہوکر گاڑی سے اتر گیا اور کہنے لگا کہ اب میں گاڑی نہیں چلائوں گا۔ عنایت اللہ دوسری گاڑی میں تھا اس نے اسےسمجھایا کہ یہاں سے چلو گھر جا کر بات کر لینا لیکن وہ بضد رہا ۔پھر عنایت اللہ نے اس کی اتنی پٹائی کی کہ اس کا خون نکال دیا۔ اس کےبعد اماں جی نے اسےچھڑوایا اور کہنے لگیں کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کرے گا۔
رمضان المبارک آ مد سے پہلے ترجمہ قرآن ، تفہیم القرآن کے سیٹ اور دروس قرآن میرے ذریعےمنگوا کر تقسیم کرنا ان کا معمول تھا۔مختلف دینی کتب بھی منگواتی رہتی تھیں۔
پچھلے سال میں آفس سے گھر پہنچ چکا تھاان کا شام کو فون آ یا بیٹا (کچھ کتابوں کے نام بتائے) کہ یہ مجھے چاہئیں ۔میں نےکہا کہ ٹھیک ہے کل منگوا کر بھیج دوں گا۔ تو کہنے لگیں کہ کچھ مہمان بیرون ملک سے آ ئے ہوئے ہیں ان کو دینی ہیں ان کی صبح سویرے فلائٹ ہے اس لیے یہ آ ج ہی چاہئیں۔تو پھرمیں رات 9 بجے ان کےگھر دے کر آ یا۔
ہر سال رمضان المبارک میں ادارے کے ملازمین کے لیے راشن کی رقم بھیجتیں اور عید پر ایک ایک جوڑا کپڑوں کا اور سلائی کے لیے رقم بھی بھجواتیں۔
اماں جی کی جتنی خدمات ہیں اس پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ اللہ ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔ آ مین۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے ۔ ہم سب کو صبر دے ۔ سب کو جانا ہےمگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی جدائی کا زخم نہیں بھرتا۔
آ سمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
٭٭٭