غنچہ وگل کی آبیاری بچوں کی تربیت کے لیے چند اہم نکات – کوثر خان

کوئی تبصرہ نہیں

بچوں کی تربیت والدین کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ اولاد اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے،اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا اس کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا نعمت کی شکر گزاری ہے اور نعمتوں کا اپنی مرضی سے استعمال کرنا اور غفلت برتنا ناشکری ہے۔کسی دانا کا قول ہے:
’’ تعلیم کی کمی کو تربیت ڈھانپ لیتی ہے لیکن تربیت کی کمی کو تعلیم پورا نہیں کرسکتی‘‘۔
آ ج کے اس پرفتن دور میں والدین کے لیے خاص طور پر ماؤں کے لیے بہت توجہ اور محنت سے بچوں کی تربیت کی ضرورت ہے، کیونکہ میڈیا کے اس دور میں بچوں کے بگڑنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ خاص طور پر موبائل تک رسائی نے نئی نسل کو بہت تیزی سے بے راہ روی کی طرف گامزن کردیا ہے۔ موبائل اپنے فوائد کے ساتھ ساتھ ایک سحر انگیز اور ہلاکت خیز آلہ بھی ہے۔اس سے فرار بھی ممکن نہیں اور اس کے استعمال پر مطمئن بھی نہیں رہا جا سکتا۔مائیں بچوں کو موبائل دے کر بے فکر ہوجاتی ہیں۔ انہیں یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ آلہ بچوں کے لیے کس قدر تباہی لا سکتا ہے۔
بچوں کی تربیت کے حوالے سے چند اہم اصول والدین کی رہنمائی کے لیے رکھنا چاہوں گی ۔
1: بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دین کا صحیح شعور ہلکے پھلکے انداز میں ان کی عمر کے لحاظ سے ضرور دیں ۔ اس کے لیے چھوٹی چھوٹی دعائیں او ر اچھی اچھی نظمیں یاد کروائیں اور پیار محبت سے ان پر عمل بھی کروائیں۔ اس کے لیے والدین کو خود رول ماڈل بننا ہوگا۔
2: بچوں کا ادب کریں ۔ ان کی عزت نفس کا خیال کریں۔ ان کو کسی کے سامنے نہ ڈانٹیں نہ برا بھلاکہیں۔ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
3:ڈانٹتے وقت بھی بچوں کے ساتھ غلط الفاظ کا استعمال نہ کریں ۔ مثلا اگر بچے نے جھوٹ بولا ہے تو یوں نہ کہیں کہ’’آپ نے جھوٹ بولا ہے‘‘ بلکہ یوں کہیں کہ’’آپ نے غلط بات کہی ہے‘‘۔
4: بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی نماز کی اہمیت بتائیں اور نماز کی طرف راغب کریں ۔
5:بچوں کی عمر اور دلچسپی کی مناسبت سے ان کو کھلونے اور مصروفیات دیں تاکہ موبائل کی طرف ان کا دھیان کم سے کم ہو۔ مو بائل کم وقت کے لیے دیں اور غیر محسوس طریقے سے ان کی نگرانی کرتے رہیں۔
6: ماؤں کو چاہیے بچوں کے سامنے خود بھی موبائل کا استعمال کم کریں تاکہ بچے کے لیے بھی اس میں کشش کم ہو۔
7:بچوں کے دوستوں اور انداز گفتگو پر نظر رکھیں۔
8:بچوں کو ویلنٹائن ڈے اور اس طرح کی دوسری خرافات کے بارے میں آگاہی دیں کہ یہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے۔
9: بچوں کو ان کی عمر کے لحاظ سے ہلکے پھلکے انداز میں جنت اور دوزخ کے بارے میں بتائیں تاکہ ان میں اچھے کاموں کی طرف رغبت اور برے کاموں سے ناپسندیدگی پیدا ہو۔
10: بچوں میں غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کا احساس پیدا کریں اور ان کے ہاتھ سے غریبوں کو صدقہ دلوائیں۔
11:بچوں کو وقت دیں۔ اسکول سے آنے کے بعد اسکول کی روداد بھی سنیں تاکہ اندازہ ہو کہ بچے کو اسکول میں کیا ماحول مل رہا ہے؟ یہ ایک پودا ہے اس کو سینچنا اور پروان چڑھانا والدین کی ذمہ داری ہے تاکہ کل کو یہ والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون بن سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ اس دعا کا بھی اہتمام کرتے رہیں۔
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
کیونکہ اللہ کی مدد کے بغیر ہم اپنے بچوں کی درست خطوط پر تربیت میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔
٭٭٭

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp