۲۰۲۴ بتول مارچ

نازکی تیرے ڈنک کی کیا کہیے! – نادیہ سیف

برابر کے کمرے سے ہر تھوڑی دیر بعد تالی کی آواز آ رہی تھی….اس نے شکر ادا کیاکہ کم ازکم بڑے بچے تو اپنا دفاع خود کر سکتے ہیں

ہوا ایسی رک گئی تھی کہ جیسے پتہ بھی ہل نہ پا رہا ہو۔حبس کا عالم تھا،اسےکھینچ کھینچ کرسانس لیناپڑ رہا تھا۔وہ کمزور لاچار سی ایک ایسے بوڑھے درخت کے نیچے پڑی ہوئی تھی جس کے ارد گرد پھیلی جڑوں کے اتار چڑھاؤ اس کے جسم میں گڑتے ہوئے تکلیف دے رہے تھے۔ اچا نک کچھ شاخوں نے جادوئی انداز میں نیچے جھکتے ہوئے اسے دبوچ لیا،اتنا کہ اس کا دم گھٹنے لگا….قریب ہی ایک پھنکار سنائی دی تو خوف کے مارے اس کے دیدے پھٹ گئے۔ اور اس نے اپنے جکڑے وجود کو چھڑوانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیے….لیکن پوری طاقت لگانے کے باوجود وہ خود کو آزاد نہ کروا پائی….اور بالآخر سانپ نے اسے ڈس لیا!
اپنے ہی گال پر خود کے زور دار تھپڑ سے اس کی آنکھ کھلی ،جبکہ اصل نشانہ خطا ہو گیاتھا۔
مچھر کی بھن بھن سے بے زار ہو کر اس نے پسینہ صاف کیا۔ آنکھیں پھاڑ کر صورتحال سمجھی اور اپنی گردن سے لپٹا چار سالہ بیٹی کا بازو نکالا ،کندھے پہ رکھا…

مزید پڑھیں

نجانے کیا ہؤا ایسا – کرن وسیم

نجانے کیا ہؤا ایسا
کہ اب اہلِ غزہ بھولے نہیں جاتے

تصور میں انہیں صیہونی شاطر سے
مقابل ہوتے اور لڑتے ہوئے ہی دیکھتی ہوں
پر کسی دم ان شجاعت کے پہاڑوں کو
شکستہ دل تصور کر نہیں سکتی
ہر اک کردار ہی مضبوط و مستحکم توانا ہے
جو دشمن کو مسلسل تلخیِ انجام سے دوچار کرتا ہے
کبھی تھک کر نہیں بیٹھے
نہ رنج و غم کی کوئی چھاپ ہی دیکھی
مگر دیکھا کہ قرآں کو ہی
زخموں کا مداوا تم نے ٹھہرایا
نئے اک دورسے انسانیت کو آشنا کرکے
جہاں میں بےضمیری ، بےحسی کی اوڑھنی میں
بے تحاشا چھید کر ڈالے
ابھی تو آسماں حیران ہے ششدر ستارے ہیں
یہ جتنے برج روشن ہیں شہیدوں سےتمہارے ہیں
وہیں اقدس سے کچھ ٹھنڈی ہوائیں مجھ کو آتی ہیں
کہاں سے ولولوں کو گرم جوشی یہ میسر ہے
کہاں سے تم نے یہ ایمان ، ایسا عزم پایا ہے
کہ جس نے امتِ مسلم میں وہ جذبہ جگایا ہے
جو بن جراح کے قدموں کی تیزی
اور جرأت کی نئی جہتیں دکھاتا ہے
نجانے اب جو یہ طوفان اقصیٰ میں اٹھا ہے
اس کے جھکڑ کتنے چہروں سے نقابوں کو اٹھائیں گے
ضمیروں کو جگائیں گے

نجانے کیا ہؤا ایسا
کہ اب اہلِ غزہ بھولے نہیں جاتے

یہ کیسا فقر ہے جو ساری دنیا سے
غنی کرتا ہے…

مزید پڑھیں

صنف نازک کمزور نہیں – ندااسلام

عورت وہ ہستی ہے جو اپنی صنف کی بنا پرظلم کی چکی میں پستی رہی ہے۔کبھی جاہلیت کے باعث اس کا استحصال کیا گیا تو کبھی نام نہاد جدید شعور اور وومن امپاورمنٹ کے نام پر اس کے جسم وروح کو رگڑا لگایا گیا۔مگراسلام صدیوں قبل عورت کی حیثیت واضح کر چکا ہے،جو اتنی منصفانہ ہے کہ اگر اس کے مطابق عورت کا مرتبہ متعین کیا جائے تو کوئی عورت ظلم کا سامنا نہ کرے۔
حجۃ الوداع کے موقع پر حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا، تمہاری بیویوں پر تمہارے کچھ حق ہیں اور تمہارے اوپر ان کے کچھ حق ہیں۔تمہارا حق عورتوں پر یہ ہے کہ جس کا گھر میں آنا اور تمہارے بستر پر بیٹھنا تمہیں ناپسند ہو وہ اس کو آکر وہاں بیٹھنے کا موقع نہ دیں،پس اگر وہ ایسی غلطی کریں تو ان کو تنبیہ اور تادیب کے طورپر تم سزا دے سکتے ہو،جو زیادہ سخت نہ ہو۔اور ان کا تمہارے اوپر یہ بھی حق ہے کہ تم مناسب طریقے پر ان کے کھانے کپڑے وغیرہ ضروریات کا بندو بست اور انتظام کرو ۔
یہ بھی فرمایا کہ ،لوگو! بیویوں سےاچھاسلوک کرو کیونکہ وہ تمہاری مدد گار ہیں اور خود اپنے لیے وہ کچھ نہیں کر سکتیں ۔…

مزید پڑھیں

شیطان کی صفات – بنت الاسلام

شیطان حیلہ جُو ہے
شیطان کی ایک اور صفت جو بتائی جاتی ہے ٗ وہ یہ ہے کہ وہ بڑاحیلہ جُو ہے۔اسے اس بات کی بڑی مشق ہے کہ چکر کھا کھا کر انسان کے سامنے آئے اور فریب دے دے کر اسے مطمئن کر دے کہ جس راہ کی طرف وہ اسے لے جا رہا ہے ٗ وہ برائی کی راہ ہے ہی نہیں ٗ وہ تو عین بھلائی ہے۔
دنیا میں بڑے بڑے ظالم حکمران ایسے گزرے ہیں جو ظلم توڑتے ہوئے یہی سمجھتے رہے کہ وہ تو ملک میں نظم و نسق اور امن و امان قائم کر رہے ہیں اور شریر عناصر کا استیصال کرکے اہلِ ملک پر احسان کر رہے ہیں حالانکہ ان کے ظلم کی چکی میں شریر عناصر سے زیادہ بے گناہ پستے رہے اور ملک میں امن و امان انصاف کرنے سے قائم ہوتا ہے نہ کہ ظلم کرنے سے۔
بے شمار خوش عقیدہ لوگ دیکھنے میں آتے ہیں جو بزرگوں کی قبروں پر جا جا کر سجدے کرتے ٗ چڑھاوے چڑھاتے اور کھلے کھلے مشرکانہ اعمال کرتے ہیں مگر شیطان ان سے یہ سب کام کراتے ہوئے انہیں بالکل مطمئن رکھتا ہے کہ یہ سب کچھ عین دینداری ہے!
بہت سے ایسے ’’دیندار‘‘ موجود ہیں…

مزید پڑھیں

عرف اور دین – ڈاکٹر محمدغیاث

اپنی علاقائی اقدار و روایات کو دین قرار دینا درحقیقت افراط اور تفریط کا مظہر ہے ،معاصر تصور پردہ اور لڑکیوں کی تعلیم پر دینی تعلیمات کی روشنی میں ایک تجزیہ

میرا خیال ہے کہ ہم پاکستانی اور بالخصوص پشتون علماجب بھی سماجی مسائل پر غور کرتے ہیں تو ہم ان مسائل کو اپنے مخصوص علاقائی نفسیات،تہذیب ، ثقافت اور تمدن کو مد نظر رکھ کر ان کی شرعی حیثیت بیان کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے ہماری علمی آراپر شرعی رنگ کے بجائے علاقائی رنگ زیادہ غالب ہوتا ہے اور بعض اوقات تو اس کی روح شریعت اسلامی کے ساتھ بالکل مطابقت نہیں رکھتی۔جس کی وجہ سے ہم مقامی مسلمان نما لوگوں کے مسائل تو عرف کو سامنے رکھتے ہوئے حل کر سکتے ہیں لیکن ان مسائل کی حقیقت اور نوعیت کے اعتبار سے دینی تعلیمات سے مزین کوئی مطلوب حل پیش نہیں کر پاتے۔
بہر کیف ایک تو ہمارا معاشرتی مزاج اس طرح بن چکا ہے کہ ہم عرف کو دین پر ترجیح دیتے ہیں اور یہ مزاج درحقیقت اہلِ کتاب کا تھا جس کو قرآن نے یوں بیان کیا ہے۔
ترجمہ: پھر یہ تم ہی ہو جو اپنے لوگوں کو قتل (بھی) کرنے لگے اور اپنے میں سے ایک گروہ کو…

مزید پڑھیں

اُترن – فریدہ عظیم

’’ امی میرے عید کے کپڑے کیسے ہیں ؟ ‘‘عمارنے ماں کے گلے میںبانہیں ڈالتے ہوئے لاڈ سے پوچھا۔
’’ بہت خوبصورت بہت پیارے بالکل شہزادے لگو گے پہن کر‘‘۔
’’ دکھائیں مجھے‘‘۔ وہ بضد ہو گیا ۔
’’ابھی تو میں کام کر رہی ہوں نا ، بیٹے ، کل چانددکھے گانا تو میں استری کر کے ٹانگ دوں گی تو پھر تم دیکھ لینا‘‘ ۔
’’امی ابھی !‘‘ عمار نے ضد کی۔
’’بری بات بیٹے امی کو تنگ نہیں کرتے‘‘۔
’’اچھا بتائیے حماداللہ جیسے ہیں ؟ چچی جان کہہ رہی تھیں حماد اللہ کاسوٹ ایک ہزار کا آیا ہے اور پانچ سوکے جوتے‘‘۔
عمار کے چہرے پر رنج اور مایوسی کی جھلک دیکھ کر وہ پریشان ہوگئیں۔ ان کا دل بیٹھنے لگا ۔ خدایا میرے بچے شدید احساس کمتری کا شکار ہو رہے ہیں ، کس طرح انہیںسمجھائوں ، طلعت بیگم پریشانی سے ہاتھ مل رہی تھیں ۔ رب العالمین میں کیا کروں ان بچوں کی ننھی ننھی خواہشوںکو پورا کرنا میرے بس میںنہیں۔ ہمیں سسرال میں دو وقت کی روٹی اورسر چھپانے کو جگہ مل گئی بہت بڑی نعمت ہے ۔ورنہ میںبیوہ عورت یہ سب بھی نہیں کر سکتی تھی۔
’’امی !‘‘ عمار نے انہیںسوچوں سے نکالا ۔’’ حماد اللہ اتناگورا کیوں ہے سب کہتے ہیںوہ…

مزید پڑھیں