بچے سکول و کالج اور میاں جی اپنے کاروبار کی طرف جا چکے تھے۔ دن کے دس بجے ہی ارد گرد ہو کا عالم تھا۔ آس پاس کے گھروں سے بھی صرف دو آوازیں آ رہی تھیں ، گھنٹی بجنے کی اور دروازے کھلنے کی،کیونکہ یہ جھاڑو پونچھے والی ماسیوں کے آنے کا وقت تھا۔ […]
’’یہی کوئی دو تین دہائیاں پہلے تک دیہاتوں اور قصبوں کے لوگ مل جل کر موسموں سے لطف اندوز ہوتے اور کام بھی زیادہ نمٹا لیتے۔خاص کر سردیوں کے موسم میں صبح صبح گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر خواتین گھنٹوں دھوپ سینکتیں، آپس میں گپ شپ کرتیں اور اپنے کام بھی سنوارتیں‘‘۔ اب […]
دوپہر کا ایک بج رہاتھااور گھر میں ایسا سناٹا چھایا ہوا تھاجیسےیہاں کوئی متنفس نہ رہتاہو۔ جس گھر میں چار لڑاکا بچے ہوں ،ان کی موجودگی میں ایسی خاموشی چھائی ہو،تعجب کی بات تھی۔بچوں کےہروقت کےشور ،جس کی وجہ آپس کی نوک جھوک بھی ہوتی اور مل کر کھیلنا بھی،سے تنگ آئی ہوئی امی بھی […]
گھنٹے دنوں میں دن مہینوں میں اور مہینے سالوں کا روپ دھار رہے تھے۔ یہ گزرتے ماہ وسال حاجرہ کی پریشانی میں بتدریج اضافہ کر رہے تھے۔ پریشان کیوں نہ ہوتی شوہر سر پر نہیں تھا۔ خود بھی بڑھاپے کی منزلیں پار کر رہی تھی۔اولاد میں صرف بیٹے ہی تھے لیکن ان کی شادی کی […]
رمضان جی کو دیکھنے لڑکی والے آرہے تھے۔ تمام تیاریاں مکمل ہونے کے بعد رمضان جی اور اس کے گھر والے مہمانوں کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ انتظار کتنی بری چیز ہوتی ہے، اس وقت کوئی رمضان سے پوچھتا۔ کاش! انتظار کا لفظ اس دنیا میں ایجاد ہی نہ ہوا ہوتا۔ اس […]
دوپہر تو کیا، دن سہہ پہر پکڑنے والا تھا اور ڈھلنے کی طرف رواں تھا۔ سورج مغرب کی طرف چھلانگیں لگاتا ہؤا دوڑ رہا تھا۔ گھڑیال کی گھنٹہ والی سوئی دو کا ہندسہ پار کرکے سوا دو کا وقت بتا رہی تھی لیکن عذرا کا کہیں دور تک نام و نشان بھی نہ تھا۔ عذرا […]
چاند کا چمکنا دمکنا اپنی جگہ، شاعروں کا اپنے محبوب کو چودھویں کے چاند سے تشبیہ دینا اور اس کے حسن کی تعریف میں زمین و آسمان کے درمیان قلابے ملانا بھی اپنی جگہ، لیکن اس حقیقت سے کوئی بندہ بشر انکار نہیں کر سکتا کہ آسمان کا اصل حسن تو تارے ہیں۔ یوں بھی […]
’’گرمیوں میں راتیں چھوٹی جن میں کئی بار مچھر کاٹنے، گرمی اور پیاس کی وجہ سے آنکھ کھلتی ہے۔ان راتوں میں نیند کا پورا ہونا محال ہوتا ہے اور دن میں کسی وقت نیند پوری کیے بغیر گزارا نہیں۔ ایسے ہی سردیوں میں دن چھوٹے،ناشتہ کرتے کراتے ہی دن کے بارہ بج جاتے ہیں۔ پھر […]
کہتے ہیں کہ مرد سے اس کی تنخواہ اور عورت سے اس کی عمر نہ پوچھیں کیونکہ اس کا درست جواب دینا دونوں کو پسند نہیں لیکن موجودہ ترقی یافتہ دور میں اس قول میں بھی ترقی اور تبدیلی ہو چکی ہے۔ اب مرد حضرات بھی اصل تنخواہ تو بتا سکتے ہیں لیکن اپنی عمر […]
جب چلتے ہوئے آپ کے گھٹنوں سے چڑ چڑ کی آوازیں آنی شروع ہو جائیں، نظر کمزور اور داڑھی سفید ہوجائے، تو کوئی ہے جس کے لیے اس وقت بھی آپ ہیرو سے کم نہیں ہوں گے، فیصلہ آپ کا ہے! چاہے سارا سر اور داڑھی سفید ہو جائے، کمر خم کھا جائے، ہاتھوں میں […]
ہمارے گاؤں کا واحد ڈاکٹر جس نے شہر میں کسی ڈاکٹر کے کلینک میں صرف چار ماہ کمپوڈری کرکے چھ چھ سال ایم بی بی ایس کی پڑھائی میں سر کھپانے والے ڈاکٹروں کے منہ پر شرمندگی اور پچھتاوے کا طمانچہ مار کر بڑے دھڑلے سے اپنے گھر کی بیٹھک کو ہی کلینک بنا کر […]
دو بھائیوں کی اکلوتی بہن سکینہ جی ، ہر وقت موبائل میں مگن رہنے والی بلکہ موبائل فون تو اس کے ہاتھ کا کھلونا تھا ۔ یہ اس کا ایسا دل پسند کھلونا تھا جس کے بغیر اس کے دس منٹ بھی گزرنا مشکل تھے۔ پھرتیلی ماں کی بیٹی ہونے کی وجہ سے اسے کوئی […]
مسکین مائوں کی جرأ ت ہی نہیں ہوتی کہ فون پکڑ کر کسی کو فون کر لیں …پہلے وہ اس لڑاکا مخلوق کے سو جانے کی دعائیں مانگتی ہیں … ایک حسبِ حال تصویرکشی سمارٹ فون ابھی نئے نئے آئے تھے کہ کسی اللہ والے، دانا، سائیں لوک آدمی نے ایک خیالی تصویر بنا کر […]
بچپن کا ایک واقعہ اکثر یاد آتا ہے کہ ہمارے ہمسائے میں فوتگی ہو گئی۔ میں اور میرا بھائی اپنے گھر کے بیرونی دروازے کے پاس کھڑے ہو کر ان کے گھر آتے مہمان دیکھنے لگے۔ جوانی کی موت تھی وہ بھی اچانک کرنٹ لگنے سے واقع ہوئی۔ گھر میں کہرام مچا ہؤا تھا۔ لواحقین […]
’’پل میں تولہ پل میں ماشہ‘‘ کا محاورہ شاید بنا ہی ان کے لیے ہے۔ جن میاں بیوی کے درمیان محبت اور دوستی زیادہ ہوتی ہے ان کے درمیان نوک جھوک ضرور ہوتی ہے۔ دو انسانوں کے درمیان بننے والا سب سے پہلا رشتہ میاں بیوی کا ہے جو انسان کے اس روئے زمین […]
چلتی پھرتی ،بھاگ دوڑ کر کام نمٹاتی نورین کے لیے ایک ٹک چارپائی پر رہنا مشکل ترین اور صبر آزما کام تھا۔اسے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی نے اسے زبردستی سزا کے طور پر بستر کے ساتھ باندھ دیا ہو۔بستر پر لیٹے رہنا اس کے لیے اندھیری کوٹھڑی میں قید سے بھی بدتر تھا۔اسے […]