۲۰۲۴ بتول مارچ

جُھنڈ کے پار – عالیہ حمید

نواب غلام علی کی وسیع و عریض، سرخ اینٹوں سے بنی شاہانہ حویلی کے پچھواڑے برآمدے میں، کرسیوں پر بیٹھے دو بہن بھائی اور ان کی ماں ، سر جوڑے ایک مسئلے کو حل کرنے کی کوشش میں تھے۔ بھائی کو منٹو پارک جلسے میں شریک ہونے کے لیے امرتسر سے لاہور جانا تھا۔
’’بھائی آپ کو پتہ ہے کہ ابا جان اس کی اجازت ہر گز نہ دیں گے ،وہ پاکستان ،قائد اعظم اور دیگر قائدین کا نام بھی نہیں سننا چاہتے‘‘ فاطمہ نے کہا ۔
’’اماں آپ بات کریں ناں ابا سے ، اس بار میں قائدین کی تقاریر ضرور سننے جاؤں گا‘‘ احمد علی نے لجاجت سے کہا ۔
’’بیٹا وہ میری بات کہاں سنیں گے ،الٹا ناراض ہوں گے کہ میں تمہیں نہیں سمجھاتی، پہلے ہی آئے روز یہ طعنہ ملتا ہے کہ میں نے اصرار کرکے تمہیں علی گڑھ بھیجا ‘‘ ماں نے بے بسی سے کہا۔
’’تو پھر ایک اور راستہ ہے کہ انہیں دوستوں کیساتھ مطالعاتی دورے کا بتا کر لاہور جلسے میں چلا جاؤں گا‘‘ اس نے آنکھوں کو سکیڑ کر فاطمہ اور ماں کی طرف دیکھا۔
’’آپ ابا جان کو دھوکہ دیں گے ؟‘‘ بہن نے کہا ۔
’’نہیں…. ‘‘چند ثانیے سوچ کر جواب آیا ۔
’’آپ نہ…

مزید پڑھیں

میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے – ربیعہ ندرت

میرے میاں سابق فوجی ہیں۔ چونکہ میری زندگی کا بیشتر حصہ ان کے ہمراہ بسر ہؤا ہے لہٰذا اپنے سالہاسال کے عمیق مشاہدے اور تجربے کی بناء پر میں پورے وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ انسان اگر ایک دفعہ فوجی بن جائے تو ریٹائر ہو جانے کے بعد وہ سابق فوجی تو ہو سکتا ہے لیکن غیر فوجی کبھی نہیں ہوتا۔
میرے میاں کو پاکستان سے انتہائی محبت ہے۔ ان کا خیال ہے کہ شرعی اور اخلاقی حدود کی طرح ملک کی سرحدیں بھی عبور کرنے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ یہ تو صرف اس لیے بنائی جاتی ہیں کہ چوکس ہو کر ان پر پہرہ دیا جائے، دشمن پر گہری نظر رکھی جائے اور ہر موسم میں، ہر حال میں، ہر قیمت پر اس کی در اندازی کو روکا جائے۔ اس لیے ہمارے بچے جب بھی اصرار کرتے ہیں کہ ہم کچھ عرصے کے لیے بیرون ملک ان کے پاس چلے جائیں تو میرے میاں فوراً حامی بھرتے ہوئے کہتے ہیں۔
’’فکر نہ کرو۔ میں بہت جلد تمہاری ماں کو تمہارے پاس بھیج دوں گا‘‘۔
اس کے بعد وہ خالصتاً فوجی لہجے اور سیاسیانہ شان کے ساتھ مجھے حکم دیتے ہیں۔
’’بیگم! اپنی تیاری کر لو۔ ایک دو روز میں تمہارا ٹکٹ…

مزید پڑھیں

محشرِ خیال – پروفیسر خواجہ مسعود

پروفیسر خواجہ مسعود۔ اسلام آباد
شمارہ فروری2024 اس بار ٹائٹل خوبصورت ہے اگرچہ اس میں خزاں رسیدہ درخت دکھائے گئے ہیں اور اب تو بہار کی آمد آمد ہے ۔
’’ابتدا تیرے نام سے ‘‘محترمہ ڈاکٹر صائمہ اسما کا فکر انگیز اداریہ) اداریہ کے آغاز میں آپ نے جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی نامور ہستی محترمہ زہرہ عبد الوحید کی دینی اور دنیاوی خدمات پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے ۔
اس کے بعد آپ نے ووٹ کی اہمیت کوو اضح کیا ہے کہ ہمیں اپنے ووٹ کے ذریعہ مخلص اور ملک و ملت کے خیر خواہ نمائندوں کو منتخب کرنا چاہیے۔
اسرائیل کے بارے میں آپ کے یہ جملے زبردست ہیں ’’ دنیا کی سب سے بڑی عدالت بھی اگر زمین کے اس شیطان کے آگے بے بس ہے تو شاید اب خدا کی عدالت سے ہی فیصلے کا انتظار ہے اور یہ فیصلہ ظالم کے لیے ہی نہیں بلکہ ظالم کا ساتھ دینے اور تماشا دیکھنے والی ہرقوت کے لیے ہوگا ‘‘۔ ایران پاکستان کشیدگی کے بارے آپ کا یہ جملہ قابل غور و فکر ہے ’’ بیرونی طاقتوں کی خوشنودی کی خاطر اپنے ہمسایہ ممالک سے دشمنی پالنا کسی طرح سے بھی دانشمندی نہیں ہے ‘‘۔
’’ شیطان کی صفات‘‘( محترمہ…

مزید پڑھیں

معیار – مریم فاروقی

ہماری بہت اچھی دوست نوید ہ باجی ہیں ۔ ان سے13،14 سال پرانا تعلق ہو گیا ہے ۔ قرآن کے درس کے حوالے سے دوستی بنی تھی ابھی تک چلی آتی ہے۔پہلے تو پڑوسی تھے ہمارے گھر سے کچھ گھر چھوڑ کے ، اب دو ر چلے گئے ہیں ۔ لیکن اتنے دور ہی گئے ہیں کہ ہفتے چار ہفتے بعد ملاقات ہوجاتی ہے۔
انہوں نے اپنی بیٹیوں کو درمیانہ ماحول دیا ہے ۔نہ بہت دینی نا زیا دہ دنیاوی ۔میاں زبان کے تیز ہیں ویسے مزاج کے درمیانہ ہیںنہ غصیل نہ نرم مزاج!
پہلے انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی کی شادی کی اٹھارہ سال کی عمر میں کیونکہ پھپھو کی طرف سے رشتہ آیا اورجلدی کا تقاضا بھی۔ میںنے دیکھا ہے کہ چھوٹی بیٹیوں کی پہلے شادی سے یہ ہوتا ہے کہ ان کو راہنمائی کے حوالے سے سمجھ نہیں آتی، کون ان کی دوست بن کر ہم دردی سے سسرالی معاملات سمجھائے ، ان کی چھوٹی چھوٹی الجھنوں کو سلجھائے اور شادی کے بعد وہی پیار کرنے والی پھپھو اوران کی اولاد کسی اور ہی نظر سے دیکھتے ہیں اور محبت کی بجائے تنقیدی نظر بھی ہو جاتی ہے ۔ تو پھر سمجھ نہیں آتی کہ کیسے اپنی بات بتائی…

مزید پڑھیں

نعیم صدیقی کی زندانی شاعری – زوبیہ لطیف

زندانی شاعری کی اصطلاح کا اطلاق دو معانی میں ہو سکتا ہے:
۱- وہ ادب جو زنداں میں تحریر کیا گیا۔
۲- وہ ادب جو زنداں اور اس کے متعلقات کے بارے میں تخلیق ہوا۔
ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کی رائے میں زندانی ادب کی اصطلاح صرف پہلے مفہوم میں استعمال کرنی چاہیے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’وہ ادب جو زنداں اور اس کے متعلقات کے بارے میں تحریر کیا گیا ہے ہمارے خیال میں زندانی ادب نہیں ہے بلکہ عام ادب کا ہی ایک حصہ ہو سکتا ہے۔ اس میں زنداں کا استعمال اکثر ایک علامت کے طور پر بلکہ ایک رسم کے طور پر ہوتا ہے اور خصوصاً اردو شاعری میں تو زنداں اور اس کے متعلقات کے مضامین پر لاکھوں اشعار آسانی سے دستیاب ہو سکتے ہیں۔‘‘
اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قفس اور زنداں اردو شاعری کی سب سے مقبول علامت ہیں۔ جن کا استعمال تقریباً ہر شاعر نے کیا ہے۔ لہٰذا زندانی شاعری سے مراد وہ شاعری ہے جو اسیری کے دوران میں پس دیوارِ زنداں رہتے ہوئے کی جائے۔ اس کے لیے حبسیہ شاعری کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔
زندانی ادب کی مختصر تاریخ
۱۸۵۷ء کی ناکام جنگِ آزادی سے قبل کی شاعری کے جائزے میں تو صرف مغل…

مزید پڑھیں

نٹ کھٹ زندگی – عینی عرفان

شازمہ اور شاہ زر کا گھر خوشیوں کا گہوارہ ہے جہاں زندگی مسکراتی ہے۔ عماد اور حماد ان کے دو نوجوان جڑواں بیٹے ہیں جن کی کرونا کی وجہ سے چوبیس گھنٹے گھر میں موجودگی شازمہ کو گھن چکر بنائے رکھتی ہے۔ ماں کے کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے دونوں ہمہ وقت شادی کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ذرا دیر کے لیے ماضی میں جھانکتے ہیں۔ شازمہ اور شاہ زر کی کم عمری میں شادی ہوئی۔ شاہ زر کو ملازمت دوسرے شہر میں ملنے کی وجہ سے دونوں کو شادی کے بعدخاندان سے الگ رہنا پڑا۔ کم عمری اور نا تجربے کاری کی وجہ سے دونوں ہی پریشان ہوتے ہیں۔ قدرت نے جلد جڑواں بیٹوں کی نعمت سے نواز دیا۔ بچوں کا کوئی مسئلہ ہو یا گھر کا کوئی معاملہ دونوں ہی روز اپنی ماں اور ساس سے فون کرکے مشورے لیتے ہیں۔ بچے ایک سال کے ہوچکے تھے۔ کراچی میں شازمہ کے بھائی کی شادی تھی۔ شاہ زر کو چھٹی نہ ملی اور شازمہ کو شاہ زر کے بغیر بچوں کے ہمراہ کراچی جانا پڑا۔آگے پڑھیے۔

شازمہ بھائی کی شادی کے لیے بہت پرجوش تھی۔ روز روز امی کے ساتھ بازاروں کے چکر لگتے۔ بچوں کو ابو…

مزید پڑھیں