۲۰۲۲ بتول مئی

محشر خیال – بتول مئی ۲۰۲۲

قانتہ رابعہ۔گوجرہ
ماہ مارچ کا بتول ملا۔ لوگ جرعہ جرعہ کر کے زہر غم پیتے ہیں، ہم نقطہ نقطہ اور سطر سطر کرکے بتول کا مطالعہ کرتے ہیں۔
کھولتے ہی فہرست پر نظر ڈالی ،اداریہ دیکھا، نظریں بے تابی سے اس خبر کو ڈھونڈ رہی تھیں جو اہل قلم اہل ِعلم و دانش کے لیے بے حد خوشی کا باعث ہونا تھی اور جس کے لیے طویل صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑتا ہے…..لیکن افسوس خبر نہیں تھی، نہ ہی سرورق پر یا اندر کے صفحات میں مدیرہ کے نام کی تختی میں ردو بدل کیا گیا تھا۔ ایک پرانی مگر معمولی سی مصنفہ بلکہ قاریہ ہونے کے ناطے مجھے احتجاج کا پورا حق ہے ۔لوگ اس سعادت کے لیے ترستے ہیں اللہ نے آپ کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا شکر الحمد للّٰہ یہ اللہ کا فضل اور احسان ہے کہ بتول کی ادارت جیسے بھاری بھرکم اور مشقت طلب کام کے دوران آپ نے علم کی سکہ رائج الوقت سب سے بڑی سند حاصل کی۔ میں اپنی طرف سے اور سب قارئین کی طرف سے آپ کواور ماہنامہ چمن بتول کی ادارت کو مبارکباد پیش کرتی ہوں،بلا شبہ یہ میرے رب کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔لوگ تو ڈاکٹروں…

مزید پڑھیں

ختم قرآن کی تقریبات – بتول مئی ۲۰۲۲

رمضان کریم کے اختتام پر مساجد میں تراویح کے موقع پر اور حلقہ ہائے دروس میںترجمہ یاتفسیر کے اختتام پردعائیہ تقاریب منعقد ہونے سے ایک نورانی سماں بندھ جاتاہے ۔
قرآن مجید کےہر نسخے کے اختتام پرایک ’’دعا‘‘ درج ہوتی ہے ۔معوذتین کے بعد اس دعا کا ورد کر کے ہم نئے قرآن کی تلاوت کا آغاز کرتے ہیں۔
آج ہمارے حلقے میں دعائے ختم قرآن تھی ۔ ہم سب شرکاء محفل نے اجتماعی طور پر ختم قرآن کی دعا پڑھی ۔ جس کا ترجمہ یہ ہے ۔
’’ اے اللہ میری قبر کے اندر مجھے جو وحشت ہو گی اسے میرے لیے مانوس کر دے ۔ اے اللہ مجھ پر اس قرآن عظیم کی بدولت رحم فرما۔ اس کو میرے لیے امام، نور ،ہدایت اور رحمت بنا دے ۔ اے اللہ مجھے یاد کرادے جو کچھ میں اس میں سے بھول جائوں اور مجھےسکھا دے اس میں سے جو میں نہیں جانتا اور مجھے توفیق عطا فرما کہ میں اسے پڑھتا ہوں۔ رات اور دن کے اوقات میں اور اے تمام جہانوں کے پروردگار ! اس قرآن کو میرے حق میں دلیل اور گواہ بنا دے ‘‘۔
کتنی پیاری یہ دعا ہے جس کو ہم اکثر فہم کے بنا ہی پڑھ لیتے ہیں…

مزید پڑھیں

رزقِ حلال – بتول مئی ۲۰۲۲

میں اوسط سے بھی کہیں کم درجے والا ایک عام سا شہری کبھی نیم سرکاری ملازم ہؤا کرتا تھا۔ آج کل دس برس سے گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہا ہوں۔ ایک مرتبہ مجھ سے کسی صاحب نے پوچھا کہ آج کل آپ کیا کر رہے ہیں تو میں نے جواب میں کہا کہ گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہا ہوں، میرا جواب سن کر نہ جانے وہ کیوں کھلکھلا سے گئے۔ پہلے تو ان کا یہ کھلکھلانہ پن مجھے سمجھ میں نہیں آیا لیکن جب انھوں نے مجھے اپنی خود ساختہ خانقاہ میں شرکت کی دعوت دی تو بات سمجھ میں آئی۔
بات یہ ہے کہ ہم نے انگریزی الفاظ کو جس تیزی کے ساتھ اپنا لیا ہے اور ہر آنے والے منٹوں اور سیکنڈوں میں اپناتے چلے جا رہے ہیں، لگتا ہے کہ اردو ادب ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی خدمات کے جتنے بھی ذخائر ہیں سب کے سب ردی کی ٹوکری کی نذر ہو کر رہ جائیں گے۔ اول تو کتابیں پڑھنے کا رواج ہی ختم ہوتا جا رہا ہے لیکن ثانیاً اگر کسی کے اندر کتابیں پڑھنے کے سودے نے اسے مضطرب بھی کردیا تو وہ ان کتابوں کو پڑھ تو شاید لے، لیکن کیا ان…

مزید پڑھیں

وہ عیدیں! – بتول مئی ۲۰۲۲

لیں جی!
رمضان کا مہینہ اپنی رحمتوں، برکتوں، عبادتوں اور رونقوں کو لے کر، ہمیں سال بھر کی جدائی دےکر جا چکا ہے۔ جنہوں نے کچھ کمائیاں کرلیں روزے رکھ لیے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کی، ان کے بھی دن گزر گئے، اور جو کچھ حاصل نہیں کرسکے ان کے بھی دن گزر گئے۔
اور اب عید کی آمد ہے۔
میں سوچ رہی تھی کہ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہی عیدیں پھر سے آجائیں،جب عید کے چاند کو دیکھنے ہم چاروں بہن بھائی مل کے خوب کھلی جگہ کھڑے ہوتے۔ادھر چھوٹا بھائی کہتا :
’’یہ تم چاند کہاں ڈھونڈ رہے ہو، میں تو یہاں ہوں‘‘ ۔
جب اماں عصر کے وقت مہندی بھگو کے رکھ دیتی تھیں اور عید کا چاند چڑھنے کے بعد دونوں ہاتھوں پہ سیدھا لیپ کر کے مٹھیاں بند کروا کے اوپر لفافے چڑھا کے ہمیں سلا دیتی تھیں۔اگلے دن پورے ہاتھ کی لال سرخ مہندی میں سفید سفید قسمت کی لکیروں والا آٹو میٹک ڈیزائن تیار ہوتا تھا۔
رات کو جتنی بار آنکھ کھلتی سامنے بروکیڈ یا لیڈی ہملٹن کا سوٹ جس پہ خالہ جمشید نے ستارے لگا کے تیار کیا ہوتا تھا ، دیکھ دیکھ کر دل خوشی سے بھر جاتا تھا۔
پھر عید کے دن کی شام…

مزید پڑھیں

ووہٹی – بتول مئی ۲۰۲۲

چھوٹے سے قصبے کو اگر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا تو تقسیم ہند کے اثرات ستر سال گزر جانے کے بعد بھی واضح دیکھے جا سکتے تھے۔
نہیں سمجھے؟چلیے میرے ساتھ قصبے کی سیر کیجیے۔
مشرق سے مغرب کی طرف جاتی تارکول کی لمبی سڑک جو کہیں کہیں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے،اس قصبے کی واحد پختہ سڑک ہے۔جو دوسرے شہر یا گائوں جانے کے لیے آمدورفت کا ذریعہ ہے۔قصبہ شروع ہوتے ہی سڑک کے اطراف میں موجود مختلف اجناس کی دکانیں،پھل اور سبزی فروشوں کی ریڑھیاں،موسم کی مناسبت سے قلفی والے یا بھٹہ بھونتے پھیری والے،خوانچہ فروش،اور اکا دکا جنرل سٹور موجود ہیں۔دکانوں کے سامنے موجود کچی زمین پہ صبح صبح جھاڑو پھیرنے کے بعدپانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے تاکہ دھول نہ اڑےاور پھر دو تین لکڑی کے بینچ رکھ دئیے جاتے ہیں۔گاہکوں کے ساتھ ساتھ راہگیر بھی گھڑی دو گھڑی سانس لینے کو ان پہ بیٹھ جاتے ہیں۔اور اس مختصر سی بیٹھک کے بعد جب اٹھتے ہیں تو کچھ نہ کچھ خرید کر ہی جاتے ہیں۔یوں یہ کاروباری گُر دونوں فریقین کا بھلا کر دیتا ہے۔
یہاں سے آگے جائیں تو سڑک کے شمال کی طرف قصبے کا لڑکیوں کا واحد سرکاری سکول جبکہ سکول کے عین سامنے…

مزید پڑھیں

محشر خیال – بتول مئی ۲۰۲۲

قانتہ رابعہ۔گوجرہ
ماہ مارچ کا بتول ملا۔ لوگ جرعہ جرعہ کر کے زہر غم پیتے ہیں، ہم نقطہ نقطہ اور سطر سطر کرکے بتول کا مطالعہ کرتے ہیں۔
کھولتے ہی فہرست پر نظر ڈالی ،اداریہ دیکھا، نظریں بے تابی سے اس خبر کو ڈھونڈ رہی تھیں جو اہل قلم اہل ِعلم و دانش کے لیے بے حد خوشی کا باعث ہونا تھی اور جس کے لیے طویل صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑتا ہے…..لیکن افسوس خبر نہیں تھی، نہ ہی سرورق پر یا اندر کے صفحات میں مدیرہ کے نام کی تختی میں ردو بدل کیا گیا تھا۔ ایک پرانی مگر معمولی سی مصنفہ بلکہ قاریہ ہونے کے ناطے مجھے احتجاج کا پورا حق ہے ۔لوگ اس سعادت کے لیے ترستے ہیں اللہ نے آپ کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا شکر الحمد للّٰہ یہ اللہ کا فضل اور احسان ہے کہ بتول کی ادارت جیسے بھاری بھرکم اور مشقت طلب کام کے دوران آپ نے علم کی سکہ رائج الوقت سب سے بڑی سند حاصل کی۔ میں اپنی طرف سے اور سب قارئین کی طرف سے آپ کواور ماہنامہ چمن بتول کی ادارت کو مبارکباد پیش کرتی ہوں،بلا شبہ یہ میرے رب کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔لوگ تو ڈاکٹروں…

مزید پڑھیں