وہ خاتون جسے زندگی کے اہم حقائق اور مسائل عورت اور اس کے دائرہ کار کے اندر رہ کر قرآن وسنت کی روشنی میں پڑھنا ، سمجھنا ، برتنا ، نبھانا ، سہنا سکھائے۔
وہ کوئی مقررہ، حافظہ ، عالمہ یا زبان و الفاظ سے لچھے دار گفتگو کرنے والی قصہ گو خاتون نہیں تھیں ۔اس دور میں شریعت کی روشنی میں عقل و شعور کے ساتھ علم و عمل کا جذبہ بیدار کرنے والی خانہ دار اور خاندان ساز معلمہ تھیں جو ایمان و اخلاص کی نیت کا بیج کاشت کر کے زندگی کی جنگ کو مؤحد مسلم اور مومن بن کر لڑنا سکھاتی تھیں ۔ عقیدہ توحید کے آفاقی تصور کے ساتھ اپنے نفس، ذات سے لے کر خاندان ، معاشرہ قوم ، امت اور عالمی اسلامی تحریک کے لیے جدوجہد کرنا سمجھاتی تھیں۔
وہ اپنے ہمہ پہلو علم کے ساتھ اپنے شاگردوں کو قرآن و سنت کی صرف انفارمیشن نہیں دیتی تھیں، وہ احکام و حقائقِ قرآن پر یقین اعتماد اور یکسوئی @(کنفرمیشن )منتقل کرتی تھیں ۔ان کے ساتھ رہ کر اندازہ ہؤا کہ اہل قرآن کیسے ہوتے ہیں۔
ان الذین قالو ربنا اللہ ثم اسقامو ا جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اس پر ثابت قدم رہے ۔ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ہر عالم کے پاس نہ بیٹھو بلکہ اس عالم کے پاس بیٹھو جو پانچ امور سے پانچ امور کی طرف بلائے۔شک سے یقین کی طرف ، ریا سے اخلاص کی طرف ، تکبر سے تواضع کی طرف عداوت سے خیر خواہی کی طرف ، دنیا کے لالچ سے دنیا سے بے نیازی کی طرف (الاحیاء العلوم)۔
زہرا آپا کے دیے علم اور عمل نے محض ان کے لیے محبت و عقیدت کے جذبات پیدا نہیں کیے حق کو جاننے اور پہچاننے، حق کو حق سمجھ کر اس پر چلنے اور ڈٹ جانے کا عزم و حوصلہ دیا ۔ ان کے پاس قرآن و سنت کا علم اپنے وقت کے بہترین علما کی صحبت سے آیا ۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ ، مولانا غفار حسنؒ جیسے علما سے علم سیکھنے کا موقع ملا ۔ عورتوں میں محترمہ حمیدہ بیگم ؒ، بیگم سید مودودی ؒ جیسی صاحب علم ونظر خواتین کاساتھ نصیب ہؤا جو دین کے کلی تصورِ اقامت سے آشنا تھیں۔
اس کے علم و فہم اور فکرو نظر کی خاص خوبی یہ تھی کہ وہ معاملات زندگی کو حالات کے تناظر میں ان کے دوسرے رُخ اور اضداد سے سمجھاتی تھیں۔ فرقان کی کسوٹی سے فرد میں وہ پہچان پیدا ہوتی ہے جس سے وہ اپنی زندگی کے روز مرہ در پیش مسائل میں پرکھ کے ساتھ فیصلے کی پوزیشن پر کھڑا ہو جاتا ہے کہ صحیح اور غلط کیا ہے ، اورمسلمان کی حیثیت میں اسے کب کہاں کیسے صحیح کا انتخاب کرنا ہے ۔ خالق اور مخلوق کا فرق، رحمان اورشیطان کا فرق ، انسان اورمسلمان کا فرق، انفرادیت اور اجتماعیت کا فرق ، علم والوں اور لا علموں کا فرق ، توحید اور شرک کا فرق ، رضا کار اورمفاد و مطلب پر ست کا فرق ، مخلص اورمنافق کافرق، آسائش پسند اورجدوجہد کرنے والے کا فرق، اللہ کے حکم قانون اورفرض کے ساتھ واجب نفل اور مباح کا فرق، شہرت ناموری اور ریا سے دور رہ کر اخلاص اور نیکی کر کے دریا میں ڈالنے کا فرق ،عدل و انصاف اور بے انصافی ظلم و زیادتی کا فرق ، الوہیت کے ساتھ انسانیت کا خیر خواہی اور محبت کا فرق ، صحیح تصور دین اور شریعت کے ساتھ موجودکلچر تہذیب و تمدن کو اختیار کرنے کا فرق کل اور جز کا فرق اللہ کے راستے میں خرچ کرنے اور اس راہ میں خرچ ہو جانے کا فرق ، لاالٰہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہؐ کا فرق اور تقاضا انہوں ہی نے سمجھایا ۔ وہ انسانوں کو ان کے خودساختہ Man madeتصورات سے نکال کر اس divine Lawپر ان کے تصورات واضح کرتی تھیں ۔گویا وہ ایسی اکیڈمی تھیں جو فرد کو شک و فریب(Confusions)سے نکال کر یقین کی طرف لے جاتی تھیں۔
بھانت بھانت کے انسانوں کے ساتھ چلتے رہنے اور معاملہ کرنے میں وہ حقوق و فرائض کا وہ تصور سمجھاتی تھیں جس سے سننے والا اپنی کردار سازی میں قرآنی اورمحمدی اسوہ کواختیار کرنے پر یکسو ہو جاتا ۔ اللہ کے حکم اور قانون کے ساتھ اس کی مخلوق کے لیے محبت اورخدمت ان کی ذات کا محبوب عمل تھا ۔ ہر حال میں مخلوقِ خدا سے رشتہ نبھانا اور جوڑنا ان کا خاص درس تھا ۔ خالق کی محبت کے ساتھ مخلوق کے لیے وسعت نظری، وسعت قلبی اور وسعت ظرفی کا ایک اعلیٰ نمونہ نظرآتا تھا ۔ انہوں نے قرآن و سنت کے زیر سایہ اپنے اندر کے نفس سے آگاہی کا سفر طے کیا تھا اس لیے وہ اپنے ارد گرد کے ذی نفسوں کی شناخت اور پہچان خوب جانتی تھیں ۔ اپنے پرائے ، چھوٹے بڑے ،جوان بوڑھوں غریب امیر سے اخلاق مستقیم سے معاملہ کرتی تھیں ۔ وہ با ادب اورحیا داروں کی قدر دان تھیں اور بے ادبوںسے اعراض کرنے کا فن جانتی تھیں ۔وہ خاندانی اور نسلی اوصاف کو فرد کے انفرادی اوصاف کے ساتھ خوب پہچانتی تھیں۔ حق لینے کی بجائے حق دینے کی فکر کرتی بھی تھیں اور متوجہ بھی کرتی تھیں۔ وہ ایک بڑے کنبہ اورخاندان کی پرورش دیکھ بھال اور نگرانی کے ساتھ خدمت دین کی خاطر تقریباً20سال حلقہ خواتین لاہور کی ناظمہ رہیں ۔ اس حوالے سے ان کی ان تھک محنت قابل رشک تھی۔
اپنے ساتھ چلنے والوں کو بلاواسطہ قرآن و سنت سے جوڑنے کا کام ان کا طرہ امتیاز تھا ۔ عصرِ حاضر کے معلم مولانا مودودی ؒ کی تحریروں سے جس جاں سوزی سےروشنی حاصل کی اسی شد ومد سے ساتھیوں کو متوجہ کرنے پڑھانے اور لٹریچر فراہم کرنے کا فریضہ بھی ادا کرتی رہیں۔
کردار اورمعیار کے معاملے میں بے خوف ، بے لاگ ، بے غرض، دوٹوک ہوکر اپنا موقف ہر محاذ پر پیش کرنا انہی کو زیبا تھا ۔ بے شمار موقعوں پر اپنی ذاتی خواہش ،خاندان ، دوستیوںاور انسانی محبتوں کو یکسر نظر انداز کر کے حق وانصاف کی خاطر رائے دینے میں انہیں دبنگ پایا۔
اللھم اغفرلھا وارحمھا و عافِھا واعف عنھا و اکرم نزلھا و وسع مدخلھا۔ آمین٭