ڈاکٹر میمونہ حمزہاعتکاف - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

اعتکاف – ڈاکٹر میمونہ حمزہ

اعتکاف مخلوق سے تعلق کاٹ کر، اور دنیا کی مصروفیات کو ترک کرکے اللہ تعالیٰ سے جڑ جانے اوراس کی رضا حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنے کا نام ہے۔ جس میں بندہ اللہ کے ساتھ تعلق کو بڑھاتا ہے حتیٰ کہ اس کی بندوں سے انسیت سے بڑھ کر اللہ سے انسیت پیدا ہو جاتی ہے۔(زاد المعاد، ابن القیم، ۲۔۸۷)
اعتکاف ’’عکف‘‘ سے ہے، جس کے معنی ’’خود کو روک دینے‘‘ یا ’’کسی چیز پرجما دینے‘‘ کے ہیں۔اصطلاح میں اس سے مراد ہر چیز سے الگ ہو کر یادِ الٰہی کے لیے گوشہ نشین ہو جانا ہے۔اسی چیز کو اعتکاف کہتے ہیں۔ رمضان المبارک اور مسجد سے اسے خاص نسبت ہے۔آپؐ کے ارشادات اور عمل سے اسی جانب رہنمائی ہوتی ہے۔
معتکف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی رمضان کے آخری دس دن مسجد میں رہے ، اور یہ دن اللہ کے ذکر کے لیے مختص کر دے۔ اس اعتکاف میں آدمی اپنی حاجات کے لیے مسجد سے باہر جا سکتا ہے، مگر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو شہوانی لذتوںسے روکے رکھے۔
اعتکاف ایک ایسی سنت ہے جس کا اہتمام رسول اللہ ﷺنے ہر رمضان میں فرمایا۔اور زندگی کے آخری برس آپؐ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔
اعتکاف کیا ہے؟
اعتکاف میں بندہ تنہائی میں یکسو ہو کر اللہ کی جانب متوجہ ہو جاتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اعتکاف کے لیے مختص مقام پر کئی لوگ اکٹھے اعتکاف کر لیں۔
اعتکاف کی تاریخ
اعتکاف ایک معروف عبادت ہے جو پچھلی امتوں میں بھی رائج تھی۔حضرت ابراہیمؑ نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا:
’’ہم نے ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کو تاکید کی تھی کہ میرے اس گھر کو طواف، اور اعتکاف اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو‘‘۔ (البقرۃ،۱۲۵)
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سیدہ مریم علیھا السلام کے بارے فرمایا: ’’اور اے نبیؐ، اس کتاب میں مریمؑ کا حال بیان کرو، جب کہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی۔ اور پردہ ڈال کر ان سے چھپ بیٹھی تھی‘‘۔ (مریم،۱۶۔۱۷)
مزید فرمایا: ’’زکریا جب کبھی اس کے پاس محراب میں جاتا تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا‘‘۔ (آل عمران،۳۷) اس آیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریمؑ اپنے محراب میں اعتکاف کیا کرتی تھیں۔
حضرت ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہؐ کے پاس آیا اور پوچھا: ’’میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد الحرام میں ایک رات کا طواف کروں گا،تو اس سے رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’اپنی نذر پوری کرو‘‘۔ (رواہ البخاری، ۲۰۳۲، ومسلم ۱۶۵۶)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام سے پہلے جاہلیت میں بھی اعتکاف معروف تھا اور یہ حضرت ابراہیمؑ کے دین کی ان بقایات میں سے تھا جو عربوں کے ہاں باقی تھیں۔
مسیحی کتابوں میں بھی اعتکاف کا ذکر موجود ہے۔کتابِ مقدس میں ہے کہ : ’’حضرت مسیح روزے سے تھے اور پہاڑ پر اعتکاف کر رہے تھے‘‘۔عیسائیت میں اعتکاف بندوں سے کٹ کر پوشیدہ عبادت میں مشغولیت ہے۔
یہود کے ہاں بھی اعتکاف معروف عبادت ہے۔جیسے ان کے ہاں’’ ایام المظلّہ‘‘ ہیں، جو ۱۵ اکتوبر سے شروع ہو کر آٹھ روز تک رہتے ہیں، اور ان کے بعد ’’عید الغفران‘‘ آتی ہے۔اور اس میں انسان اپنے پچھلے اور اگلے اعمال کا محاسبہ کرتا ہے۔اور وہ ان دنوں میں اس وقت کو یاد کرتے ہیں جب وہ صحرا نما سینا میں تھے۔(الزھد والاعتکاف فی عقائد الیہود)
مسلمانوں کا اعتکاف
اسلامی شریعت میں اعتکاف سے مراد اللہ تعالیٰ کی عبادت کی غرض سے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں قیام ہے۔اور یہ اللہ کے رسول ؐ کی سنتِ مؤکدہ ہے۔اور کثیر احادیثِ نبویہ میں آیا ہے کہ : حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ ہر رمضان میں دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے، اور وہ سال جس میں آپؐ کی روح قبض ہوئی، آپؐ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا‘‘۔ (رواہ البخاری،۲۰۴۴)
رمضان المبارک کے آخری عشرے (دس روز) کا اعتکاف مستحب ہے اور دوسرے دنوں میں اعتکاف بھی جائز ہے۔اور مسجد میں اعتکاف کرنا قرآن ، سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔
حضرت عائشہؓ نے بیان کیا ہے کہ نبی کریمؐ اپنی وفات تک برابر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے، اور آپؐ کے بعد آپؐ کی ازواجِ مطہرات اعتکاف کرتی رہیں۔ (رواہ البخاری،۷۲۸)
اس سے معلوم ہؤا کہ رمضان میں اعتکاف ایک مسلسل عمل ہے، جسے سنتِ مؤکدہ کا درجہ حاصل ہے۔ رمضان میں ہر فرض کا اجر ستر فرضوں کے مطابق اور ہر نفل کا ثواب فرض کے برابر ہو جاتا ہے۔
آخری عشرہ میں اعتکاف کی حکمت
رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے، جو شخص ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھے اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
رسول اللہؐ نے ایک مرتبہ رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا، پھر دوسرے عشرے میں، اور اس میں لیلۃ القدر تلاش کی، اور جب انہیں بتا دیا گیا کہ وہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے تو پھر آپؐ نے آخری عشرہ کو اعتکاف کے لیے خاص کر لیا۔ اور ایک مرتبہ آپؐ نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف نہیں کیا تو شوال میں اعتکاف کیا۔(رواہ البخاری ومسلم)
رمضان کا آخری عشرہ جہنم سے نجات پانے کا عشرہ ہے۔اس لیے یہ آخری دن ایک غنیمت ہیں۔رمضان یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ رمضان رخصت ہونے والا ہے، لہٰذا خوب محنت کر لی جائے۔ ان دنوں میں رسول اللہ ؐ اپنا تہبند کس لیتے اور خود بھی عبادت میں لگ جاتے اور گھر والوں کو بھی متوجہ کرتے۔
اعتکاف کی قسمیں
اعتکاف کی تین قسمیں ہیں۔واجب، مستحب اور سنت۔
اعتکافِ واجب
نذر کا اعتکاف واجب ہے۔اگر کسی نے یونہی نذر مانی یا کسی شرط کے ساتھ مانی، کہ فلاں کام پورا ہو گیا تو اعتکاف کروں گا، تو یہ اعتکاف پورا کرنا لازم سے ہے۔
اعتکافِ مستحب
رمضان کے اخیر عشرے کے علاوہ جو بھی اعتکاف کیا جاتا ہے وہ مستحب ہے۔ چاہے رمضان کے پہلے اوردوسرے عشرے میں کیا جائے یا کسی اور مہینے میں۔
اعتکافِ سنتِ مؤکّدہ
رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا سنتِ مؤکدہ کفایہ ہے، یعنی مسلمانوں کو بحیثیتِ اجتماعی اس سنت کا اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ احادیث میں اس کی انتہائی تاکید کی گئی ہے۔قرآن میں اس کا ذکر آیا ہے:
’’ولا تباشرون وانتم عاکفون فی المساجد‘‘۔ (البقرۃ،۱۸۷)
(اور تم اپنی عورتوں سے نہ ملو، جب تم مسجدوں میں اعتکاف میں ہو)۔
آپؐ کا متواتر عمل بھی یہی تھا۔اور کفایہ سے مراد یہ ہے کہ اگر مسلمان اس سنت کو اجتماعی طور پر چھوڑ دیں گے تو سب ہی گناہ گارہوں گے اور اگر علاقے کے کچھ لوگ بھی اس کا اہتمام کر لیں گے تو یہ سب کی طرف سے کافی ہو جائے گا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ : ’’نبی اکرمؐ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، ایک سال اعتکاف نہ فرما سکے، تو اگلے سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا‘‘۔ (جامع ترمذی)
افضل ترین اعتکاف
جس طرح افضل ترین نماز مسجدِ حرام میں ادا کی جانے والی نماز ہے، اسی طرح وہ اعتکاف سب سے افضل ہے جو مسجدِ حرام میں کیا جائے، اس کے بعد وہ جو مسجدِ نبوی میں کیا جائے اور اس کے بعد اس اعتکاف کا درجہ ہے جو بیت المقدس میں کیا جائے۔اس کے بعد جامع مسجد میں کیا جانے والا اعتکاف۔ اور اگر جامع مسجد میں نماز باجماعت کا نظم نہ ہو ہر اس مسجد میں اعتکاف کیا جا سکتا ہے جہاں نماز باجماعت کا اہتمام ہوتا ہو۔
اعتکاف کی شرائط
اعتکاف کی چار شرائط ہیں جن کے بغیر اعتکاف صحیح نہیں ۔
(۱ )مسجد میں قیام
مردوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسجد میں اعتکاف کریں۔ مسجد میں قیام کے بغیر مردوں کا اعتکاف صحیح نہیں۔فقہ حنفی میںعورتوں کا اعتکاف ان کے گھروں میں ایک جگہ کو اس غرض کے لیے مخصوص کر لینے سے ہو تا ہے۔ یہ اس لیے کہ عام حالات میں بھی عورت کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ گھر میں نماز ادا کرے حتیٰ کہ جمعہ کی فرضیت مردوں پر ہے لیکن خاتم النبیین ؐ نے فرمایا کہ عورتوں کی گھر کی نماز کا اجرمسجد کی باجالعت نماز اور جمعہ کے برابر ہے۔(روزہ اور ہماری زندگی،ڈاکٹر نذیر احمد، ص۲۱۹)
(۲ )نیت
اعتکاف کی نیت ہونا ضروری ہے۔نیت کے بغیر اعتکاف نہ ہو گا۔
(۳ )حدثِ اکبر سے پاک ہونا
یعنی مرد و خواتین حالتِ جنابت سے پاک ہوں اور خواتین حیض ونفاس سے پاک ہوں۔
(۴) روزہ
اعتکاف میں روزے سے رہنا بھی شرط ہے، البتہ یہ صرف واجب اعتکاف کے لیے ضروری ہے۔ اعتکافِ مستحب میں روزہ شرط نہیں۔ اور اعتکافِ مسنون میں روزہ اس لیے شرط نہیں کہ وہ تو ہوتا ہی رمضان میں ہے۔ (آسان فقہ، محمد یوسف اصلاحی)
اعتکاف کے احکام
رسول اللہ ؐ رمضان کے آخری عشرے میںراتوں کو جاگ کر عبادت فرماتے اور گھر والیوں کو جگاتے ۔اور پورے جوش اور انہماک کے ساتھ خدا کی بندگی میں لگ جاتے۔اعتکاف رمضان المبارک کی بہترین عبادت ہے۔
(۱) اعتکافِ واجب کم سے کم ایک دن کا ہو سکتا ہے، اور اس سے کم نہیں ہو سکتا، اس لیے اعتکافِ واجب میں روزے سے رہنا ضروری ہے۔
(۲) اعتکاف ِ واجب میں روزے سے ہونا ضروری ہے۔ رمضان کا روزہ اعتکاف کے لیے کافی ہے۔
(۳) اعتکاف واجب کی کم سے کم مدت ایک دن ہے، زیادہ کی کوئی قید نہیں۔جتنے دن کی چاہے نیت کر لے۔
(۴) اعتکافِ مستحب کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں، چند منٹ کا اعتکاف بھی کیا جا سکتا ہے۔
(۵) اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے، اس لیے ایک دن کا اعتکاف مغرب سے پہلے شروع ہو گا اور اگلے دن کے روزہ افطار کے ساتھ مکمل ہو گا۔
(۶) اگر کوئی شخص کئی دن کے اعتکاف کی نیت کرے تو اس میں رات شامل سمجھی جائے گی۔ہاں اگر ایک دن کے اعتکاف کی نذر ہو تو صرف دن کا اعتکاف ہی لازم ہو گا، شب واجب نہ ہو گی، کیونکہ اس کی نذر کی نیت یہی ہے۔
(۷) خواتین مسجد کے خواتین کے بنے ہوئے محفوظ حصّے میں اعتکاف کر سکتی ہیں۔ ازواجِ مطہرات کے خیمے مسجدِ نبوی میں لگائے جاتے تھے، آپؓ رسول اللہؐ کے بعد باقاعدگی سے اعتکاف کرتی تھیں۔ فقہ حنفی کے مطابق خواتین گھر میں اعتکاف کرسکتی ہیں۔ ان کے مطابق مسجد میں اعتکاف (خواتین کے لیے) مکروہِ تنزیہی ہے۔ (یعنی اعتکاف ہو جائے گا مگر یہ پسندیدہ نہیں ہے۔)
خواتین گھر کے ایک حصّے کو اعتکاف کے لیے مخصوص کر سکتی ہیں۔
(۸) رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف سنت مؤکّدہ کفایہ ہے، اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ بستی کے کچھ لوگ ضرور اس کا اہتمام کریں۔ اگر بستی میں کوئی شخص بھی اعتکاف نہ کرے تو ساری بستی گناہگار ہوگی۔
(۹) اگر واجب اعتکاف کسی وجہ سے فاسد ہو جائے، (یعنی کسی مجبوری میں توڑنا پڑ جائے، جیسے عورت کا حیض و نفاس، یا کسی بھی معتکف کا مرض، کسی عزیز کی موت یا کوئی حادثہ) تو اس کی قضا واجب ہے۔ البتہ اعتکافِ مسنون اور مستحب کی قضا واجب نہیں۔
اعتکاف شروع ہونے کا وقت
اعتکاف کا مسنون وقت رمضان کی ۲۰ تاریخ کو غروبِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور عید کا چاند نظر آتے ہی ختم ہو جاتا ہے، چاہے چاند ۲۹ رمضان کو نظر آئے یا ۳۰ کو۔
معتکف ۲۰ رمضان کو مغرب سے ذرا پہلے مسجد پہنچ جائے۔ اور خاتون گھر میں اعتکاف بیٹھنا چاہے تو اسی وقت اپنی اعتکاف گاہ میں پہنچ جائے۔اور عید کا چاند نکلنے تک اسی میں رہے۔البتہ اپنی کسی طبعی ضرورت جیسے رفع حاجت یا غسل وغیرہ کے لیے نکل سکتی ہے۔
معتکف اگر ایسی مسجد میں اعتکاف کر رہا ہو جو جامع مسجد نہیں ہے تو وہ جمعہ کی ادائیگی کے لیے قریبی مسجد میں جا سکتا ہے۔
اعتکاف اور قرآن
قرآن ِ کریم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ایک طاق رات جسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے، میں نازل ہونا شروع ہؤا۔ رسول اللہ ؐہر رمضان میں آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے۔ اور ہر رات جبریل امین علیہ السلام آپؐ سے ملتے تھے، ان دنوں آپؐ بھلائی کے معاملہ میںچلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے تھے۔ (متفق علیہ)
حضرت جبریلؑ ہر رمضان میں آپؐ کو قرآن سنایا کرتے، اور جس سال آپؐ کا وصال ہؤا، اس وقت قرآنِ کریم کی تقریباً تکمیل ہو چکی تھی، اور آپؐ نے اس سال بیس (۲۰) دن کا اعتکاف فرمایا اور ان بیس دنوں میں جبریل علیہ السلام نے ایک مرتبہ قرآن کریم کی آپ کے سامنے تلاوت کی اور آپؐ نے جبریل ؑ کو ایک مرتبہ مکمل قرآن سنایا، اور قرآن اسی ترتیب سے سنایا جو آج ہمارے پاس ہے۔یعنی آپؐ نے مکمل قرآن سن اور سنا کر حفاظت اور حفظ دونوں پر مہر لگا دی۔ (روزہ اور ہماری زندگی،انیس احمد،ص۲۲۲)
معتکف کیا نہ کرے
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے اور یہ حدیث متفق علیہ ہے کہ اعتکاف میں سنت یہ ہے کہ معتکف نہ مریض کی عیادت کرے، نہ جنازے میں جائے اور نہ عورت کو ہاتھ لگائے نہ اس کے ساتھ جسم مس کرے۔ اسے اپنی اعتکاف کی حدود سے باہر نہ نکلنا چاہیے سوائے اس کے کہ ایسی حاجت پیش آ جائے کہ مسجد سے باہر نکلے بغیر گزارہ نہ ہو۔جیسے وضو یاغسل کی حاجت، اور مسجد میں اس کا انتظام نہ ہو۔
اعتکاف میں کیا کرے؟
۔ معتکف اللہ کی بندگی کی جانب اپنی توجہ مرکوز رکھے اور تقرب الی اللہ حاصل کرنے کی سعی کرے۔
۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنی زبان کو تر رکھے، اور توجہ کے ساتھ رب الغفور کی جانب متوجہ ہو۔تسبیح وتہلیل میں مشغول رہے۔
۔ قرآن کریم کی تلاوت کرے، اس کے معانی جانے اور قرآن میں تدبّر کرے۔
۔ درود شریف اور قرآنی دعاؤں اور اذکار مسنونہ کا اہتمام کرے۔
۔ دین میں تفقہ اور سمجھ بوجھ پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ اجتماعی مقام پر اعتکاف میں دیگر ساتھیوں کو بھی قرآن، حدیث اور علومِ دینیہ کی تعلیم دینا یا ان سے علم حاصل کرنا۔
۔ وعظ و تبلیغ اور نصیحت اور تلقین کا اہتمام کرنا۔
۔ دینی تصنیف و تالیف کا کام بھی کیا جا سکتا ہے۔
حالتِ اعتکاف میں جائز کام
۔ اگر اعتکاف کے مقام سے قضائے حاجت کے لیے نکلنا پڑے تو قریب ترین مقام سے ضرورت پوری کر کے واپس معتکف (مقامِ اعتکاف) میں پہنچ جائے۔
۔ اگر کوئی کھانا لانے والا نہ ہو تو باہر سے کھانا بھی لایا جا سکتا ہے۔
۔جمعہ کی ادائیگی کے لیے بھی جامع مسجد جایا جا سکتا ہے۔
۔کسی حادثے جیسے آگ لگ جانے ، کنویں میں گر جانے، یا فساد اور بلوے کی صورت میں معتکف سے باہر آنا نہ صرف جائز ہے بلکہ انتہائی ضروری ہے، لیکن اعتکاف بہر حال ٹوٹ جائے گا۔
۔ اگر کسی شرعی ضرورت یا جمعہ کے لیے باہر نکلا اور راستے میں کسی کی عیادت کر لی یا نمازِ جنازہ میں شرکت کرلی تو کوئی حرج نہیں۔
۔اگر شرعی یا طبعی ضرورت کے لیے باہر نکلا اور ضرورت پوری ہوتے ہی واپس معتکف میں پہنچ گیا تو جائز ہے۔
۔ اگر معتکف کو زبردستی نکال دیا جائے، یا باہر روک لیا جائے تو اعتکاف ختم ہو جائے گا۔
۔ اگر کسی کے گھر میں کوئی خرید وفروخت کرنے والا نہ ہو اور گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو تو جائز ہے کہ معتکف بقدرِ ضرورت خرید و فروخت کر لے۔
۔ اذان دینے کے لیے مسجد سے نکلنا بھی جائز ہے۔
۔ اگر اعتکاف سے پہلے کسی جنازہ میں شرکت کرنے کی نیت کر لی تھی تو جنازہ کے لیے نکلنا جائز ہے۔
۔ حالتِ اعتکاف میں کوئی دینی یا طبی مشورہ دینا، نکاح کرنا، سونا اور آرام کرنا جائز ہے۔ (آسان فقہ، ج۲،ص۲۲۶)
اعتکاف اللہ تعالیٰ سے جڑنے اور تعلق بڑھانے کا خاص موقع ہے۔ اس موقع سے خوب فائدہ اٹھانا چاہیے۔یہ قرآن کریم سے تعلق بڑھانے کا بھی بہترین موقع ہے۔اعتکاف کے دوران اپنی اصلاح اور تربیت کا کوئی موقع ضائع نہ کرنا چاہیے۔یہ دن کے عبادت گزار کے لیے رات کو لیلۃ القدر پانے کا بھی بہترین موقع ہے۔ اور اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کی ہدایات اور رسول اللہؐ کی سنت کے مطابق چلانے کا عزم کرنا چاہیے۔معتکف کو اپنی آئندہ زندگی کی منصوبہ بندی بھی انہیں ایام میں کر لینی چاہیے کہ آئندہ وہ اپنے اخلاق، کردار اور معاملات میں کیا بہتری پیدا کرنے کا اہتمام کرے گا۔اور اس خلوت کدے سے باہر آکر اللہ کے دین کو پھیلانے اور معاشرے کے بگاڑ کو دور کرنے کے لیے وہ اپنی مساعی کس طرح لگائے گا۔
اللھم انک عفو کریم تحبّ العفو فاعف عنّی۔ آمین
٭٭٭