۲۰۲۲ بتول مئی

انما المؤمنون اخوۃ – بتول مئی ۲۰۲۲

اسلام محبت اور رحمت کا دین ہے۔ معاشرتی زندگی میں مسلمانوں کے درمیان اخوت کا رشتہ وہ مضبوط تعلق ہے جس نے اسلام کی عمارت کو نہایت دلکش اور پائیدار بنا دیا ہے۔یہ دنیا کے تمام انسانوں کو ایک ایسی لڑی میں پروتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں اور نہ تو بکھرتے ہیں نہ منتشر ہوتے ہیں۔ اخوت کا رشتہ بھائی اور بھائی کا رشتہ ہے۔یعنی یہ ایک دوستی ، محبت، مودت اور تعاون کا رشتہ ہے جو تمام مسلمانوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔
اخوۃ ’’اخا‘‘ کا مصدر ہے، جو یک جہتی اور مودت کا اظہار ہے۔اصطلاح میں اسلامی اخوت ’’باہمی یک جہتی اور مودّت اور افرادِ معاشرہ کے درمیان تعاون کا تعلق ہے۔یہ مسلمانوں کے درمیان ایسا تعلق ہے جس کی بنیاد اللہ پر ایمان، اس کے تقوی ٰاور خشیتِ الٰہی پر ہے۔ یہ دونوں جانب الحب للہ کے فروغ کا ذریعہ ہے۔یہ بھائیوں کے درمیان ایسی محبت، اخلاص،وفا، اعتماد، اور دوستی ہے جس میں نہ کوئی دنیاوی غرض ہے نہ مفاد، بلکہ یہ ایک سچائی کی بنیاد پر قائم رشتہ ہے۔
اسلامی اخوت اللہ تعالیٰٰ کا مومنوں پر بہت بڑا احسان ہے۔ یہ محبت کی فضا ہے، اور مومن گروہوں کی باہمی مضبوطی کا نام…

مزید پڑھیں

چار دن کے فاصلے پر عید – بتول مئی ۲۰۲۲

شاہدہ منیر کو اچھی طرح یاد تھا کہ وہ بمشکل چھ سال کی تھی جب اس نے پہلا روزہ رکھا .اس نے اپنی خالہ زاد بہن کے کہنے پر ابو سے کہا ،’’ابو میں بھی روزہ رکھوں گی….اسوہ نے بھی کل چڑی روزہ رکھا تھا ‘‘۔
ابو مسکرائے ’’جھلیے یہ چڑی روزہ کیا ہوتا ہے ؟‘‘
امی میدان میں آئیں ۔
’’بچی ہے ناں اتنی گرمی میں سارا دن کیسے بھوکی رہے گی‘‘۔
ابو نے جھٹ سے دلیل دی ’’کیوں جب ہم اسے روزہ رکھنے پر انعام بتائیں گے روزہ کے بارے میں ساری فضیلت سمجھائیں گے تو کیسے نہیں رکھے گی ؟ ‘‘
اماں نے بولنا چاہا تو ابو نے سو سنار اور ایک لوہار والی مثال دی اور کہا ’’کیوں تم بچے کو سات سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے چڑی نماز پڑھاتی ہو یا صرف قیام کے بعد روک دیتی ہو ؟ او بھلیے لوکے! روزے والے کا ساتھ اللہ سوہنا اور اس کے فرشتے دیتے ہیں‘‘۔
پھر اس نے روزہ رکھا۔ ابو نے سارا دن اس کی انگلی پکڑ کر ساتھ ساتھ رکھا۔ سہہ پہر کے بعد اس کی پسند کی سلائی مشین (کھلونا) اور ڈھیر ساری کھانے پینے کی اشیاء بھی خرید کر دیں ۔افطاری کی تیاری اس کی پسند…

مزید پڑھیں