عینی عرفاننٹ کھٹ زندگی - عینی عرفان

نٹ کھٹ زندگی – عینی عرفان

شازمہ اور شاہ زر کا گھر خوشیوں کا گہوارہ ہے جہاں زندگی مسکراتی ہے۔ عماد اور حماد ان کے دو نوجوان جڑواں بیٹے ہیں جن کی کرونا کی وجہ سے چوبیس گھنٹے گھر میں موجودگی شازمہ کو گھن چکر بنائے رکھتی ہے۔ ماں کے کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے دونوں ہمہ وقت شادی کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ذرا دیر کے لیے ماضی میں جھانکتے ہیں۔ شازمہ اور شاہ زر کی کم عمری میں شادی ہوئی۔ شاہ زر کو ملازمت دوسرے شہر میں ملنے کی وجہ سے دونوں کو شادی کے بعدخاندان سے الگ رہنا پڑا۔ کم عمری اور نا تجربے کاری کی وجہ سے دونوں ہی پریشان ہوتے ہیں۔ قدرت نے جلد جڑواں بیٹوں کی نعمت سے نواز دیا۔ بچوں کا کوئی مسئلہ ہو یا گھر کا کوئی معاملہ دونوں ہی روز اپنی ماں اور ساس سے فون کرکے مشورے لیتے ہیں۔ بچے ایک سال کے ہوچکے تھے۔ کراچی میں شازمہ کے بھائی کی شادی تھی۔ شاہ زر کو چھٹی نہ ملی اور شازمہ کو شاہ زر کے بغیر بچوں کے ہمراہ کراچی جانا پڑا۔آگے پڑھیے۔

شازمہ بھائی کی شادی کے لیے بہت پرجوش تھی۔ روز روز امی کے ساتھ بازاروں کے چکر لگتے۔ بچوں کو ابو کے پاس چھوڑ جاتی۔ دل کی بیماری کی وجہ سے آفاق احمد نے عمر سے پہلے ہی ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ اب سارا دن وہ گھر پہ ہی ہوتے۔ اپنے دونوں نواسوں کو بخوشی سنبھال لیتے۔ ان کی الٹی موشن صاف کرنا ہو یا کپڑے نیپی بدلنا سب کر لیتے۔ کیلا،بسکٹ مسل کے چٹا دیتے فیڈر بناکے دیتے اور تو اور سارا دن ان کے پاؤڈر، تیل، لوشن کا بھی خیال رکھتے۔ مزے کی بات یہ تھی کہ نانا کے ساتھ رہتے ہوئے نا بچوں کو مروڑ اٹھتی نہ جوں کاٹتی۔ ناک، کان، دانت کا درد بھی دم دبا کے بھاگ گیا تھا۔ شام کو جب شازمہ بازار سے واپس آتی تو بچے اس کے پاس لپکنے کے بجائے نانا سے چپک جاتے۔ وہ ایک ایک چپت مار کے کہتی۔
’’ہاں میں تو تمہاری سوتیلی ماں ہوں نا….نانا ہی تمہاری سگھڑ، سلیقہ مند سگی ماں ہیں…. ان کے ساتھ ہی چپکے رہو۔ مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہورہا تمہیں لینے کا۔ مزے کرو میں تو چلی‘‘۔
روز شام کو تیار ہو کے سائرہ کے گھر چلی جاتی۔ چار گھر چھوڑ کے ہی گھر تھا۔ کبھی بہن بن جاتی اور اس کی باقی بہنوں کے ساتھ مل کے خوب ڈھول پیٹتی۔ ہنسی، مذاق، قہقہے۔ لڑکیاں اس کی سنگت میں خوش رہتیں۔ کبھی نند کا چولا اوڑھ لیتی۔ سائرہ سے چائے بنوائی اور اس کی بہنوں کو آنکھ مار کے اس کی چائے میں خوب کیڑے نکالے۔ سائرہ روہانسی ہوئی تو سب لڑکیاں ہنس دیں۔
’’بھئی میں تمہاری اکلوتی نند ہوں۔ تمہاری شادی کے بعد میں فوراً گھر واپس چلی جاؤں گی مجھے نند پنا دکھانے کا موقع تو ملے گا ہی نہیں اس لیے دل کے ارمان پہلے ہی پورے کر رہی ہوں‘‘۔
شازمہ کی بات پہ سائرہ جھینپ کے مسکرا دی ۔ اجمل بھائی کا نام لے لے کے اس نے سائرہ کو خوب چھیڑا ۔سائرہ سارا وقت منہ نیچے کیے مسکراتی رہی۔
شاہ زر کو دفتر سے صرف چار دن کی چھٹی ملی تھی وہ مہندی والے دن کراچی پہنچا تھا۔ اماں کو گھر چھوڑ کے بھاگم بھاگ سسرال آیا۔ بہانہ یہ تھا کہ بچے یاد آرہے ہیں مگر بچوں کی اماں بھی کوئی کم یاد نہیں آرہی تھی۔ ایک ہی محلے میں گھر ہونے کے باعث گلی میں ٹینٹ لگا کے دونوں گھرانوں نے مشترکہ مہندی کی تقریب رکھی تھی۔ اجمل کے گھر والے دلہن کی بری لے کے آئے تھے تو سائرہ کے گھر والے بھی دولہا کی شیروانی اور مٹھائی لائے تھے۔ زنانہ مردانہ الگ تھا۔آفاق صاحب، اجمل کو گھر میں ہی چھوڑ کے گئے کیونکہ ان کے خاندان میں مہندی کی تقریب میں دولہا مدعو نہیں ہوتا تھا۔
پارٹیشن دیکھ کے شاہ زر کا مزہ کرکرا ہوگیا۔ وہ تقریب ختم ہونے تک مزید انتظار نہیں کرسکتا تھا۔ آفاق صاحب سے بچوں سے ملنے کا کہہ کے سیدھا زنان خانے میں گھس گیا۔ سامنے چھوٹا سا اسٹیج بنا تھا اور اسٹیج کے سامنےدری پہ فرشی نشست جمی تھی۔ لڑکیاں بالیاں ڈھول پیٹ پیٹ کے اپنی بے سری آوازوں کا سر بکھیر رہی تھیں۔ شازمہ ان میں سب سے نمایاں تھی جو دونوں بچوں کو گود میں دبوچے اونچے اونچے تان لگا رہی تھی۔ نیلے رنگ کی پشواز اور سلیقے سے کیے ہوئے میک اپ سے جگمگاتا چہرہ اس کے دل میں سکون بکھیر گیا۔ پورے دو مہینے بعد شازمہ کو دیکھ رہا تھا۔ بے تاب نظروں نے اس کی بلائیں لے لیں۔یہ کسی کی نظروں کا احساس تھا کہ شازمہ نے چونک کے ادھر ادھر دیکھا۔ شاہ زر پہ نظر پڑتے ہی اس کی آنکھوں میں جگنو اتر آئے۔ چہرے پہ مصنوعی غصہ سجا ئے وہ اٹھ کے شاہ زر کے پاس آئی۔
’’صبح سے آپ کا انتطار کر رہی ہوں آپ اتنی دیر سے آئے ہیں۔ اجمل بھائی کا اتنا دل ہے اس تقریب میں آنے کا پر ابو مانے ہی نہیں۔ سوچا تھا آپ آجائیں گے تو ابو کو منالیں گے مگر جناب کا کوئی پتہ ہی نہیں ہے۔ اماں کو بھی ساتھ نہیں لائے‘‘۔ شازمہ نے باری باری دونوں بچے اس کی گود میں پکڑائے۔ بچے بھی باپ کو دیکھ کے خوشی سے بابا بابا کی تان لگا رہے تھے۔
’’صبح کی ٹرین تھی پرشام کو پہنچی اس میں میرا کیا قصور…. اور اماں تھک گئی تھیں، کہہ رہی تھیں بارات میں چلوں گی‘‘ اس نے بچوں کو سینے میں بھینچا۔
’’میں ابو سے بات کرکے اجمل بھائی کو لے کے آتا ہوں دیکھنا ابو مجھے منع نہیں کریں گے‘‘ شاہ زر دونوں بچوں کو لیے مردانے کی طرف آگیا۔
آفاق صاحب سے اس نے اس سلیقے سے بات کی کہ وہ راضی ہوگئے مگر ساتھ شرط رکھ دی کہ دلہا کی رسم صرف مردانے میں ہوگی زنانے میں نہیں۔ شاہ زر کے لیے اتنا بھی بہت تھا۔ اس نے عماد، حماد کو ان کی سگی ماں مطلب نانا کو پکڑایا اور بھاگم بھاگ اجمل کو بلانے پہنچا۔ گھر میں صرف چند بزرگ تھے جو مہندی کی تقریب میں نہیں گئے تھے۔ اس نے کمرے ، پچھلا صحن ، چھت سب دیکھ لیے پر اجمل کہیں نہیں تھا۔ کسی کو پتہ بھی نہیں تھا کہ اجمل کہاں گیا ہے۔ شاہ زر تھوڑا حیران ہؤا کیونکہ اس زمانے میں دلہا ابٹن لگنے کے بعد گھر سے نہیں نکلتا تھا۔ اس نے واپس جا کے آفاق صاحب سے اجمل کے سر درد کا بہانہ کردیا۔ وہ تقریب خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ آفاق احمد نے اس کے چہرے سے پریشانی بھانپ لی وہ سمجھے شاید اجمل کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی ہے۔ متوقع طور پہ رات گئے تک چلنے والی تقریب کو انہوں نے جلد ہی سمیٹ لیا اور سب مہمانوں کو لے کے گھر لوٹ آئے۔
اجمل ابھی تک واپس نہیں آیاتھا۔ گھر پہنچ کے حقیقت کا علم ہؤا تو وہ بہت پریشان ہوگئے۔ اجمل کی موٹر سائیکل بھی صحن میں کھڑی تھی۔ اریب قریب کسی دکان گیا ہوتا تو اب تک واپس آ چکا ہوتا۔ موبائل بھی اتنا عام نہیں ہؤا تھا کہ ہر فرد کا الگ موبائل ہوتا۔ ایک ہی موبائل تھا جو ہمیشہ گھر میں ہی رہتا۔ کچھ دیر مزید انتظار کرکے وہ شاہ زر کے ساتھ بائیک پہ اسے ڈھونڈنے نکل گئے۔گھر میں سب مہمان پریشان تھے خیر کی دعائیں کر رہے تھے۔ شکیلہ بیگم کا فشارِ خون مدھم ہوگیا وہ بستر پہ ڈھے گئیں شازمہ کے تو آنسو ہی نہیں رک رہے تھے اس نے مصلہ سنبھال لیا۔ شاہ زر اور آفاق احمد نے پہلے محلے کی مسجد، ہسپتال اور ساری دکانوں پہ تلاش کیا پھر اس کے دوستوں کے گھروں کی طرف نکل گئے۔
اجمل کے دوستوں کے گھر بھی کافی دور دور تھے۔ کسی کا گھر مغرب میں تھا تو کسی کا مشرق میں۔ یہ تو شکر تھا کہ آفاق صاحب کو گھر وں کے پتے معلوم تھے۔ یوں آدھی رات کو سڑکوں کی خاک چھاننا رائیگاں نہیں گیا۔ آہستہ آہستہ سراغ ملنے لگا اور جب آفاق احمد نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے اجمل کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ اس اچانک چھاپے پہ سفید پڑ گیا۔ سینما گھر کی پچھلی نشستوں پہ دوستوں کے درمیان بیٹھا حال ہی میں ریلیز ہوئی نئی فلم’’ گھر کب آؤگے‘‘ میں بری طرح منہمک ہو کے وہ خود ہی وقت پہ گھر جانا بھول گیا تھا۔ اس کے دوستوں کو نظر انداز کیے فلم کے درمیان سے ہی وہ اجمل کو اٹھا کے موٹر سائیکل پہ اپنے اور شاہ زر کے درمیان پھنسا کے گھر لے آئے تھے۔
اجمل کو دیکھ کے سب گھر والوں نے سکون کا سانس لیا تھا پر اجمل کا اپنا سانس اٹکا ہؤا تھا۔ اسے لگا تھا کہ تقریب رات گئے تک جاری رہے گی اور وہ تب تک دوستوں کے ساتھ فلم دیکھ کے واپس آجائے گا۔ وہ دوستوں کے اصرار پہ مان گیا تھا پر اب اس کے ابا حضور جو اس کی کلاس لینے والے تھے اس کا اسے اچھی طرح اندازہ تھا۔ آفاق صاحب اجمل کی جھاڑ پونچھ کے لیے اسے سیدھا اپنے کمرے میں لے کے بند ہوگئے تھے اور جب آدھے گھنٹے بعد اجمل اتری صورت لے کے ان کے کمرے سے باہر نکلا تو اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ اس کی طبیعت کی صفائی اچھی طرح سے کی گئی ہے۔ شازمہ جو اس کی گمشدگی پہ رو رو کے نڈھال ہوچکی تھی ابو کے ہاتھوں اس کی دھلائی دیکھ کے بہت خوش ہوئی پھر بقیہ رات اس نے اجمل کو چڑا چڑا کے اس کی ناک میں دم کردیا۔
بیوی کے پہننے اوڑھنے کے معاملے میں شاہ زر بہت شوقین مزاج تھا۔ حیدرآباد سے آتے ہوئے وہ شازمہ کا عروسی جوڑا لیتا ہؤا آیا تھا جو اس کے بار بار کہنے کے باوجود وہ گھر پہ ہی چھوڑ آئی تھی۔ بارات والے دن شاہ زر کی ضد تھی کہ وہ اپنا عروسی جوڑا ہی پہنے جبکہ شازمہ مسلسل انکاری تھی۔ دو چھوٹے بچوں کے ساتھ وہ اتنا بھاری جوڑا نہیں سنبھال سکتی تھی مگر شاہ زر نے ساس کو اپنا ہمنوا بنالیا اور ان کے سمجھانے پہ اس کو شادی کا لہنگا پہننا ہی پڑا۔ تیار ہو کے وہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ شاہ زر کے ساتھ ساتھ وہ اس کے دونوں کاکوں کو بھی بری طرح بھا گئی۔ دونوں نے ایک تماشا مچا کے رکھ دیا۔ شازمہ کا پورا سسرال بارات میں شریک تھا مگرعماد حماد نہ دادی پھوپھیوں میں سے کسی کے پاس جارہے تھے نہ نانا کی گود میں۔ شاہ زر لینے کی کوشش کرتا تو بھینکڑا مچا دیتے۔ دونوں شازمہ کی گود میں چڑھے تھے۔ وہ روہانسی ہوگئی سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ بچوں کو سنبھالے یا لہنگے کو۔ بچوں کو بھی ماں سے ساری لاڈیاں آج ہی کرنی تھیں۔ جتنا اس نے بھائی کی شادی کو انجوائے کرنا تھا سب کی کسر نکل گئی، وہ پورے وقت ہال میں دونوں بچوں کو سنبھالے گھومتی رہی۔ آتے جاتے کہیں شاہ زر سے سامنے ہوجاتا تو وہ اسے ایسی کچا چبا جانے والی نظروں سے گھورتی کہ وہ اپنی پر شوق نظریں چرائے کان کھجاتا ہؤا سامنے سے ہٹ جاتا۔
ولیمہ پہ پہننے کے لیے شازمہ نے بہت شوق سے بھاری کام کی میکسی بنوائی تھی پر بارات والے دن کی طرح بچوں کے ساتھ دوبارہ گھن چکر نہیں بننا چاہتی تھی۔ اس نے ہلکے سے کام والا آرام دہ قمیص شلوار پہن لیا۔ شاہ زر ناراض ہونے لگا پر اس نے پروا نہ کی۔ شاید باپ کی طرح ان بلونگڑوں کو بھی ماں کا یہ روپ ایک آنکھ نہ بھایا اور وہ سارا وقت نانا کے ساتھ چپکے رہے۔ بچوں کی اس مکاری پہ اس کا دل جل بھن کے رہ گیا۔
شاہ زر کی چھٹیاں ختم ہوگئی تھیں اس لیے شادی کے دوسرے ہی دن گھر والوں کی طرف سے دیے گئے ڈھیر سارے تحائف اور پیار سمیٹ کے وہ لوگ حیدرآباد واپس لوٹ ائے۔
شازمہ کو لگتا بچے بڑے ہو جائیں گے تو اس کو سکون ہو جائے گا مگر بچے جوں جوں بڑے ہورہے تھے شازمہ کو اتنا ہی اپنے پیچھے دوڑائے رکھتے۔ اسےرسالے پڑھنے کا شوق تھا، میکہ سے کتنے ہی رسالے شاہ زر سے آنکھ بچا کے بیگ میں رکھ کے لے آئی تھی۔ مطالعہ کا یہ چسکا ماں کی طرح دونوں بچوں میں بھی آگیا۔ وہ فقط دو سال کے ہوئے تو شازمہ کے سارے رسالے پڑھ ڈالے، مطلب بھئی چھوٹے تھے نا، تو رسالوں میں سے چھوٹا چھوٹا پھاڑ کے پڑھتے۔کوئی رسالہ، اخبار، میگزین ثابت نہ چھوڑا۔ بہت ذہین تھے مگر بلا کے باتونی بھی۔ شرارتیں تو جیسے ان پر ختم تھیں۔ عمر کے ساتھ ان کی تفتیش کی عادت بھی بڑھ رہی تھی۔
’’امی آسمان پر لائٹ اڑ رہی ہے‘‘چار سالہ عماد نے ہوم ورک کرتے کرتے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سےآج وہ لوگ چھت پہ پڑھ رہے تھے۔
’’وہ لائٹ نہیں جہاز ہے تم کام کرو ‘‘شازمہ نے کاپی کی طرف متوجہ کیا۔
’’امی جب ہماری لائٹ گئی ہوئی ہے تو جہاز کی لائٹ کیوں نہیں گئی‘‘ حماد کو بھی تشویش ہوئی۔
’’جہاز کی لائٹ نہیں جاتی بھئی تم باتیں چھوڑو کام کرو‘‘ شازمہ نے دوبارہ کاپی آگے کھسکائی۔
’’امی جب جہاز کی لائٹ نہیں جاتی تو ہم جہاز میں گھر لے لیتے ہیں‘‘ عماد کی آنکھوں میں اشتیاق چمکا۔
شازمہ کو پتہ تھا اگر ایک بار ان کے سوالوں کے جواب دینے شروع کیے تو دس سوالوں سے کم میں تو بات نہیں بننی تھی۔
’’دیکھو مجھے ابھی پیکنگ کرنی ہے۔ پتا ہے نا کل جب تم لوگ اسکول سے آؤ گے تو ہم لوگ دادی کے گھر چلیں گے اس لیے ابھی چپ چاپ کام ختم کرو۔ ہم رات کو بابا سے پوچھ لیں گے کہ ہم جہاز میں گھر لے سکتے ہیں یا نہیں‘‘۔
بچے شرافت سے کاپی پر جھک گئے ورنہ عام طور پر بچوں کو ان کے سوالوں کے تفصیلی جواب دئیے بغیر مطمئن کرنا ممکن نہ ہوتا تھا مگر ابھی ان کو دادی کے گھر جانا زیادہ دلچسپ لگ رہا تھا اس لیے خاموش ہوگئے۔
اسکول میں سردیوں کی دس دن کی چھٹیاں شروع ہورہی تھیں۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں شاہ زر کو چھٹی نہیں ملی تھی اس لیے اس بار وہ پورے ایک سال بعد کراچی جارہے تھے۔ بچوں کے ساتھ ساتھ شازمہ خود بھی بہت پرجوش تھی۔ زیادہ خوشی اس لیے بھی تھی کہ آج اس کی بھتیجی پیدا ہوئی تھی۔ دو سال قبل اجمل کے ہاں بیٹا ہؤا تھا جس کا نام ابو نے علی رکھا تھا۔ اب ان کے گھر عماد، حماد اور علی کے بعد پہلی رحمت آئی تھی۔ رات کو ابو نے جب فون پہ اطلاع دی تو خوشی سے ان کی آواز کانپ رہی تھی۔ شازمہ کا بھی دل چاہا کہ وہ اڑ کے پہنچ جائے۔ حماد اور عماد بھی منی دیکھنے کے لیے بے چین تھے۔ کراچی میں دادی کے گھر پہنچتے ہی بچوں نے منی سے ملنے کا شور مچادیا۔ سب گھر والوں سے مل کر وہ لوگ ہسپتال آگئے۔ چھوٹی سی گڑیا جیسی منی دیکھ کے دونوں بچے نہال ہورہے تھے۔ عماد تو مسلسل اسے گود میں لینے کی کوشش کر رہا تھا۔
’’امی منی کو اپنے گھر لے کر چلیں‘‘عماد نے فرمائش کی۔
’’ارے اپنی منی منگالو اللہ میاں سے۔ ہماری منی پہ کیوں نیت لگا رہے ہو‘‘ اجمل نے بھانجے کو منی سمیت گود میں اٹھاتے ہوئے کہا۔
’’نہیں مجھے یہ والی ہی چاہیے۔ امی پلیز اس کو آپ اپنی منی بنالیں نا‘‘عماد ضد کرنے لگا۔
’’نہیں بھئی یہ بہت چھوٹی ہے۔ میں اسے نہیں سنبھال سکتی۔ مامی کو ہی سنبھالنے دو‘‘۔شازمہ نے عماد کو ہری جھنڈی دکھائی تواس کا منہ لٹک گیا۔
’’ہم بھی جب منے تھے تو آپ نے سنبھالا تھا نا؟‘‘وہ کچھ مشکوک ہؤا۔ سب ہنس دیے۔
’’ہاں جی سنبھالا تھا مگر تم دونوں نے بہت رلایا ہے مجھے۔ اب دوبارہ اتنی چھوٹی منی سنبھالنے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں‘‘۔
’’اچھا جیسے آپ نے ہمیں سنبھال کر بڑا کردیا تو جب مامی اسے سنبھال کر بڑا کر دیں گی ہم تب تو لے کے جاسکتے ہیں نا منی کو اپنے گھر؟‘‘عماد بڑی دور کی کوڑی لایا تھا۔
شازمہ کی آنکھوں میں چمک ابھری’’یہ تو ماموں اور مامی ہی بتاسکتے ہیں کہ ہم تب لے کے جاسکتے ہیں یا نہیں؟‘‘ شازمہ نے اجمل کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ شازمہ اس کی اکلوتی اور لاڈلی بہن تھی وہ اس کی بات کیسے ٹال سکتا تھا۔ اس نے ایک جانچتی نظر سائرہ کے مطمئن چہرے پہ ڈالی پھر امی ابو کا مسرور چہرہ دیکھا اور مسکرا تے ہوئےاثبات میں سر ہلا دیا۔ رواداری کا زمانہ تھا اس کا اتنا سا اشارہ ہی وعدہ جتنا اہم تھا۔ اجمل صاحب نے آگے بڑھ کے بہو اور بیٹی کے سر پہ ہاتھ رکھا پھر اجمل اور شاہ زر کو ایک ساتھ گلے لگالیا۔ کسی نے ایک لفظ بھی نہ بولا تھا پر عماد کی چھوٹی سی خواہش قسمت کا اٹل فیصلہ بن گئی تھی۔
ماموں سے بہت بہت پکا وعدہ لے کر ہی عماد گھر واپسی پر راضی ہؤا۔ گھر میں سب کھانے پر انتظار کر رہے تھے۔ آج کل اس کی جیٹھانی نگہت کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی پھر بھی اس نے ان کے لیے نرگسی کوفتے بنائے ہوئے تھے۔ شازمہ کو بہت شرمندگی ہوئی۔
’’بھابھی کچھ سادہ پکا لیتیں اتنی محنت کیوں کی؟‘‘ شازمہ خود بھی بہت اچھا کھانا پکانا سیکھ چکی تھی مگر آج بھی مشکل ڈشز پکانے سے کتراتی تھی۔
’’ارے میں نے تو کوئی اہتمام ہی نہیں کیا طبیعت کی وجہ سے، بس ایک ہی ڈش بنائی ہے۔ ایک سال بعد تو تم لوگ آئے ہو مجھے تو خود شرمندگی ہورہی ہے‘‘۔
’’بھابھی ہم کوئی مہمان تھوڑی ہیں‘‘ شازمہ ان کا ہاتھ دبا کر تسلی دینے لگی۔بڑوں کے ان تکلفات سے قطع نظر حماد بہت غور سے نرگسی کوفتوں کا مشاہدہ کر رہا تھا۔
’’تائی امی! یہ مرغی نے کباب والا انڈہ دیا ہے یا کباب کے اندر انڈہ دیا ہے؟‘‘ حماد نے بے ساختہ پوچھا تو سب زور سے ہنس دیے۔ حماد کو سب کے ہنسنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔ اس نے تو جنرل نالج کے لیے پوچھا تھا مگر یوں سب کو ہنستا دیکھ کر دادی کی گود میں منہ چھپالیا۔
کھانے کے درمیان ہی جیٹھانی کی طبیعت خراب ہونے لگی ۔ سب کھانا ادھورا چھوڑ کر انہیں لے کراسپتال بھاگے۔ شام کو جب بچوں کو دوبارہ اسپتال لے جایا گیا تو وہ تائی امی کی منی دیکھ کر خوشی سے پاگل ہوگئے۔ ایک دن میں دو دو منیاں دیکھنے کا پہلا اتفاق تھا۔گھر آنے کو راضی ہی نہیں تھے۔منی کے ساتھ دنیا جہاں کی گپ شپ کرچکے تھے۔ اداس بھی تھے منی جواب نہیں دے رہی تھی شاید ابھی ان کو فرینڈ نہیں مان رہی تھی۔
شاہ زر نے واپسی کے لیے بچوں کا ہاتھ تھاما تو حماد اچانک بول پڑا’’ بابا آپ نے تایا ابو کو بتادیا کہ جب منی بڑی ہوجائے گی تو حماد کے گھر چلی جائے گی؟‘‘
جب ایک منی عماد کے گھر جانے والی تھی تو حماد کیوں پیچھے رہتا۔ شاہ زر نے حیرت سے پہلے حماد کو دیکھا پھر شازمہ کو۔
’’ہاں واقعی یہ تو ہم تایا ابو اور تائی امی کو بتانا ہی بھول گئے کہ یہ والی منی بڑی ہو کر حماد کے گھر جائے گی‘‘شازمہ نے چہکتے ہوئے کہا۔ اگر وہ شاہ زر کی آنکھ میں ابھرتی تمنا بھی نہ جان پاتی تو ہمدم ہمراز کیسی۔ ساتھ ہی اسے اپنی غلطی کا بھی احساس ہؤا جس کا ذکر اس نے رات ہی شاہ زر سے کردیا۔
’’جب ایک خواہش میرے دل میں ابھری تو میں نے آپ سے پوچھے بغیر خود ہی بھائی سے کہہ دیا جب کہ مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے تھا اور جب یہ ہی تمنا آپ کے دل میں آئی تو آپ نے خود فیصلہ نہیں کیا مجھے دیکھا ۔کیوں؟‘‘
’’میں دل سے تسلیم کرتا ہوں کہ بچوں پر مجھ سے زیادہ تمہارا حق ہے۔ ان کے پڑھنے لکھنے سے لے کے شادی بیاہ تک کے ہر فیصلہ پر تمہارا اختیار ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اولاد کے لیے تم کو مجھ سے تین درجہ آگے کردیا تو میں کیوں خوامخواہ تم سے ضد باندھوں۔ اللہ نے مجھ کو تمہارے لیے اہم کردیا تو بچوں کے لیے تم کو۔ یہ اللہ کی تقسیم ہے اور میں اس تقسیم پر راضی ہوں‘‘۔
شاہ زر اتنی حساسیت سے سوچتا تھا اسے اندازہ ہی نہیں تھا۔ اس کی آنکھ میں تشکر کے آنسو آگئے۔
دس دن کیسے گُزرے پتہ ہی نہیں چلا۔ بچے کبھی تائی کی منی سے کھیلتے۔کبھی انہیں مامی کی منی کی یاد ستانے لگتی۔ان کا واپس جانے کا بالکل دل نہیں تھا پر جانا تو تھا ۔وہ سامان سمیٹ رہی تھی کہ بائیک کی آواز سن کے حماد اور عماد خوشی سے چلاتے ہوئے باہر بھاگے۔
’’بابا آگئے….تایا ابو آگئے‘‘۔
بھائی جان کو صبح سے بخار ہورہا تھا۔ وہ شاہ زر کے ساتھ اسپتال دوائی لینے گئے تھے۔ بچوں کی اتنی خوشی اسے سمجھ نہیں آئی۔ جب سے تایا ابو گئے تھے وہ تب سے ہی بے چین تھے۔ شازمہ بھی بچوں کے پیچھے باہر آگئی۔ سب لاؤنج میں بیٹھے تھے اور بچے صوفہ کے نیچے پردے کے پیچھے جانے کیا تلاش کر رہے تھے۔
’’عماد حماد کیا ہوگیا؟ کیا ڈھونڈ رہے ہو‘‘شازمہ نے حیرت سے پوچھا۔
’’امی تایا کی منی ڈھونڈ رہے ہیں‘‘۔
’’تایا کی منی اندر ہے یہاں کہاں ڈھونڈ رہے ہو‘‘۔
’’امی وہ والی نہیں، نئی والی، جو تایا ابو آج لے کر آئے ہیں‘‘ حماد نے کچھ جھنجھلا کے جواب دیا۔ پتہ نہیں تایا نے منی لا کے کہاں رکھ دی تھی۔
’’تایا ابو آج کوئی منی نہیں لائے بیٹھ جاؤ ایک جگہ‘‘ سب لوگ ہی بچوں کو ناسمجھی سے دیکھ رہے تھے۔
’’کیوں نہیں لائے؟ جب مامی اسپتال گئی تھیں تو منی لائی تھیں۔ جب تائی اسپتال گئی تھیں تو وہ بھی منی لائیں تھیں تو آج تایا ابو بھی ہسپتال گئے تھے تو وہ منی کیوں نہیں لائے؟‘‘
عماد کا موڈ خراب ہوگیا تھا۔ شازمہ نے خجل ہو کے جیٹھ کی طرف دیکھا ۔وہ خود منہ پھاڑے بچوں کو دیکھ رہے تھے۔ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ ہنسیں یا غصہ دکھائیں۔ ہنسی روکنے کے چکر میں شاہ زر کا چہرہ بھی سرخ ہوچکا تھا۔ ایک غصیلی نظر شاہ زر پہ ڈالتی ہوئی شازمہ کمرے سے باہر چلی گئی۔ اب تایا خود ہی اپنے بھتیجوں کو سمجھا دیں کہ انھوں نے یہ عظیم کام کیوں نہیں کیا۔ اس کی تو ہمت نہیں تھی سب کے سامنے بچوں کو وضاحت دینے کی کہ جب تائی امی ہسپتال سے منی لا سکتی ہیں تو تایا کیوں نہیں لاسکتے۔
(جاری ہے) ٭
٭٭