ڈاکٹر سلیس سلطانہ چغتائیاسلام کی خاتونِ اوّل ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ - ڈاکٹر...

اسلام کی خاتونِ اوّل ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ – ڈاکٹر سلیس سلطانہ

اسلام میں خاتون اول کا درجہ و مرتبہ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کو حاصل ہے جو قریش کے ایک نامور سوداگر خویلد بن اسد کی صاحبزادی تھیں ۔ حضرت خدیجہ ؓ 555ء میں پیدا ہوئیں ۔ اس زمانے میںبعض قبائل عرب میں لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا ۔ مگر آپؓ کے والد نے آپ کی پرورش نہایت پیار و محبت سے کی ۔ خویلد بن اسد مالی اعتبار سے بہت مستحکم تھے اور ان کی تجارت شام و یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ حضرت خدیجہ ؓ بچپن سے سنجیدہ ، نیک خو تھیں اور طاہرہ اور سیدۃ النسا کے نام سے معروف تھیں۔
حضوراکرم ؐ سے نکاح سے پہلے آپؓ کا نکاح ابو ہالہ بن بناش تمیمی سے ہؤا جن سے آپ ؓ کے دو بیٹے ہند اور ہالہ پیدا ہوئے ۔ ہالہ کم عمری میں انتقال کر گئے اور ہند جنگ جمل میں شہید ہوئے ۔ ابو ہالہ کے انتقال کے بعد حضرت خدیجہ کا نکاح عتیق بن عائدمخزومی سے ہؤا ان سے ایک بیٹی ہند پیدا ہوئیں جو مسلمان ہو گئیں اور صحابیات میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ عتیق کے بعد صیفی بن امیہ سے نکاح ہؤا جو حرب الفجار میں مارا گیا۔
خویلد بن اسد نے بڑھاپے کی وجہ سے اپنا کاروبار بیٹی کے سپرد کر دیا ۔ حضرت خدیجہ ؓ حجاز مقدس میں سب سے زیادہ متمول خاتون تھیں جن کی تجارت کا سامان شام اور یمن سال میں دو مرتبہ جاتا تھا ۔ طبقات ابن سعد کے مطابق مکہ کے سارے تجارتی قافلوں کا سامان ملا کر حضرت خدیجہؓ کے سامان کے برابر ہوتا تھا ۔ اسلام نے مرد اور عورت دونوں کی صلاحیتوں اور جدوجہد کو وسائل ترقی میں شامل کیا ہے ۔ اسلام نے عورتوں کے حقوق متعین کیے اور ان کو مردوں کے مساوی درجہ دے کر مکمل انسانیت قرار دیا ۔ ارشاد نبوی ؐ ہے کہ ’’ مرد اپنے اہل کار اعی بنایا گیا ہےاور اس سے ان کے متعلق جواب طلب ہوگا اور عورت شوہر کے گھر کی راعیہ ہے اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی۔
اسلام میں خواتین نے بڑے عظیم الشان کام انجام دیے ۔ قبول اسلام میں سب سے پہلا نمبر خاتون اوّل ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کا ہے ۔ شہادت میں حضرت سمیہؓ بازی لے گئیں فقہ میں حضرت عائشہ ؓ بڑے بڑے صحابیوں سے آگے بڑھ گئیں۔
حضرت خدیجہ ؓ خاندانی اعزاز اور دولت کے ساتھ حسن وصورت و سیرت سے بھی مالا مال تھیں ۔ عرب کے انتہائی بگڑے ہوئے معاشرے میں محمد ؐ کا کردار امین و صادق کی حیثیت سے سامنے آیا تو حضرت خدیجہؓ نے اپنے مال تجارت کے لیے حضرت محمدؐ کو بلا بھیجا۔ ام المومنین کو اس وقت ایک قابل بھروسہ اور ایماندار معتمدکی ضرورت تھی ۔ نبی اکرم ؐ بعثت سے پہلے کبھی امین و صادق کے لقب سے پکارے جاتے تھے حضرت خدیجہؓ نے ان کی شہرت سن کر اپنا سامانِ تجارت ان کے حوالے کیا اور اپنے غلام میسرہ کو خصوصی ہدایت دی کہ محمد ؐ کے کسی معاملےمیں دخل اندازی نہ کرنا راستے میں جو کچھ واقعات پیش آئیں وہ بلا کم و کاست بیان کرنا۔ سفر شام میں آپ ؐ کارویہ اہل قافلہ کے ساتھ انتہائی شریفانہ تھا۔ مکہ واپس آکر آپؐ نے ایک ایک پیسے کا حساب حضرت خدیجہؓ کے سامنے پیش کر دیا ۔ آپؐ کی دیانت شرافت اور معاملہ کی درستگی سے حضرت خدیجہ ؓ بہت متاثر ہوئیں اور ان کو نکاح کی پیش کش کی ۔ اس وقت حضور اکرم ؐ کی عمر 25 سال اور حضرت خدیجہ ؓ کی عمر 40 سال تھی ۔ نکاح کے بعد آپ دونوں کی ازدواجی زندگی انتہائی کامیاب گزری ۔ حضرت خدیجہ ؓ کی زندگی کا مقصد حضورکی خدمت اور خوشنودی تھا اس سلسلے میں انہوں نے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔
نبوت ملنے سے پہلے آپ ؐ کو سچے خواب نظر آنے لگے تھے ۔ آپ ؐ کو درخت اورپتھر سلام کرتے۔ آپ ؐ خوفزدہ ہو جاتے ۔ زوجہ محترمہ سے تذکرہ کرتے تو وہ آپ ؐ کو تسلی دیتیں اور آپ ؐ کی تشویش اور پریشانی کو دلسوزی ، محبت اور ہمدردی سے دور فرماتیں ۔ حضرت خدیجہ ؓ کی دلجوئی سے آپ ؐ کو ڈھارس ہوتی اور منتشر خیالات کو سکون ملتا۔ آپ ؐ کئی کئی دن غار حرا میں جا کر عبادت کرتے ۔ حضرت خدیجہؓ کئی دن کا کھانا آپ ؐ کے ساتھ کر دیتیں ۔ جولائی 610ء میں پیر کے دن رمضان المبارک میں حضرت جبرائیل نے غار حرا میں آپؐ کو سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیات پڑھائیں آپ ؐ ڈر اور خوف کی حالت میں کانپتےتھر تھراتے گھر آئے ۔ کسی شخص کو اس کے گھر والوں اورخصوصاً بیوی سے زیادہ کوئی نہیں جانتا ۔ آپ ؐ نے حضرت خدیجہ ؓسے فرمایا مجھے کپڑا اوڑھا دو ۔جب کپکپی کم ہوئی تو حضرت خدیجہؓ کو تمام واقعہ سنایا۔ آپؐ کی صداقت اور امانت پر صدق دل سے ایمان رکھنے والی بیوی نے اس وقت دلجوئی کی اور مزاج شناسی کا حق اد ا کیا انتہائی محبت سے انہیں تسلی دی اور کہا ’’ آپ ؐ خوف نہ کھائیں، آپ ؐ نے کبھی کوئی بات غلط زبان سے نہیں نکالی،کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا ، آپؐ یتیموں کے دست گیر اور بیوائوں کے مدد گار ہیں مسکینوں کی خدمت کرتے ہیں خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے بندوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں خاندان والوں کے ساتھ آپ ؐ کا سلوک ہمیشہ مہر بان رہا ہے ۔ اہل قریش آپؐ کی صداقت اور امانت کے معترف ہیں ۔ آپ ؐ کسی قسم کا خوف نہ کریں خدا آپ ؐ کو ضائع نہیں کرے گا‘‘۔
حضرت خدیجہؓ آپ ؐ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو انجیل مقدس کا عربی زبان میں ترجمہ کرتے تھے تورات اور انجیل کے عالم تھے ۔ انہوں نے آپؐ کی تصدیق کی اور کہا محمدؐ کے پاس جو شخص آیا ہے وہ اللہ کا فرشتہ جبرئیل ہے جو موسیٰ پر بھی نازل ہؤا تھا ۔ اے عبد اللہ کے بیٹے خدا نے جس پیغمبر کی بشارت انجیل میں دی ہے وہ تم ہی ہو مگر تمہاری قوم تم کو وطن سے نکالے گی اور تمہیں سخت تکلیف پہنچائے گی ۔ کاش میں اس وقت زندہ ہوتا تو تمہاری حمایت اور مدد کرتا ۔ ورقہ بن نوفل کی گفتگو کے بعد آپؐ کی پریشانی دور ہو گئی ۔ حضرت خدیجہ ؓ سب سے پہلے آپ ؐ پر ایمان لائیں اور دیگر خواتین کو بھی اسلام لانے کی ترغیب دی۔ ان کی کوشش سے ام الفضل، اسما بنت ابی بکر ، ام جمیل ، فاطمہ بنت خطاب ، اسماء بنت عمیس مسلمان ہوئیں۔
حضرت خدیجہ ؓ صحیح معنوں میں حضور اکرم ؐ کی رفیقہ حیات تھیں وہ ایسی عاشق زار شریک سفر تھیں جنہوں نے اپنے جان و مال ، روپے پیسے سے ہر لمحہ آپ ؐ کی دلجوئی کی ۔ آپ ؓ ہر وقت خدمت و اطاعت کے لیے تیار و مستعد رہتیں ۔ شعب ابی طالب کے تین سالہ معاشرتی مقاطعہ میں ہر لمحہ آپ ؐ کے ساتھ رہیں متمول اور دولتمند ہونے کے باوجود فاقہ کشی پر کبھی حرف شکایت زبان پر نہیں لائیں ۔ آپ ؐ بھی ان کی محبت اور صلاحیتوں کو سراہتے اور انہیں بچوں کی ماں اور گھر کی منتظم کہتے تھے ۔ ہر معاملے میں ان سے مشورہ لیتے اور ان کے مشورے کے مطابق کام کرتے ۔
اسلام کو حضرت خدیجہؓ کی ذات سے بہت تقویت ملی ۔ ان کے زبردست استقلال ، استقامت خلوص ، محبت ، رفاقت اور ایثار نے اسلام پھیلانے میں آپ ؐ کی نہ صرف ڈھارس بندھائی بلکہ اپنی ساری دولت بھی آپ ؐ پر قربان کردی۔
رسول اکرمؐ نے پیغمبری کے جو فرائض انجام دیے ان میں حضرت خدیجہؓ کی صائب رائے ، بیش بہا مشورے ہمدردی ، محبت دلسوزی اور ان کی دولت و ثروت شامل تھی۔معززین قریش میں حضرت خدیجہؓ کا مرتبہ بہت بلند تھا اور ان کی شخصیت کا لحاظ کرتے ہوئے قریش حضور اکرمؐ کو بہت زیادہ اذیت دینے سے گریز کرتے تھے مگر 10 نبوی میں حضرت خدیجہؓ کے انتقال کے بعد قریش کا ظلم و ستم بہت بڑھ گیا اور وہ نہایت بے دردی اوربے رحمی سے آپ ؐ کو ستاتے تھے ۔ آپؓ ابتدائے اسلام سے حضورؐ کی سب سے بڑی معین و مدد گار تھیں آپ ؐ کو مشرکین کی تکذیب و ایذار سانی سے جو کچھ صدمہ پہنچا وہ حضرت خدیجہؓ کے پاس آکر دور ہو جاتا کیونکہ وہ آپؐ کی تصدیق کرتی تھیں اور مشرکین کے معاملہ کو آپؐ کے سامنے ہلکا کر کے پیش کرتی تھیں۔
حضرت خدیجہؓ وہ طاہرہ اور مقدس خاتون تھیں جنہوں نے نبوت سے پہلے ہی بت پرستی چھوڑ دی تھی ۔ اور نبوت ملنے کے بعد سب سے پہلے آپؐ کی آواز پر لبیک کہا۔ دولتمند ہونے کے باوجود خود حضور کی خدمت کرتی تھیں ۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نے آنحضرتؐ سے عرض کی کہ ’’ خدیجہؓبرتن میں کچھ لا رہی ہیں آپؐ ان کو خدا کا اور میرا سلام پہنچا دیجیے ‘‘۔
امہات المومنین میں حضرت خدیجہؓ کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ صرف ان سے رسول اکرم ؐ کی چھے اولادیں ہوئیں ۔ آپؓ کی وفات کے سال کو’’ عام الحزن ‘‘کہا گیا ۔ آپؓ کی رحلت کے بعد اگر آپ ؐ کے یہاں کوئی اچھی چیز آتی یا بکری ذبح ہوتی تو آپؐ فرماتے اسے لے جا کرفلاں عورت کو دے آئو کیونکہ خدیجہ ؓ اسے بہت عزیز رکھتی تھیں۔ بخاری میں روایت ہے کہ جب کبھی حضور اکرمؐ بکری ذبح فرماتے تواس کے گوشت کے ٹکڑے حضرت خدیجہ ؓ کی سہیلیوں کو بھیجتے تھے ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ’’ گو میں نے خدیجہ کو نہیں دیکھا لیکن مجھے جس قدر ان پر رشک آتا تھا کسی اور پر نہیں آتا ۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ آنحضرتؐ ہمیشہ ان کا ذکر کیا کرتے تھے ۔ ایک دفعہ میں نے اس پر آپؐ کو رنجیدہ کیا لیکن آپؐ نے فرمایا کہ خدا نے مجھ کو ان کی محبت دی ہے۔ ایک مرتبہ حضرت خدیجہؓ کی بہن ہالہ حضور ؐ سے ملنے آئیں ان کی آواز حضرت خدیجہؓسے ملتی تھی آپ ؐ کے کانوں میں ان کی آواز آئی تو جھجک کر اٹھے اور فرمایا’’ ہالہ ہوں گی ‘‘ حضرت عائشہؓ موجود تھیں ان کو رشک آیا اور بولیں ’’کیا آپ ایک بڑھیا کو یاد کیا کرتے ہیں جو مرچکیں اور خدا نے ان سے اچھی بیویاں آپ ؐ کو دیں ‘‘۔حضوراکرمؐ نے فرمایا’’ ہر گز نہیں، جب لوگوں نے میری تکذیب کی اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی ۔ جب لوگ کا فر تھے تو وہ اسلام لائیں جب کوئی میرا مدد گار نہ تھا انہوں نے میری مدد کی اور انہی سے میری اولاد ہوئی ‘‘۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ان کی منقبت بیان کی گئی ہے کہ ’’ عالم میں افضل ترین مریم اور خدیجہ ہیں ‘‘۔ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل آنحضرت ؐ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے خدیجہ ؓ آئیں تو فرمایا ’’ ان کو جنت میں ایسے گھر کی بشارت سنا دیجیے جو موتی کا ہوگا اور جس میں شوروغل اور محنت مشقت نہ ہو گی ‘‘۔
حضرت خدیجہ ؓ کا جب انتقال ہؤا اس وقت تک نمازِ جنازہ کا حکم نازل نہیں ہؤا تھا اس لیے آپ ؓ کی میت مبارک اسی طرح دفن کردی گئی ۔ حضرت خدیجہؓ کی قبر حجون میں ہے۔
٭٭٭