محشرِ خیال – پروفیسر خواجہ مسعود

کوئی تبصرہ نہیں

پروفیسر خواجہ مسعود۔ اسلام آباد
شمارہ فروری2024 اس بار ٹائٹل خوبصورت ہے اگرچہ اس میں خزاں رسیدہ درخت دکھائے گئے ہیں اور اب تو بہار کی آمد آمد ہے ۔
’’ابتدا تیرے نام سے ‘‘محترمہ ڈاکٹر صائمہ اسما کا فکر انگیز اداریہ) اداریہ کے آغاز میں آپ نے جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی نامور ہستی محترمہ زہرہ عبد الوحید کی دینی اور دنیاوی خدمات پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے ۔
اس کے بعد آپ نے ووٹ کی اہمیت کوو اضح کیا ہے کہ ہمیں اپنے ووٹ کے ذریعہ مخلص اور ملک و ملت کے خیر خواہ نمائندوں کو منتخب کرنا چاہیے۔
اسرائیل کے بارے میں آپ کے یہ جملے زبردست ہیں ’’ دنیا کی سب سے بڑی عدالت بھی اگر زمین کے اس شیطان کے آگے بے بس ہے تو شاید اب خدا کی عدالت سے ہی فیصلے کا انتظار ہے اور یہ فیصلہ ظالم کے لیے ہی نہیں بلکہ ظالم کا ساتھ دینے اور تماشا دیکھنے والی ہرقوت کے لیے ہوگا ‘‘۔ ایران پاکستان کشیدگی کے بارے آپ کا یہ جملہ قابل غور و فکر ہے ’’ بیرونی طاقتوں کی خوشنودی کی خاطر اپنے ہمسایہ ممالک سے دشمنی پالنا کسی طرح سے بھی دانشمندی نہیں ہے ‘‘۔
’’ شیطان کی صفات‘‘( محترمہ بنت الاسلام )آپ نے واضح کیا ہے کہ ہمارے نفس میں برائیاں پیدا ہو جانے کا اصل منبع تو یہ دشمن ازلی ہی ہے ۔ وہ انسان کو دولت ، چاہ وحشمت اور عیش و عشرت کے دلفریب نظارے دکھا کر بے راہ روی کی طرف مائل کرتا ہے ۔ ایمان کی دولت کی بدولت ہی ہم شیطان مردود کے حملوں سے بچ سکتے ہیں ۔
تقویٰ روزے کا مقصد (ڈاکٹر میمونہ حمزہ صاحبہ ) آپ نے بجا لکھا ہے کہ ایک مہینے کے روزے مسلمانوں کے لیے تقرب الی اللہ اور رضائے الٰہی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ روزہ انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرتا ہے اور تقویٰ سے نیکیاں پھلتی پھولتی ہیں ۔
’’ اسلامی تاریخ کے دو حکمران‘‘ (میر بابر مشتاق) آپ نے خلیفہ عمر بن عبد العزیز کا ذکر کیا ہے جن کا دور تابناک اور اسلامی اصولوں کے مطابق تھا ۔ اسی لیے آپ کو خلفائے راشدین میں شمار کیا جاتا ہے اور عمر ثانی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ آپ نے اپنے مختصر دور حکومت میں عدل و انصاف اور اسلامی روایات کے مطابق امور سلطنت کو چلایا ۔
پھر آپ نے خلیفہ ہارون الرشید کا ذکر کیا ہے جن کا دور حکومت بلاشبہ اسلامی تاریخ کا اصل روشن بلب ہے ۔ ان کے دور میں رعایا خوشحال تھی ۔ علم و ادب کو فروغ حاصل ہؤا۔ بے پناہ علمی اور تحقیقی کام ہؤا۔ بہت سی اصلاحات کی گئیں ۔ آپ کی بیوی زبیدہ ایک نیک دل خاتون تھیں ۔ انہوں نے بغداد سے مکہ تک ایک نہر بھی بنوائی جس کے آثار باقی ہیں ۔
بنت مجتبیٰ مینا کی نظم ’’ ناموس وطن‘‘ کا انتخاب بہت بر وقت ہے۔
یہ تیری آنکھ کے تارے ہیں
یہ تیری گود کے پالے ہیں
اٹھ دیکھ کہ تیرے لالوں نے
ان تیری آنکھ کے تاروں نے
کیا ظلم و ستم ڈھا رکھے ہیں
نجمہ یاسمین یوسف کی خوبصورت غزل کے منتخب اشعار :
جگنو ، تتلی ، چاند ستارے ، اڑتے بادل ، ہنستی دھوپ
دل آنگن میں انہیں بلا کے کھیلنااچھالگتا ہے
سارے کام ادھورے چھوڑ کے نرم سنہری دھوپوں میں
بیتے وقت کی اک اک تہہ کو کھولنا اچھا لگتا ہے
’’رستہ نہ بھٹک جانا ‘‘ اختر نظامی کی مختصر بحر آزاد نظم سے چند سطریں۔
خوابوں میں کبھی آئو
یہ دل کی تمنا ہے
کیا خوب تمنا ہے
ملنے کی دعا رکھنا
اسما صدیقہ کی پیاری نظم سے منتخب سطریں :
اس شہر کی کھوئی رونق کو سب مل کے پھر سے لوٹا دو
اے شہر نگاراں کے لوگو!اب فصل بہاراں کو کھوجو
حریم شفیق کی خوبصورت نظم :
بڑا نازک ہے دل
جیسےبنا ہے کانچ شاید
ذرا سی ٹھیس لگتی ہے
تو چکنا چور ہوتا ہے
اس بار شاعری کا حصہ بھرپور ہے اور اچھی نظمیں غزلیں پڑھنے کو ملی ہیں۔
’’ دو راہا‘‘ (قانتہ رابعہ صاحبہ) کی تحریر واقعی ہر گھر کی کہانی ہے ۔ دولہا اپنے ماں باپ کے گن گاتا رہتا ہے اور دلہن اپنی امی کی باتیں کرتی ہے ۔ اس طرح اکثر گھروں میں تلخی پیدا ہو جاتی ہے ۔ احتیاط لازم ہے ۔
’’ سکہ ‘‘ ( رباب عائشہ ) اس کہانی میں بھی ایک تلخ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ ماں باپ کے گناہوں کا بوجھ بعض اوقات اولاد کی عمر بھرستاتا ہے ۔
’’ سال کا آخری سورج‘‘ ( رومانہ عمر) اس کہانی میں آپ نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اس دنیا کی تلخ حقیقتوںاور انسانوں کے دکھ کو بیان کیا ہے ۔ سورج کرہ ارض پر ہونے والے ان سب سانحات کا چشم دید گواہ ہے ۔
’’ میں زندہ ہوں ‘‘( عصمت اسامہ) فلسطین میں صیہونی مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہے ہیں ۔ اس پس منظر میں لکھی گئی ایک دل دہلا دینے والی کہانی ۔
’’ جنگل‘‘ ( اسما صدیقہ ) آج کی نوجوان لڑکیوں کے لیے سبق آموز کہانی کہ گلیمر کی چکا چوند حقیقی خوشیوں کی ضامن نہیں ہے۔
’’چھوٹی آپا ‘‘ (فریدہ عظیم) چھوٹی آپا کی کہانی جو بے سہارا ہو گئی ۔ ساری عمر رشتہ داروں کی خدمت کرتی رہی لیکن کسی نے اس کے دکھوں کا مداوا نہ کیا۔
عذرا ( احسن اختر )برما کے مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ڈھائےجا رہے ہیں ، اس پس منظر میں لکھی گئی ایک کہانی ۔ عذرا کے ماں باپ بھائی سب قتل کر دیے گئے اور وہ بیچاری کسی طرح جان بچا کر کراچی پہنچ گئی۔
’’ بہاروں سے پہلے جو آنکھوں پہ بیتی‘‘ ( حمیرا عمر) اس مضمون میں آپ نے اپنی درسگاہ میں گزرے شب و روز کو یاد کیا ہے جہاں ان کی بہترین تربیت کی گئی ہے۔
’’ نٹ کھٹ زندگی ‘‘ ( عینی عرفان) سلسلہ وار کہانی کی پہلی قسط ۔ اس کہانی کی ابتدا خالصتاً گھریلو ماحول سے ہوئی ہے ۔آغاز دلچسپ ہے امید ہے عینی عرفان صاحبہ کے اچھے افسانوں کی طرح یہ سلسلہ وار کہانی بھی زبردست ہو گی ۔
’’ قسمت ‘‘ (فرحی نعیم ) تقدیر کے کھیل کہ دونوں چھوٹی بہنوں کے حالات پلٹ گئے جبکہ بڑی بہن اپنے گھر میں آباد ہو گئی
؎تدبیر کندبندہ تقدیر کندخندہ
عنیزہ اعزاز صاحبہ نے بنت الاسلام صاحبہ کے ناول ’’ سہارا‘‘ پر مختصر لیکن بہترین تبصرہ کیا ہے کہ ناول سہارا کے کردار اس معاشرے کے جیتے جاگتے کردار محسوس ہوتے ہیں۔ ارادہ و عمل کے پیکر نظر آتے ہیں۔ منظر کشی اور کردار نگاری کے بہترین نمونے پیش کیے گئے ہیں۔
’’ رو داد ایک نشست کی ‘‘ ( آصفہ سہیل ) معروف لکھاری شخصیت افشاں نوید صاحبہ کے ساتھ ایک نشست کا خوبصورت احوال ۔ مختلف معاشرتی اور ملکی مسائل پر سیر حاصل بحث کی گئی ۔ افشاں نوید صاحبہ کے یہ الفاظ خوب ہیں ’’ لفظوں کا بھی ایک رزق ہوتا ہے جو اللہ ہمیں دیتا ہے ۔ جب ہم بہت دن تک کچھ نہیں لکھتے یا اپنے آپ کو زنگ لگا لیتے ہیں تو یہ رزق ہم سے روک لیا جاتا ہے ‘‘۔
’’سوفٹ ویئر انجینئر‘‘( کوثر خان) ایک دلچسپ مضمون کہ صاحب ہیں تو سافٹ ویئر انجینئر لیکن بھول جانے کی عادت کے باعث دلچسپ حادثے رونما ہوتے ہیں ۔
’’ پالک کےکوفتے ‘‘ (میمونہ عبد الرحمٰن) خواتین ٹی وی پر کھانے کے مختلف پروگرام دیکھ کر انہیں گھر میں آزمانے کی کوشش کرتی ہیں تو دلچسپ واقعات رونما ہو جاتے ہیں ۔
’’اوسٹیو پروسس‘‘ ایک خاموش بیماری ( ڈاکٹر ناعمہ شیرازی) ہڈیاں کمزور اور بھر بھری ہونے کی اس بیماری سے بچنے کے لیے مفید مشورے ہیں جیسے متوازن اور مناسب غذا اور سورج کی روشنی (وٹا من ڈی )
’’ وہ چند دن ‘‘ ( فرحت زبیر سپرا) ایبٹ آباد کے پہاڑی علاقوں کی سیر کا دلچسپ احوال یہ جملے خوبصورت ہیں ’’ اس دن بادل بن گئے ، چودھویں کی رات تھی۔ کبھی بادلوں کی اوٹ اور کبھی درختوں کی اوٹ سے نکلتا ہؤا چاند ایک ستارے کا تعاقب کرتا نظر آیا ۔ دل نے کہا آج رات سونا نہیں ان نظاروں کو آنکھوں میں قید کر لوں ‘‘۔
’’ مایوس کیوں ؟‘‘ (مہوش ریحان) ایک مختصر لیکن بہترین مضمون۔ بتایا گیا ہے کہ ہمیں کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اللہ پر پختہ ایمان رکھیں اللہ مدد کرے گا ۔
گوشہِ تسنیم ( ڈاکٹر بشریٰ تسنیم ) ’’ میں کیا کروں ‘‘ ڈاکٹر صاحبہ نے بتایا ہے کہ عقل سلیم ہی حکمت عطا کرتی ہے اور قلبِ سلیم سے ہی عقل ِسلیم ملتی ہے ۔قول و فعل میں تضاد منافقت ہے ۔
قارئین کی خدمت میں رمضان مبارک
٭٭٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp