تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
شاعر مشرق، مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا یہ مشہور زمانہ شعر جتنا ہمارے ماضی کے حالات پر صادق آتا ہے اتنا ہی ہمارے موجودہ حالات کی عکاسی کرتا ہے ۔بلکہ آج کے دور میں تو اس شعر کی تفسیر زیادہ عیاں و آشکارا ہوتی ہے ۔
مرگِ مقاجات سے مراد نا گہانی یا اچانک موت ہے ۔ اس شعر میں علامہ نے ہمیں سمجھایا ہے کہ جوقومیں کمزوری ، کم ہمتی اور عدم اعتماد کا شکار ہو جاتی ہیں انہیںبڑی طاقتیں زیر کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔انہیں اپنا دستِ نگر بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔
کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو
کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہانی
اور
دلِ مردہ دل نہیںہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ
آج کے دور میں سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام بے حد ضروری ہے ۔ معاشی استحکام بغیر کسی ملک یا سلطنت کا قائم رہنا مشکل ہو جاتا ہے اورجب وہ ملک دیوالیہ پن کا شکار ہوتا ہے تو پھر ذلت و خواری کا سامنا کرناپڑتا ہے ۔
بنیاد لرز جائے جو دیوارِ چمن کی
ظاہر ہے کہ انجام گلستاں کا ہے آغاز
پھران مجبور ممالک کوامیر ممالک کے سامنے دستِ احتیاج پھیلا نا پڑتا ہے گویا کشکول لے کر ان کے پاس جانا پڑتا ہے ۔ان کی منتیںکرنا پڑتی ہیں۔ آج کے دور میں ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف قائم ہیں جن کے پاس قرض حاصل کرنے کے لیے مجبور ممالک کو جانا پڑتا ہے پھر ان کی من مانی شرائط کو مان کر ہی قرضہ حاصل ہوتا ہے ۔ اور پھر قرض کاایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے بلکہ پھر یہ ممالک سود کے ایک موذی جال میں پھنس جاتے ہیں جیسے مکڑی کے جالے میں مکھی پھنس جاتی ہے ۔ پھر اس شکنجے سے نکلنا محال ہو جاتا ہے ۔ ہرسال سود ادا کرنے کے لیے پھرسے قرضے لینا پڑتے ہیں ۔ پھر آئی ایم ایف اپنی کڑی شرائط پر قرض دینے پر راضی ہوتا ہے کہ نئے ٹیکس لگائیں ، بجلی مہنگی کریں ، گیس مہنگی کریں، عوام کو سبسڈی نہ دیں عوام مہنگائی کی چکی میںپس جاتے ہیں۔ عوام کوجان کے لالے پڑ جاتے ہیں ۔ بچوںکا پیٹ پالنا ان کو تعلیم دلانا محال ہوجاتا ہے۔
حاجت سے مجبور مردانِ آزاد
کرتی ہے حاجت شیروں کو روباہ
اور
جاں بھی گروِ غیر بدن بھی گروِ غیر
افسوس کہ باقی نہ مکاںہے نہ مکیں ہے
آئی ایم ایف کے چنگل سے صرف وہ قومیں نکل سکتی ہیں جو محنت کریں۔ ملک میںصنعتی ترقی پر زور دیا جائے ۔ زرعی پیداوار بڑھائی جائے ۔ درآمدات پر انحصار کم سے کم کیا جائے اور برآمدات کی مقدار بڑھائی جائے ۔ زیادہ سے زیادہ زر مبادلہ کمایا جائے ۔ اس طرح آہستہ آہستہ آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کی کوشش کی جائے لیکن اگر قوم بیدار نہ ہو ملک کے لیڈر مخلص اور دیانتدار نہ ہوں ۔ملک سے کرپشن اور بددیانتی کا خاتمہ نہ کیا جائے ۔ تو ملک دن بدن مقروض ہوتا جاتا ہے معاشی لحاظ سے کھوکھلا ہوتا جاتا ہے اور پھر اس کے دیوالیہ ہونے کاخطرہ پیدا ہو جاتا ہے جو کہ ایک خطر ناک صورت حال ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہر ملک کو اس صورت حال سے بچائے۔
ڈارون نے جو بات کرخت اورتلخ لہجے میںکہی تھی Survival of the fittest( طاقتور کی بقا اور کمزورکی موت )کہ طاقت ور جا نو ر کمزورجانوروں کو کھا جاتے ہیں۔ طاقتور قومیںکمزور قوموںکو تباہ کر دیتی ہیں۔ یہی بات علامہ اقبال نے ہمیںمہذب طریقے سے سمجھائی ہے کہ :
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
پرندوں میں عقاب کی شان اور آن بان ہی نرالی ہے وہ بلند فضائوںمیں پرواز کرتا ہے اور اپنے پنجوں سے تازہ شکار خود حاصل کرتا ہے ۔
جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
دوسری طرف کر گس( گدھ) ہے جو مردہ جانوروں کا گوشت کھاتا ہے اور یوں وہ بہت کمزور درجے پر آجاتا ہے ۔ جنگل میںشیر جوانمردی سے اپنا شکار خود کرتا ہے اور کھاتا ہے پھر اُس کے چھوڑے ہوئے گوشت کو لومڑی اور دوسرے جانور کھاتے ہیں ۔
علامہ کا یہ شعر جیسے زمانہ حال پر صادق آتا ہے ۔ اس سے زیادہ ہمارے ماضی کے حالات کی عکاسی کرتا ہے ۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ کبھی مسلمان دنیا کے ایک بڑے حصے پر حکومت کرتے تھے مسلمانوںنے کم لشکر کے ساتھ قیصر و کسریٰ کی عظیم سلطنتیں فتح کیں۔
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پائوںمیںتاجِ سردارا
خلیفہ دوم حضرت عمر ؓ کا رعب دبدبہ دشمنوںپر اس طرح طاری تھا کہ وہ آپ کا نام سن کر کانپ جاتے تھے ۔ لیکن جب ایک دفعہ روم کے بادشاہ نے اپنا ایک ایلچی عرب بھیجا کہ جا کر حضرت عمر ؓ کے حالات کا جائزہ لے ۔ وہ مدینے پہنچا ۔ پوچھا آپ کے خلیفہ عمرؓ کہاں ہیں انہیں بتایاگیا جب وہ وہاںپہنچا تو دیکھا حضرت عمر زمین لیٹے ہوئے ہیں ، ہاتھوںکا تکیہ بنایا ہؤا ۔ ایلچی حیران ہؤا کہ کوئی سپاہی ان کی حفاظت کے لیے موجودنہیں لیکن سوچنے لگا کہ جس قوم کا خلیفہ ایسا ہو گا وہ واقعی دنیا کو فتح کر سکتی ہے ۔
حضرت خالد بن ولید جیسے عظیم جرنیل نے قلیل لشکر کے ساتھ روم کے ایک بہت بڑے لشکر کو جنگ یرموک میں شکست فاش سے در چار کیا۔ یہ کیوں تھا۔ کیونکہ ان دنوں مسلمانوں کے اندر جذبہ ایمانی تازہ تھا ۔ ایک ولولہ تھا جوش تھا ۔ خدا پر ایمان پختہ تھا ۔
نو عمر مسلم جرنیل محمد بن قاسم طویل سفر کر کے ایک چھوٹے سے لشکر کے ساتھ ہندوستان آیا اور یہاں ایک عظیم مہاراجہ داہر کوشکست سے دو چار کیا اورہندوستان میںاسلامی سلطنت کی بنیاد رکھی۔
قبضے میںیہ تلوار بھی آجا ئے تو مومن
یا خالد جانباز ہے یا حیدر کرار
اور
مٹایا قیصرو کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا زور حیدر فقر بو ذر صدقِ سلمانی
طارق بن زیاد نے چند ہزار مجاہدین کے ساتھ سمندر عبور کر کے سپین پر حملہ کیا اور وہاں عظیم فتح حاصل کر کے ایک عظیم الشان اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھ دی ۔
اے گلستانِ اندلس وہ دن ہیں یاد تجھ کو
تھا تیری ڈالیوں پر جب آشیاں ہمارا
اسی طرح ایران کو فتح کیا گیا ۔ادھر محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری نے ہندوستان میں اسلامی سلطنت کے قیام کی راہموارکی۔ شام ، عراق ، مصر اورافریقہ کے دیگر علاقوںکو فتح کر کے اسلامی سلطنت میں شامل کیا گیا لیکن یہ تب تھا۔
جس سمت میں چاہے صفتِ سیل رواں چل
وادی یہ ہماری ہے وہ صحرا بھی ہمارا
مسلمانوںنے دنیا میں بہت عروج پایا ۔ لیکن پھر ہر کمالے را زوال،پھر ہوا کا رخ بدل گیا ۔ جب مسلمان حکمران عیش و عشرت میںپڑ گئے ۔کاہلی کا شکار ہو گئے تو ان کا ہر ملک میں زوال شروع ہو گیا۔
سپین میں مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک نہایت تزک و احتشام کے ساتھ حکومت کی لیکن آخر وہ وقت بھی آگیا جب آخری مسلمان حکمران ابو عبد اللہ نےجو کہ فطرتاً کم ہمت اوربزدل تھا اپنے ہاتھوں سے غرناطہ کی چابیاں عیسائی ملکہ ازابیلا کے حوالے کیں اور خود بے سرو سامانی کے عالم میں محل سے نکل کے روانہ ہؤا۔ماں ساتھ تھی ۔ تھوڑی دور جا کے ابو عبد اللہ نے پیچھے مڑ کے اپنے محل کو دیکھا تو آنکھوں سے آنسو نکل آئے تو ماںنے کہا ’’ بیٹا جس محل کی حفاظت تم مرد بن کر نہیںکر سکے اب اسے دیکھ کر عورتوںکی طرح آنسو کیوں بہاتے ہو؟‘‘
اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ کس طرح مسلمانوںکو یا تو قتل کیا گیا یا انہیںکشتیوں میں بٹھا کر واپس افریقہ روانہ کر دیا گیا ۔ اور یوںسپین میں ایک عظیم الشان اسلامی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا ۔ یہ کیا تھا ۔ جرم ضعیفی کی سزا ہی تو تھی ۔ جب مسلمان حکمران غافل ہو گئے کمزور ہو گئے تو حکومت ان سےچھن گئی آج بھی عظیم مسجد قرطبہ اور قصر الحمرا سپین میں اسلامی جاہ و جلال کی نشانیوںکے طور پر موجود ہیں۔
یہی کچھ ادھر ہندوستان میں ہؤا جب سلطنت مغلیہ کمزور ہو گئی اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی حکومت عملی طور پر صرف لال قلعہ کے اندر رہ گئی اور بادشاہ خود بھی شعر و شاعری کے شغل سے دل بہلاتا رہتا۔ تو پھر انجام یہ ہؤا انگریزوںنے حملہ کر کے تخت دہلی پہ آسانی کے ساتھ قبضہ کرلیا ۔ اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ بادشاہ کے بیٹوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے دستر خوان میںپیش کیے گئے ۔ یہ تھی جرم ضعیفی کی سزا ۔ اور پھر بادشاہ کو نظر بند کر کے کالے پانی بھیج دیا گیا جہاں غریب الوطنی میںاس کی وفات ہوئی۔ سلطنت بغداد بھی عروج پر رہی لیکن جب مسلمان خلفا عیش و عشرت میں پڑ گئے اور سلطنت سے غافل ہو گئے، حکومت کمزور ہو گئی تو ہلاکوخان نے حملہ آور ہو کر بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ قتل و غارت کابازار گرم کیا ۔ خود آخری خلیفہ کو بوری میں بند کروا کے گھوڑوں کے سموںکے نیچے کچل دیا ۔ یہ تھی سزا جرم ضعیفی کی ۔
یہی کچھ ترکی میں ہؤا۔ جب حکومت مضبوط نہ رہی تو عظیم سلطنت عثمانیہ کو جنگ عظیم اول کے بعد ختم کردیا گیا ۔
نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میںرہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میںتڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں
پھر لوٹتے ہیںدور حاضر کی طرف ۔ آج بھی یہی صورت ہے۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرار بولہبی
بڑی طاقتیں مسلمان ملکوںکوستاتی رہتی ہیں ۔ ملک شام کو کتنے سال تک انتشار اورخانہ جنگی کا شکار بنایا گیا ۔ اورخوب نقصان پہنچایا گیا۔ لیبیا جیسے مضبوط ملک کوجہاں ایک مضبوط حکمران کرنل قذافی کی حکومت تھی اسے بھی انتشار کا شکاربنا کے تباہ کیاگیا ۔ کرنل قذافی اور اُس کے بیٹے کو قتل کرادیا گیا ۔ ادھر عراق میں صدام حسین کی مضبوط حکومت کو سازش کے تحت ختم کیا گیا ۔ صدام حسین کو پھانسی لگا دیا گیا ۔ اس کے بیٹوںکو قتل کردیا گیا عراق کو اندرونی طور پر کمزور کردیا گیا ۔ مصر میں بھی کئی دفعہ انتشار کی فضا پیدا کی گئی افغانستان کو بری طرح تباہ کیا گیا ۔پہلے روس حملہ آور ہؤا تھا پھر دوسری دفعہ امریکہ نے چڑھائی کردی اورکئی سال افغانستان پہ قابض رہا۔ ان سب کارروائیوںکامقصد عالم اسلام کو کمزور کرنا اوردبا کے رکھنا تھا ۔
مسلمان ممالک کو متحد، مضبوط ہونا پڑے گا ۔ معاشی طور پر مستحکم ہونا ہوگا ۔ جب سے پاکستان نے ایٹم بم کا دھماکہ کرلیا ہے اب ہندوستان ہمیں آنکھیں دکھانے کے قابل نہیںرہا اور حملہ کرنے کی جسارت نہیں کرتا۔
لیکن افسوس مقبوضہ کشمیر میںہندوستان نے وہاں کے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے ۔ ان پر ظلم و ستم کرنے کے لیے نو لاکھ فوج وہاں رکھی ہے ۔ آئے روز وہاں مسلمانوںکوقتل کیا جاتا ہے ۔ جیلوں میں ڈالا جاتا ہے ۔انہیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کےرکھا ہؤا ہے ۔ وجہ یہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میںمسلمان مجبور ولاچار ہیں وہ نہتے ہیںان کے پاس بھی اسلحہ ہو تو ہندو فوج کی جرأت نہیں کہ ان پر گولی چلا سکے ۔
اور اب آئیں کچھ ذکر فلسطین کا جہاں آج کل اسرائیل نے ظلم وستم کی انتہا کردی ہے۔ روزانہ فلسطینی مسلمان پر بم باری کی جاتی ہے ۔ راکٹوںکی بارش کی جاتی ہے حتیٰ کہ ان کے ہسپتالوں،سکولوں،گھروںپر بھی بمباری کی جاتی ہے ۔ آج (11 نومبر23)تک کم از کم گیارہ ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں ۔ جن میں بہت زیادہ تعداد بچوںاورعورتوںکی ہے ۔کہا گیا ہے کہ وہاں ہر دس منٹ بعد ایک بچہ شہید کیا جا رہا ہے ۔ گھر تباہ کر دیے گئے ہیں ۔ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوگئے ہیں ۔ وہاں پینے کا پانی کمیاب ہے۔ کھانے کے لیے خوراک نہیں۔ بجلی سے محروم کیے جا رہے ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے فلسطین پر اتنےبم برسا دیے ہیںکہ 2 ایٹم بم کے برابربمباری ہو چکی ہے ۔
فلسطینی زخموں سے کراہ رہے ہیں۔ اسرائیل کو امریکہ اور دوسری بڑی طاقتوںکی شہ حاصل ہے ۔ کاش کہ فلسطینیوںکے پاس اسلحہ بارود ، بم ، راکٹ ہوںتاکہ وہ صیہونی حملوں کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔ ابھی بھی ان کے جذبہ حریت کو سلام کہ وہ اتنے طاقت ور دشمن کے آگے سر نہیں جھکا رہے بلکہ ڈٹے ہوئے ہیں ۔ لیکن اسلامی ممالک کو عملی طور پر مظلوم فلسطینیوں کی مدد کے لیے آگے بڑھنا چاہیے تاکہ اسرائیل کو کچھ تو ڈر ہو ۔ ایران اور ترک ڈٹ کے فلسطین کے حق میںبیان دیتے رہتے ہیں ۔ سعودی عرب اور پاکستان بھی کھل کر اخلاقی اورسیاسی حمایت کر رہا ہے ۔ لیکن اس وقت کچھ زیادہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فلسطینی اپنے وطن میںمحفوظ زندگی گزار سکیں ۔ ایک تو اسرائیل نے فلسطینیوں کی سر زمین پرغاصبانہ قبضہ کیا ہؤا ہے اور پھر ان پر ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ دعا ہے کہ یہ ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہو، آمین۔ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کوواپس دی جائے یاا سے یو این او کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے تاکہ مسلمان وہاںجا کر آزادی سے عبادت کر سکیں۔
لیکن بات یہیں آکے ختم ہوتی ہے کہ مسلمان ممالک کو مضبوط ، مستحکم ،متحد اور دفاعی لحاظ سے اتنا مضبوط ہونا پڑے گا کہ کوئی غیر مسلم قوت ان کی طرف بڑھنے کا سوچ بھی نہ سکے ۔ علامہ اقبال ؒ نے یہودیوں کےبارے میں صحیح فرمایا تھا۔
وہ یہودی فتنہ گر، وہ روحِ مزدک کابروز
ہرقبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تار
علامہ اقبال ؒ کے اس ولولہ انگیز شعر پراختتام کرتا ہوں
دے ولولۂ شوق جسے لذتِ پرواز
کر سکتا ہے وہ ذرہ مہ و مہر کو تاراج
٭٭٭

