عنی مراد – بتول اپریل ۲۰۲۲
بہت دنوں بلکہ ہفتوں سے لان کی صفائی نہیں ہوئی تھی ۔میاں کو کسی کورس کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا پڑ گیا اور بوڑھے مالی بابا کی بوڑھی بیوی فوت ہو گئی تھی ۔اس علاقے میں نیلم کو آئے ہوئے بھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ واقفیت نکال لیتی بلکہ کچھ عرصہ تو یہی سوچتی رہی کہ خود ہی ہمت کر کے صفائی کر لے گی مگر بارش نہ ہونے کی وجہ سے ہر چیز خشک مٹی سے اٹی پڑی تھی۔ لان کی صفائی تو کر بھی لیتی مگر وہ جو شیشم ،امرود اور آم کے درختوں کے پتے مٹو مٹ ہو رہے تھے ،دیواریں گندی اور انگور کی بیل لیموں کے پودے روکھے ہورہے تھے ان کا کیا کرتی !یہ تو اوپر والا ہی رحمت کی بارش برسائے تو بات بنے۔
اس کے علاوہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے خشک کھانسی اور کرونا نام کی بلا چمٹی تھی وہ جان کیسے چھوڑے۔بچوں کو ایک ماہ میں دو مرتبہ کھانسی کا دورہ پڑ چکا تھا۔ اینٹی بائیوٹک دے دے کر بھی تھک چکی تھی ۔بوڑھی عورتیں کہا کرتی تھیں ،پتر دعا کرو رب سوہنا مینہہ برسائے تو بلائیں دور ہوں،لگتا ہے رب بندوں سے ناراض ہو گیا ہے…

