میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے – ربیعہ ندرت

کوئی تبصرہ نہیں

میرے میاں سابق فوجی ہیں۔ چونکہ میری زندگی کا بیشتر حصہ ان کے ہمراہ بسر ہؤا ہے لہٰذا اپنے سالہاسال کے عمیق مشاہدے اور تجربے کی بناء پر میں پورے وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ انسان اگر ایک دفعہ فوجی بن جائے تو ریٹائر ہو جانے کے بعد وہ سابق فوجی تو ہو سکتا ہے لیکن غیر فوجی کبھی نہیں ہوتا۔
میرے میاں کو پاکستان سے انتہائی محبت ہے۔ ان کا خیال ہے کہ شرعی اور اخلاقی حدود کی طرح ملک کی سرحدیں بھی عبور کرنے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ یہ تو صرف اس لیے بنائی جاتی ہیں کہ چوکس ہو کر ان پر پہرہ دیا جائے، دشمن پر گہری نظر رکھی جائے اور ہر موسم میں، ہر حال میں، ہر قیمت پر اس کی در اندازی کو روکا جائے۔ اس لیے ہمارے بچے جب بھی اصرار کرتے ہیں کہ ہم کچھ عرصے کے لیے بیرون ملک ان کے پاس چلے جائیں تو میرے میاں فوراً حامی بھرتے ہوئے کہتے ہیں۔
’’فکر نہ کرو۔ میں بہت جلد تمہاری ماں کو تمہارے پاس بھیج دوں گا‘‘۔
اس کے بعد وہ خالصتاً فوجی لہجے اور سیاسیانہ شان کے ساتھ مجھے حکم دیتے ہیں۔
’’بیگم! اپنی تیاری کر لو۔ ایک دو روز میں تمہارا ٹکٹ لے آئوں گا اور تمہیں جہاز میں بٹھا دوں گا‘‘۔ میں اپنی اوقات کو بھول کر فوج کے سامنے ڈٹ جاتی ہوں۔
’’میں کوئی بوری ہوں جسے آپ جہاز میں لاد دیں گے۔ میں کہیں نہیں جا رہی۔ یہیں رہوں گی‘‘۔ وہ سنی اَن سنی کرتے ہوئے ایک سپاہی سے مضبوط اور فیصلہ کن لہجے کے ساتھ حکم صادر کرتے ہیں۔
’’بچے بلا رہے ہیں۔ تم بھلا کیوں نہیں جا رہی۔ تمہارے تو اچھے بھی جائیں گے‘‘۔
میں حیرت سے سوچتی ہوں کہ یہ کمال کے بچے ہیں، جنہوں نے فوج کو اپنے پیچھے لگا رکھا ہے ایک ہم ہیں کہ عرصہ دراز سے ہانپتے کانپتے، آس پاس سے بے خبر، اندھا دھند فوج کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور ایک فوج ہے کہ ہماری کمزوریوں سے بے نیاز سرپٹ بھاگتی ہی چلی جا رہی ہے۔
میں چند لمحے سوچنے کے بعد پسپا ہوتے ہوئے آخری کوشش کرتی ہوں۔
’’ذرا ٹھنڈے دل سے سوچو کہ میرے جانے کے بعد آپ کے لیے پرہیزی کھانا کون بنائے گا؟ آپ کی دوا کا خیال کون رکھے گا؟ آپ کی ہر آواز کے جواب میں کون لبیک کی صدا بلند کرے گا؟ آپ کے کچھ کہے بغیر آپ کے وجود میں پھیلی ہوئی دکھ اور تکلیف کی حکایات و کیفیات کو کون جان جایا کرے گا؟ آپ کے مسرور چہرے کو دیکھ کر کون آپ کی خوشی میں شریک ہؤا کرے گا؟ آپ کے حرف طلب کی ادائیگی سے پہلے کون آپ کی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کو بروقت پورا کرنے کی تگ و دو میں مگن رہے گا؟ آپ کی خاموشی کے اشارے، آنکھوں کے استعارے اور لہجے کے دھارے کے مفہوم کون سمجھا کرے گا؟ غرض میرے بغیر آپ کے گلشن کا کاروبار ماند پڑ جائے گا اور پھر میری غیر حاضری کے دوران آپ پر کیا کیا نہ بیت جائے گی۔ یہ آپ کو نہیں معلوم۔ اس لیے فیصلہ کرنے سے پہلے سوچو تو سہی‘‘۔
حسب معمول اور حسب سابق میری آواز صدا بصحر ثابت ہوتی ہے۔ ان کا دل نہیں پسیجتا اور وہ اپنے صادر کردہ حکم میں ردوبدل پر آمادہ نہیں ہوتے۔
ان لبوں نے نہ کی مسیحائی
ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
کچھ دن کے بعد ان کا حکم نافذ العمل ہو جاتا ہے اور میں گھر سے رخصت ہو کر ان کے ساتھ ایئرپورٹ کی جانب محو سفر ہو جاتی ہوں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ ایک دفعہ پھر ان سے کہوں کہ:
’’اجی سنیے! ابھی بھی وقت ہے۔ مجھے روک لیں‘‘۔
لیکن انا آڑے آتی ہے اور میں یہ سوچ کر بھی خاموش رہتی ہوں کہ:
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے، ہم اپنی وضع کیوں بدلیں
سبک سربن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
وہ اپنے جذبات کو چھپاتے ہوئے سرد لہجے میں کہتے ہیں،
’’دیکھو! وہاں زیادہ دیر رہنے کی ضرورت نہیں۔ بس پندرہ بیس دن رہ کر لوٹ آنا‘‘
میں دل میں سوچتی ہوں۔
لو جی اللہ اللہ کر کے اب ناز اٹھوانے کی میری باری آئی۔ اس موقع پر بھلا میں چپ کیوں رہوں۔
ہمنوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں
میں اٹھلاتے ہوئے کہتی ہوں۔
’’کیوں جی، میں کیوں واپس آئوں پندرہ بیس دن کے بعد۔ آپ کی مرضی سے جا رہی ہوں اور اپنی مرضی سے واپس آئوں گی۔ ابھی سے بتائے دیتی ہوں کہ چار پانچ ماہ تو کہیں نہیں گئے۔ ورنہ ابھی بھی وقت ہے اب بھی سوچ لو اور مجھے روک لو۔ دیکھو! میرا تو کچھ نہیں بگڑے گا، بس آپ کا بھلا ہو جائے گا‘‘۔
ان کے لہجے کی تیزی غائب ہو جاتی ہے اور وہ پست آواز میں کہتے ہیں۔
’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا کیونکہ بچے کہتے ہیں‘‘۔
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ باقی سفر یوں کٹ جاتا ہے جیسے کار میں کوئی موجود ہی نہ ہو جیسے وہ خود بخود چلتی چلی جا رہی ہو۔ انجان راستوں پر، نامعلوم منزلوں کی جانب، ڈرائیور کے بغیر، مسافر کے بغیر۔ جیسے تاحدِ نظر، تاحد مکاں خلا ہی خلا ہو، دھند ہی دھند، کہر ہی کہر، غبار ہی غبار، دھول ہی دھول، گرد ہی گرد۔
میرے ذہن میں ایک پرانا گانا معمولی سے ردوبدل کے ساتھ گونج رہا ہے۔
چپ چپ بیٹھے ہو ضرور کوئی بات ہے
کیسی ملاقات ہے یہ کیسی ملاقات ہے
ایئرپورٹ کی حدود میں داخل ہو کر وہ گاڑی روک کر اس کی ڈگی کھول کر میرا سامان نکالتے ہیں اور اسے ٹرالی پر رکھ کر ہم ایئرپورٹ کی عمارت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اب وہ مجھ سے نظریں چار نہیں کر پا رہے۔ بے مقصد دائیں بائیں دیکھتے چلے جا رہے ہیں۔ جیسے میں ان کی چوری پکڑ لوں گی۔ جیسے ان کی کمزوری عیاں ہو جائے گی۔ سب کچھ جانتے ہوئے میں بھی لب وا نہیں کرتی۔
ہم ہنس دیئے، ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا
وہ ٹرالی میرے حوالے کر کے بھاری قدموں کے ساتھ لوٹ جاتے ہیں۔ میں بھی بوجھل دل کے ساتھ لائونج کی طرف بڑھ جاتی ہوں۔ کچھ ہی دیر کے بعد جہاز کی پرواز کا اعلان ہو جاتا ہے۔ یہ اعلان سنتے ہی لائونج میں آرام دہ صوفوں پر ہم خوابیدہ مجسمے نما لوگوں میں گویا زندگی کی رو دوڑ جاتی ہے اور وہ حرکت میں آ جاتے ہیں۔ میں بھی ان کے ہمراہ لائونج سے باہر نکل کر جہاز کی سمت چل دیتی ہوں۔ میرے قدم لمحہ بہ لمحہ جہاز کی طرف بڑھ رہے ہیں جبکہ لگاوٹ اور انجانے اندیشے میرے دامن کو پیچھے کی طرف کھینچتے ہوئے بزبانِ حال کہہ رہے ہیں۔
لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو
لیکن جیسا کہ تاریخ کی روشنی میں ازل سے ہوتا آیا ہے کہ ایسے حالات میں زمینی حقائق ہمیشہ غالب آ جاتے ہیں، بالکل اسی طرح میں بھی انجانے اندیشوں کو دامن میں سمیٹ کر یہ کہتے ہوئے جہاز میں بیٹھ جاتی ہوں۔
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
ساڑھے 14 گھنٹے کی طویل، صبر آزما اور تھکا دینے والی پرواز کے بعد جہاز ٹورنٹو کے ہوائی اڈے پر اتر گیا۔ سب مسافروں کے چہروں پر تھکاوٹ اور ماندگی کے آثار نمایاں ہیں۔ لیکن جونہی ایئرپورٹ پر مسافروں کی نظریں اپنے عزیز و اقارب سے دوچار ہوتی ہیں، ان کے رگ و پے میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اپنے بیٹے کو دیکھ کر میری آنکھیں بھی ٹھنڈی ہو جاتی ہیں اور میں اس کے ہمراہ بذریعہ کار مونٹریال اپنی بیٹی کی رہائشگاہ تک جا پہنچتی ہوں۔
دن پر لگا کر اڑ رہے ہیں۔ مہینہ ہونے کو آیا ہے۔ صبح و شام میرے میاں جی کا فون آتا ہے۔ ہر دفعہ پوچھتے ہیں۔
’’ واپسی کا کیا پروگرام ہے؟‘‘
میں دل ہی دل میں یہ سوچ کر خوش ہوتی ہوں کہ شکر ہے پاکستان میں کوئی ہے جو مہربہ لب لیکن دیدہ و دل وا کئے میرا انتظار کر رہا ہے۔ میں بظاہر بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتی ہوں۔
باغِ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر
’’جناب عالیٰ! ابھی تو مجھے یہاں آئے ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں۔ فی الحال میرا واپسی کا کوئی ارادہ نہیں۔ میں یہاں بے حد مصروف ہوں۔ مثلاً روزانہ سورج کو چڑھتے ہوئے دیکھنا، چاند کو ابھرتے ہوئے دیکھنا، صاف شفاف، بے کنار، وسیع نیلگوں آسمان پر بے شمار جگمگ جگمگ کرتے ستاروں کو گننا، یخ بستہ ہوائوں کو محسوس کرنا، اجلی اجلی، نکھری نکھری سفید برف کو دھنکی ہوئی روئی کے مانند چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ کر قطرہ قطرہ لڑیوں کی شکل میں قطار اندر قطار لپکتے جھپکتے زمین بوس ہوتے دیکھنا، بہتے ہوئے پانیوں کے جاہ و جلال کو دیکھنا، اس کے حسنِ خیال کو دیکھنا، اس کی خوبی کمال کو دیکھنا، ٹنڈ منڈ درختوں پر کومل پتے نکلتے ہوئے دیکھنا، بچوں کے گلرنگ تمتماتے ہوئے چہروں کو دیکھنا، خوش رنگ، خوش گلو پرندوں کو دیکھنا، غرض میں کوئی فارغ تھوڑی ہوں کہ جھٹ پٹ چلی آئوں۔ آپ کی تکرار کے سامنے انکار تو نہیں کرتی بلکہ اقرار کرتی ہوں کہ چلی آئوں گی، ضرور چلی آئوں گی لیکن ذرا دم تو لینے دو۔ ایسی بھی کیا جلدی ہے؟
وہ سنی اَن سنی کرتے ہوئے جرنیلی حکم صادر کرتے ہیں۔
’’بس بہت ہو گیا، اب چلی آئو‘‘۔
اٹھ کہ اب بزمِ سخن کا اور ہی انداز ہے
میں بھی ان کے بدلتے ہوئے لہجے کے مزے لیتے ہوئے کہتی ہوں
’’میں نے آپ سے کہا تھا نہ کہ مجھے روک لیں لیکن آپ ہمیشہ ایسے کاموں میں دیر کر دیتے ہیں اور وقت آپ کے الفاظ کی ادائیگی کا انتظار کئے بغیر تیزی سے گزر جاتا ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اگر بروقت منہ سے موزوں الفاظ جھڑیں تو وہ پھول اور پھر وہی سندِ قبول ورنہ وقت کے ڈھل جانے کے بعد نِری دھول اور ناقابلِ قبول۔ میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ:
ہم کو باغ میں جانے نہ دیجیو…ورنہ
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
لیکن آپ نے میری ایک نہیں سنی اور پھر ہونی ہو کر رہی۔
اب ہمیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر
وہ کہنے لگے
’’کیا مطلب؟‘‘
میں نے کہا:
’’میرا مطلب ہے کہ میری عادت ہی ایسی ہے کہ:
حضرتِ داغ جہاں بیٹھ گئے، بیٹھ گئے
میرا خیال ہے کہ اب حضرت کو اٹھتے اٹھتے شاید دو تین ماہ لگ جائیں گے۔ اس لیے میرا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ آپ صبر سے انتظار کا دامن تھام لیں۔
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
وہ فوراً جھلا کر کہتے ہیں
’’بات اداسی کی نہیں۔ صرف عادت کی ہے یا شاید ضرورت کی‘‘۔
میرے اندر کی سرکش عورت بیدار ہو جاتی ہے
’’بھلا کیسے نہیں مانتے آپ۔ لو آج آپ سے منوا کر ہی دم لوں گی‘‘۔
میں کہتی ہوں
’’آپ اسے عادت اور ضرورت کہتے ہیں۔ میں اسے اداسی کہتی ہوں۔ بات تو ایک ہی ہے نہ ناک کو سیدھے سبھائو پکڑو۔ کیوں بازو کو سر کے پیچھے سے گھماتے ہوئے ناک کو پکڑتے ہو‘‘۔
وہ جواباً کہتے ہیں۔
’’تم سے مزید بات کرنا فضول ہے۔ منیب سے بات کروائو‘‘۔
میں ریسیور منیب کے ہاتھ میں دے دیتی ہوں۔ وہ اس سے کہتے ہیں۔
’’بیٹا ماں کی واپسی کا انتظام کر دو‘‘۔
وہ شوخی سے کہتا ہے
’’ابّو! آج سے چالیس سال پہلے جب آپ ماں جی کو لینے گئے تھے تو میرے نانا نانی نے بخوشی ان کو آپ کے ساتھ رخصت کر دیا تھا۔ اب آپ پھر ماں جی کو لینے یہاں آ جائیں تو ہم ان کو رخصت کر دیں گے‘‘۔
اس کی بات سن کر فوجی کی خود ساختہ، غیر جذباتی کنکریٹ کی دیوار میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں اور وہ ضبط کرنے کی ناکام کوشش کرنے کے بعد کھلکھلا کر ہنستے ہوئے کہتے ہیں۔
’’تیرے کان کھینچنے کی اشد ضرورت ہے۔ تجھے بھی اپنی ماں کی طرح باتیں بنانا آ گیا ہے۔ یک نہ شد، دو شد‘‘۔
وہ بصد اشتیاق کہتا ہے۔
’’ابو! پھر آ جائیں نا میرے کان کھینچنے کیلیے۔ میرے کان بھی عرصے سے آپ کے ہاتھوں کے خوشگوار اور محبت بھرے لمس کو ترس گئے ہیں‘‘۔
وہ لمحہ بھر کے لیے خاموش رہتے ہیں۔ پھر رک رک کر دھیمے لہجے میں کہتے ہیں۔
’’اچھا دیکھتے ہیں، سوچتے ہیں، کچھ کرتے ہیں‘‘۔
چند لمحے خاموشی طاری رہتی ہے پھر منیب پوچھتا ہے۔
’’ابو! کیا آپ کا دل نہیں چاہتا کہ آپ یہاں آ کر کچھ دیر ہمارے ساتھ رہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ آنا نہیں چاہتے؟‘‘
وہ مختصر سا جواب دیتے ہیں۔
’’بیٹا! مجھے پاکستان کی مٹی سے بہت محبت ہے۔ میں اس سے جدا نہیں ہونا چاہتا‘‘۔
منیب فوراً کہتا ہے۔
’’یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ ایسا کرتے ہیں کہ ایک تھیلے میں پاکستان کی مٹی بھر کر ساتھ لے آتے ہیں‘‘۔ وہ بے اختیار مسکرا دیتے ہیں۔ میں پھر رشک کے مارے سوچتی ہوں کہ یہ باکمال بچے ہیں جنہوں نے فوج کو اپنے پیچھے لگا رکھا ہے۔ ایک ہم ہیں کہ عرصہ دراز سے ہانپتے کانپتے، آس پاس سے بے خبر، اندھا دھند فوج کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور ایک فوج ہے کہ ہماری کمزوریوں سے بے نیازو سرپٹ بھاگتی ہی چلی جا رہی ہے۔
اگلے دن منیب دفتر سے واپس آیا تو میں سامان پیک کر رہی تھی۔ اس نے حیرت سے پوچھا ’’ماں جی! کہاں کی تیاری ہے؟‘‘
میں نے مختصر سا جواب دیا۔
’’واپسی کی‘‘
اس نے پوچھا…’’لیکن کیوں؟‘‘
جیسے ہماری جون بدل چکی تھی اور ہم گوشت پوست کے بجائے پتھر کے مجسموں میں ڈھل چکے تھے، جذبات و احساسات سے عاری۔
میں نے کہا:
’’تمہارے ابّو کے سنجیدہ لہجے سے میں نے اندازہ لگایا ہے کہ بات اب مذاق سے آگے بڑھ گئی ہے۔ اس لیے اب واپسی میں ہی عافیت ہے۔ چنانچہ موجودہ حالات کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے میں نے اپنے آپ سے کہا ہے کہ:
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
اس نے مسکراتے ہوئے کہا:
’’نہیں ماں جی! ابھی آپ نہیں جا رہیں۔ میں ابّو سے بات کرتا ہوں۔
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے‘‘
لیکن ہؤا یہ کہ منیب کی ضد کے سامنے خلافِ توقع فوج نے ہتھیار ڈال دیئے اور منت سماجت پر اتر آئی۔ فوج کی یہ حالت دیکھ کر منیب کی زبان گنگ ہو گئی اور اس نے بمشکل دھیمے لہجے میں صرف اتنا ہی کہا:
’’ابو! ماں جی کو واپس بھیجنے کو میرا دل تو نہیں چاہتا لیکن جیسے آپ کی مرضی‘‘۔
منیب کا جواب سنتے ہی انہوں نے خوشدلی سے کہا:
’’شاباش! تم سے مجھے یہی توقع تھی۔ اب جا کر اپنی ماں کی واپسی کا ٹکٹ لے آئو‘‘۔ منیب جا کر میرا ٹکٹ لے آیا۔ میرا دل بوجھل ہو گیا۔ جائے ماندن نہ پائے رفتن جیسی صورتحال ہو گئی۔ منیب کا چہکتا ہؤا لہجہ بھی کہیں کھو گیا۔ چند دن برق رفتاری سے گزر گئے اور کوچ کا نقارہ بج اٹھا۔ منیب نے میرا سامان گاڑی میں رکھا اور ہم دونوں ائرپورٹ کی جانب روانہ ہو گئے۔ سارا راستہ کار میں مہیب خاموشی پر پھیلائے چھائی رہی۔ ہم دونوں کے ذہنوں کی سلیٹ پر لکھے گئے سب الفاظ مٹ گئے۔ خیالات روٹھ گئے۔ اظہار کے انداز چھن گئے۔ اور ہم یوں بیٹھے رہے جیسے ہم گونگے ہو چکے تھے، جیسے ہم ایک دوسرے سے روٹھے ہوئے تھے، جیسے بیان کرنے کو کچھ باقی نہیں رہا تھا۔ جوں توں کر کے سفر کٹا اور میں جہاز میں سوار ہو گئی۔
میں جہاز میں بکھری بکھری سی کئی خانوں میں بٹ کر بیٹھی رہی۔ دل کہاں تھا تو دماغ کہاں، جسم کہاں تو خیال کہاں۔ میرا دل من پسند نظارہ ہائے شوق کی دید کے لیے مضطرب تھا لیکن آنکھ آس پاس کے مناظر کو بدلنے پر قادر نہیں تھی۔ وقت جہاز کو آگے کی طرف لے کر جا رہا تھا لیکن خوبصورت یادیں مجھے پیچھے کی طرف کھینچ رہی تھیں۔ بار بار چشمِ تصور میں بچوں کے اداس اور غمزدہ چہرے ابھر رہے تھے اور میں دل ہی دل میں اپنے میاں سے شکوہ کر رہی تھی۔
’’دیکھو! میں اچھی بھلی خوش باش پاکستان میں رہ رہی تھی اور وہیں رہنا چاہتی تھی لیکن آپ نے رہنے نہ دیا۔ اب مزید کچھ عرصہ یہاں رہنا چاہتی تھی لیکن پھر آپ نے یہاں بھی رہنے نہ دیا۔ واہ میاں جی واہ۔ یہ بھی خوب رہی۔
تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا‘‘۔
میں اپنی سوچوں میں گم تھی کہ جہاز کی رفتار کم ہونے لگی۔ پھر وہ آہستہ آہستہ نیچے اترنا شروع ہؤا اور اس نے زمین کو چھو لیا۔ میں بوجھل قدموں سے جہاز سے اتر کر ائرپورٹ کی عمارت میں داخل ہو گئی۔ وہاں اپنا سامان وصول کر کے اسے ٹرالی پر رکھا اور باہر نکل آئی۔ میرے میاں کی نظریں مجھے ڈھونڈ رہی تھیں۔ جونہی ان کی نظر مجھ پر پڑی، ان کی متلاشی آنکھوں میں دیئے سے جل اٹھے اور وہ زیرِ لب مسکرا دیئے۔ ان کو دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں اپنے آپ سے کہا:
’’شکر ہے کہ میری عمر عزیز رائیگاں نہیں گئی اور سالہاسال کی ریاضت اور مجاہدے کے بعد بالآخر میں بھی فوج کو اپنے پیچھے لگانے میں کامیاب ہو گئی‘‘۔
(دسمبر2014)
٭…٭…٭

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp