۲۰۲۴ بتول مارچ

ماہِ تربیت – ڈاکٹربشریٰ تسنیم

یقین جانیے وقت کم ہے اور کام زیادہ ، سو ابھی اور اسی وقت سے اپنے معاملات کو درست کرلیجیے….یہ ماہ ِمبارک صرف بھوکا پیاسارہنے کا نام نہیں ، بلکہ اس کا مقصدانسانی کردار میں بہتری لانا ہے

الحمدُ للہ ! ماہ رمضان المبارک ہم پرسایہ فگن ہو چُکا ہے جسے ’’ماہِ تربیت‘‘ کہنا اس کا حق ادا کرنا ہے ۔ یاد رکھیے!روزہ صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں ، بلکہ اس کے ذریعے اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں خود احتسابی کاایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ نیز، ہمارے سامنے یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ عام دنوں میں جن گناہوں، برائیوں اورغلط کاموں کا ذمّے دار ہم شیطان کو ٹھہراتے ہیں ،در اصل ذمّے دار ہم خود ہوتے ہیں۔ اسی لیے شیطان کے شر سے پناہ مانگنے سے پہلے اپنے نفس کے شر سے پناہ مانگنے کی تاکید کی گئی ہے ۔ یہ اپنا نفس ہی ہے جو شیطان کی چالوں میں پھنس جاتا ہے ۔
روزہ ہمیں صبر و برداشت، تحمّل اور تزکیہ نفس کا درس دیتا ہے۔ لیکن ہم روزے ہی کے نام پربھوک پیاس کا پرچار کرکے یا اُسے بہانہ بنا کر دوسروں پر لعن طعن،ڈانٹ ڈپٹ اور غصّےکاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔خلقِ خدا کے…

مزید پڑھیں

غنچہ وگل کی آبیاری بچوں کی تربیت کے لیے چند اہم نکات – کوثر خان

بچوں کی تربیت والدین کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ اولاد اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے،اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا اس کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا نعمت کی شکر گزاری ہے اور نعمتوں کا اپنی مرضی سے استعمال کرنا اور غفلت برتنا ناشکری ہے۔کسی دانا کا قول ہے:
’’ تعلیم کی کمی کو تربیت ڈھانپ لیتی ہے لیکن تربیت کی کمی کو تعلیم پورا نہیں کرسکتی‘‘۔
آ ج کے اس پرفتن دور میں والدین کے لیے خاص طور پر ماؤں کے لیے بہت توجہ اور محنت سے بچوں کی تربیت کی ضرورت ہے، کیونکہ میڈیا کے اس دور میں بچوں کے بگڑنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ خاص طور پر موبائل تک رسائی نے نئی نسل کو بہت تیزی سے بے راہ روی کی طرف گامزن کردیا ہے۔ موبائل اپنے فوائد کے ساتھ ساتھ ایک سحر انگیز اور ہلاکت خیز آلہ بھی ہے۔اس سے فرار بھی ممکن نہیں اور اس کے استعمال پر مطمئن بھی نہیں رہا جا سکتا۔مائیں بچوں کو موبائل دے کر بے فکر ہوجاتی ہیں۔ انہیں یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ آلہ بچوں کے لیے کس قدر تباہی لا سکتا ہے۔
بچوں کی تربیت کے حوالے سے چند…

مزید پڑھیں

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات – پروفیسر خواجہ مسعود

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
شاعر مشرق، مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا یہ مشہور زمانہ شعر جتنا ہمارے ماضی کے حالات پر صادق آتا ہے اتنا ہی ہمارے موجودہ حالات کی عکاسی کرتا ہے ۔بلکہ آج کے دور میں تو اس شعر کی تفسیر زیادہ عیاں و آشکارا ہوتی ہے ۔
مرگِ مقاجات سے مراد نا گہانی یا اچانک موت ہے ۔ اس شعر میں علامہ نے ہمیں سمجھایا ہے کہ جوقومیں کمزوری ، کم ہمتی اور عدم اعتماد کا شکار ہو جاتی ہیں انہیںبڑی طاقتیں زیر کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔انہیں اپنا دستِ نگر بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔
کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو
کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہانی
اور
دلِ مردہ دل نہیںہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ
آج کے دور میں سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام بے حد ضروری ہے ۔ معاشی استحکام بغیر کسی ملک یا سلطنت کا قائم رہنا مشکل ہو جاتا ہے اورجب وہ ملک دیوالیہ پن کا شکار ہوتا ہے تو پھر ذلت و خواری کا سامنا کرناپڑتا ہے ۔
بنیاد لرز جائے جو دیوارِ چمن کی
ظاہر ہے کہ انجام گلستاں کا…

مزید پڑھیں

اسلام کی خاتونِ اوّل ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ – ڈاکٹر سلیس سلطانہ

اسلام میں خاتون اول کا درجہ و مرتبہ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کو حاصل ہے جو قریش کے ایک نامور سوداگر خویلد بن اسد کی صاحبزادی تھیں ۔ حضرت خدیجہ ؓ 555ء میں پیدا ہوئیں ۔ اس زمانے میںبعض قبائل عرب میں لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا ۔ مگر آپؓ کے والد نے آپ کی پرورش نہایت پیار و محبت سے کی ۔ خویلد بن اسد مالی اعتبار سے بہت مستحکم تھے اور ان کی تجارت شام و یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ حضرت خدیجہ ؓ بچپن سے سنجیدہ ، نیک خو تھیں اور طاہرہ اور سیدۃ النسا کے نام سے معروف تھیں۔
حضوراکرم ؐ سے نکاح سے پہلے آپؓ کا نکاح ابو ہالہ بن بناش تمیمی سے ہؤا جن سے آپ ؓ کے دو بیٹے ہند اور ہالہ پیدا ہوئے ۔ ہالہ کم عمری میں انتقال کر گئے اور ہند جنگ جمل میں شہید ہوئے ۔ ابو ہالہ کے انتقال کے بعد حضرت خدیجہ کا نکاح عتیق بن عائدمخزومی سے ہؤا ان سے ایک بیٹی ہند پیدا ہوئیں جو مسلمان ہو گئیں اور صحابیات میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ عتیق کے بعد صیفی بن امیہ سے نکاح ہؤا جو حرب الفجار میں مارا گیا۔
خویلد…

مزید پڑھیں

اعتکاف – ڈاکٹر میمونہ حمزہ

اعتکاف مخلوق سے تعلق کاٹ کر، اور دنیا کی مصروفیات کو ترک کرکے اللہ تعالیٰ سے جڑ جانے اوراس کی رضا حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنے کا نام ہے۔ جس میں بندہ اللہ کے ساتھ تعلق کو بڑھاتا ہے حتیٰ کہ اس کی بندوں سے انسیت سے بڑھ کر اللہ سے انسیت پیدا ہو جاتی ہے۔(زاد المعاد، ابن القیم، ۲۔۸۷)
اعتکاف ’’عکف‘‘ سے ہے، جس کے معنی ’’خود کو روک دینے‘‘ یا ’’کسی چیز پرجما دینے‘‘ کے ہیں۔اصطلاح میں اس سے مراد ہر چیز سے الگ ہو کر یادِ الٰہی کے لیے گوشہ نشین ہو جانا ہے۔اسی چیز کو اعتکاف کہتے ہیں۔ رمضان المبارک اور مسجد سے اسے خاص نسبت ہے۔آپؐ کے ارشادات اور عمل سے اسی جانب رہنمائی ہوتی ہے۔
معتکف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی رمضان کے آخری دس دن مسجد میں رہے ، اور یہ دن اللہ کے ذکر کے لیے مختص کر دے۔ اس اعتکاف میں آدمی اپنی حاجات کے لیے مسجد سے باہر جا سکتا ہے، مگر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو شہوانی لذتوںسے روکے رکھے۔
اعتکاف ایک ایسی سنت ہے جس کا اہتمام رسول اللہ ﷺنے ہر رمضان میں فرمایا۔اور زندگی کے آخری برس آپؐ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔
اعتکاف کیا…

مزید پڑھیں

گواہی – آسیہ راشد

صبح کا آسمان بے حد اجلا اجلا سا تھا ۔ آسمان کے وسیع سمندر میں بادلوں کے ہلکے ہلکے ٹکڑے کسی بادبانی کشتی کی مانند ادھر سے اُدھر بھٹک رہے تھے ۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی جوطبیعت میں خوشگواریت کا احساس بھر دیتی تھی ۔ نماز فجر کے بعد میںدوبارہ سونے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے قرآن مجید ہاتھ میں تھامے باہر لان میں آ بیٹھی تھی۔
ملگجے اجالے میں مجھے اپنا سارا گھر اونگھتا سا دکھائی دے رہا تھا ہر سو اللہ کی قدرتوں کی بڑائی اورنوازشوں کے شکرانے کے گیت سنائی دے رہے تھے ۔
درختوںکے پتوں میں سے گھونسلوں میں چھپی ہوئی چڑیاں ھوالرحمٰن الرحیم اللہ کی رحمانیت کے گیت گا رہی تھیں۔زمین آسمان درخت پرندے ہوا پانی سبھی سبحانہ‘ کا ورد کررہے تھے۔ دائودی لحن فضا میں بکھرا ہوا تھا۔ میں نے سورۃ الرحمٰن کی تلاوت شروع کردی ۔ مقدس کتاب کا جادو ہرسوچھا گیا تھا ۔ خاموش روشوں پر نورکی برسات دکھائی دے رہی تھی ۔ اس عظیم کتاب کی ہیبت کا احساس میرے وجود پر چھا رہا تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ سارے ماحول پرچھایا وجد اس کے اوراق کوکھول کھول کر بیان کر رہا تھا ۔
اتنے میں اخباروالے کی ’’ اخبار ‘‘…

مزید پڑھیں