۲۰۲۴ بتول مارچنعیم صدیقی کی زندانی شاعری - زوبیہ لطیف

نعیم صدیقی کی زندانی شاعری – زوبیہ لطیف

زندانی شاعری کی اصطلاح کا اطلاق دو معانی میں ہو سکتا ہے:
۱- وہ ادب جو زنداں میں تحریر کیا گیا۔
۲- وہ ادب جو زنداں اور اس کے متعلقات کے بارے میں تخلیق ہوا۔
ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کی رائے میں زندانی ادب کی اصطلاح صرف پہلے مفہوم میں استعمال کرنی چاہیے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’وہ ادب جو زنداں اور اس کے متعلقات کے بارے میں تحریر کیا گیا ہے ہمارے خیال میں زندانی ادب نہیں ہے بلکہ عام ادب کا ہی ایک حصہ ہو سکتا ہے۔ اس میں زنداں کا استعمال اکثر ایک علامت کے طور پر بلکہ ایک رسم کے طور پر ہوتا ہے اور خصوصاً اردو شاعری میں تو زنداں اور اس کے متعلقات کے مضامین پر لاکھوں اشعار آسانی سے دستیاب ہو سکتے ہیں۔‘‘
اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قفس اور زنداں اردو شاعری کی سب سے مقبول علامت ہیں۔ جن کا استعمال تقریباً ہر شاعر نے کیا ہے۔ لہٰذا زندانی شاعری سے مراد وہ شاعری ہے جو اسیری کے دوران میں پس دیوارِ زنداں رہتے ہوئے کی جائے۔ اس کے لیے حبسیہ شاعری کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔
زندانی ادب کی مختصر تاریخ
۱۸۵۷ء کی ناکام جنگِ آزادی سے قبل کی شاعری کے جائزے میں تو صرف مغل حکمران واجد علی شاہ (آخری تاجدارِ اودھ) زندانی شاعر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کے زمانۂ اسیری کی یادگار ’’مثنوی حزن اختر‘‘ ہے۔ ڈاکٹر غلام حسین اظہر نے اس مثنوی کا جائزہ لیتے ہوئے واجد علی شاہ کو ایک ایسا شاعر قرار دیا ہے جسے اپنے جذبات پر قابو نہیں ہے اور جو مصائب پیش آنے کے بعد گھبرا کر نوحہ کناں ہو گیا ہے۔قید خانے میں پیش آنے والے مصائب کا بیان ان کے نزدیک ایک شاہد رعنا کی تصویر کشی کے مترادف ہے:
جب کہ ڈاکٹر سعادت علی صدیقی درج ذیل اشعار سے واجد علی شاہ کی ذہنی و جذباتی حالت اور بے بسی کا اندازہ کرتے ہیں:
الٰہی مجھے قید سے دے نجات
نکلتی ہیں غم سے اب منہ سے بات
واجد علی شاہ کی اسیری کے ایک سال بعد ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی برپا ہوئی۔ اس ناکام جنگِ آزادی کے ’’مجرموں‘‘ کو جزائر انڈیمان میں ’’کالے پانی‘‘ کی سزا دی گئی۔ ڈاکٹر سعادت علی صدیقی نے درج ذیل شعرا کے نام ثابت کیے ہیں:
منیر شکوہ آبادی، فضلِ حق خیر آبادی، مفتی عنایت احمد، محمد جعفر تھانسیری، ایوب خان کیفی، مظہر کریم دریا بادی، سید احمد بریلوی، نواب قادر علی خان، جمن خان، اکبرزمان اور قاضی سرفرازعلی وغیرہ ان میں اردو کے علاوہ فارسی اور عربی زبان میں شاعری کرنے والے شعرا بھی شامل ہیں جنھوںنے دورِ زنداں میں خود پر گزرنے والے مصائب کو بیان کیا ہے۔
جنگ آزادی کے شعرا میں سب سے نمایاں مقام بہادر شاہ ظفر کو حاصل ہے۔ زندانی شاعری کی تاریخ ظفر کے نام کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہو سکتی۔ ان کا کلام حسرت و یاس اور سوزوگداز کے لحاظ سے بہت منفرد ہے۔ لہجے کی دردناکی نے بعض غزلوں کو زبان زدِ خاص و عام بنا دیا ہے: ؎
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
پسِ مرگ، میرے مزار پر جو دیا کسی نے جلا دیا
اسے آہ دامنِ باد نے سرِ شام ہی سے بجھا دیا
؎لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپایدار میں
جنگ آزادی کے بعد ہندستان میں آزادی کی تحریکوں کا ایک طویل سلسلہ نظر آتا ہے۔ سیاست دانوں کے ہمراہ شعرا نے بھی ان تحریکوںمیں آزادی و حریت کے ترانے گائے ہیں اوراس کے نتیجے میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ ان شعرا میں حسرت موہانی کا نام بہت اہمیت رکھتاہے۔ حسرت کی شاعری میں کہیں دل گرفتگی کا شائبہ نظر نہیں آتا اور بقول غلام حسین اظہر:
’’مسلسل قید و بند کے باعث ان کی طبیعت میں زودگوئی، بے خوفی، بے نیازی اور صبروغنا کی صفات پیدا ہو گئیں۔‘‘
ان کے چنداشعار درج ذیل ہیں: ؎
تو نے حسرتؔ کی عیاں تہذیبِ رسم عاشقی
اس سے پہلے اعتبارِ شانِ رسوائی نہ تھا
؎ ہے مشقِ سخن جاری، چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے، حسرت کی طبیعت بھی
مولانا محمد علی جوہر کی شاعری میں ہندستان کی سیاسی جدوجہد کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے ہاں جیل کی شاعری میں غیر معمولی ایمان، خدا کی رضا کا احساس اور عجیب والہانہ جوش و خروش نظر آتا ہے: ؎
دورِ حیات آئے گا قتلِ قضا کے بعد
ہے ابتدا ہماری، تری انتہا کے بعد
؎ جور گلچیں یاد رکھ، قیدِ قفس کا غم نہ کر
چین کب اے بلبلِ نالاں تجھے گلشن میں تھا
آزادی اور آزمایش جوہرؔ کے ہاں لازم و ملزوم نظر آتی ہیں۔
مولانا ظفر علی خان کی حبسیہ شاعری میں ولولہ و جوش، جذبات کی شدت، سلاست و روانی، حتیٰ کہ شگفتگی اور آہنگ بھی نظر آتا ہے۔ ان کے ہاں گہری بصیرت کے بجائے ہنگامہ پسندی کی کیفیت غالب ہے۔ ان کی زندانی شاعری غمزدہ انسان کے بجائے ایک بے قرار اور ہنگامہ خیز شخص کی شاعری کہی جا سکتی ہے اور دعوتِ فکر کے بجائے دعوتِ عمل دینے کی خصوصیات اپنے اندر رکھتی ہے۔
قیام پاکستان کے بعد فیض احمد فیض حبسیہ شاعری میں ایک منفرد لہجے کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ ان کے ہاں غزل کے پیرائے میں سیاسی و سماجی صورت حال کی عکاسی نظر آتی ہے۔ بقول نظیر صدیقی:
’’فیض کے ہاں وصل سے مراد سیاسی نصب العین سے دوری اور اس کے حصول کی دشواریاں ہیں۔‘‘
فیض کی سیاسی و حبسیہ شاعری میں ہمیں ان کا لہجہ ہمیشہ بہت متوازن نظر آتا ہے اور کہیں تلخیٔ گفتار کا پر تو نہیں ملتا: ؎
غمِ جہاں ہو، غمِ یار ہو کہ تیرِ ستم
جو آئے، آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں
بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم
فیض کے بعد ترقی پسند تحریک اور اشتراکیت پسند تحریک سے متاثر احمد ندیم قاسمی، حبیب جالب، علی سردار جعفری اورتحریک ادب اسلامی سے وابستہ نصراللہ خاں عزیز، کوثر نیازی اور نعیم صدیقی کے نام زندانی شاعری کے حوالے سے نمایاں نظر آتے ہیں۔
نعیم صدیقی کی زندانی شاعری
نعیم صدیقی ’’شعلہ خیال‘‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں:
’’زنداں یا جیل یامحبس یا قفس کہیے صرف اس بات کی علامت ہے کہ سیاسی سماجی اور معاشرتی نظام کی باگ ڈور ایک ایسی قوتِ استبداد کے ہاتھ میں ہے جو اختلاف کرنے کی اجازت نہیں دیتی، تنقید پربرہم ہوتی ہے اور یہ جرم جس سے سرزد ہو جائے اسے بغیر مقدمہ چلائے… کسی چور دروازے سے لے جا کر دست بہ زنجیر اور پابجولاں کر دینے والی ہے۔‘‘
نعیم صدیقی اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ ۲۸مارچ ۱۹۵۳ء کو تحریکِ ختم نبوت کے سلسلے میں ۵۳ ہفتوں کے لیے جیل میں رہے۔ دوسری مرتبہ ۶ جنوری ۱۹۶۴ء کو جب صدر ایوب خان نے جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی تو مولانا مودودیؒ سمیت جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ اور بہت سے رہنما گرفتار کر لیے گئے۔ ان میں نعیم صدیقی بھی شامل تھے۔ اس مرتبہ اسیری کا یہ عرصہ ۸، ۹ ماہ پرمحیط رہا۔ نعیم صدیقی کی’’ شعلہ خیال‘‘ میں شامل بیشتر تخلیقات انہی دونوں ادوار کی یادگار ہیں۔ البتہ ۱۹۴۸ء میں سیفٹی ایکٹ کے دوران جماعت اسلامی کے رہنمائوںکی گرفتاریوں سے متاثر ہو کر کہی گئی نظمیں بھی زندانی رنگ ہی لیے ہوئے ہیں۔ ایسی شاعری کے متعلق نعیم صدیقی اپنے ایک انٹرویو میں لکھتے ہیں:
’’مجھے یہ نیا دعویٰ کرنے کی اجازت دیجیے کہ دنیا بھر کا پایدار ادب اور جاندار شاعری ان ارباب فن کی عطا ہے جو نظریاتی اور اخلاقی کشاکش کی بھٹی میں تپ کر بنے ہیں۔ اس سلسلے میں قریبی مثالیں اگر لینی ہوں تو محمد علی جوہر، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، ٹیگور اور نذر الاسلام کا معاملہ زیادہ واضح ہے‘‘۔
نعیم صدیقی کی زمانہ اسیری کی شاعری کو ان کے مجموعے ’’ شعلہ خیال‘‘ کے دوسرے ایڈیشن میں شامل کیا گیا ہے ۔ اس حصے کو ’’ شعاعِ روزن‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری (1964ء) کے اولین تاثر کے طور پہ ابتدا میں ایک قطعہ دیا گیا ہے ؎
سبو اُلٹ دیے گئے ، دیے بجھا دیے گئے
جو لوگ روحِ بزم تھے وہی اٹھا دیے گئے
یہ پوچھیے زمانے سے کہ اس کے پاس کیا رہا
ہمیں تو اک خزانہ تھے ، ہمیں لٹا دیے گئے
نعیم صدیقی کی زندانی شاعری کے مطالعے سے جو تاثر سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے وہ ان کا اپنے عقیدے پر غیر متزلزل ایمان ہے۔ آزمائشیں اسی لیے انسان کی زندگی میں ایک کلیدی رول ادا کرتی ہیں کہ اس کے نتیجے میں یا تو آدمی گھبرا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے یا زیادہ مضبوطی اور استقامت کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹ جاتا ہے۔ مولانا مودودیؒ کی شخصیت میں یہ خوبی جس درجہ موجود تھی اس کا اظہار ان کے اس بیان سے کیا جا سکتا ہے:
’’جتنا مجھے کل سورج کے طلوع ہونے کا یقین ہے اتنا ہی اس بات کا یقین ہے کہ انقلاب بہرحال رونما ہو کر رہے گا۔‘‘
اور یہی وجہ ہے کہ ان کے رفقا میں بھی یقین و اعتماد کی یہی کیفیت نمایاں تھی۔ نعیم صدیقی کو حکمران طبقے کے خود غرضانہ اور مادہ پرستانہ رویے اور عوام کی ناسمجھی اور جہالت کے باوجود اسلامی انقلاب کے جلد یا بدیر برپا ہونے کا مکمل یقین تھا:
؎تم انقلاب کی لہروں کو روکتے ہی رہو
اسی طرح تو یہاں انقلاب ابھریں گے
تمھارے فیض سے ہے جن کی خانہ ویرانی
یہ وقت ہے کہ وہ خانہ خراب ابھریں گے
تمہی نے چھیڑ دیا مرگ و زندگی کا سوال
اب اس سوال کے زندہ جواب ابھریں گے
گر اک چراغِ حقیقت کو گل کیا تم نے
تو موجِ دود سے صد آفتاب ابھریں گے
ذیل میں جن نظموںکا جائزہ لیا جائے گا ان میں ہر جگہ یہی کیفیت ابھرتی اور پھلتی پھولتی نظر آئے گی۔
شعلہ خیال نعیم صدیقی کی ایک طویل نظم ہے۔ اس نظم میں ایک قیدی پر گزرنے والی مختلف کیفیات کا اظہار نظر آتا ہے۔ یہ نظم نعیم کے زندانی ادب کو سمجھنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ پہلے بند کو تمہیدی کہا جا سکتا ہے جس میں قیدی سیاہ خانہ زنداں میں آنکھ کھلنے پر مختلف کیفیات سے گزرتا ہے۔ اس میں بیان کردہ مضامین کسی قدر فلسفیانہ ہیں اور جذبات کے تسلسل اور ان کے باہم دگر ٹکرانے کا انداز نظر آتا ہے۔ یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس بند میں شاعر یا قیدی ایک ذہنی کشمکش میں مبتلا ہے:
؎سیاہ خانۂ زنداں میں آنکھ جونہی کھلی
مری صبوحی شعاعوں میں ڈھل کے آنے لگی
ستم رسیدہ انا لے رہی ہے پھر کروٹ
تصورات کو انگڑائی جیسے آنے لگی
فضا میں گھل گئیں ذہنی گریز کی گھڑیاں
حقیقت اپنی سبھی تلخیاں جتانے لگی
دوسرے بند میں فطرتِ نسائیت کا خوب صورت اظہار کیا گیا ہے:
ہے ایک پیکر مہر و وفا تصور میں
کسی سے جس نے غمِ دل نہیں کہا ہو گا
وہ جانے بوجھے سے اندازِ راز داری میں
خود اپنے آپ سے کہنا کہ ہائے کیا ہو گا
یہ اشعار اردو ادب میں ایک اضافہ قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ’’پیکر مہرو وفا‘‘ سے پاکیزگی کا ایک عجیب تصور ابھرتا ہے جو سفلی پن سے بہت بلند ہو کر سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے اور پھر
ع خود اپنے آپ سے کہنا کہ ہائے کیا ہو گا
دراصل عورت کی نفسیات کے بہت گہرے مطالعے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کے بعد کے اشعار صاف طور پر ایک راست فکر ذہن کے عکاس قلم سے نکلے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ کوئی ملحد یا سیکولر ذہن ایسے اشعار لکھ ہی نہیں سکتا:
وفا کا رنگ تو کچا نہیں کہ اڑ جائے
حنا کا رنگ ہتھیلی سے اڑ گیا ہو گا
کبھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھے ہوئے ہوں گے
کبھی سجود میں سر خاک پہ دھرا ہو گا
اس سے اگلا بند شاعر کی ذات سے نکل کر اجتماعی احساس کو بھی اپنے گھیرے میں لیتا ہے۔ گویا اب یہ نظم ایک قیدی کی سرگزشت نہیں رہی، بلکہ ہزاروں قیدیوں کی داستانِ درد بن گئی ہے:
ہزاروں جانوں کو جیلوں میں ڈالنے والو
تمھیں پتا بھی ہے اس قید کا مزا کیا ہے
ہر اک سزا مجھے منظور بے وفائی کی
یہ راز کھول تو دو مسلکِ وفا کیا ہے
گویا یہ شعر کہتے ہوئے وہ ملک کے جبری اور مستبدانہ قوانین کی روحِ ظلم کو بھی فاش کر دیتے ہیں۔ یہاںسے نظم ایک نیا موڑ مڑتی ہے اور شاعر عالمِ اضطراب سے نکل کر سوچ بچار کی کیفیات سے دوچار ہوتا ہے:
میں سوچتا ہوں کہ محبس بہت رہے آباد
ہر ایک دورکے زنداں یونہی بھرے ہی رہے
مَرا کبھی نہیں لوگوں میں انقلاب کا ذوق
وہ خواب جنتِ فردا کے دیکھتے ہی رہے
اس سوچ بچار کے نتیجے میں آخری بند میں ایک آہنی عزم و ارادے، یقین و اعتماد اور استقامت سے لبریز اشعار سامنے آتے ہیں:
سلوک جیسا بھی چاہو روا رکھو مجھ سے
رہِ یقیں سے صداقت پھسل نہیں سکتی
کسی جفا سے مرا دل دہل نہیں سکتا
کسی عطا سے طبیعت بہل نہیں سکتی
جو نت بدلتے ہیں یاں مصلحت کے سانچوں میں
یہ میری فطرتِ اسلام ڈھل نہیں سکتی
میں قیدِ یوسف کنعاں کی کھا رہا ہوں قسم
یہ قید میرے عقیدے بدل نہیں سکتی
اس نظم کا تجزیہ اس لیے بھی پیش کیا گیا ہے کہ اس میں نعیم نے ایک قیدی پر گزرنے والی تمام کیفیات، ذہنی و فکری پریشانیاں، اہلِ خانہ کی یاد، محبت کرنے والوں سے جدائی کا احساس انسانیت پر ہونے والے ظلم و ستم اور اسلام پر کیے جانے والے حملوں کو ایک خاص ترتیب یعنی غمِ جاناں، غمِ دوراں، غمِ انساں اور غمِ ایماں کے مطابق بیان کیا ہے۔ یہی مضامین ان کی باقی زندانی شاعری میں بھی تکرار کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔
ایک نظم ’’بزمِ زنداں کے نووارد‘‘ میں جیل خانے کی منظر کشی بہت خوب صورت طریقے سے کی گئی ہے:
درِ زنداں کھلا لوہے کے پھاٹک نے جمائی لی
سکوتِ شب میں دل کو چھیدنے والی صدا گونجی
اس نظم میں جیل میں رہنے والے قیدی نئے آنے والے سے اس کا جرم دریافت کرتے ہیں۔ نووارد کا جواب طنز کی کاٹ بھی لیے ہوئے ہے اور عزم و حوصلہ کا رنگ بھی:
ہمارا جرم سنگیں ہے کہ ہم تنقید کرتے ہیں
بہر صورت نظامِ کفر کی تردید کرتے ہیں
اذانِ حق کہی بت خانۂ افرنگ میں ہم نے
حقیقت کھول دی ہے بزمِ ریوورنگ میں ہم نے
اٹھے ہیں ہم یہاں انصاف کی تجدید کرنے کو
نئے اک دورِ عالم گیر کی تمہید کرنے کو
تعجب کیا اگر اس نے ہمیں غدار ٹھہرایا
مفادِ ملک و ملت کے لیے آزار ٹھہرایا
اور پھر یہاں تک کہہ اٹھتے ہیں کہ ان جرائم پر ہمیں قید کی سزا تو بہت ہلکی ہے، اگر ہمیں دار بھی چڑھا دیا جاتا تو کم تھا:
ع سزائے قید ایسے جرم پر قطعاً رعایت ہے
اپنے جرم کے اقرارسے متعلق نعیم صدیقی کی نظم ’’اقرارِ جرم‘‘ بھی بہت مقبول ہے۔
ہم لوگ اقراری مجرم ہیں
سن اے جباری، مجرم ہیں
حق گوئی بھی ہے جرم کوئی
توپھرہم بھاری مجرم ہیں
اس نظم میں ان کا رزمیہ لہجہ بہت نمایاں نظر آتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے مقبول نظریے سے محبت بلکہ عشق اور اس جرمِ عشق کے سرزد ہو جانے پر سزا طلب کرنے کا انداز نظم کو بہت پُراثر اور جذباتی بنا دیتا ہے:
سن ہم سے دورِ طاغوتی
طاغوتوں سے بیزار ہیں ہم
جب نگری اندھی نگری ہے
تو اے راجہ غدار ہیں ہم
ہم سرکش ہیں ہم طاغی ہیں
انگریز کے ترکے میں جو ملا
اس مذہب کے ہم باغی ہیں
اس جرم پہ جو دی جائے سزا
سہنے کے لیے تیار ہیں ہم
ہم لوگ اقراری مجرم ہیں
نبیوں کے ایجاد کردہ اس مقدس جرم کے مجرم آخری بند میں تو یوں پکار اٹھتے ہیں:
اب آخر اس کو کیا کیجیے
یہ ذوقِ جرم نرالا ہے
یہ ذوق تشدد کیجیے تو
کچھ اور ابھرنے والا ہے
تعزیر اسے بھڑکاتی ہے
جتنی بھی سزا دی جاتی ہے
وہ جوش نیا پھیلاتی ہے
اس جرم کو اک اک مجرم نے
سینے میں پیہم پالا ہے
ہم لوگ اقراری مجرم ہیں
یہ نظم ہیئت کے تجربے کے طور پر بھی نعیم صدیقی کی بہترین نظموں میں شمار کی جا سکتی ہے۔ اعتراف کے پسندیدہ موضوع سے متعلق نعیم صدیقی کی ایک اور نظم ’’اعتراف‘‘ کا ذکر بھی ضروری ہے:
ہم مانتے ہیں عشق کا آزار ہے ہمیں
سرمستیٔ فریضۂ اظہار ہے ہمیں
ہاں ترکِ اختلاف سے انکار ہے ہمیں
آزادیِ ضمیر پہ اصرار ہے ہمیں
جی ہاں چراغ ہم نے جلائے قدم قدم
نعیم صدیقی کے ہاں اپنے نظریۂ حیات کی کارفرمائی اور اس کے مطابق دنیا کا چین دیکھنے کی خواہش اس قدر شدید ہے کہ اکثر اوقات یہ خواہش ان کے تمام جذبوں پر حاوی نظر آتی ہے۔ یہی ان کا عشق بن جاتی ہے اور یہی ان کی زندگی:
کچھ دیر ٹھہر اے جانِ نظر، آواز نہ دے، بیتاب نہ کر
جو شبنم سا پاکیزہ ہے اس جذبۂ الفت کی خاطر
تاروں کی گواہی ہے جس پر اس عہدِ محبت کی خاطر
دو دل جس میں تحلیل ہوئے، اس میٹھی چاہت کی خاطر
کچھ دیر ٹھہر اے جانِ نظر، آواز نہ دے، بیتاب نہ کر
نعیم سیدھے سیدھے کہہ دیتے ہیں کہ مقصد کو پا لینے تک زندگی اور اس کی ساری سرگرمیاں اسی محور کے گرد گھومتی رہیں گی تب تک سب جذبوں کو انتظار کرنا پڑے گا، کیوںکہ بہت سے لوگ ہی ہمارے ہاتھوں اس انقلاب کے برپا ہونے کی امید پر جی رہے ہیں:
ان محنت کاروں کی خاطر جو محنت کا پھل کھا نہ سکے
ان غم کے ماروں کی خاطر جو غم کا مداوا پا نہ سکے
اس خونِ شہیداں کی خاطر جو جبر کی تلواروں نے پیا
ان حق کی صدائوں کی خاطر قوت نے جنھیں اٹھنے نہ دیا
کچھ دیر ٹھہر اے جانِ نظر، آواز نہ دے، بیتاب نہ کر
نعیم صدیقی کی نظم ’’شعاعِ روزن‘‘ ان کی احتجاجی شاعری کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس میں ان اخلاقی قدروں کی نشان دہی بھی کی گئی ہے جن سے انحراف ہمارے زوال کا باعث بنا اور ان سماجی قوتوں کی طرف بھی اشارہ ہے جو ہمارے انحطاط میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ نظم کی بنیادی خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں رجائیت کا اظہار ہے۔ احتجاجی شاعروں کا یہ انداز اقبال کے ہاں نمایاں تھا اور اسلامی فکر رکھنے والے شاعر کا اقبال کے اس رویے کی تقلید کرنا بجا ہے۔ انحطاط کا ذکر اور پھر کسی اور امید پر جی اٹھنے کا عزم ایک خاص ترتیب کے ساتھ نظر آتا ہے:
بیرونِ گنبدِ بے در خبر نہیں کیا ہے
حیات کا کوئی ہنگامہ کیسے برپا ہے
امید کہتی ہے کہ آزاد ایک دنیا ہے
کھلی فضائیں ہیں اور پَرفشاں تمنا ہے
لیکن جب وہ اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو دردمندی کی ایک پکار سامنے آتی ہے:
اندھیرے سینے پہ رقصاں ہیں ہائے کیا کیجیے
اندھیرے صاحبِ فرماں ہیں ہائے کیا کیجیے
اندھیرے میر ہیں سلطاں ہیں ہائے کیا کیجیے
اندھیرے وارثِ انساں ہیں ہائے کیا کیجیے
اور ظاہر ہے کہ سامراجی ریشہ دوانیوں اور اس کے نتیجے میں تلخی، بے چینی تنائو اور دبائو کی یہ کیفیت پیدا ہونا بعید نہیں ہے۔ لیکن اس کے فوراً بعد ہی روزنِ زنداں سے ایک چھوٹی سی کرن کا نظر آ جانا نعیم صدیقی کی رجائیت پسندی کا غماز ہے، بلکہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ ناسازگار حالات پر کڑھنے اور آنسو بہانے کے بجائے قلیل سرمائے کے بل پر دنیا کو سنوارنے کا بیڑا اٹھایا جا سکتا ہے:
سیاہ خانے میں باریک سا وہ اک روزن
افق امیدوں کا یہ آرزوئوں کا معدن
یہ اک کرن مرا سرمایۂ دو عالم ہے
یہ اک کرن مری تنہائیوں کی ہمدم ہے
یہ اک کرن مرے دردِ نہاں کی محرم ہے
یہ اک کرن مرے زخمِ جگر کا مرہم ہے
یہی خموش کرن حشر اک اٹھا دے گی
’’شعاع روزن‘‘ کے علاوہ اور بھی کئی نظموں میں یہ کیفیت نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر غلام حسین اظہر کہتے ہیں:
’’ایسی تخلیقات کو پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ نعیم صدیقی معاشرے کے بدلتے ہوئے رجحانات سے مطمئن نہیں، وہ منزل جس کی خاطر انھوں نے ہر چیزکو تج دیا تھا، کئی سالوں کی صحرا نوردی کے باوجود قریب آنے کے بجائے دور ہوتی جا رہی ہے۔ محبوب ترین اخلاقی قدروں کی پامالی، انسانوں کا روز بروز معیارِ انسانیت سے انحراف اور حیوانی رجحانات کی طرف بڑھتا ہوا جھکائو ان کے لیے سوہانِ روح سے کم نہیں، لیکن ناکامیوں کے باوجود ان کے اندر انسانیت کی تڑپ اور پیاس کم نہیں ہوتی اور انسانیت کا درس دینے کے لیے وہ سربکف میدانِ عمل میں گامزن ہیں۔‘‘
’’اک شمع جل رہی ہے‘‘۔
ظلمت کی وادیوں میں صد کارواں چلے ہیں
اور رہبروں کے ہاتھوں ہر گام پر لٹے ہیں
صدمہ ہے منزلوں کو راہی بکھر گئے ہیں
امید زخم خوردہ یاں ہاتھ مل رہی ہے
اک شمع جل رہی ہے
لیکن پھر منظر تبدیل کرتے ہیں اور اس دکھ درد سے بھری فضا میں ایک جذبہ اور امنگ کروٹ لینے لگتی ہے:
پروانے جل رہے ہیں اور رات ڈھل رہی ہے
تیرے شکم میں اے شب اک صبح پل رہی ہے
اک شمع جل رہی ہے۔
نعیم صدیقی کی زندانی نظموں کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ چوںکہ جیل یا زنداں ایسی جگہ ہے جہاں بالعموم تنہائی ہوتی ہے، پابندی ہوتی ہے اور آنے جانے، ملنے ملانے، اپنے معمول کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت نہیں ہوتی تو ایسے میں انسان تنہا بیٹھا طرح طرح کی باتیں سوچتا رہتا ہے۔ اس کی سوچ کے زاویے بعض اوقات ان گوشوں کی نقاب کشائی بھی کر ڈالتے ہیں جہاں عام حالات میں نہیں پہنچتے۔
اس کے علاوہ ماضی کی یادیں، اداسی اور بے اطمینانی کی صورت میں ابھر کر سامنے آتی ہیں، وطن سے محبت کا احساس اور انسان دوستی کے جذبات میں اضافہ ہوتا ہے، غرض انسانی احساسات کے معاملے میں بہت نزاکت آ جاتی ہے اور معمولی معمولی باتیں بھی بہت اہم بن جاتی ہیں۔
نعیم صدیقی کے ہاں بھی ہمیں جذبات کی ان مختلف کیفیات کا اظہار نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر ان کی نظم ’’میں سوچتا ہوں‘‘ دراصل جیل میں ڈاکٹر کے اس جملے کے ردعمل میں تخلیق ہوئی کہ ’’جانے تم ہمیشہ کچھ سوچتے کیوں رہتے ہو‘‘ البتہ نظم میں مخاطب اور طرزِ تخاطب کس قدر تبدیل ہو گیا ہے:
تم کو یہ گلا بجا ہے مجھ سے
تم پاس ہو اور میں سوچتا ہوں
شہ رگ سے بھی تم قریب تر ہو
میں خود سے بھی دور جا چکا ہوں
پھر نظم ایک مخصوص لَے میں آگے بڑھتی ہے اور تاریخ کے مختلف ادوار، کفار کی چیرہ دستیوں اور یہود و ہنود کی سازشوں سے ہوتی ہوئی پھر ایک امید کے ساتھ حال کی طرف لوٹ آتی ہے۔ لمحۂ رقت، نعیم صدیقی کے اندرونی جذبات و احساسات کی مظہر ہے۔ اپنی بڑی بہن کی یاد انھیں گزشتہ زندگی کے کن کن مراحل تک لے جاتی ہے اور دل کی دردمندی موجودہ حالتِ کرب سے کس طرح ہم آہنگ ہوتی ہے۔ ذیل کے اشعار پڑھ کر اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے:
دو اشک آج تیری یاد میں امڈ آئے
جراحتوں کا یہ سرمایہ، فرقتوں کے یہ داغ
بہت سے بچھڑے ہوئے چہرے آج یاد آئے
محبتیں تو امڈتی رہیں گی دنیا میں
ترے خلوص کی خوشبو کہاں سے آئے گی
تیری دعائیں ترے مشورے، ترے شکوے
وہ مشفقانہ تری خو کہاں سے آئے گی
یادوں کی تلخی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ احساسِ محرومی اور لاحاصلی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ زنداں خانے کے اذیت ناک ماحول اور تنہائی میں ایسی کیفیت کا پیدا ہو جانا عین فطرتِ انسانی ہے:
یہ جی میں آتا ہے ساری بساطِ ہستی کو
جنوں کی لہر میں ٹھوکر کبھی لگا دیجیے
فضول دانش و حکمت، عبث یہ شعر و ادب
نقوش عظمتِ انساں کے سب مٹا دیجیے
یہ باغ و راغ یہ دیوار و در یہ مال و منال
بنا کے خاکہ سا اک آہ میں اڑا دیجیے
انتہائی یاس کے عالم میں آخری کیفیت تو بہت ہی محرومی کا اظہار کرتی ہے:
اڑا رہا ہوں میں اپنی محبتوں کا مذاق
عجیب کیش کچھ اپنا بنا لیا میں نے
فضول کون کرے انتظارِ صبحِ وصال
شبِ فراق ہی سے دل لگا لیا میں نے
انسانی احساسات کی یہ لہریں زنداں کے صبح و شام میں کیسے کیسے مدوجزر اٹھاتی ہیں اس کی مثال ان کی نظم ’’ایک خط‘‘ میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ نظم کسی حد تک رومانی بھی کہلا سکتی ہے، لیکن اس کے مضامین کی وسعت رومان سے بڑھ کر بہت سی تلخ حقیقتوں کے اظہار تک جا پہنچتی ہے۔
خط تمہیں آج سحر بیٹھ کے سوچا لکھوں
خط تو لکھنا ہے، مگر سوچ میں ہوں کیا لکھوں
برملا لکھنے کو جذبے ہیں بہت سے دل میں
مصلحت کہتی ہے ہر چیز بہ اخفا لکھوں
سنسر شپ کے خطرے کو سامنے رکھتے ہوئے جب وہ قلم اٹھاتے ہیں تو کہتے ہیں:
مجھ قلم کش سے تقاضا یہ زمانے کا ہؤا
اس زمانے کو میں اک دور سنہرا لکھوں
محتسب کہتا ہے الٹا نہ لٹکنا ہو اگر
سارے مضمونِ حقیقت کو میں الٹا لکھوں
اگلے بند میں نعیم وہ سب باتیں لکھتے ہیں جو زمانہ ساز لوگ ان سے لکھوانا چاہتے ہیں، لیکن یہ سب بیان کر لینے کے بعد وہ ایسی تمام حقیقتیں بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں، جو وہ خود زمانے کو بتا دیناچاہتے ہیں۔ ابھی وہ ان سب کے بیان میں تذکرۂ صاحبِ بطحا تک ہی پہنچتے ہیں کہ دانش آموز مصلحت انھیں بتاتی ہے کہ بہتری اسی میں ہے کہ تم کچھ بھی نہ لکھو صرف یہ لکھو:
طولِ تحریر سے مطلوب نہیں تھا کچھ اور
ماسوا اس کے کہ میں خود کو تمھارا لکھوں
نعیم صدیقی نے اسیری کے دوران میں نہ صرف نظمیں کہیں بلکہ غزلوں پر بھی طبع آزمائی کی۔ بلکہ ان کی غزلوں کی تعداد ۵۰ کے قریب ہے جو ایک قلیل عرصے میں ان کی جولانی طبع اور زود گوئی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
نعیم صدیقی کی زندانی غزلوں کو پڑھ کر محبوب کا جو تصور ابھرتا ہے وہ گوشت، پوست کے نسوانی پیکر کے بجائے ایک ایسے آدرش یا انقلاب کا تصور ہے جس کے لیے بنی نوعِ انسان نے شروع سے اب تک بہت سی قربانیاں دی ہیں اور جو معاشرے کے سکون و اطمینان، فلاح و ترقی اور آزادی کا ضامن بھی ہے، اس بات کا اندازہ ذیل کے اشعار سے بھی کیا جا سکتا ہے:
اس دور میں جو عشق کرے سوچ لے پہلے
یہ اور زمانہ ہے، زمانے کی ہوا اور
اب منزلِ جاناں کے کٹھن موڑ ہیں آگے
اب راہ نما اور حدی اور درا اور
اپنے مقصد کو بحیثیت محبوب اپنا لینے پر جب انھیں سزائے قید دی جاتی ہے، تو ان کی غزلوں کا رنگ دیکھیے:
قدغن تو وہ نالوں پہ لگاتے ہی رہیں گے
ہم عشق کی آواز اٹھاتے ہی رہیں گے
پابندِ قفس ہو کے بھی ہم اپنی نوا سے
جذباتِ عنادل کو جگاتے ہی رہیں گے
نعیم صدیقی کی غزلوں کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے سیاسی موضوعات کے بیان میں شعر کی جمالیاتی قدروں سے صرفِ نظر نہیں کیا ہے۔ نظریے کی ترویج بلاشبہ ان کے ہاں ایک اہم محرک رہی ہے، لیکن یہ محرّک ان کے اندازِ بیان یا جمالیاتی و اشاراتی نظام میں کہیںحارج نہیں ہوتا۔
جو رِیت چلی قیس سے وہ رِیت نہ بدلی
سودا وہی، دامن بھی وہی ہات وہی ہیں
تم شمع جلا دیکھو تو اس ظلمتِ شب میں
پروانوں میں جل مرنے کی عادات وہی ہیں
نت حسن کی دنیا کے مظاہر ہیں انوکھے
اور عشق کی دنیا کی روایات وہی ہیں
ایک اور غزل میں بھی اشاریت اسی طرح پنہاں نظر آتی ہے:
اگرچہ ان کی خو فقط جفا ہے اور کچھ نہیں
مگر یہ سب جفا فقط ادا ہے اور کچھ نہیں
یہ داروگیر کس لیے، انھی سے لوگ پوچھ لیں
بس ان کو چاہنا بڑی خطا ہے اور کچھ نہیں
نعیم کی شعری لے ایک للکار کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ وہ ظلم وجود کے ناخدائوں کو للکارتے ہیں: ؎
ظلمت کے خدائو کھل کے کہو کیا
نور نے گھٹنے ٹیک دیے؟
سورج نے چمکنا چھوڑ دیا؟
تاروں نے چھٹکنا چھوڑ دیا؟
ایک اور غزل کے اشعار:
؎آ قفس میں بھی دیکھ لے صیاد
بلبلوں کی وہی صدائیں ہیں
ہاں چلا چل مسافرِ جنت
رہ میں دو چار کربلائیں ہیں
نعیم صدیقی چوںکہ نیک مقصد سے عشق رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کی غزلوں میں عشقِ خدا اور رسولؐ کا پر تو بھی نظر آتا ہے: ؎
وفا کے سنگیں مرحلوں میں کبھی
جو تھکتے ہیں ہارتے ہیں
تو راز داری کے خاص لہجے میں
نام تیرا پکارتے ہیں
؎نہ پوچھ حساس دل کا عالم، بس
ایک نازک سا آبگینہ
اس آبگینے کے بل پہ جانم،
کڑی جفائیں سہارتے ہیں
طویل بحر میں ایک اور غزل کے اشعار بھی یہی مفہوم لیے ہوئے ہیں: ؎
اس جانِ زماں کا ذکر چھڑے، اس روحِ مکاں کی بات کریں
کیا اور جہاں میں رکھا ہے، اس جانِ جہاں کی بات کریں
یہ فکر ہماری ریت نہیں کیا کھویا ہے کیا پائیں گے
یہ عشق ہے کاروبار نہیں کیا سود و زیاں کی بات کریں
نعیم کی زندانی غزلوں میں سب سے اہم موضوع اہلِ قفس کی جفائوں کا تذکرہ اور اس پر اہل جنوں کی استقامت کا اظہار ہے۔ یہی مضمون نظموں میں سب سے زیادہ ابھر کر سامنے آتا ہے اور اس کی غزلوں کو بھی ایک خاص شان عطا کرتا ہے:
جب مشعلِ تصورِ جاناں ہے میرے ساتھ
پھر جتنی تیرہ ہو شبِ ہجراں ہوا کرے
وہ جا بجا استقامت کا درس دیتے نظر آتے ہیں: ؎
اس دیس میں خودی کا ہے اظہار ناروا
گر سر کٹا سکے تو یہاں سر اٹھا کے چل
گر حریت کے گیت ہی گانے کا ہو جنوں
زنجیرِ قید اپنے لیے خود اٹھا کے چل
دورِ زنداں کی دوسری غزل کے اشعار بھی سرمستی و بے نیازی کو ظاہر کرتے ہیں اور جو ہو سو ہو کی عمدہ تصویر ہیں: ؎
لکھ تو دی ہیں کھری کھری باتیں
لیکن اب نامہ بر کی خیر نہیں
یا قفس ہی کی شامت آئی ہے
یا مرے بال و پر کی خیر نہیں
جمہوریت کے دعوے دار جب آواز وقلم پر بھی پہرے بٹھاتے ہیں تو نعیم کی آواز ایک پرسکون احتجاج کی صورت میں سامنے آتی ہے جس میں وقار بھی موجود ہے: ؎
وہ تخت پہ بھی مجبور بہت
زنداں میں بھی ہم آزاد رہے
قانونِ قضا سے کون بچا
نمرود رہے؟ شداد رہے؟
تن قید میں ہو تو کیا پروا
اے قیدی من آزاد رہے
مختصر یہ کہ نعیم صدیقی کی زندانی شاعری ایک ایسے انقلابی کی شاعری ہے جس میں نغمہ بھی ملتا ہے اور نکھار بھی، سوزِ یقین بھی ہے، غمِ زمانہ بھی، جہد و انقلاب کی گھن گرج بھی ہے اور محبت کی تلخ و شیریں نوائی بھی۔
ان کی زندانی نظموں کی ایک بڑی خصوصیت ایک ایسے یقین و عزم کا اظہار ہے جو مستقبل سے مایوس نہیں ہونے دیتا اور آزمایشوں اور جبری بندش کے حملوںکے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔
مزاحم قوتوں سے لڑی جانے والی یہ جنگ نہ صرف انھیں خود بلکہ ان کے قارئین کے شعور کو بھی بیدار رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔ وہ ایک قید سے رہا ہوتا ہے تو یہ احساس بیدار کر کے ہوتا ہے کہ جب تک ’’مقصد‘‘ حاصل نہ ہو جائے زنداں برقرار رہیں گے: ؎
اُڑی ہوائی رہائی کی پر رہائی کیا
جگہ جگہ کئی جلاد ہیں، کئی شداد
ہے اپنے دیس میں گویا نگر نگر زنداں
ہم اپنی جنتِ فردا ضرور پا لیں گے
سروں کی ضربِ مسلسل سے توڑ کر زنداں
٭…٭…٭