۲۰۲۲ بتول مئی

پریشان کن حالات سے چھٹکارا حاصل کریں – بتول مئی ۲۰۲۲

غصہ ، پریشانی ، چڑچڑاہٹ یہ سب ہماری معمول کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ تنازعات ، اختلافات، کام کا دبائو بعض اوقات ہم سب کے لیے پریشان کن ثابت ہوتا ہے۔ خوشی قسمتی سے انسان چاہے تو ان پر بہت حد تک قابو پا سکتا ہے۔ اصل کام یہ ہے کہ آپ ان حالات سے کس انداز میں نمٹتے ہیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ایسا رویہ اختیار کریں کہ حالات بہتری کی جانب بڑھیں ۔ یقینا اُس کے لیے ہمیں ضروری معلومات کے ساتھ عملی طور پر کچھ چیزوں کی مشق کرنا ہو گی۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ پریشان کن لمحات سے باہر آنے کے لیے ماہرین کیا مشورے دیتے ہیں۔
دس تک کی الٹی گنتی
کسی کے ناپسندیدہ عمل پر غصہ آنا فطری ہے۔ جب آپ کو لگے کہ غصے کی کیفیت بڑھ رہی ہے تو سب سے پہلے دس تک الٹی گنتی گنیں۔ اس سے آپ کے احساسات اور دماغ کو کچھ وقت مل جائے گا۔ جب آپ گنتی گن رہے ہوں تو آپ کو تصور کرنا ہو گا کہ ہر عدد کے دوران آپ کے غصے میں کمی آ رہی ہے۔ یہاں تک کہ جب آپ ایک پر پہنچیں تو آپ کے اعصاب…

مزید پڑھیں

ابتدا تیرے نام سے – بتول مئی ۲۰۲۲

قارئین کرام! سلام مسنون
رمضان المبارک کی رخصت کی گھڑیوں میں آپ سے مخاطب ہوں۔ گزشتہ ایک ماہ میں قومی منظر نامے پہ بڑی بڑی تبدیلیاں ظہور پذیر ہوئی ہیں۔ حکومت تبدیل ہوئی ، عوامی مزاج بدلا، اداروں کی ساکھ مجروح ہوئی، قومی سلامتی اور خودمختاری پر سوالات اٹھے۔ایک بحرانی کیفیت ہے۔ ہر کوئی آئینی تقاضوں کی اپنی اپنی تشریح پر عمل پیرا ہے۔اگرتو اس خفیہ مراسلے میں پاکستان سے اظہارِ ناراضگی کے ساتھ حکومت ہٹانے کابھی ذکرموجود ہے تو پھر معاملہ محض مداخلت کا نہیں کیونکہ وقت کی مطابقت ہے اور ساتھ امریکی ملاقاتوں کے شواہدبھی موجود ہیں۔بہرحال عمران خان نے اس پر تحقیقاتی کمیشن اور سپریم کورٹ کی کھلی سماعت کا مطالبہ کیا ہے ، ملتا جلتاموقف جماعت اسلامی کا بھی ہے ۔محرکات مشکوک سہی مگر پہلی بار پارلیمانی عمل کے ذریعے وزیر اعظم کو ہٹایا گیا ہے ۔ افغانستان کی طرف سے حالات خراب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔تین دن کے اندر حکومت آئی ایم ایف کے پاس منت سماجت کرنے اور پیسہ مانگنے پہنچ گئی ہے، بجلی اور تیل کی قیمتیں بڑھانے اور سبسڈی ختم کرنے کو اپنی کامیابی کہہ رہی ہے۔انتخابی اصلاحات کا شور مچا ہؤا ہے تاکہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہؤا جاسکے۔ ای وی…

مزید پڑھیں

عہدِ نبویؐ میں نظام تعلیم – بتول مئی ۲۰۲۲

عہدِ نبویؐ میںمسجد کا کردار
تعمیرات کے باب میںہم دیکھ آئے ہیں کہ آپؐ نے ہجرت کے بعد سب سے پہلے جس بات کی طرف توجہ دی وہ مسجد کی تعمیر تھی ۔ مسجد نبویؐ جس جگہ تعمیر ہوئی اس کے بارے میں روایات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں آپؐ کی ہجرت سے قبل نمازپڑھائی جاتی تھی ۔ اسلامی معاشرے میں مسجد کا کردار بہت اہم ہے ۔ آپ ؐ نے نئے معاشرے کی تعمیر کے لیے جو پہلی اینٹ رکھی وہ مسجد ہی تھی ۔ مسجداسلامی معاشرے میں روحانی اورمادی رہنمائی کا اولین سر چشمہ ہے ۔ مسجد عبادت گاہ ، علم کامرکز و منبع اور ادب کی مجلس ہے ۔
اسلام کے دورِ اوّل میں مسجد نبوی بطور مدرسہ استعمال ہوتی تھی ۔ معاشرے کے لیے تمام کوششیں اسی مسجد سے وابستہ تھیں ۔ مسجد ایک اجتماعی ادارہ ہے ۔ مسجد ایک تعلیم گاہ ہے ۔ مسجد ایک تربیت گاہ ہے ۔ نبی کریم ؐ اسی مسجد میں صحابہ کرام ؓ کوتعلیم دیتے تھے۔
یہاںعلمی و قانونی مسائل پر بحث کی جاتی تھی ، قرآنی نکتوں کی وضاحت ہوتی تھی ، یہاں جانثارانِ رسولؐ اکٹھا ہو کر اپنے دامنوں کو علم کے جواہر سے آراستہ کرتے…

مزید پڑھیں

اِک تیرے آنے سے پہلے – بتول مئی ۲۰۲۲

تینوں بچیوںکو سکول بھیج کر اب جمیلہ گھر کے کاموں میں لگی ہوئی تھی۔ میلے کپڑے سمیٹ کر اس نے ٹب میں ڈالے اور سرف ڈال کر بھگونے رکھ دیئے اور کھانا پکانے کی تیاری کرنے لگی۔ سبزی وہ گلی میں آنے والے سبزی والے سے پہلے ہی خرید چکی تھی۔ اس نے چھری اور ٹوکری لی اور کچن کے ساتھ برآمدے میں بیٹھ کر سبزی کاٹنے لگی۔
جمیلہ کے ہاتھ تیزی تیز چل رہے تھے۔ ہنڈیا چڑھا کر ابھی برتن دھونے تھے اور پھر جھاڑو بھی لگانی تھی اور وہ چاہتی تھی یہ سارے کام وہ چھوٹو کے اٹھنے سے پہلے پہلے کر لے جوکہ ناممکن تھا۔ لیکن سوچنے میں کوئی حرج تو نہیں تھا۔ ہاتھ اس کے سبزی بنا رہے تھے اور دماغ ڈھیروں کاموں میں الجھا ہؤا تھا۔ آج تو کپڑے بھی زیادہ تھے۔ کل کپڑے دھونے کی ہمت ہی نہیں تھی۔ لہٰذا آج اس نے پہلے ہی کپڑے بھگو دیے تھے۔
دوسری طرف چھوٹو کی طرف بھی دھیان لگا ہوا تھا۔ ڈیڑھ سالہ سفیان جسے پیار سے سب چھوٹو کہتے تھے بہت شرارتی تھا۔ اپنی شرارتوں سے جمیلہ کا ناک میں دم کیا ہؤا تھا۔ چونکہ اکلوتا تھا اسی لیے بڑی تینوں بہنوں اور ماں باپ کا لاڈلا…

مزید پڑھیں

چھمک چھلّو – بتول مئی ۲۰۲۲

کنویں کی منڈیر کے ساتھ ٹیک لگا کر اپنے دوست کے ساتھ کھڑا منہ میں تنکا دبائے دور سے آتی ہوئی چھمک چھلو سی لڑکی کو وہ بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔
’’اس کے بارے میں کیا خیال ہے پھر….‘‘ اس نے فیقے کو کہنی مار کر کہا۔
فیقا سٹپٹا سا گیا ’’کس کے بارے میں؟‘‘
’’یار وہ سامنے سے آ رہی ہے جو ….کیوں نہ آج اس کوچھیڑا جائے!‘‘
اور فیقے نے جو اس طرف دیکھا تو خوف سے آنکھیں ابل کر باہر آ گئیں۔
’’ اوئے ناں ناں ….اسے نہیں‘‘۔
فیقے کی بات اور تاثرات کا جائزہ لیے بغیر اس نے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے بیروں میں سے ایک لیا اور اس چھمک چھلو کی طرف اچھال پھینکا۔
غراتی ہوئی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے وہ من موہنی صورت قریب آئی ، للکارتی ہوئی شیرنی کی طرح جھپٹی۔
’’ابے اوئے ….تمہاری جرأت کیسے ہوئی؟ ٹانگیں تڑوا دوں گی ، آنکھیں نکلوا دوں گی،سمجھتے کیا ہو اپنے آپ کو….؟ ابھی کرتی ہوں جاکر چچا سے تمہاری شکایت…. پھر دیکھنا تمہارا حشر کیا ہوتا ہے‘‘۔
ایک بیر کے بدلے اتنی خفت…. گرتے گرتے وہ لڑکھڑایا اور سیدھا کھڑے ہوتے پھر لڑ کھڑا گیا۔
’’منہ بند کر لے ، چلی گئی ہے وہ ‘‘ فیقے نے چند ساعتوں بعد اس کے…

مزید پڑھیں

ڈاکٹر صاحب – بتول مئی ۲۰۲۲

ہمارے گاؤں کا واحد ڈاکٹر جس نے شہر میں کسی ڈاکٹر کے کلینک میں صرف چار ماہ کمپوڈری کرکے چھ چھ سال ایم بی بی ایس کی پڑھائی میں سر کھپانے والے ڈاکٹروں کے منہ پر شرمندگی اور پچھتاوے کا طمانچہ مار کر بڑے دھڑلے سے اپنے گھر کی بیٹھک کو ہی کلینک بنا کر ڈاکٹر شبیر کے نام کی تختی لگا لی بلکہ نام کے نیچے ایم بی بی ایس بھی لکھ ڈالا۔ سارا گاؤں حیران تھا کہ اس صاحب نے کس معجزے کے تحت راتوں رات ایم بی بی ایس کر لیا ہے۔ بہرحال وہ پکا ڈاکٹر تھا اور گاؤں والوں نے بھی تسلیم کرلیا۔ یوں ڈاکٹر شبیر کی اپنے ذاتی کلینک میں پریکٹس شروع ہوگی۔ دو چار دن تو ڈاکٹر صاحب فارغ بیٹھ کر مکھیاں ہی مارتا رہا نہ صرف مارتا بلکہ مارنے کے بعد ان کا مکمل معائنہ بھی کرتا اور دوسری جماعت کے بچے کی طرح بلند آواز سبق بھی پڑھتا۔’’آنکھیں، سر،دھڑ، پیٹ‘‘۔ سائنس کی کتاب کا جو سبق ماسٹر جی کے ڈنڈوں سے بھی یاد نہ ہو پایا وہ اب ازبر تھا۔
’’ کاش….. کاش! ان سب باتوں کی سمجھ مجھے سکول کے زمانے میں ہوتی۔ نہ ماسٹر جی کی مار کھانی پڑتی، نہ ہر…

مزید پڑھیں