۲۰۲۴ بتول مارچعرف اور دین - ڈاکٹر محمدغیاث

عرف اور دین – ڈاکٹر محمدغیاث

اپنی علاقائی اقدار و روایات کو دین قرار دینا درحقیقت افراط اور تفریط کا مظہر ہے ،معاصر تصور پردہ اور لڑکیوں کی تعلیم پر دینی تعلیمات کی روشنی میں ایک تجزیہ

میرا خیال ہے کہ ہم پاکستانی اور بالخصوص پشتون علماجب بھی سماجی مسائل پر غور کرتے ہیں تو ہم ان مسائل کو اپنے مخصوص علاقائی نفسیات،تہذیب ، ثقافت اور تمدن کو مد نظر رکھ کر ان کی شرعی حیثیت بیان کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے ہماری علمی آراپر شرعی رنگ کے بجائے علاقائی رنگ زیادہ غالب ہوتا ہے اور بعض اوقات تو اس کی روح شریعت اسلامی کے ساتھ بالکل مطابقت نہیں رکھتی۔جس کی وجہ سے ہم مقامی مسلمان نما لوگوں کے مسائل تو عرف کو سامنے رکھتے ہوئے حل کر سکتے ہیں لیکن ان مسائل کی حقیقت اور نوعیت کے اعتبار سے دینی تعلیمات سے مزین کوئی مطلوب حل پیش نہیں کر پاتے۔
بہر کیف ایک تو ہمارا معاشرتی مزاج اس طرح بن چکا ہے کہ ہم عرف کو دین پر ترجیح دیتے ہیں اور یہ مزاج درحقیقت اہلِ کتاب کا تھا جس کو قرآن نے یوں بیان کیا ہے۔
ترجمہ: پھر یہ تم ہی ہو جو اپنے لوگوں کو قتل (بھی) کرنے لگے اور اپنے میں سے ایک گروہ کو ان کے وطن سے (بھی) نکالنے لگے، تم ان کے خلاف گناہ اور زیادتی کے کاموں میں مدد (بھی) کرتے ہواور اگر وہی قیدی ہو کر تمہارے پاس آئیں تو تم معاوضہ دے کر انہیں چھڑا لیتے ہو حالانکہ تمہارے اوپر تو ان کا نکالنا ہی حرام ہے۔ تو کیا تم اللہ کے بعض احکامات کو مانتے ہو اور بعض سے انکار کرتے ہو؟ تو جو تم میں ایسا کرے اس کا بدلہ دنیوی زندگی میں ذلت و رسوائی کے سوا اور کیا ہے اور قیامت کے دن انہیں شدید ترین عذاب کی طرف لوٹایا جائے گا اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی تو ان سے نہ تو عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔(البقرہ86)
اہل کتاب ان تعلیمات الٰہی سے انکار کیا کرتے تھے جو ان کے عرف اور خواہش کے خلاف ہوتے تھے۔دینی تعلیمات کے ساتھ یہی رویہ آج ہمارے مسلمانوں کا بھی ہے۔اس لیے اللہ تعالی نے ہمیں بنی اسرائیل سے بھی زیادہ ذلیل بنا کر رکھا ہے۔بطور مثال میں عرض کروں گا کہ لڑکیوں کی تعلیم کی نفی قندھار کے عرف کا حصہ ہے اب انھوں نے اس کو دین سمجھ کر اس کو اسلامی فیصلہ قرار دے دیا۔اس کو میں تحریف فی الدین کا غیر شعوری اقدام سمجھتا ہوں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے ہم شریعت کے تمام موجود نصوص کا مطالعہ کرتے پھر اس اجتہادی مسئلے پر معاصر تقاضوں کو مد نظر رکھ کر ایک جامع اور ہمہ پہلو رائے بناکر اس کو اجماع کی صورت میں پیش کرتے ۔ یہ آپ کے دین و دنیا دونوں کے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔ملک اور فیصلہ آپ کا ہے لیکن دین تو پوری ملت کا ہے۔لہٰذا اس معاملے میں پوری امت کی نمائندگی اس فیصلے کے اجرا میں شامل ہونی چاہیے تھی۔اگر وہ رائے ہمارے عرف کے خلاف ہوتی تو بے شک ہم اپنے عرف کوہی فالو کرلیتے۔ شریعت یہاں شاید ہمیں عرف پر عمل کرنے سے منع نہیں کرتی،لیکن اس عرف کو شریعت کا حکم نہیں کہنا چاہیے تھا اور نہ ہر شخص کو اس کی تنفیذی شکل میں پابند کیا جاسکتاہے۔مثلاً میں ٹوپی پہنتا ہوں ،شلوار قمیض پہنتا ہوں ، یہ ہمارے عرف کی وجہ سے ہم کرتے ہیں لیکن ہم اگر ان ہی چیزوں کو ہی عین اسلام تصور کریں گے تو پھر عالم اسلام میں جو لوگ ٹوپی نہیں پہنتے تو ان کے بارے میں ہم کیا کہیں گے۔اسی طرح جو لوگ شلوار قمیض کے بجائے دیگر انواع کے ملبوسات زیب تن کرتے ہیں ان کے بارے میں ہم کیا کہیں گے۔یاد رہے کہ عرف کا ایک مقام شریعت میں پایا جاتا ہے لیکن اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ عرف کو نص کے مقابلے میں لاکر کھڑا کیا جائے۔
بہر کیف پردہ صرف ایک خاص خطے کے مسلمانوں پر فرض نہیں ہے بلکہ یہ پوری دنیا کے انسانوں کے لیے بالعموم اور بالخصوص تمام مسلمانوں کے لیےہے۔جیسا اللہ تعالیٰ کی یہ کائنات، آسمان، آفتاب ، مہتاب،تارے، ہوا ئیں اور بارشیں وغیرہ تمام انسانیت کے لیے یکساں طور پر بلا تفریق مفید اور مؤثر ہیں اسی طرح یہ دین اسلام بھی رب العالمین کی طرف سے تمام مسلمانوں کے لیے یکساں طور پر موجود ہے۔لہٰذا اپنی علاقائی اقدار و روایات کو دین قرار دینا درحقیقت افراط اور تفریط کا غیر مطلوب مظہر ہے۔اس کو اپنانے میں شاید کوئی حرج نہیں ہوگا لیکن اس کو شریعت کا حکم سمجھ کر بیان کرنا دین اسلام پر الزام سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ دین اسلام کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔اس کا مطلب یہ ہؤا کہ آپ دین اسلام کو ایک خاص عرف رکھنے والے علاقے کا دین سمجھتے ہیں اور اس کو آٹھ ارب انسانوں کا دین نہیں سمجھتے بلکہ آپ غیر شعوری طور پر اس کوبطور ناقابل عمل اور غیر انسانی دین پیش کرتے ہیں۔لہٰذا میں اپیل کرتا ہوں کہ اگر آپ دین کا مطلوب داعی نہیں بن سکتے تو اس دین کو بدنام کرنے کا ذریعہ اور سبب بھی نہ بنیں۔
ہماری نالائقی یہ ہے کہ ہم دو عشروں پر مشتمل ایک طویل آزمائشی دور سے گزرنے کے بعد بھی سدھر نہ سکے۔اسلام راستے بند نہیں کرتا بلکہ راستوں کے بجائے شاہراہیں پیش کرتا ہے۔ہاں جہاں پر اسلام کسی امر یا فعل کا راستہ بند کرتا ہے تو پھر اس راستے سے زیادہ شاندار اور بہترین راستہ پیش کرتا ہے۔مثلاً اسلام شرک کا راستہ بند کرتا ہے لیکن متبادل ایک شاندار توحید اور اس کی علمبرداری کے ساتھ آپ کو جوڑ دیتا ہے۔البتہ اگر اس معطل کردہ نظام میں کوئی خرابی تھی تو اس کے مقابل میں زیادہ مفید اور شاندار متبادل نظام نہ لانے تک اس ناقص نظام کے ساتھ گزارا کرنا چاہیے تھا۔آپ کو ایسا نظام بطور اسلامی ریاست پیش کرنا چاہیے جس میں مغرب اور اہلِ مغرب بھی آکر یہ تسلیم کریں کہ نظام آپ کا ہی قابل اتباع اور قابل عمل ہے اور جس کی داد پوری دنیا آپ کو دے سکے۔جس کے اندر عالم انسانیت ایسا محسوس کرے کہ وہ آپ کے ہاں زیادہ محفوظ ہے۔
٭٭٭