ڈاکٹر مریم فاروقیمعیار - مریم فاروقی

معیار – مریم فاروقی

ہماری بہت اچھی دوست نوید ہ باجی ہیں ۔ ان سے13،14 سال پرانا تعلق ہو گیا ہے ۔ قرآن کے درس کے حوالے سے دوستی بنی تھی ابھی تک چلی آتی ہے۔پہلے تو پڑوسی تھے ہمارے گھر سے کچھ گھر چھوڑ کے ، اب دو ر چلے گئے ہیں ۔ لیکن اتنے دور ہی گئے ہیں کہ ہفتے چار ہفتے بعد ملاقات ہوجاتی ہے۔
انہوں نے اپنی بیٹیوں کو درمیانہ ماحول دیا ہے ۔نہ بہت دینی نا زیا دہ دنیاوی ۔میاں زبان کے تیز ہیں ویسے مزاج کے درمیانہ ہیںنہ غصیل نہ نرم مزاج!
پہلے انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی کی شادی کی اٹھارہ سال کی عمر میں کیونکہ پھپھو کی طرف سے رشتہ آیا اورجلدی کا تقاضا بھی۔ میںنے دیکھا ہے کہ چھوٹی بیٹیوں کی پہلے شادی سے یہ ہوتا ہے کہ ان کو راہنمائی کے حوالے سے سمجھ نہیں آتی، کون ان کی دوست بن کر ہم دردی سے سسرالی معاملات سمجھائے ، ان کی چھوٹی چھوٹی الجھنوں کو سلجھائے اور شادی کے بعد وہی پیار کرنے والی پھپھو اوران کی اولاد کسی اور ہی نظر سے دیکھتے ہیں اور محبت کی بجائے تنقیدی نظر بھی ہو جاتی ہے ۔ تو پھر سمجھ نہیں آتی کہ کیسے اپنی بات بتائی جائے ۔ اگر ماں باپ کو بتاتی ہے تو وہ کہتے ہیں اتنی چھوٹی باتوںکوہم تک نہ اٹھا کے لایا کرو۔ میاںکہتے ہیں کہ میری امی یا بہن اگر کچھ بے جا بھی ڈانٹ ڈپٹ کریں تو ان کا حق ہی ہے ۔ کسی اچھے کام پربھی تعریف کو کان ترستے رہتے ہیں ۔ کچھ نا سمجھی کچھ نادانی بھولا پن ، سب مل کرآفت ڈھا تے ہیں ۔ کبھی گھر کی بات منہ سے نکل جائے تو مصیبت۔ کبھی بے موقع بولا جائے تومصیبت۔ کوئی پیار سے سمجھاتا نہیں ، کوئی گلے لگاتا نہیں ۔ ایسے میں اگر شوہر ہی کہہ دے چلو میں ہوںنا تمہارا میری خاطر برداشت کر لیا کرو، تو کچھ دل کو سہارا ملے۔لیکن شوہرکہتا ہے یہ میرے ہیں میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتا تم جانا چاہتی ہو تو جائو ۔ اسی ماحول میں بار بار الجھائو کی کیفیت، کبھی کبھی پھپھو منا لاتی ہیں ، کبھی امی سمجھا بجھا کر چھوڑ جاتی ہیں ۔ دو بیٹیاں بھی اللہ نے دے دی ہیںنند اپنے ماں باپ کو کوئی بات لگا دیتی ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے ۔ اگر جواب دے تو بھی بری اگر چپ رہے تو بھی ۔ آخر مجبور ہو کر کوئی ایک جواب جب دیتی ہے تو وہ پکڑا جاتا ہے ۔ نند 38 سال کی ہے شادی نہیں ہوئی کیونکہ معیار بہت اونچا تھا ۔
یہ سب باتیں سن کر بہت دکھ ہوتاہے۔
سوچتی ہوں کہ لڑکیوں کوکچھ باتیں ذہن نشین کروا کرشادی کرنی چاہیے۔ شوہر سے روز اول سے طے کرلیں کہ بیڈ روم کی باتیں ، جھگڑے، آپس کی کہانیاں وغیرہ سب وہیںتک رہیں ۔ کیونکہ اگر وہیںپر رہیں گے تو سمیٹنا آسان ہوگا ۔ نہ خودکوئی شوہر کی بات افشا کریں اورنہ شوہر ایساکرے۔
دوسرا ،یہ طے کر لے شوہر سے کہ آپ کی اطاعت کے ساتھ کس کس کی اطاعت فرض ہے ،آپ کی امی کو راضی رکھنا فرض ہے یا آپ کو ۔ کیونکہ بعض اوقات ساس کچھ کہتی ہیں اور ساس کا بیٹا کچھ ، بہو درمیان میں حیران ! کس کی مانے کس کی چھوڑے یا حکمت کے ساتھ خود ہی معاملات کو دیکھے کیونکہ شریعت نے اسے شوہر کے تابع بنایا ہے ۔ کھل کر اپنی اس رائے کا اظہار کم از کم شوہر سے کردے اور دوسرے بھائیوں کی بیویوں کے ساتھ تو اتنا درگزر کہ وہ کوئی کام نہ کریں تو ان کو پوچھیں بھی نہیں، اور پھپھو بھتیجی سے کہیں تمہیں نہیں پتہ کام کس نے کرنا ہے ؟ پھر نہ کوئی شاباش پھپھو ہی دیں نہ میاں ، تو خود ہی سوچیں کب تک گھر بنا رہے گا ؟ ویسے میاںخرچہ پانی تو دیتا ہے لیکن گھر والوں کی حمایت میںہاتھ بھی اٹھا لیتا ہے چٹیا بھی مروڑ دیتا ہے ۔ بیڈ روم کا واش روم بھی سانجھا ہے ، اس لیےکسی وقت دروازہ بند نہیں ہو سکتا نہ دوپہر نہ رات 2 بجے تک ۔ روتے دھوتے زندگی ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے ۔ بچیاں، ددھیال کی شہ پا کر بدتمیز اورنا فرمان بھی ہو گئی ہیں۔
دوسری بہن کی شادی ہوئی تو غیروں میں ہے لیکن اس نے شرط رکھی تھی کہ نمازی اور نیک گھریلو چاہیے زیادہ پڑھا لکھا نہ ہو ۔ اس کی نیک تمنا اللہ نے پوری کی کہ تعلیم گریجوایشن بھی اور ترجمہ پڑھا ہؤا لڑکاملا۔ والدین احساس کرنے والےکہ اگر ان کا بیٹا بچوں کو سنبھالنے میںبیوی کی مدد نہ کرے تو ڈانٹتے ہیں کہ یہ بھی تمہارا فرض ہے بیوی کی مدد کرو۔ گھر میں بچےقرآن پڑھتے ہیں ۔ سونے آرام کرنے کا موقع دیتے ہیں ۔ پرائیو یسی کا بھی خیال رکھا جاتا ہے علیحدہ رہائش کا کمرہ دیا ہؤا ہے ۔ کسی کا آنا جانا اورمداخلت نہیں ۔اچھی اخلاقی تربیت ہے ۔ شادی پر بھی برائے نام بارات لے کر آئے ۔ان کا کاروبار اپنا ہے ، باجی نویدہ کرائے دار ہیں جبکہ وہ دس مرلے گھر کے مالک ہیں ۔ ولیمہ کا کھانا اچھا کیا۔ نہ رسمیں ہوئیں ، نہ کبھی طعنے دیے نہ بد زبانی کی ۔
نویدہ باجی کہتی ہیں دین کتنی بڑی نعمت ہے ۔ کاش میں پہلی بیٹی کی مرتبہ بھی دین کو معیار بناتی !
٭٭٭