بتول اپریل ۲۰۲۲

ملازم – بتول اپریل ۲۰۲۲

’’گرمیوں میں راتیں چھوٹی جن میں کئی بار مچھر کاٹنے، گرمی اور پیاس کی وجہ سے آنکھ کھلتی ہے۔ان راتوں میں نیند کا پورا ہونا محال ہوتا ہے اور دن میں کسی وقت نیند پوری کیے بغیر گزارا نہیں۔ ایسے ہی سردیوں میں دن چھوٹے،ناشتہ کرتے کراتے ہی دن کے بارہ بج جاتے ہیں۔ پھر دوپہر کا کھانا اور دوپہر کے کھانے کے فوراً بعد رات کے کھانے کی تیاری گویا پورا دن باورچی خانے میں ہی گزار دو۔ ایسے میں گھر کے دوسرے کاموں کی جانب کس وقت توجہ دیا کریں؟‘‘
امینہ نے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے پاس بیٹھی اپنی سہیلی فریحہ سے اپنے دل کا دکھڑا بیان کیا۔ امینہ کو وقت کی کمی کی شدید شکایت تھی اس کا خیال تھا کہ کام دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں اور دن سمٹتے جا رہے ہیں۔ وقت میں برکت نہیں رہی۔ امینہ کے وقت کی کمی کے متعلق گلے شکوے سننے کے دوران فریحہ اپنی چائے ختم کر چکی تھی۔ اس نے اپنا کپ میز پر پڑی ٹرے میں رکھا اور امینہ کی طرف متوجہ ہو کر بولی۔ ’’کیوں بھئی آپ کے لہجے میں بہت زیادہ تھکاوٹ نظر آ رہی ہے کیا کام والی ماسیاں نہیں آرہیں؟‘‘
ملازم ماسیاں…

مزید پڑھیں

رواج کی شکست – بتول اپریل ۲۰۲۲

رائے علاول خان علاقے کے چالیس دیہات میں سب سے بڑے زمیندار تھے ۔ احمد خاں کھرل کی نسل سے بدیشی حکمرانوں نے ایک ایسے فرد کو دوست بنایا جو اپنی روایتی حریت پسندی سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہو گیا تھا اور اس آمادگی کے صلہ میںانہیں کوئی پندرہ مربعے تقریباًتین سو پچھتر ایکڑ زرخیز اور ہموار زمین کی مختصر سی جاگیر عطا کی گئی اور پھر انہیں ایم ایل اے بھی بنا لیا گیا ۔
اپنے علاقے میں وہ لوگوں کے آقا شمار ہوتے تھے ۔ یوں تو وہاں پولیس اسٹیشن بنایا گیا تھا ، لیکن جس شخص کی سفارش علاول خاں کردیتے اس کے خلاف جرم کے تمام شواہد حرفِ غلط کی طرح مٹا دیے جاتے تھے ۔ علاول خان اپنے اس علاقے میں کبھی اپنے دوستوں بلکہ وفاداروں کی عزت افزائی کے لیے ان کے گائوں بھی چلے جاتے ۔
ایک دفعہ دھیرو کے گائوں میں ان کا جانا ہؤا یہاں ان کی میز بانی کا شرف ان کے دور کے ایک رشتہ دار فتح خان نے حاصل کیا ۔دوپہر کے کھانے کے لیے وہ علاول خان کو اپنے گھر لے گیا ۔
ایسے مہمان کی خدمت کے لیے سارے گھر والے مستعد ہوتے صاحب حیثیت لوگوں کے ہاں…

مزید پڑھیں

نیا محلہ – بتول اپریل ۲۰۲۲

شہری آبادی سے ہٹ کر کچھ فاصلے پر موجود وسیع زمین کو پانچ،سات،دس مرلے اور ایک کنال تک کے پلاٹس میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔رفتہ رفتہ وہاں آبادی بڑھنے لگی۔زیادہ تر وہی لوگ اس جگہ کو آباد کر رہے تھے جن کو جوانی تیاگ کر اپنے پرکھوں سے بٹوارے کے بعد حصہ ملا تھا۔یا پھر ایسے سرکاری ملازمین جو ریٹائرڈ ہونے کے بعد اپنی جمع پونجی سے کسی ایسے ہی نسبتاً سستے علاقے میں جگہ خرید کر گھر بنا سکتے تھے۔لیکن سارے میں یہ علاقہ نیا محلہ کے نام سے مشہور تھا۔رکشے والے ہوں یا ٹیکسی والے سب نئے محلے کے نام سے ہی اس علاقے کو جانتے تھے۔کیونکہ ابھی بھی جگہ جگہ تعمیراتی کام جاری تھا۔
انہی گھروں میں ایک گھر تابندہ بیگم کا تھا۔گھر کیا تھا مانو ایک سرنگ سی ہو۔پلاٹ چوڑائی میں کم اور لمبائی میں زیادہ ہونے کی وجہ سے لمبا سا گھر سرنگ ہی لگتا۔آبائی مکان کے بٹوارے سے جو پیسہ ملا اس سے یہی پلاٹ خرید سکے تھے۔بیٹوں نے کمیٹیاں ڈال ڈال کر جیسے تیسے ڈھانچہ کھڑا اور پھر مکمل کیا تھا۔اس پہ بھی تابندہ بیگم کا نخرہ کمال تھا۔ارے بھئی دو قابل بیٹوں اور ایک پیاری سی بیٹی کی اماں تھیں۔اترائے نہ تھکتیں۔ایسے…

مزید پڑھیں

تربیت کہاں رہ گئی! – بتول اپریل ۲۰۲۲

ایک مرتبہ ایسا ہؤا کہ ایک والدہ نے کال کی کہ ان کی بچی کو او لیول کی ٹیوشن چاہیے ۔
ان دنوں میری بیٹی MS Chemistry کے بعد شہر کے ایک well known ادارے میں او لیول اور اے لیول کی بچیوں کو کیمسٹری پڑھارہی تھی.. یہ کسی کے توسط سے ایک ڈاکٹر والدین کی بیٹی کے لیے والدہ نے کال کی کہ ان کی بیٹی، میری بیٹی کی طالبہ تو نہیں یعنی کسی اور ادارے میں پڑھتی ہے لیکن وہ چاہتی تھیں کہ میری بیٹی ان کی بچی کو ٹیوشن پڑھائے ۔
اس خاتون نے اتنی محبت اور عاجزی سے بات کی کہ میں نے ان سے وعدہ کر لیا کہ آپ بچی کو بھیج دیا کریں ۔
بیٹی کو بتایا کہ میں نے وعدہ کر لیا ہے تو آپ اب اپنا ٹائم ٹیبل سیٹ کر لیں.. ایک ہی مہینے کی تو بات ہے۔
یہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دن تھے\۔بڑی والی بیٹی چھٹیوں میں پاکستان آئی ہوئی تھی\۔اس کی بیٹی کے لیے بہت سارے کھلونوں کے ساتھ ساتھ بار بی والے کارٹون ڈائون لوڈ کر کے فلیش میں ڈال کے رکھے ہوتے تھے۔
اگلے دن سے وہ بچی مقررہ وقت پہ آگئی۔
بچی 13یا 14 سال کی تھی….. بہت پیاری کم گو اور…

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان میںقبولیت کی آرزو – بتول اپریل ۲۰۲۲

کائنات کا وہ حسین ترین منظر ثبت ہے تاریخ کے سینے میں ۔ یہ ایک مثالی باپ بیٹا ہیں ۔عزیمت کی وہ داستانیں رقم کی ہیں انہوں نے جنہیں قیامت تک خراجِ تحسین پیش کیا جاتا رہے گا۔
اس وقت یہ دونوں معمارِ حرم تعمیر میں مصروف ہیں ۔ اللہ کا گھر تعمیر کر رہے ہیں ، دنیا کے گھروں میں عظیم گھر ، جس کی اینٹیں رکھی جا رہی ہیں۔ بیٹا ردّے اٹھا اٹھا کر دیتا ہے اور باپ ردّے پر ردّا رکھتے ہوئے صرف گا را نہیں لگاتا بلکہ وہ دعائیں کرتا ہے جن کو قرآن نے رہتی دنیا تک ثبت کر دیا ۔
کتنی پیاری تھی وہ دعا … اللہ کو کتنی پسند آئی … قرآن میں محفوظ ہے ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم
ترجمہ: اے ہمارے رب ہم سے قبول فرما لے ۔ بے شک تو سننے اور جاننے والا ہے۔ چشم تصور کو وا کریں ۔ یہ دو عظیم ہستیاں جو پیغمبر کے منصب پر فائز ہیں اس سے قبل آزمائشوں کی کن کن بھٹیوں سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں ۔ کوئی فخر کا جذبہ نہیں ہے ۔ خود پراعتماد نہیں کہ اللہ نیتوں کو جانتا ہے ، سب قربانیاں اسی کے لیے ہیں…

مزید پڑھیں

اردو زبان کاتدریجی سفر – بتول اپریل ۲۰۲۲

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
سارے جہاںمیںدھوم ہماری زباں کی ہے
انسانوں کی طرح زبانوں کا تعلق بھی کسی گھرانہ ،خاندان ، قبیلے اور نسل سے ہوتا ہے منگول ساحی آریہ نسل کی زبانیں اپنی وسعت اور پھیلائو کے اعتبار سے بڑی زبانیں ہیں، منگول سے ترکی کی ساحی سے عربی ، اور آریہ نسل سے یورپ کی بیشتر زبانوںمثلاً یونانی، لاطینی، پر تگالی ، ولندیزی،فرانسیسی اور انگریزی کے علاوہ ایشیا کی زبانوںمیں سنسکرت اور فارسی وہ اہم زبانیں ہیں جن سے اردو زبان کے قومی رشتے ہیں ۔ زبان کو ئی بھی ہو پہلے ایک بولی ہوتی ہے جو کسی علاقے کے عوام بولتے ہیں ، اگر اس بولی کا ہاتھ کوئی مذہب تھام لے یا اسے حکومت نصیب ہو جائے تو وہ ترقی کر کے زبان بن جاتی ہے اردو کس ادب کی ترقی یافتہ شکل ہے یہ دریافت کرنا زبان پر تحقیق کرنے والوں کا کام ہے اور اس بحث میں الجھنا فی الحال ہمارے مفید مطلب نہیں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ترقی کر کے جن بولیوں نے زبان کی شکل اختیار کرلی ہے ان میں اردو اتنی اہم زبان ہے کہ دنیا کی تیسری بڑی زبان شمار ہوتی ہے اور امکانات کا یہ…

مزید پڑھیں