صبح کا آسمان بے حد اجلا اجلا سا تھا ۔ آسمان کے وسیع سمندر میں بادلوں کے ہلکے ہلکے ٹکڑے کسی بادبانی کشتی کی مانند ادھر سے اُدھر بھٹک رہے تھے ۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی جوطبیعت میں خوشگواریت کا احساس بھر دیتی تھی ۔ نماز فجر کے بعد میںدوبارہ سونے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے قرآن مجید ہاتھ میں تھامے باہر لان میں آ بیٹھی تھی۔
ملگجے اجالے میں مجھے اپنا سارا گھر اونگھتا سا دکھائی دے رہا تھا ہر سو اللہ کی قدرتوں کی بڑائی اورنوازشوں کے شکرانے کے گیت سنائی دے رہے تھے ۔
درختوںکے پتوں میں سے گھونسلوں میں چھپی ہوئی چڑیاں ھوالرحمٰن الرحیم اللہ کی رحمانیت کے گیت گا رہی تھیں۔زمین آسمان درخت پرندے ہوا پانی سبھی سبحانہ‘ کا ورد کررہے تھے۔ دائودی لحن فضا میں بکھرا ہوا تھا۔ میں نے سورۃ الرحمٰن کی تلاوت شروع کردی ۔ مقدس کتاب کا جادو ہرسوچھا گیا تھا ۔ خاموش روشوں پر نورکی برسات دکھائی دے رہی تھی ۔ اس عظیم کتاب کی ہیبت کا احساس میرے وجود پر چھا رہا تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ سارے ماحول پرچھایا وجد اس کے اوراق کوکھول کھول کر بیان کر رہا تھا ۔
اتنے میں اخباروالے کی ’’ اخبار ‘‘ کی صدا کے ساتھ ہی اخبار گیراج میں آگرا جس نے میرے ارد گرد چھائے طلسم کو یکدم توڑ دیا ۔ میں نے اٹھ کر اخبارپکڑا اوراپنا چشمہ درست کرتے ہوئے اخبارپڑھنا شروع کردیا ۔ یکدم میری نگاہیں ایک خبر پر جم سی گئیں ۔
’’ قرآن پاک کی بے حرمتی کی مجرمہ شمیم بانو جیل میں وفات پا گئی ‘‘۔
کیا شمیم بانو واقعی قرآن کی بے حرمتی کی مرتکب ہوئی تھی ؟ میں نے اس بلند وبرتررب کی کتاب کی طرف دیکھا جس کا ہر لفظ با برکت اور عظمت والا تھا۔ شمیم بانو نے اس کتاب کی بے حرمتی کی تھی مگر میرا دل آج بھی اس بات کو تسلیم کرنے پر تیار نہ تھا۔
مجھے وہ دن آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب ہم جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں ڈاکٹر رفعت صاحبہ اپنا عارضی کلینک کھولے مریضوں کا چیک اپ کر رہی تھیں اور میں اندھے قانون کی قید و بند میں جکڑی کسی مظلوم عورت کی داستان سننے کی منتظر بیٹھی تھی ۔ وہیں پرکسی نے شمیم بانو کومیرے پاس لا کر بٹھا دیا ۔ میں نے اپنے بائیں جانب مڑ کر دیکھا توہلکے پیلے رنگ کے میلے سے لباس میں ایک غریب عورت میرے قریب بیٹھی تھی ۔ سوشل ویلفیئر آفیسر نے مجھے بتایا کہ یہ عورت تو ہین قرآن کی مرتکب ہوئی ہے آپ اس سے پوچھیں کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔
میں غیر ارادی طور پر اس سے کچھ دور ہٹ کربیٹھ گئی ۔ نفرت اور غصے کا ایک ابال سا میرے دل میں اٹھا ، میںنےماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اسے دیکھا ۔
شمیم بانو تیس برس سے کچھ اوپر کی ہو گی ۔ وہ کھوکھلی آنکھوں اورزرد چہرے والی عورت تھی جس کے چہرےکے نقوش کسی دھندلی تصویر کی مانند تھے جنہیں تھوڑی کوشش کے بعد دیکھا جا سکتا تھا ۔ اس کا جسم بھی اس کے چہرے کی طرح دبلا پتلا تھا ۔ بظاہر دیکھنے میں وہ پچاس برس سے اوپر کی معلوم ہوتی تھی جس کے چہرے پر موت کی زردی کھنڈ دی گئی تھی ۔ وہ بولتی تو اس کا چہرہ بالکل سپاٹ رہتا ۔بغوردیکھنے سے معلوم ہوتا کہ اس کے لب ہل رہے ہیں۔
میں نے اس سے پوچھا ’’ کیا تم نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی ہے ؟ ‘‘ تواس نے نہایت مریل سی آواز میں مجھے کہا ’’ میں نے قرآن شریف کی بے حرمتی نہیں کی ، مجھ پر الزام ہے ۔ میں مسلمان ہوں میں اپنی کتاب قرآن شریف کوکیوں پھاڑوں گی کیوں اس کے صفحے کھیتوں میں بکھیروں گی ؟‘‘
میرے ماتھے کی تیوریاں ختم ہوچکی تھیں اب میری آنکھوں میں اس کے لیے ہمدردی تھی ، دکھ تھا ۔
’’ تمہارے ساتھ کیا ہؤا ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ بتاتی ہوں جی !‘‘ وہ نحیف لہجے میں بولی ۔ اس وقت اس کی آواز اس کے وجود کا ساتھ نہیں دےرہی تھی ۔ وہ برسوں کی مریضہ معلوم ہو رہی تھی ۔
’’ میں ایک بیوہ عورت ہوں ۔ ‘‘ وہ گویا ہوئی’’ دور پار کے ایک گائوں سے آئی ہوئی ۔ میرے دو لڑکے ہیں ، شوہرکی وفات کے بعد میں نے گائوں میں اپنی زرعی زمین بیچ دی اورشہر میں آکر بھگت پورہ میں مکان خرید لیا ۔ اتفاق سے مجھے دس مرلے کا مکان اچھی حالت میں کم قیمت میں مل گیا جس کا آدھا حصہ میں نے کرائے پردے دیا تاکہ اس کے کرائے پرگزر بسر ہو سکے میں اپنے دونوں لڑکوں کے ساتھ ، جن کی عمریں دس اوربارہ سال ہیں ،رہنے لگی ۔ میں شہرمیں اس لیے آئی تھی تاکہ میں اپنے بچوں کو پڑھا سکوں ، انہیں اچھی تعلیم دلوا سکوں ۔
’’ شہر میں آکر میں نے دونوں بچوں کوسکول میں داخل کروا دیا ۔ ہمارے محلے میں ظہیر نامی ایک بد معاش رہتا تھا جسے سب جورا جورا کہتے تھے ۔ مجھے بعد میں معلوم ہؤا کہ جس مکان میں میں رہ رہی ہوں اسے جورا خریدنا چاہتا تھا ۔ اس نے مجھ بے سہارا غریب دکھیا کو کمزوردیکھ کر مکان ہتھیانے کے لیے اپنے حربے استعمال کرنے شروع کردیے ۔ اس نے پہلا حربہ میرے بچوں پر آزمایا اورمیرے دونوں بچوں کو سکول سے واپسی پر اپنے اڈے پربلانا شروع کردیا ‘‘۔
’’ اس کا اڈہ کہاں تھا ؟‘‘ میں نے استفسار کیا۔
’’ میرے بچے جب سکول سے گھر کی طرف آتے توراستے میں جورے کی بیٹھک پڑتی تھی جہاں اس کے بد معاش ہر طرح کا غیر قانونی کام کرتے ۔ سر عام جوا کھیلا جاتا ، بھٹیوں میں دیسی شراب بنائی جاتی ، کم عمر لڑکوں کوجیب کاٹنے کے گر سکھائے جاتے ، مختلف علاقوں میں چوری اورڈاکے ڈالنے کے منصوبے بنائے جاتے ۔ لوٹا ہؤا مال اسی بیٹھک میں تقسیم ہوتا ۔ کئی بار رات کو جشن بھی منایا جاتا جس میں کسی طوائف کو بلا کرعلاقے کے با اثرلوگوں اورپولیس والوں کوناچ گانے کی محفل میں شرکت کی دعوت دی جاتی‘‘۔
’’ مگرپولیس مجرا دیکھنے اس بد معاش کے اڈے پرکیوں جاتی تھی ؟ ان کو گرفتارکیوں نہ کرتی تھی ؟‘‘
اس نے حیرت سے مجھے ایسے دیکھا جیسے میں نے کوئی بہت احمقانہ بات کردی ہو۔
’’ جورا اپنے علاقے کا ناظم ہے، اسے کون پکڑے گا ؟‘‘ اس نے میری معلومات میں اضافہ کیا۔
’’ اوہ! ‘‘ میں نے دکھ اورحیرت سے اپنے ہونٹ سکیڑے۔شمیم بانو اپنے حلیے اورچہرے مہرے سے ایک جاہل اور گنوار عورت دکھائی دیتی تھی مگر اس کے بات کرنے کا انداز اورعلاقے کی تفصیلی صورت حال بیان کرنے کا طریقہ کسی پڑھی لکھی عورت جیسا تھا ۔
’’ ان مجرموں پر کون ہاتھ ڈالتا جبکہ پولیس والے ان کے مہمان تھے ۔ پولیس کی سرپرستی میں یہ سب کچھ ہو رہا تھا ‘‘۔
’’ پھر ؟ ‘‘ میں نے متجسس لہجے میں پوچھا۔
’’دونوں بچے سکول سے واپسی پر یا سکول سے چھٹی کر کے جورے کے اڈے پر بیٹھنے لگے ۔ میں گھر میں کھانا رکھے اور ان کا انتظارکرتی رہتی اوروہ وہاں جورے سے جیب کاٹنے کی تربیت حاصل کر رہے ہوتے ۔ مجھے کافی دنوں کےبعد معلوم ہؤا کہ میرے بچے سکول جانے کی بجائے جورے کے اڈے پر جا رہے ہیں ۔میں جورے کے پاس گئی اور اس سے خوب جھگڑا کیا اوراسے خبردارکیا کہ وہ آئندہ میرے بچوں کویہاں پرنہیں بلائے گا ۔ بچوں کی بھی اچھی طرح پٹائی کی، انہیں پیار سے بھی سمجھایا مگر دو ماہ بعد بچے پھر وہاں جانے لگ گئے ۔ میںغریب کیا کرتی ….!‘‘ اس کی آواز کچھ رک سی گئی ۔’’باپ جو سر پرنہیں تھا ‘‘۔
وہ خاموش ہو گئی اور کافی دیر تک خاموش رہی جیسے اپنے شوہر کے مرنے کا سوگ منا رہی ہو ۔ اس کی خشک آنکھیںجیسے کوئی اندوہناک واقعہ دیکھ رہی تھیں۔ اس کا چہرہ خاموش تھا ، اس پر دکھ کی کوئی رمق نہ تھی ، ایک بے حسی تھی جیسے وہ کسی اور کی داستان سنا رہی ہو۔
’’ پھر جورا میرا مستقل دشمن بن گیا ‘‘۔ وہ قدرے توقف سے بولی’’ میں اس کے اڈے پر جا کر اپنے بچوں کو لاتی مگر چند ہی روز بعدوہ انہیں بہلا پھسلا کرپھر بلا لیتا ۔ میں انہیں لینے جاتی تو کہتا کہ یہ اپنی مرضی سے آتے ہیں ، میں نے تو انہیںنہیں بلایا ‘‘۔
اس کی آنکھیں جوواقعہ دیکھ رہی تھیں وہ بمشکل اس کے لبوں پر آیا۔
’’ ایک دن میرا بڑا لڑکا رات کوگھر نہ آیا میںبے چاری اکیلی جگہ جگہ اسے تلاش کرتی رہی‘‘۔وہ پھر خاموش ہو گئی ۔ اس کی تلاش اس کی خاموشی میں کہیں گم ہو گئی تھیں۔
’’ اگلی صبح مجھے پتا چلا کہ وہ جیب کاٹتا ہؤا پکڑا گیا ہے ۔ جب میں تن تنہاتھانے گئی توجورا وہاں بیٹھا تھا ، جورے نے اس کی ضمانت کروائی تھی۔
اس کا ہم پر احسان ہو گیا تھا۔
میراکوئی رشتہ دار نہ تھا ، کوئی ہمدرد نہ تھا ، آخر کار میںنے سوچا کہ میں یہ مکان بیچ دوں، کسی اور جگہ پرمکان خرید لوں تاکہ میرے بچے جورے کے ہتھے چڑھنے سے بچ جائیں ۔ میں یہ مکان جورے کو نہیں دینا چاہتی تھی مگر جورے کونہ جانے کیسے علم ہو گیا کہ میں یہ مکان بیچنا چاہتی ہوں ۔ اس نے میرے اور میرے بچوں کے خلاف چال چلی ۔ یہ دو دن بعد کا واقعہ ہے ‘‘۔ وہ بولتے بولتے رک گئی ۔’’ کیا ہؤا تھا ؟‘‘ میں اب اس کے سامنے آ بیٹھی تھی۔
’’ دودن بعد اچانک صبح سویرے پولیس ہمارے گھر آگئی اور اس نے مجھے اورمیرے دونوں بچوں کو گرفتار کرلیا‘‘۔
’’ کیوں گرفتارکرلیا؟‘‘ میں نے حیرانی سے پوچھا۔
’’ ہم پر الزام تھا کہ ہم نے قرآن شریف کے اوراق پھاڑ کرکھیتوں میں بکھیرے ہیں ، ہم نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی ہے مگر ہم نے ایسانہیںکیا تھا ۔ سردیوں کی راتیں تھیں ہم سب اپنے گھر میں گرم بستروںمیں سوئے پڑے تھے ۔ہم میں سے کوئی بھی گھر سے باہرنہ نکلا تھا ۔
قرآن پاک کا باقی حصہ ہمارے گھرکے صحن میں بکھرا ہؤا تھا وہ قرآن پاک ہمارا نہیں تھا وہ کہاں سے آیا تھا یہ بھی ہمیں معلوم نہیں تھا ‘‘۔
’’ پھر کیا ہؤا؟‘‘ میری آواز دکھ سے بھرا گئی۔
وہ رک رک کر بولنے لگی جیسے جلتا ہؤا دیا یکدم مدھم ہو جائے ۔
’’پھر ہم پرمقدمہ چلا جورے کے آدمیوںنے عدالت میں گواہیاںدیں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے عورت اور اس کے بچوں کو کھیتوںمیںقرآن پاک کے صفحے پھاڑ کر پھینکتے دیکھا ہے ‘‘۔
اس کی آواز میں کوئی زیر و بم نہ تھا ۔ اس کا لہجہ خشک اور آواز خاموش ہو گئی تھی۔
وہ یہ کہانی مجھ سے پہلے بہت سی سوشل ورک ٹیموں کو سنا چکی تھی اس کے لہجے میں کوئی التجا نہ تھی صرف بےحسی تھی اسے معلوم تھا کہ کوئی اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتا اسے سزا سنائی جاچکی تھی۔
میں نے اس کی خالی آنکھوں والے دھندلے سے چہرے کو دیکھاجس میں سے امید کے سارے رنگ اڑ چکے تھے۔ میں اس چہرے میں سے سچائی تلاش کر رہی تھی مگر وہ وقت سے پہلے ہی مرجھا چکا تھا، بے جان ہو گیا تھا ۔ اسے شاید اپنی موت کا علم ہوچکا تھا ۔ وہ اپنی کہانی سنا کر اٹھی وہ باہر چلی گئی جیسے کوئی اپنی ڈیوٹی ادا کر کے چلا جائے۔
آج بہت دنوں کے بعد اخبار میں اس کی وفات کی خبر پڑھ کر میں اپنے آپ سے سوال کر رہی تھی کہ کیا شمیم بانو بے گناہ تھی ؟ اور اگر وہ واقعی بے گناہ تھی تو کیا اس قانون کا غلط استعمال کر کے اس پر ظلم کرنے والے خداکی پکڑ سے بچ سکیں گے ؟
میں نے اخبار کے دوسرے صفحات پلٹے تو اخبار کے ہر صفحے پر قرآن کی بے حرمتیوں کی داستانیں رقم تھیں ۔ عورتوں کی نیم عریاں تصاویر ، کروڑ پتی بننے اورلاٹری کے اشتہارات دھوکا دہی سودو رشوت خوری ، سیاسی اکابرین کے جھوٹے اورمنافقت پر مبنی بیانات ، زنا، اقربا پروری ، ناپ تول میں کمی بے جا نمودو نمائش جیسی برائیوں کی خبریں اخبار کے ہرصفحے پر موجود تھیں۔
شادی بیاہ پر بے جا اسراف ، مختلف رسومات میں اسلامی کلچر کی بجائے ہندوانہ اور مغربی کلچر کواپنانا، سرکاری تقریبات اور جشن بہاراں کے نام پر لہو ولعب کی محفلیں سجانے جیسی بے شمار خبریں ۔
کیا یہ سب قرآن کی بے حرمتی نہیں….کیا یہ قرآنی احکامات کی بے حرمتی نہیں ؟ کیا صرف شمیم بانو ہی اس گناہ کی مرتکب ہوئی تھی کہ اس نے قرآن کے صفحات کو پھاڑ پھینکا تھا ؟
اور ہم سب جو بہت فخر سے اپنے آپ کو سچے مسلمان کہلوا رہے ہیں کیا ہم کسی معاملے میں بھی قرآن کے صفحات پر رقم الفاظ کی بے حرمتی کے مرتکب نہیں ہو رہے ؟ ہم نے تو قرآنی احکامات کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔
شمیم بانو کے لیے تو موت کی سزا تجویز کی گئی تھی مگر اسلامی معاشرے کا ہر فرد جو توہین قرآن کا مرتکب ہے وہ بڑی ڈھٹائی سے آزاد گھوم پھر رہا ہے ۔ کہیں ہم سب کسی اکٹھی پکڑ میں تو نہیںآنے والے ؟ میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے…. شاید شمیم بانو کا اصل جرم اس کی غربت، مسکینی اور بے بسی تھی ۔ میری نگاہیں دوبارہ شمیم بانو کی خبر پرجم گئی تھیں ۔ وہ یقینا ً بے گناہ تھی ۔ اسے کوئی بھی رہائی نہیں دلا سکتا تھا ۔ اس نے دنیا کے بے انصاف قانون کو ٹھکرا دیا تھا ۔ وہ دنیاوی جیل کی آہنی سلاخوں سے آزاد ہو گئی تھی ۔ مگر اس کے بچوں کا کیا بنے گا ؟ وہ بھی تو جیل میں تھے کیا جورا اپنی چال میں کامیاب ہو چکا تھا ؟ بہت سے سوالات میرے ذہن میں گردش کرنے لگے دس بارہ سالہ ملازم لڑکامیری میز پر چائے کا مگ رکھ کر جا چکا تھا ۔
موسم یکدم بدل گیا ۔ شمال کی جانب سے گھنگھور گھٹائیں اٹھیں اورچھا گئیں ۔ آسمان کالے بادلوںسے بھر گیا ۔ تیز ہوائوں نے ساری فضا کو ٹھنڈا کردیا تھا ۔ آناً فاناً بادل گرجنے لگے اور مینہ کے بڑے بڑے قطرے گرنے لگے۔
میں تیزی سے کرسی سے اٹھی ۔ میری میز پر قرآن پاک، اخبار چائے کا مگ اور میرا چشمہ پڑا تھا ۔
میں نے چیزیںسمیٹنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو کسی دورافتادہ گائوں سے آیا ہؤا جاہل ان پڑھ ملازم لڑکا جسے ابھی چند روز ہوئے میںنے ملازم رکھا تھا بہت سرعت سے میرے قریب آیا ۔ اس کے ہاتھ میں صاف ستھرا رومال تھا ۔ اس نے میز پر سے قرآن پاک اٹھایا ، رومال میں لپیٹا اوراسی تیزی سے واپس برآمدےکی طرف مڑ گیا۔
میں نے جلدی جلدی بقایا اشیاء سمیٹیں اور برآمدےمیں آ کھڑی ہوئی ۔ موسلا دھار بارش شروع ہوچکی تھی ۔ بادل پوری قوت سے گرج رہے تھے جیسے زمین والوں کوکوئی وعید سنانا چاہتےہوں۔ میںبرآمدے میں بے وقعت معمولی اشیاء ہاتھ میں پکڑے کھڑی تھی ۔مجھے ایسے لگا جیسے شمیم بانواپنی بے گناہی کے ثبوت کے طور پر جزدان میں لپٹا ہؤا قرآن ہاتھ میں تھامے میرے پہلو میں آ کھڑی ہوئی ہے۔
٭ ٭ ٭

