’’ امی میرے عید کے کپڑے کیسے ہیں ؟ ‘‘عمارنے ماں کے گلے میںبانہیں ڈالتے ہوئے لاڈ سے پوچھا۔
’’ بہت خوبصورت بہت پیارے بالکل شہزادے لگو گے پہن کر‘‘۔
’’ دکھائیں مجھے‘‘۔ وہ بضد ہو گیا ۔
’’ابھی تو میں کام کر رہی ہوں نا ، بیٹے ، کل چانددکھے گانا تو میں استری کر کے ٹانگ دوں گی تو پھر تم دیکھ لینا‘‘ ۔
’’امی ابھی !‘‘ عمار نے ضد کی۔
’’بری بات بیٹے امی کو تنگ نہیں کرتے‘‘۔
’’اچھا بتائیے حماداللہ جیسے ہیں ؟ چچی جان کہہ رہی تھیں حماد اللہ کاسوٹ ایک ہزار کا آیا ہے اور پانچ سوکے جوتے‘‘۔
عمار کے چہرے پر رنج اور مایوسی کی جھلک دیکھ کر وہ پریشان ہوگئیں۔ ان کا دل بیٹھنے لگا ۔ خدایا میرے بچے شدید احساس کمتری کا شکار ہو رہے ہیں ، کس طرح انہیںسمجھائوں ، طلعت بیگم پریشانی سے ہاتھ مل رہی تھیں ۔ رب العالمین میں کیا کروں ان بچوں کی ننھی ننھی خواہشوںکو پورا کرنا میرے بس میںنہیں۔ ہمیں سسرال میں دو وقت کی روٹی اورسر چھپانے کو جگہ مل گئی بہت بڑی نعمت ہے ۔ورنہ میںبیوہ عورت یہ سب بھی نہیں کر سکتی تھی۔
’’امی !‘‘ عمار نے انہیںسوچوں سے نکالا ۔’’ حماد اللہ اتناگورا کیوں ہے سب کہتے ہیںوہ بالکل گڈا لگتا ہے ۔ مجھے تو کوئی قریب بھی نہیں بلاتا‘‘۔
طلعت بیگم نے اُسے اپنے سینے سے لگایا ماتھا چوما۔’’ امی جو آپ سے پیار کرتی ہیں آپ کی ہر خواہش پوری کرتی ہیں‘‘۔
’’ پتا ہے بیٹا اللہ میاں نے آپ کو بہت ساری صلاحیتیں دی ہیں۔ آپ کی رائیٹنگ کتنی خوبصورت ہے ، آپ کی آواز کتنی میٹھی ہے نا … جب آپ نظم سناتے ہیں تو سب لوگ کتنی تعریف کرتے ہیں‘‘ ۔
طلعت بیگم نے اپنی بات سے عمار کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔مگر عمار کا ننھا سا دل مرجھا یا ہی رہا۔
اس کاکھیل کود میںدل لگتا نہ کہیں جا کر خوش ہوتا ۔ ہر فرد کا جائزہ لیتا رہتا ۔ حماد اللہ سے اپنا موازنہ کرتا کہ یہ تفریق کیوں ؟ ہمارے پاس یہ سب کچھ کیوں نہیں ؟
ننھی فائزہ بھی بھائی کی گفتگو غور سے سنتی اس کے دل میںبھی ایسے ہی خیالات آتے مگر اسے کہنے کی عادت نہ تھی ۔ بھائی کی طرح ضد نہیں کرتی تھی۔ جو ملا پہن لیا، جو دیا کھا لیا۔
خاموش رہتی ، نہ کھیلتی کودتی نہ شوروغل نہ ہنگامہ ، بلکہ وہ ان سب چیزوں سے دور رہنے کی کوشش کرتی۔
عمارکو ضد کرنے پر مار پڑتی تھی یا پھر چچا جان کی سخت ڈانٹ ۔ کبھی وہ سہم جاتا اورکبھی ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکھڑا ہو جاتا ۔ اس بد تمیزی پر وہ امی کو لتاڑتے۔
بھابھی بچوں کو تمیز سکھاتیں ۔
اور طلعت بیگم آنسو بہانے کے سوا کچھ نہ کر پاتیں ۔ فائزہ نے سمجھ لیا تھا کہ چونکہ ان کے ابو نہیں ہیں اس لیے انہیں دوسرے بچوں کی طرح زندگی نہیں گزارنی ۔
آج عید تھی ۔ عمار حماد اللہ کے کپڑے اوراس کی سج دھج دیکھ کر کتنا تڑپا تھا ۔ امی نے اسے بہت پیار کیا تھا ، سمجھایا تھا تب کہیں جا کر وہ چپ ہؤا تھا ۔ مگر وہ چپ چاپ امی کے ساتھ انگلی پکڑ کر دادی جان کو سلام کرنے گئی۔ انہوں نے اسے گود میں بٹھا کر بہت پیار کیا تھا اور اپنے بیٹے کو یاد کر کے روئی بھی تھیں مگر اس کے تو بالکل آنسو نہیں نکلے تھے ۔ بس ٹکڑ ٹکڑ انہیں دیکھ رہی تھی ۔ سب ہنس رہے تھے خوش ہو رہے تھے امی کا اداس چہرہ دیکھ کر وہ اور بھی رنجیدہ ہو جاتی ۔ چچی جان کتنی خوش ہیں ، اور امی … انہیں مسکرانا بھی مشکل لگتا ہے ۔
سب خوش خوش پکنک پر جانے کا پروگرام بنا رہے تھے طلعت بیگم نے بھی کچھ چیزیں تیار کیں ۔ دونوں بچوں کے کپڑے تبدیل کیے اور چچی جان کی طرف آگئیں ۔
بھابھی تیاری ہو گئی ؟ ارے یہ فائزہ کو کیا پہنا رکھا ہے ؟ اتنے پیارے پیارے کپڑے بنا کر دیے ہیں مگر آپ بھی خاص خاص موقعوں پر اس طرح اظہار کرتی ہیں جیسے ہم آپ کا خیال نہیںرکھتے ۔
طلعت بیگم کی حلق میں آنسوئوں کا پھندا ٹکنے لگا۔ انہوں نے بہت ضبط کا مظاہرہ کیا ۔ اپنے آپ پر قابو پانے میں انہیں بڑی آزمائش سےگزرنا پڑا۔
چچی جان نے الماری سے روما کا جوڑا نکال کر فائزہ کو پہنا دیا۔ ننھی سی فائزہ کو یوں لگا جیسے وہ نصیبن بوا کی بیٹی ہے جنہیں چچی جان پرانے اترن کپڑے دیتی ہیں ۔ ننھا سا دل مرجھا گیا ۔ پکنک پر اسے کوئی مزے نہ آیا ۔
یونہی دونوں بہن بھائی بڑے ہوتے گئے ۔ امی نے انہیں بہت محنتی اور جفا کش بنایا تھا ۔ عمار بھی کسی قسم کے کام میں عار محسوس نہیں کرتا تھا اور فائزہ بھی تمام گر ہستی سیکھ چکی تھی۔
دادی جان کا خیال تھا فائزہ کو حماد اللہ کے لیے مانگ لیا جائے ۔ وہ جب بھی چچا جان او چچی سے تذکرہ کرتیں تو وہ دونوں ہاں ہاںکرتے ، ہاں اماں اپنی ہی بچی ہے ابھی تو حماد اللہ پڑھ رہا ہے ۔ دادی جان فائزہ کے آئے ہوئے رشتوں کو ٹالتی رہیں اس آس پر کہ ان کی یتیم پوتی گھر میں رہے گی ۔ مگر اچانک جیسے زور کا دھماکا ہؤا جب چچی جان نے اپنی بھتیجی کے لیے پیغام بھیجا۔
دادی جان تو بستر سے لگ گئیں ۔ طلعت بیگم کا بھی برا حال تھا ۔ کتنا انتظار کروایا اور اب … مگر زبان سے ایک لفظ بھی نہ کہہ سکیں یوں حماد اللہ کی شادی میں فائزہ اور طلعت بیگم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ فائزہ کا تو پتا ہی نہیں چلتاتھا کہ اسے خوشی ہوئی یا غم ، مگر طلعت بیگم جیسے ہمت ہار گئیں۔ بیماری ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی تھی ۔ وہ عمار کو دن رات جوان بہن کا احساس دلانے لگتیں ۔ عمار کے اندر نفرت کچھ اور گہری ہو گئی تھی ۔ اس کا بس نہ چلتا تھا کہ ماں بہن کے لیے کیا کچھ نہ کر جائے۔
روز ہی فائزہ کو کوئی نہ کوئی دیکھنے آتا ۔ خالی گھر یتیم بچی ۔ اکثر بار جا کر واپس نہ آتے ۔
عمار کچھ کرو بیٹے مجھے لگتا ہے میں بچوں گی نہیں۔
امی ایک رشتہ تو ہے مگر وہ پہلے سے شادی شدہ رہے ہیں ۔ انتہائی شریف آدمی ہیں، عمرزیادہ نہیںہے ، اچھی جاب ہے آپ کہیںتو آگے بات بڑھائوں ۔ اتنی بات کہتے کہتے عمار کی آواز رندھ گئی ۔
امی کیا اللہ میاں ہمارے نہیںہیں؟ پھر فائزہ کے ساتھ ایسا کیوں ہؤا؟ لوگ طرح طرح کے سوال کرتے ہیں کہ چچا نے کیوں نہیں لیا جب برسوں حماد اللہ کے نام پر بیٹھی رہی ہے۔
استغفار کرو عمار ! اللہ کی مصلحتیں وہی جانتا ہے بیٹا خداکا نام لے کر تم بات آگے بڑھائو۔
فائزہ تک جب یہ بات پہنچی تو اسے بالکل عجیب محسوس نہیں ہؤاوہ سوچ رہی تھی کہ ایسا توہمیشہ ہؤا ہے کہ میں نے اترن استعمال کی ہے آج زندگی کا ساتھی بھی اگر ایسا ہے تو کیا مشکل ! مجھے تو عادت ہے ان سب چیزوں کی۔
یوں وہ اپنے ساتھی کے ساتھ روانہ کردی گئی ، جو اس کی ہر چیز اور ہر کام میں پہلی بیوی سے موازنہ کرتے تھے۔ کہانیاںہی کہانیاں تھیں ، اس کی اپنی کوئی بات نہ تھی نہ کردار تھا ۔اُسے لگتا جیسے وہ روبوٹ ہے ، ایک چلتی پھرتی لاش جس میں حرارت ہے نہ زندگی۔
روح اور جسم گھائو گھائو تھا ۔ دماغ میں جو لفظ اکثر گونجا کرتا وہ تھا اُترن…. اور وہ سوچتی ، ساری زندگی اترن….کبھی تو کچھ نیا ہوتا!
٭ ٭ ٭

