دوستی کا امر باب فرزانہ چیمہ، ایک یادگار رفاقت ۔ آسیہ راشد
Please log in to view this content.
Please log in to view this content.
Please log in to view this content.
Please log in to view this content.
نام: غزالہ عزیز ،قلمی نام ام ایمان ، کالم نگار ، افسانہ نگار ، ناول نگار، بچوں کی کہانیاں حریم ادب کراچی کی جنرل سیکرٹری ،کراچی پریس کلب اور آرٹس کونسل کی ممبر ،افسانوں کے دو مجموعے،’’ صبح تمنا ، پھولوں کی ٹوکری ‘‘ ناول ، مسافتیں ،پہاڑوںکے بیٹے سیرت صحابہ پر ایک کتاب ( غلام جو سردار بنے ) زیر طبع بچوں کی کہانیاں ، کالم کا مجموعہ افسانوں کا مجموعہ ، سیرت صحابیات اہل بیت ۔
سوال: اپنے گزرے ہوئے اور موجودہ وقت کے بارے میں کچھ آگاہی دیجیے۔
غزالہ عزیز: میں ایک متوسط اور پڑھے لکھے دین دارگھرانے سے تعلق رکھتی ہوں ۔ پانچ بہن بھائیوں کی سب سے چھوٹی بہن جس کو بچپن سے پیار ملا اور خوب ملا ۔ میرے والد دینی جماعت کے سرکردہ رکن تھے ۔ مولانا مودودیؒ کے ابتداسے ساتھ رہے انڈیا ہی سے ان کے رسالے ترجمان القرآن کے خریدار تھے ۔ لکھنئو شہر کے بڑے تاجروں میں شمار ہوتے تھے ۔ تجارت کے سلسلے میں سفر کرتے رہتے تھے ۔ پاکستان بننے کے چند سال بعد پاکستان آئے تاکہ تجارت اور کاروبار کا جائزہ لیں اس بات کو دیکھیں کہ یہاں کاروبار اور رہائش کس شہر میں کی جائے ۔
جب وہ واپس…
ہماری یہ فانی دنیا گو نا گوں واقعات سے بھری پڑی ہے ایسے ایسے حیرت انگیز واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔حیات بعد از موت ایک ایسا موضوع ہے جس میں انسان کو ہمیشہ سے ہی دلچسپی رہی ہے ہم اسے قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں مگربعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو اپنے مخفی اسرار کی کچھ جھلکیاں دکھلا دیتے ہیں جس سے سلیم الفطرت لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنی اصلاح کرلیتے ہیں۔ ایسے ہی کئی واقعات دنیا میں ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے ۔ آج میں آپ کو دو ایسے لوگوں کے سچے واقعات بتانے جا رہی ہوں جنہوں نے خود ان واقعات کا مشاہدہ کیا جس کے بعد ان کی اور ان کے اہل خانہ کی زندگیاں یکسر بدل گئیں۔
پہلا واقعہ دمشق کے ایک عالم دین نے سنایاوہ بتاتے ہیں :
دمشق میں وداح کا قبرستان ہے اہلِ دمشق اسے اچھی طر ح جانتے ہیں کیونکہ یہ وہاںکا مشہور قبرستان ہے۔ اس میں اولیا ء ،علماء، مجاہدین اور شہدا کی قبریں ہیں ۔ اسی قبرستان میں ایک گورکن تھا جواپنے روز مرہ کے معمولات کے مطابق قبریںکھودتا اور…
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
پیکر و مہر و محبت، ایثار و وفا، رواداری و بردباری، فرحت و راحت، علم و عمل کو یکجا کر دیا جائے تو منجھلی آپا بنتی ہیں۔ آپ کی شخصیت ہوا کے لطیف جھونکے کی مانند ہے جو نہایت سبک خرامی سے دوسرے کے دل میں نرمی اور ٹھنڈک کا احساس پیدا کر دیتا ہے۔ آپ سے مل کر بے پناہ پاکیزگی کا احساس جاگزیں رہتا ہے، سراپا اللہ کی بندی دکھائی دیتی ہیں۔ اللہ اور اس کے رسولؐ کی چاہت وجود سے پھوٹی پڑتی ہے۔ ان سے ملنے کے بعد دل میں اللہ کی محبت فزوں تر محسوس ہوتی ہے۔ آپ ایسی عارفہ ہیں کہ ان جیسے لوگ انسانوں کے ہجوم میں خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے علم و عمل کی خوشبو اپنے اردگرد والوں کو معطر کیے رکھتی ہے۔ آپ کو اپنے والدین کی زندگی کے آخری ایام میں ان کی بے پناہ خدمت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ آئیے ان سے ملاقات کرتے ہیں۔
س: آپ کا اسم شریف اور سنِ پیدائش کیا ہے؟
ج: میں اپنا نام نہیں ظاہر کرنا چاہتی آپ مجھے مولانا مودودیؒ کی صاحبزادی کہہ کر بلائیں۔ میں 1941ء میں دہلی میں پیدا ہوئی۔…
ٹھیک پندرہ روز بعد ہم سب دوبارہ کو لکھپت جیل جا رہے تھے ۔ ہمارے ساتھ لیڈی ہیلتھ وزیٹرفرحت ( مرحومہ) غزالہ ہاشمی ، فرزانہ ، اسما خان اوردونوجوان بچیاں تھیں جنہوں نے میڈیکل باکس اوربلڈ پریشر چیک کرنے والے آلات اُٹھا رکھے تھے۔
اس دن کی طرح دوبارہ ہماری شناخت ہوئی اورکچھ دیر بعد ہم جیل کی چار دیواری میں بنی چھوٹی چھوٹی عمارتوں میں سے ایک عمارت میں بیٹھے تھے ۔ خالدہ بٹ صاحبہ ہمارے استقبال کے لیے موجود تھیں وہ بہت متحرک دکھائی دے رہی تھیں۔وہ ہمارے سوالات کے جواب بہت تسلی اور اطمینان سے دے رہی تھیں ۔ میرے دل و دماغ میں بہت سے سوالات پنپ رہے تھے جو میں ان سے پوچھنا چاہ رہی تھی ، قیدی بیمار عورتیں ایک ایک کرکے کمرے میں آنے لگیں اور کمرے میں پڑے بنچوں پربیٹھنے لگیں ۔سبھی لوگ مستعدی سے ان کا چیک اپ کر نے لگے ۔ ایک نے بلڈ پریشر چیک کیا ، دوسری نے تھرما میٹرلگایا، فرحت نے ان کے گلے ، آنکھیں ، کان چیک کیں اور نسخہ لکھ کر گروپ کی ایک ممبرکوپکڑا دیا جو دوائیوں کا باکس کھولے بیٹھی تھی۔ اس نے دوائیاں لفافے میں ڈال کر مریضہ عورتوں کودینا شروع کیں…
جیل آفیسر کی زبانی
جیل آفیسر شمیم چیمہ نے کہانی شروع کی ۔
ضلع چکوال کے نواح میں گھومتی ، پہاڑیوںکے درمیان واقع گھنے جنگل سے گھرا ہؤا کاشانہ فصیح اس کے مکینوں کے دولت اور امارت کامنہ بولتا ثبوت تھا ۔ یہ ایک عظیم الشان پرانا گھر تھا جس میںبلوط اور شیشم کے بلند و بالا دروازے سپین کی طرز کی بنی ہوئی محرابوںوالی شیشے کی کھڑکیاں اس کی شان و شوکت میں اضافہ کر رہی تھیں ۔ اس گھر کی دیواروں پر لگے ہوئے آبائو اجداد کے کرخت چہروںوالے بڑے بڑے پورٹریٹ اس گھر سے جڑی تاریخ کی عکاسی کر رہے تھے جس میں وہاں کے مکینوںکی وضع داری ، روایت پسندی، جدت طرازی اورکہیںکہیں رحم دلی کی داستان رقم تھی ۔ بیرون ملک سے لائے گئے انواع و اقسام کے نوادرات اس گھر کی سطوت کو بڑھا رہے تھے ۔شاہ بلوط اور صندل کی لکڑی کے بھاری سامان ، قدیم طرز کی پوشش اورپرانی یادوںکی دیر پا خوشبو کاشانہ فصیح کے اندر کے ماحول کو خوشگوار بنا دیا تھا ۔
جب اس گھر کی اکلوتی بیٹی شانزے کے اٹھلاتےہوئے قدم گھر کی راہداریوں میں چلتے پھرتے ،اوراس کے گونجتے ہوئے قہقہے زندگی کا احساس دلاتے تو اس گھر کی رونق…