ابتدا تیرے نام سے – صائمہ اسما

کوئی تبصرہ نہیں

قارئین کرام! سلام مسنون
حسبِ وعدہ ’’زہرہ عبدالوحید نمبر‘‘ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ان کی متحرک اور فعال شخصیت کےمختلف پہلوؤں پرفرمائش کرکے تحریریں لکھوائی گئی ہیں۔ایک تاریخ ہے جو ان تذکروں میں بین السطور بولتی ہے۔لکھنے والوں نے بھی دل سے لکھا ہے ۔ وہ محبت فاتح عالم کی تصویر تھیں جبھی تو محبتوں کے اسیر لاتعدادہیں اور ان میں بہت سے اپنی یادیں لکھنے کو بے قرار۔لوگوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے جس نے جو بھی پُرزہ دیا ،وہ کوشش کرکے شامل کردیا ہے، البتہ باتیں دہرائے جانے کے خیال سے کہیں کاٹ چھانٹ بھی کرنی پڑی۔ تحریریں جمع کرنےمیں آسیہ راشد صاحبہ اور راحیلہ سلمان صاحبہ کا تعاون بطورِ خاص شامل رہا۔ اللہ سے دعا ہے کہ ان تذکروں کو مرحوم ہستی کے حق میں قبول کرلے اور ان کے محبان کو ان کا صدقہِ جاریہ بنائے،آمین۔
رمضان المبارک بھی گزر گیا مگراہلِ غزہ کی آزمائش میں کوئی کمی نہ آئی۔ناجائز اور غاصب ریاست اسرائیل نے دنیا بھر میں اپنی حمایت کھو دی ہے بلکہ اب تو اس کا باپ امریکہ بھی اس کی حمایت میں محتاط ہوگیا ہے۔ اس کے باوجود ریاستی سطح پر مسلم ممالک کی جانب سے کسی عملی اقدام کی عدم موجودگی دراصل اسرائیل کو دہشت گرد ی جاری رکھنے کا اشارہ ہے۔عالم اسلام میں ایک لاوا ہے جو پک رہا ہے۔یہ لاوا جب پھٹے گا تو دنیا میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ساتھ ہی صہیونی منصوبہ لال گائے کی صورت میں آگے بڑھ رہا ہے جس کے اگلے مرحلے بھی فساد ، دہشت گردی، اور خون خرابے سے متعلق ہیں۔ایسے میں یہ خیال عام ہورہا ہے کہ ہم تیزی سے آخری زمانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اہلِ غزہ کی آزمائش دُور فرمائے،ان کو فتحِ مبین دے ،اور دجال کے فتنوں کے دور میں ہماری نسلوں کا ایمان محفوظ رکھے،آمین۔
انجینئر حافظ نعیم الرحمان جماعت اسلامی کےچھٹے امیر منتخب ہوگئے ہیں۔ جماعت اسلامی اس ملک کی واحد جماعت ہے جس کے اندر نہ صرف امیر کے انتخاب کی مضبوط روایت موجود ہے،بلکہ کسی کنویسنگ یا انتخابی مہم کے بغیر یہ انتخاب پوری شفافیت سے اپنے مقرر وقت پرہوتا ہے۔امارت نہ صرف یہ کہ خاندانوں اور برادریوں میں نہیں بٹتی بلکہ کوئی شخص خود اس کا امیدوار بھی نہیں ہوسکتا۔کردار کی مضبوطی اور قائدانہ صلاحیتوں میں ممتاز ہونےکی بنا پر کوئی شخص ارکان کے ووٹ کا حقدار بنتا ہے۔ کاش دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس نمونے کی پیروی کریں، پہلے اپنے اندر حقیقی جمہوریت لائیں تاکہ ملک میں بھی حقیقی جمہوریت آئے۔پہلے اپنے اندر باکردار امانت دار لوگوں کو اوپر آنے کا موقع دیں تاکہ ملک کو بھی امانت دار قیادت دے سکیں۔ کسی بااثر اسٹیبلشمنٹ سے ساز باز کرکے مانگے تانگے کی حکومتیں لینے کی بجائے اپنے زورِ بازو پہ عوامی حمایت حاصل کریں۔ حلقے کی سطح سے ایک کارکن اپنی صلاحیتوں کی بنا پر اوپر اٹھے اورپارٹی کا سربراہ بن سکے، ہر کسی کو برابر چانسز ملیں اور کوئی تعصب نہ ہو۔حافظ نعیم الرحمان اور ان کی ٹیم نےدن رات کی محنت اوراپنے عوام دوست اقدامات سے کچھ ہی عرصے میں اپنی جماعت کو کراچی کی مقبول ترین جماعت بنادیا۔ یہاں تک کہ اس مقبولیت کے آگےبلدیاتی اور قومی دونوں انتخابات کے موقع پر نتائج بدلنے والی قوتوں کو اتنا کھل کر اقدامات کرنے پڑے کہ انتخابات کے نتائج ہار جیت کا معیار ہی نہ بن سکے۔ آج بھی کراچی کے شہریوں کے نزدیک میئرکی حیثیت حافظ نعیم ہی کی ہےاور اب ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کی جیت قومی پیمانے پر بولا گیا ایک بڑا جھوٹ ہی رہے گی۔
اب امیر جماعت کی حیثیت میں حافظ نعیم صاحب کے سامنے کئی چیلنج ہیں ، لوگوں کی بہت سی توقعات بھی ان سے وابستہ ہیں۔بلاشبہ ان کی شخصیت ایسی ہے جو ملک کے طول و عرض میں نوجوان طبقے کو اپیل کرسکتی ہے۔اب وہ کراچی کے امیر نہیں ہیں، پورے پاکستان کے ہیں، اورجس طرح انہوں نے پورے کراچی کو مخاطب کیا، پورے شہر کی فکر کی، مسائل کا حل دیا،دیکھنا ہے کہ اب یہی انداز پورے ملک کے لیے رہ پاتا ہے یا نہیں۔ان کا اصل امتحان اپنی جماعت کے مرکزی تنظیمی ڈھانچے کو سٹیٹس کو سے نکال کر ایک اونچی اڑان کے لیے تیار کرنا ہے،انہیں خود کو صرف جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ ملک بھر کے عوام کا امیر سمجھنا ہے۔ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مسائل کو ہاتھ ڈالنا اور ان کے قابل عمل حل پیش کرنا ہے۔ملک کے سیاسی منظرنامے میں اس وقت ایک دیانتداراور جرأت مند،باصلاحیت اور غیر موروثی قیادت کا جوخلا ہے اس کوذرا سی توجہ اور محنت سے جماعت اسلامی پُر کرسکتی ہے۔گزشتہ چند سالوں میں جو کچھ ہؤا ہے اس کے نتیجے میں لوگوں میں باکردار قیادت کی ضرورت کا شعور پیدا ہؤا ہے،خاندانوں کی سیاست سے بیزاری آئی ہے،ملک کے لیے آبرومندانہ فیصلوں کی خواہش ہے،انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے والے طاقت کے مراکز کے لیےشدیدردعمل موجود ہے، فلسطین کے تناظر میں امت سے جڑنے کی جتنی تڑپ آج پائی جاتی ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو جماعت اسلامی کی ہمیشہ سے قوت ہیں۔گویا حافظ صاحب کو ملکی تناظر میں اب اپنی ہی پچ پر ڈٹ کے کھیلنا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ ہمت کریں،اللہ ان کا حامی و ناصر ہو آمین۔
اس بار اچھی خبر عدلیہ کی جانب سے آئی ہے۔چھےجج حضرات نےدباؤ اور خفیہ کیمروں سے ریکارڈنگ کا انکشاف کرتے ہوئے عدالتِ عالیہ میں مقدمہ دائر کیاہے۔ ان کا یہ اقدام جرأت مندانہ ہے اور حالیہ مایوس کن حالات میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ۔ یہ آزاد عدلیہ کی جانب پہلا قدم کہا جاسکتا ہے۔ ایسے قدم کی قیمت چکانی پڑتی ہے مگر ایسے ہی قدم قوموں کی تقدیر بنا بھی جاتے ہیں۔ مقدمے کے بعد ججوں کومشتبہ لفافے موصول ہوناظاہر کرتا ہے کہ انہیں کس قسم کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایک جرأت آمیز اقدام دوسروں کو بھی حوصلہ دیتا ہے۔عین ممکن ہے کہ عدلیہ سےاٹھنے والی اس آواز کا ساتھ دینے میں ہماری افسر شاہی سےبھی کچھ شامل ہوجائیں، اور پھر ایوانوں میں بیٹھے ہوئے کچھ لوگوں کا بھی ضمیر بیدار ہوجائے۔جھوٹ، فریب اور خوف کا پردہ چاک کرنے کے لیے کبھی ایک نعرہ مستانہ کافی ہوتا ہے۔
اگلا شمارہ ان شاءاللہ جون کا ہوگا۔ اِس شمارے پر آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔ عید مبارک اور کچھ حسبِ حال اشعار کے ساتھ اگلے ماہ تک اجازت بشرطِ زندگی!
دل سے جاتے نہیں جو لوگ چلے جاتے ہیں دل کو یہ بات سمجھنے میں بہت دیرلگی
زندگی ہم تِرے کند ذہن سے شاگرد جنہیں کچھ سوالات سمجھنے میں بہت دیرلگی
کون دشمن ہے کسے دوست سمجھنا ہے یہاں ہم کو حالات سمجھنے میں بہت دیرلگی
ہم نے اس کھیل کو بس کھیل کی حد تک سمجھا مات کو مات سمجھنے میں بہتدیر لگی
پیڑ کٹتے ہی پرندے بھی چلے جاتے ہیں کچھ روایات سمجھنے میں بہت دیرلگی
وہ اچانک سے لکیروں سے نکل کیسے گیا دیکھ کر ہاتھ سمجھنے میں بہت دیرلگی

دعاگو، طالبہ دعا
صائمہ اسما

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp