بتول اپریل ۲۰۲۲

عنی مراد – بتول اپریل ۲۰۲۲

بہت دنوں بلکہ ہفتوں سے لان کی صفائی نہیں ہوئی تھی ۔میاں کو کسی کورس کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا پڑ گیا اور بوڑھے مالی بابا کی بوڑھی بیوی فوت ہو گئی تھی ۔اس علاقے میں نیلم کو آئے ہوئے بھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ واقفیت نکال لیتی بلکہ کچھ عرصہ تو یہی سوچتی رہی کہ خود ہی ہمت کر کے صفائی کر لے گی مگر بارش نہ ہونے کی وجہ سے ہر چیز خشک مٹی سے اٹی پڑی تھی۔ لان کی صفائی تو کر بھی لیتی مگر وہ جو شیشم ،امرود اور آم کے درختوں کے پتے مٹو مٹ ہو رہے تھے ،دیواریں گندی اور انگور کی بیل لیموں کے پودے روکھے ہورہے تھے ان کا کیا کرتی !یہ تو اوپر والا ہی رحمت کی بارش برسائے تو بات بنے۔
اس کے علاوہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے خشک کھانسی اور کرونا نام کی بلا چمٹی تھی وہ جان کیسے چھوڑے۔بچوں کو ایک ماہ میں دو مرتبہ کھانسی کا دورہ پڑ چکا تھا۔ اینٹی بائیوٹک دے دے کر بھی تھک چکی تھی ۔بوڑھی عورتیں کہا کرتی تھیں ،پتر دعا کرو رب سوہنا مینہہ برسائے تو بلائیں دور ہوں،لگتا ہے رب بندوں سے ناراض ہو گیا ہے…

مزید پڑھیں

امی جان کی یاد میں – بتول اپریل ۲۰۲۲

میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سر فرازی میں اسی لیے مسلمان میں اسی لیے نمازی آج میں اپنی امی جان کی ڈائری لیے ہوئی بیٹھی ہوں ۔ یہ وہ شعر ہے جو میری پیاری امی جان کی ڈائری کے پہلے صفحے پر خود ان کے ہاتھوں سے تحریر ہے ۔ میری پیاری امی جان جمیلہ خاتون جماعت اسلامی کی رُکن تھیں انہیں آج ہم سے بچھڑے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے ۔ پچھلے رمضان المبارک کی اٹھارہویں شب عشا کے ٹائم جبکہ گھر میں نماز تراویح ادا کی جا رہی تھی وہ اس دار فانی سے رخصت ہوئیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس شعر کو صرف اپنی ڈائری کی زینت بنا کر چھوڑ ہی نہیں دیا بلکہ اپنی پوری زندگی اس شعر کو معنی پہنانے میں لگا دی اور بات بھی یہ ہے کہ اجتماعیت سے وابستگی نے ہی یہ تڑپ بھی پیدا کی جس کا اظہار اس شعرکی صورت میں ہوتا ہے ۔ ہماری امی جان محترمہ جمیلہ خاتون نے اپنی تحریکی زندگی کا آغاز ضلع لیہ سے کیا جہاں ان کی پچھلی رہائش تھی ۔ تحریک سے تعارف کا ذریعہ آپا فیروزہ قریشی بنیں جو لیہ میں اسلامیہ ہائی…

مزید پڑھیں

کلامِ اقبال کے عوامی افق – بتول اپریل ۲۰۲۲

شاعری میں اقبال کی وحدت نگاری
سماجی شیرازہ بندی کا ایک دشوار ترین لیکن بے حد سہانا عمل
کسی انسانی معاشرہ کے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردینے کی تجویز کو آپ شیرازہ بندی کا نام دے سکتے ہیں ۔ اور جب یہ افراد جمع ہونے لگیں اور ان میں یگانگت پیدا ہونے کے لیے امکانات نظر آنے لگیں تو ان امکانات کو آگے بڑھانے کے لیے شاعری میں بیان کرنے کو آپ وحدت نگاری کا نام دے سکتے ہیں ۔ جی ہاں وحدت نگاری کی اصطلاح خاص میری وضع کردہ ہے اور یہ بات میں ابتدا ہی میں واضح کردوں کہ اس اصطلاح کا تعلق توحید سے براہِ راست بالکل نہیں ہے ۔ یوں اقبال کا کلام ہو اور آپ تو حید کی کوئی بات کردیں تو یہ کوئی عجیب بات بھی نہیں کہی جا سکتی…لیکن وحدت نگاری کا تعلق اگر قطعی طور پر عمرانیات سے قرار دیا جائے تو میں سمجھوں گا آپ نے میری بات سمجھ لی ہے ۔ لہٰذا وحدت نگاری کی اصطلاح میں نے یہاں اس لیے وضع کی ہے کہ ایک تو میں یہ ثابت کروں کہ کلام اقبال کا اصل تعلق ایک انسانی معاشرہ کے عام افراد سے ہے اور اس میں کسی…

مزید پڑھیں

محشر خیال – بتول اپریل ۲۰۲۲

ثریا بتول علوی۔لاہور
ماہنامہ’’ چمن بتول ‘‘ کے گزشتہ شمارے فروری2022ء میں ایک بہن شہناز رئوف کا ایک مضمون ’’ میرا مرکزِ محبت ، میرا ویلنٹائن نظر سے گزرا اس میں انہوں نے اپنے نیک صالح اور متقی شوہر کے کو میرا ’’ویلنٹائن ‘‘ کہہ کر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
بلا شبہ مسلمان خواتین کو اللہ سبحانہ‘ تعالیٰ اور رسول پاک ؐ کے بعد اپنے شوہر سے ایسی ہی محبت اور وفا داری ہونی چاہیے جس کا ذکر انہوں نے اپنے مضمون میں کیا ہے کہ اسے ہی اپنا مرکزِ محبت بنایا جائے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ تاریخ میں متعدد مسلمان خواتین نے اپنے شوہروں سے محبت و وفا داری کی عظیم مثالیں چھوڑی ہیں البتہ شوہر کے لیے لفظ’’ میرا ویلنٹائن ‘‘ کہنے پر میرے کچھ تحفظات ہیں۔
’’ ویلنٹائن ڈے ‘‘ ایک مغربی حیاباختہ تہوار ہے ، جس سے حیا سوز یادیں وابستہ ہیں خود مغرب کے سنجیدہ لوگ بھی ایسے تہوار منانا پسند نہیں کرتے جیسے خود یہودیوں ، عیسائیوں اور ہندوئوں نے مسترد کر دیا ہے ۔مگر بد قسمتی سے اس کو پاکستان میں رائج کرنے کی مہم زوروں پر ہے ۔ ہمارے معاشرے میں میڈیا کے ذریعے ،این جی اوز کے ذریعے اور انگلش میڈیم اداروں…

مزید پڑھیں

مسکان کا نعرہ ٔ تکبیر – بتول اپریل ۲۰۲۲

عالمی میڈیا پر مسلمان خواتین کے لباس پر بحث ایک عرصے سے جاری ہے ۔ فرانس میں ایسے قانون بنے جو مسلمان اقلیت کے حق انتخاب پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ ترکی میں بھی عوامی سطح پر یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب رجب طیب اردگان کی اہلیہ نے سرکاری تقریب میں سر ڈھانپنا شروع کیا ۔ ترکی میں کسی فرسٹ لیڈی نے پہلے یہ ’’ جسارت‘‘ نہیں کی تھی ۔ ہندوستان میں کشمیری مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ناروا سلوک پر پاکستان آواز اٹھاتا رہا مگر انٹرنیشنل میڈیا نے چپ سادھے رکھی ۔ نوجوان لڑکی مسکان کے نعرہ تکبیر نے سوشل میڈیا پردھوم مچائی تو لباس کے مسئلے پر ہندو انتہا پسند رویہ ، دنیا میں بے نقاب ہؤا۔ مسکان کی جرأت اور بہادری کو شہرت نصیب ہوئی تو مسلمانوں کے بین الاقوامی نمائندہ ادارے بھی متحرک ہو گئے۔
پاکستان میں بھی خواتین کا لباس کئی حوالوں سے زیر بحث رہا ہے۔ ایک طرف مغرب سے منسلک لبرل خیالات ،دوسری طرف کٹر سوچ جو لباس کے علاوہ سماج میں خواتین کے کردار کو محدود رکھنا چاہتی ہے ۔ ضیاء الحق کا دور قصہ پارینہ ہؤا جب ٹیلی ویڑن پر اینکر خواتین کے دوپٹے…

مزید پڑھیں