نازکی تیرے ڈنک کی کیا کہیے! – نادیہ سیف
برابر کے کمرے سے ہر تھوڑی دیر بعد تالی کی آواز آ رہی تھی….اس نے شکر ادا کیاکہ کم ازکم بڑے بچے تو اپنا دفاع خود کر سکتے ہیں
ہوا ایسی رک گئی تھی کہ جیسے پتہ بھی ہل نہ پا رہا ہو۔حبس کا عالم تھا،اسےکھینچ کھینچ کرسانس لیناپڑ رہا تھا۔وہ کمزور لاچار سی ایک ایسے بوڑھے درخت کے نیچے پڑی ہوئی تھی جس کے ارد گرد پھیلی جڑوں کے اتار چڑھاؤ اس کے جسم میں گڑتے ہوئے تکلیف دے رہے تھے۔ اچا نک کچھ شاخوں نے جادوئی انداز میں نیچے جھکتے ہوئے اسے دبوچ لیا،اتنا کہ اس کا دم گھٹنے لگا….قریب ہی ایک پھنکار سنائی دی تو خوف کے مارے اس کے دیدے پھٹ گئے۔ اور اس نے اپنے جکڑے وجود کو چھڑوانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیے….لیکن پوری طاقت لگانے کے باوجود وہ خود کو آزاد نہ کروا پائی….اور بالآخر سانپ نے اسے ڈس لیا!
اپنے ہی گال پر خود کے زور دار تھپڑ سے اس کی آنکھ کھلی ،جبکہ اصل نشانہ خطا ہو گیاتھا۔
مچھر کی بھن بھن سے بے زار ہو کر اس نے پسینہ صاف کیا۔ آنکھیں پھاڑ کر صورتحال سمجھی اور اپنی گردن سے لپٹا چار سالہ بیٹی کا بازو نکالا ،کندھے پہ رکھا…

