۲۰۲۲ بتول مئی

ڈاکٹرفوزیہ ناہید مرحومہ نومسلموں کی ہمدر شخصیت – بتول مئی ۲۰۲۲

جمیلہ یوسف ،شگاگو
2006ء کے شروع میں فوزیہ آنٹی اور صائمہ اظفر نے مل کر مجھے فون کیا، اِکنا کے پروجیکٹ Why Islamکے بارے میں بتایا اور کہاکہ میں ان کی سیکریٹری بن جائوں۔ اس وقت فوزیہ باجی اس کی قومی سطح پر رابطہ کار (co-ordinator) تھیں۔ میں اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے ہچکچائی مگر پھر فوزیہ آنٹی اور صائمہ نے مجھے ہمت دلائی اور یقین دہانی کرائی کہ مدد اور مشورے کے لیے وہ دونوں ہمیشہ میرے ساتھ ہوں گی۔
میرے نومسلم ہونے کی وجہ سے ان دونوں کو مجھ پر اعتماد تھا کہ میںWhy Islamکے ’انصار پروجیکٹ ‘کو اچھی طرح سمجھ سکتی ہوں۔ ’انصار پروجیکٹ‘ نومسلم بہنوں سے تعلق بنانے اور ان کے گزشتہ مذہب سے اسلام تک کے سفر میں ان کا ساتھی بننے کا نام تھا۔ میں اس پروجیکٹ کی اہمیت کو اس لیے سمجھ سکتی تھی کیونکہ بارہ سال پہلے جب میں مسلمان ہوئی تھی، مجھے بھی اسی طرح کے مضبوط ساتھ نے سہارا دیا تھا۔ چنانچہ میں فوزیہ آنٹی کے ساتھ کام کرنے کے لیے آمادہ ہوگئی۔
اس ذمہ داری کو قبول کرنے کے کچھ ہی دن بعد فوزیہ آنٹی نے فون پر مجھ سے باقاعدہ رابطہ رکھنا شروع کردیا، تاکہ ہم دونوں ایک دوسرے…

مزید پڑھیں

ماحولیاتی آلودگی آج کی دنیا کا سنگین مسئلہ – بتول مئی ۲۰۲۲

کن فیکون سے وجود میں آنے والی اس خوبصورت و حسین کائنات ارضی و سماوی کی رب ذوالجلال نے تخلیق فرمائی زمین کو لہلہاتی فصلوں اور کھیتیوں ، سر سبز وشاداب جنگلات، عقل و خرد اور دل و نگاہ کو موہ لینے والی آبشاروں ، دریائوںاور سمندروں، اونچے اونچے پہاڑوںاور لمبے لمبے قد آور درختوں ، خوشبو دار پھولوںاور پھلوں، خوشوںوالی کھجوروں اور بھوسے والے اناج سے مزین فرمایا ، فضا میں چرند، پرند ، ارض پر جمادات و نباتات ، حیوانات پیدا کیے ، کتنی عظمت اور بزرگی والی ہے وہ ذات جس نے متعدد آسمانی کُرّے باہمی مطابقت کے ساتھ طبق درطبق پیدا فرمائے اور اسی نے آسمان دنیا کو چراغوں ( یعنی ستاروں اور سیاروں) سے آراستہ کیا اور ہر سماوی کائنات میں اس نے ایک نظام ودیعت فرمایا اورنظام تخلیق میں ذرہ بھر بے ضابطگی اور عدم تناسب نہیںرکھا کہ ایک کا ناظم دوسرے میں مداخلت کر سکے ۔ روئے زمین پر انسان اللہ تعالیٰ کی اشرف المخلوقات اور خلیفہ ہے ، انسان کو اللہ تعالیٰ نے مخدوم الخلائق کے منصب پر فائز کیا ہے اس کے لیے اس کائنات میں موجود تمام موجودات کو مسخر کر دیا گیا ۔
ترجمہ: ’’ کیا تم نہیں دیکھتے کہ…

مزید پڑھیں

بہاولپور میں اجنبی – بتول مئی ۲۰۲۲

بہاولپور میں اجنبی، مظہر اقبال مظہر کی اس تاریخی شہر میں تعلیم کی غرض سے آمد اور قیام کی مختصر یادداشتوں اور ڈائری کا مجموعہ ہے۔ بہا و لپو ر میں اپنے قیام کے آغاز ہی سے مصنف کو اس شہر کی تاریخ اور معاشرت میں گہری دلچسپی پیدا ہو گئی۔انہوں نے ایک اجنبی کی طرح اس شہر میں قدم رکھا اور اپنی آبائی روایات کے ساتھ مقامی معاشرت میں مماثلت تلاش کی۔شہر میں قریہ قریہ سیر کی، مقامی افراد سے ملاقاتیں اور رہنمائی حاصل کی۔
سرائیکی زبان کی مٹھاس کو محسوس کیا اور ہلکے ہلکے پھلکے انداز میں زبانوں کے تنوع میں شناخت کے موضوع پر گفتگو کی۔
تاریخی شہر’اچ‘ کے قریب اس شہر کو شکار پور سے آئے نواب بہاول خان نے آباد کیا ،ایک ایک اینٹ کو اس طرح سینچا کہ صدیوں بعد بھی محسوس ہوتا ہے گارے اور مٹی کی بجائے اس شہر کی اینٹیں تہذیب اور تمدن سے آراستہ کی گئی ہیں۔
کشمیر کے ایک شہر سے علم کی تلاش میں نکلے ہوئے ایک طالب علم کا ٹھکانہ جب کچھ عرصے کے لیے یہ شہر بنا تو علم کے متلاشی نے اپنی تعلیم تو مکمل کی ہی ساتھ ساتھ ہی اس نے اس شہر میں بسنے کا حق…

مزید پڑھیں

کرونا کے بعد کی زندگی – بتول مئی ۲۰۲۲

کرونا سے پہلے بھی دنیا میں بہت سی قدرتی آفات آتی رہی ہیں۔ لوگ نارمل زندگی میں بھی بیماری کا شکار ہو کر، حادثے میں یا طبعی موت مرتے رہے ہیں ۔دکھ تکالیف زندگی کا حصہ ہیں ۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم ضرور انسان کو پانچ چیزوں سے آزمائیں گے ، خوف ،بھوک، اورکھیتیوں، جان اور آمدنی کے نقصان سے۔تو یہ سب تو زندگی کا حصہ ہؤا۔اگر غم یا تکلیف نہ ہو تو انسان خوشی کی قدر نہیں کر سکتا۔اور پھر زندگی میں صرف خوشیاں ہی ہوں تو جنت کی خواہش کون کرے گا،کیونکہ دائمی خوشی کا وعدہ تو جنت میں ہی ہے۔
اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو دے کر آزماتا ہے تو کچھ سے لے کر۔قرآن پاک میں انسانوں کو تین طرح کے پتھروں سے تشبیہ دی گئی ہے، یہ بتانے کے لیے کہ ایک وہ ہیں جو کسی حادثے کی وجہ سے اللہ کی طرف پلٹ آتے ہیں ۔دوسرے وہ جو پہلے سے اللہ تعالیٰ کے احکام مانتے ہیں اور جب وہ قرآن کا علم حاصل کر لیتے ہیں تو دوسروںکے لیے بھی ہدایت کا باعث بن جاتے ہیں اور تیسرے وہ جنہیں کوئی حادثہ ، علم یا نعمت بھی اللہ کا شکر گزار بندہ…

مزید پڑھیں

لایعنی – بتول مئی ۲۰۲۲

لایعنی ایسے کام کو کہا جاتا ہے جس سے کوئی مقصد ہی وابستہ نہ ہو۔ حکماء لایعنی کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ ’’ہر وہ کام جس میں دین، دنیا کا کوئی بھی فائدہ نہ ہو‘‘۔زندگی مختصر ہے اسی لیے آپ علیہ السلام نے حدیث میں فرمایاکہ ایک مسلمان کے اسلام کو ماننے کی بہت سی خوبیوں میں سے ایک اہم خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔لایعنی میں مبتلا انسان دین دنیا دونوں کو ضائع کرتا ہے اور سب سے بڑی بات وہ اپنی زندگی کو ضائع کرتا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہےکہ لایعنی سے زندگی کیسے ضائع ہوتی ہے ؟
در اصل زندگی کسی مخصوص لمحے کا کام کا نام نہیں، ایک عربی مقولہ ہے کہ الوقت ھو الحیات کہ وقت ہی زندگی ہے۔ کیونکہ ہم جو زندگی گزارتے ہیں وہ در حقیقت ایک وقت ہی ہوتا ہے جو سیکنڈ سے منٹ، منٹ سے گھنٹوں،گھنٹوں سے دن،دنوں سے ہفتے،ہفتوں سے مہینے، مہینوں سے سال،سال سے عرصہ اور پھر بچپن،لڑکپن ،جوانی ، ادھیڑعمراور پھر بڑھاپے تک سفر کرکے زندگی کو ختم کردیتا ہے۔لہٰذا کوئی شخص اپنا ایک گھنٹہ ضائع کرتا ہے تو وہ ایک گھنٹہ نہیں بلکہ اپنی زندگی کا ایک حصہ ضائع کردیتا ہے۔…

مزید پڑھیں

بریکنگ نیوز – بتول مئی ۲۰۲۲

خبر کی دنیا بہت وسیع ہے اور اسی لیے اسی نسبت سے اس کی تعریفات میں بھی بہت وسعت ہے۔ بسا اوقات یہ تعریفیں ایک دوسرے کے متضاد نظر آتی ہیں لیکن دراصل یہ خبر کو دیکھنے کا زاویہ ہے جہاں سے تعریف مرتب کرنے والا خبر کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر خبر کی چند ایک معروف تعریفیں مندرجہ ذیل ہیں:
خلیل اللہ فراز کہتا ہے، خبر ایسا جملہ ہوتا ہے جس کا کوئی منشا ہے، اور اس جملہ کے بعد ایک انشائیہ جملہ بنے۔ جیسے کسی نے خبر دی ’’آپ کی سائیکل کا ٹائر پنکچر ہے‘‘انشا ئیہ بنا کہ پنکچر بنوا لو۔
امریکی صحافی اینڈرسن ڈانا کے مطابق’’اگر کتا انسان کو کاٹے تو یہ خبر نہیں لیکن اگر انسان کتے کو کاٹے تو یہ خبر ہے‘‘۔
ڈاکٹر عبد السلام خورشید فنِ صحافت میں خبر کی تعریف یوں کرتے ہیں ’’خبر کا تعلق ایسے واقعات اور مشاہدات سے ہوتا ہے جو معمول سے ہٹ کر ہوں‘‘۔
برطانوی پبلشر’’لارڈ نورتھ کلف‘‘ کے مطابق’’خبر وہ اطلاع ہے جسے کوئی ایک شخص چھپانا چاہتا ہے جبکہ دیگر تمام لوگ اسے مشتہر کرنا چاہتے ہیں‘‘۔
امریکی صحافی ’’کرٹ لوڈر‘‘ کے مطابق’’خبر کوئی بھی ایسی چیز ہوسکتی ہے جو دلچسپ ہو جس کا تعلق دنیا میں…

مزید پڑھیں