یہ انٹرویو ۲۰۱۱ اور ۲۰۱۳ کے عرصے میں کسی وقت لیا گیا تھا اب ٹھیک سے یاد نہیں۔ اس
بات چیت میں میرے ساتھ گل رعنا مسعود، راحیلہ سلمان اور ذروہ احسن بھی شامل تھیں(ا-ر)
س: السلام علیکم
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاۃ‘
س: آپ اپنے والدین اورخاندان کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
ج: میرے والد صاحب کا نام ملک علی حسن اعوان تھا۔ میرے والد صاحب جماعت اسلامی کے پہلے 75 لوگوں میںسے تھے ۔ میں ابھی صرف سات سال کی تھی جب والد صاحب فوت ہوگئے ۔ہم لوگ عون بن علیؓ کی اولاد میں سے ہیں اسی لیے اعوان کہلاتے ہیں۔ عون حضرت علیؓ کی دوسری بیوی میں سے تھے ۔ پشت در پشت ہم پر زکوٰۃ نہیں لگتی۔ والد صاحب محکمہ انہار میںاوور سیئر تھے ۔ ہیڈ مرالہ ، ہیڈ برکی اور ہیڈ رسول انہی کی ملازمت کے دوران میں تعمیرہوئے ۔والد صاحب جاگیر دار بھی تھے انہیں جاگیر داری کی وجہ سے نمبر داری بھی ملی ہوئی تھی والدصاحب مشرقی پنجاب حصار میںرہائش پذیر تھے، رہنے والے شیخوپورہ کے تھے۔
س: آپ لوگوں کی تربیت میں کس کاکردار اہم رہا والد کا یا والدہ کا ؟
ج: ہمارے والد صاحب نے اپنے بچوں کی تربیت بہترین طریقے سے کی انہیں پڑھایا لکھایا انہیں وقت دیا پھر وہ جماعت اسلامی کے رکن بنے ۔تمام بچوںکو نمازی بنانے میں ان کا بہت اہم کردار ہے اپنے بچوں کو اپنے ساتھ مسجد لے کر جاتے اور کردار سازی کے حوالے سے ان کو خصوصی توجہ دیتے ۔
س: آپ کتنے بہن بھائی ہیں؟
ج: ہم دو بہنیں اور دو بھائی تھے ۔ دونوں بھائی بڑے تھے ایک بھائی احسان الحق مجھ سے تیرہ سال بڑے تھے دوسرے ریاض الحق 11 سال بڑے تھے اور میری بہن ام کلثوم مجھ سے نو سال بڑی تھیں ۔ میںاپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہوں۔
س: آپ کی پیدائش کب ہوئی؟
ج: میری پیدائش 1934ء میں ہوئی ۔ والدہ بتاتی ہیں کہ میری پیدائش کے وقت ان کو ذرا بھی تکلیف سےنہیں گزرنا پڑا تھا۔ جب میں پیدا ہوئی اس وقت ان کے پاس ایک کپڑا بھی نہ تھا کہ مجھے ایک ہی کرتا سی کر پہنا دیتیں ۔ ان دنوںمیرے والد صاحب بے روز گار تھے پہلے وہ محکمہ انہار میں انگریز کی ملازمت کرتے تھے ۔ ان کے دفتر کااصول تھا کہ وہاں دومرتبہ حاضری لگتی تھی صبح سے دوبجے تک اوردو بجے سے سات بجے تک ۔ان کا انگریز باس جب دفتر آتا تو ابا جی مسجد میںنماز پڑھنے گئے ہوتے ۔ اس نے ابا جی سے کہا میں جب بھی آتا ہوں آپ سیٹ پر موجود نہیں ہوتے تو ابا جی نے کہا میں نماز کے لیے مسجد جاتا ہوں ۔اس پر انگریز صاحب بہت جز بز ہؤا اس نے کہا آئندہ آپ نے یہیں دفتر میں نماز پڑھنی ہے مسجد میںنہیں جانا ۔ اس پر وہ راضی نہ ہوئے اور انہوں نے استعفیٰ لکھ کر دے دیا ۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ پانچ سال بے روز گار رہے بھوکے مرنے کے دن آگئے ۔انہوں نے کہا بھوکا مرجائوں گا انگریز کی نوکری نہیں کروں گا ۔
جب میری پیدائش کی خبر آئی تو ابا جی نے کہا اب برکت آ جائے گی۔ جب گھر آئے تو دیکھا کہ ملازمت کی چٹھی آئی ہوئی تھی ۔ اللہ نے ساتھ ہی رزق کے دروازے کھول دیے۔ کسی کے آگے ہا تھ پھیلانا انہیں منظورنہیں تھا۔انہوں نے خود سوّیاں اُبالیں ، گھی ڈالا اوردایہ سے کہا چچی کو دے دو اور انہیں کھلائو۔
پارٹیشن کے بعد ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑکےپاکستان آگئے۔ کشتیاں جلا کے آئے تھے ۔ جو چیزیںچلی جاتی ہیں وہ واپس نہیں ملتیں۔
س: اپنے بچپن کے کوئی نا قابل فراموش واقعات بتائیں ؟
ج: ہم نے یہی دیکھا ہے جو کچھ ماں باپ کرتے ہیں ان کے بچے بھی وہی کچھ کرتے ہیں ۔ ایک بار والدہ چرخہ کات رہی تھیں اور عورتیں بھی چرخہ کاتنے میں ساتھ دے رہی تھیں ابا جی آئے اور کہا کیا تم چرخہ کاتنے کے لیے بنی ہو؟مجھے بہت کوفت ہوئی اور غصہ بھی آیا ۔ میری امی ابا جی کے غصہ سے ڈر کر دیوار کے ساتھ جا لگیں، پہلی عورتیں خاوندوں سے ڈرتی تھیں ۔ اباجی نے کہاآئندہ نہ تم نے چرخہ کاتنا ہے اور نہ ہی کپڑے سینے ہیں ، بس قرآن پڑھو اور پڑھائوگھر میں بھینسیں ہیں ہمارا گزارا ہوجائے گا ۔
ابا جی بے حد خوبصورت آدمی تھے ، ان کے برعکس میری والدہ سادہ شکل و صورت کی مالک تھیں ان کا رنگ بھی سانولا تھا ۔ والد صاحب پڑھے لکھے آدمی تھے جبکہ والدہ کو دستخط بھی نہیں کرنے آتے تھے ۔ والد صاحب مائع لگے ہوئے کھڑکھڑاتے کپڑے پہنا کرتے تھے ۔ والد صاحب کو 50 مربع زمین وراثت میں ملی تھی جس میںسے انہوں نے 25 مربع زمین جماعت اسلامی کو دے دی ۔ایک تہائی زمین مزارعوں میںبانٹ دی اور باقی زمین اپنے پاس رہنے دی ۔ زمین زیادہ ہونے کی وجہ سے نمبر دار ی بھی ملی ہوئی تھی۔
ایک بار ہمارے گائوں میں کسی مزارع کی بیٹی کی شادی تھی اس کے پاس جہیز میں دینے کے لیے بستر،رضائیاں وغیرہ نہیں تھے ۔ان وقتوں میں یہی جہیز ہؤا کرتا تھا ۔ ابا جی کو پتا چلا تو فوراً گھر آئےاور والدہ سے کہا پیٹیاں کھولو اور جتنے بھی بستر موجود ہیں سبھی نکالو، جو لوگ دن رات محنت کرتے ہیںانہیں کچھ نہیں ملتا ۔ اور رنگین دھاگوں والے کھیس ، دریاں ، رضائیاں، سر ہا نے سبھی سامان پیٹیوں سے نکال دیا رنگین پایوں والے پلنگ ، 100چارپائیاں تھیں سبھی لوگوں میں بانٹ دیں۔ رحما موچی کو بلایا اور پوچھا تمہارے گھر میں کتنے بندے ہیں ، آٹھ ؟ لو آٹھ بستر اوررضائیاں لے جائو۔شادی کےلیے بھی سازو سازمان دیا اسے گھر والوں کے لیے دس بارہ بستر اور دس بارہ مہمانوں کے لیے رکھ کرباقی سب سامان گائوں کے لوگوں میں بانٹ دیا ۔ ہمارے پاس کُل بیس بھینسیںتھیں ان میں سے چار بھینسیں رکھیں باقی سب غریب سے غریب ڈھونڈ کران میں بانٹ دیں ۔ عیسائیوں کو بھی بھینسیںدیں ۔ وہ آتے تھے اوربھینسوں کو نہلا دھلا کرچلے جاتے تھے ۔یہ سب منظر دیکھ کر میری امی حیران بلکہ پریشان ہوگئیں ۔ میںاس وقت تیسری جماعت میں تھی۔ یہ سب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
ابا جی کو انگریزوں کے دور حکومت میں گھوڑی پال کے عوض چار مربع زمین ملی تھی جو انہوں نے بیچ دی ۔ اس دورمیں جو انگریزوں کے گھوڑے پالتے تھے انہیں معاوضے کے طور پر زمین دی جاتی تھیں ۔ ان کاکہنا تھا جس کا گھوڑا جتنا تیز دوڑ ے گا اور جتنی زمین کااحاطہ کرلے گا اسے وہ زمین دے دی جائے گی ۔ گھوڑوں کی نگہداشت، نہلانے دھلانے کے لیے انہیں سائیس بھی ملتے تھے ۔ ابا جی کا انتقال حصار دہلی میں ہؤا، سرسہ ساتھ لگتا ہے ۔
س: آپ لاہور کب آئیں؟
ج: 1967ء میں ہم نے اچھرہ لاہور میں گھر بنایا ۔ اس گھر کی زمین عبدالوحید خان صاحب کو کلیم میں ملی تھی اس کے اوپر گھر کی تعمیر میں مجھے وراثت میں جو چند ایکڑ زمین ملی تھی وہ بیچ کر ہم نے گھر بنایا ۔ ہماری زمین کئیاں والا شیخوپورہ میں تھی۔
اس گھر میں بہت آسائشیں ہیںبہت آرام دہ گھر ہے مگر بچے کہتے ہیںکسی پوش علاقے میںگھربنائیں۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ تم لوگ جائو اپنے اپنے گھر بنائو میں یہاں سے نہیں جانا چاہتی یہاں ہماری جان پہچان ہے رشتہ دار ہیں۔جب تمہار ے ابا جی کا جنازہ اٹھا تو یہاں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ گھر سے لے کر قبرستان تک جنازے میںلوگ ہی لوگ تھے ، ارد گردکے دکانداروں نے تین دن تک دکانیں بند رکھیں ۔ اگر ڈیفنس میں موت آتی تو کون جنازے میں شامل ہوتا ؟ ہم یہاںمدتوں سے رہ رہے ہیں۔
س: آپ اپنے بچوں کے بارے میںبتائیں؟
ج: میرے چودہ بچے پیداہوئے۔ ایک بیٹا پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ہی وفات پا گیا ۔باقی میرے چار بیٹے اورنو بیٹیاں ہیں۔ نسرین ، پروین، راحیلہ، حفصہ،حمیرہ، ربیعہ ،عفیفہ، سعدیہ، عائشہ بیٹوں میں راشد حمید ، ناصر حمید ، عامر حمید ،عمارحمید ہیں۔
س: آپ نے کئی بے سہارا بچیوں کوسہارا دیا ان کے بارے میں بتائیں ؟
ج: یہ سب اللہ کی مہربانی سے ہؤا نیپال کی ایک بچی گھر سے بھاگ کر ہم تک پہنچ گئی ۔ ہم نے اس کے والدین کوتلاش کر کے اس کے گھر پہنچایا۔ اسی طرح ایک کشمیری بچی جس کا چہرہ جھلس گیا تھا اس کی شادی کروائی ۔ایک عیسائی لڑکی نے اسلام قبول کیا وہ اپنے گھر جانے سے ڈرتی تھی کہ اس کے والدین اس پر تشدد کریں گےتو اس لڑکی کو اپنے گھر رکھا اس کا جہیز تیار کیا اس کی شادی کروائی اپنے گھر سے رخصتی کی ۔اسپین سے ایک صحافی خاتون آئی وہ ہمارے گھر ٹھہری ، اس نے بھی اسلام قبول کیا اس کا نام زیتون شیخ تھا۔
س: آپ اپنی شادی کے بارے میں بتائیں ؟
ج: میرا رشتہ عبد الوحید خان صاحب کے ساتھ مولانا مودودیؒ صاحب نےکروایا تھا ہم تہذیب یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔میری والدہ نے مولانا مودودی صاحب سے کہا جس ہنڈیا میں بڑا گوشت پکتا ہووہ اس ہنڈیا میںپکا ہؤا کھانا نہیں کھاتی اوراس کے سسرال میں تو پکتا ہی بڑا گوشت ہے ،وہاں جا کر یہ کیاکرے گی ۔ میرے سسرال والے بریلی کے رہنے والے تھے اورہم پنجاب کے ۔ مولانا نے کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے بہت سمجھدار ہے ۔ تو میں نے شادی کے بعد بڑا گوشت بھی کھایا اوروہ سب کچھ بھی کیا جو نا پسند تھا ۔ اسی طرح گھر کے اور باہر کےہر محاذ پر وہ سب کام کیے جو ضروری سمجھے۔
س: آپ کا جماعت اسلامی سے تعلق کب بنا اور رکنیت کب اختیار کی؟
ج: جب میری عمر تیرہ چودہ برس تھی تب میری والدہ نے مجھے مولانا مودودی صاحب کے پاس قرآن کا ترجمہ پڑھنے کے لیے بھیجنا شروع کیا ۔ وہیں میری ملاقات رخشندہ کوکب سے بھی ہوئی ۔ ہم چار پانچ لوگ پردے کی اوٹ میں مولانا سے قرآن کاترجمہ پڑھا کرتے تھے میں اور رخشندہ دونوں جماعت کا کام کیا کرتے تھے ہم نے الیکشن میں،سیلاب کے دنوں میںاورجماعت کے دیگر کام بڑھ چڑھ کر کیے لیکن ہم لوگ رکن نہیںتھے۔
یہ اسّی کی دہائی کی بات ہے ایک روز مینا آپا اور آپا زبیدہ بلوچ ہمارے گھر آگئیں ۔ میں چھت پر کپڑے سوکھنے ڈالنے گئی ہوئی تھی ۔ انہوں نے مجھے رکنیت کا فارم پُر کرنے کے لیے کہا ،اور کہا کام توآپ اتنا کر رہی ہیںفارم پُر کرنے میں کیا حرج ہے ،اور پھرمیںنے فارم پُر کردیا۔
س: اب ہم آپ سے ادارہ بتول کی تاریخ کے حوالے سے بات کریں گے ادارہ بتول کا قیام کب عمل میں آیا ؟
ج: ادارہ بتول کا باقاعدہ قیام بعد کی بات ہےمگر اس کی تاریخ بہت پرانی ہے سن 1948ء سے شروع ہوتی ہے ۔ پہلے مکتبہ خواتین جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی اس کے انچارج عبد الوحید خان صاحب تھے۔ جب مولانا مودودی صاحب نے حلقہ خواتین کومتعارف کروایا تو اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ گوجرانوالہ کی ایک خاتون حمیدہ بیگم جماعت اسلامی میںشامل ہوئیں تو مردانہ نظم نے ان کی دینداری، اقامت دین کے لیے ان کی تڑپ اور بے پناہ ادبی اور انتظامی صلاحیتوںکودیکھتے ہوئے حلقہ خواتین کی تشکیل کی اور انہیںخواتین سے متعلق تمام شعبوں کی نگران بنا دیا ۔ انہوں نے خواتین کے لیے ادب برائے زندگی اوربندگی کے راستے کھولے۔ ان کی کوششوں سے حلقہ خواتین کے ادبی شعبے کا قیام عمل میں آیا۔
س: خواتین کواپنا ایک الگ رسالہ نکالنے کا خیال کیسے آیا ؟
ج: ہماری دینی سوچ رکھنے والی خواتین نے جب ادبی محاذ پر کام کیا تو انہیں احساس ہؤا کہ ہم مختلف پرچوں میںاعلیٰ پائے کےمضامین بھیجتے ہیں تو وہ ہماری تحریریںنظریاتی تعصب کی بنا پر نہیں چھاپتے تو انہوں نے سوچا کیوں نہ ہم اپنا الگ سے رسالہ نکالیں جس میں اصلاحی ادب سے تعلق رکھنے والی خواتین کی تحریریںشامل ہوں۔ یہ تجویز سب نے پسند کی اور یوں مولانا مودودی صاحب کی رہنمائی میں خواتین کا الگ پرچہ عفت نکالا گیا ۔ ساتھ ہی ساتھ اصلاحی ادب پر مبنی مضامین اورکہانیوں کی کتابیں شائع ہونے لگیں اس وقت کے حالات کے مطابق مولانا نے کہا کتابوں کی اشاعت اور ترسیل مردوں کے کرنے کے کام ہیں۔ خواتین یہ کام نہیں کر سکتیں لہٰذا جتنی بھی کتابیںچھپیں ان کی اشاعت کا کام مردوں نے کیا۔
س: عفت کی ادارت میںکون کون لوگ شامل تھے اورانتظامات کس کے سپرد تھے؟
ج: عفت کی ادارت میں حمیدہ بیگم اوررخشندہ کوکب شامل تھیں جب کہ انتظامی امور عبد الوحید خان صاحب کے سپرد تھے اوردفتری امور عبدالرحیم( ماموںکانجن والے ) کے سپرد تھے ۔ عبد الرحیم صاحب اورہم ایک ہی مکان میں رہتے تھے، وہ مکان کے نچلے پورشن میںاور ہم اوپر والے پورشن میںتھے ۔ رحیم صاحب لا ولد تھے ۔
کچھ عرصہ بعد عفت کوبندکرنا پڑا ۔ اس کے چند ماہ بعد وہی پرچہ ’’بتول‘‘ کے نام سے منظر عام پرآیا ۔ساتھ ہی ادارہ بتول کی بنیاد رکھ دی گئی ۔ بتول کا پہلا پرچہ نومبر 1957ء میں چھپا ۔ اس کی ادارت میں بھی حمیدہ بیگم اور رخشندہ کوکب شامل تھیں جبکہ انتظامی امور صابر قرنی صاحب کے سپرد تھے۔
س: ادارہ بتول کا پہلا دفتر کہاں تھا؟
ج: ادارہ بتول کا پہلا دفتر 4 اے ذیلدار پارک میںتھا ۔
س: ادارہ بتول کے ممبران کابورڈکب بنایا گیا ؟
ج: شروع شروع میں بورڈاور ممبران کچھ بھی نہیں ہوتا تھا بس جس کوجو کام بھی دے دیا وہ محنت اوردلجمعی سے کرتا تھا ۔ نصرت محمود پیسوںکا حساب رکھتی تھیں وہ بھی بورڈ کی ممبر تھیں ۔ہم لوگوں کو جو بھی ذمہ داری مل جاتی احسن طریقے سے پورا کرتے تھے ۔
ادارہ بتول کے بورڈآٹ ٹرسٹیز کی باقاعدہ تشکیل جنوری 1980ء میں ہوئی جس کی انتظامی کمیٹی کی صدر آپا زبیدہ بلوچ تھیں ۔اس بورڈ کے تحت کچھ اصول و ضوابط طے پائے گئے تھے جن کے مطابق ادارے کے کم سے کم سات اورزیادہ سے زیادہ گیارہ ممبران ہوں گے بورڈ آف گورنرز اپنے ممبران میں سے اپنا چیئر پرسن خود منتخب کرے گا ۔ ان اصول وقوانین میں ترمیم و تبدیلی بورڈ ممبران ہی کر سکتے ہیں۔
س: آپ کے خیال میں چیئر پرسن تا حیات ہونا چاہیے یااسے تبدیل ہوتے رہنا چاہیے ؟
ج: میرے خیال میںچیئر پرسن کو نہ بدلیں، اگر کوئی خود سے یہ کہتا ہے کہ میںاب یہ کام نہیں کر سکتا اب میری جگہ پر کسی دوسرے کومنتخب کر لیں تو زیادہ بہتر ہے ۔جیسے ایک جائے گا تودوسرا اس کی جگہ پر آئے گا ۔بورڈ کی سیٹ خالی کرنے والا خود اپنی سیٹ پر نامزدگی کر کے جائے گا ۔
س: آپ کے خیال میں بورڈ ممبران کے چنائومیں موروثیت ہونی چاہیے یا نہیں ؟
ج: بورڈممبران کی بیٹیوں میں سے اگر کوئی پرچہ یا ادارہ کاانتظام سنبھال سکتی ہے اورانتظامی امور چلانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے تو اسے ضرور ترجیح دینی چاہیے کیونکہ انہوں نے گھروں میں اپنی مائوں کو کام کرتے ہوئے دیکھا ہوتا ہے ، وہ بہت کچھ سیکھ کر آتی ہیں،انہیں ادارے کی تاریخ کا علم ہوتا ہے اس لیے انہیںمائوں کی جگہ پر ضرور آنا چاہیے۔
س: آپ کے خیال میں بورڈ ممبران نے اب تک اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں ؟
ج: میری عمر 86 سال ہے ،شادی سے پہلے کے سولہ سال نکال دیں تو میںنے ستر سال کام کیاہے ، اسی طرح سبھی بورڈ ممبران نے ذمہ داری سے کام کیاہے ۔
س: اس دور کے ماحول اورآج کل کے ماحول میںآپ کیا فرق محسوس کرتی ہیں ۔ پرانے دورمیں جماعت کی اراکین کو کیا سہولتیں حاصل تھیں ؟
ج: وہ سادگی کا دورتھا ۔ ہم لوگوںنے بہت کام کیا ہؤا ہے ہمیں جو بھی کام ملتا ہم کر لیتے بلکہ اس سے بڑھ کر کر تے ہم لوگ گاڑیوں پر سفر نہیں کرتے تھے آج کل کے اراکین کو ڈرا ئیور اورگاڑی چاہیے ہوتی ہے۔ ہمارا اسباب پرتکیہ نہ تھا بلکہ اللہ پرتھا۔
س: جولوگ دنیا سے چلے جاتے ہیںان کے بارے میںکیسی رائے دینی چاہیے ؟
ج: کسی کے فوت ہوجانے کے بعد ہمیشہ اسے اچھے لفظوںمیںیاد کریںاگر آپ نہیں کرسکتے تو خاموش رہیں ۔ دنیا سے جانے والوں کی کردار کشی میں کون سی مومنانہ شان ہے ۔ بہت سے لوگ دنیا سے جانے والوں کے بارے میںدل شکن تحریر بھی چھاپ دیتے ہیںجو کہ نا مناسب بات ہے ۔
س: آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟
ج: عمل کامیدان کھلا ہؤا ہے عمل کریں اورباتیںنہ کریںظاہری شان و شوکت سے کچھ نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ یہ دعا کرنی چاہیے ۔
رَبَّـنَـآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ اپنے دینی بہن بھائیوںکاخیا ل رکھنا چاہیے۔جو ارکان یا رفیق بوڑھے ہیں یامعذور ہیں ان کی عیادت کے لیے جانا چاہیے اگر کوئی اکیلا ہے تو اس کی دستگیری کرنی چاہیے ۔ پرانے اراکین جیسا خلوص ، پیار ،محبت انتھک محنت، میل ملاپ بے لوث ذاتی ملاقاتوں جیسے اوصاف اپنانےچاہئیں۔
آپا زبیدہ بلوچ اپنی زندگی کے آخری ایام میںبالکل تنہاتھیں ان کی ایک شاگرد طاہرہ شریف جو ان کے علاقے سے تعلق رکھتی تھیں وہ انہیں اپنے گھر لے گئیں ۔خلوصِ دل سے ان کی خدمت کی ۔آج کل کے نفسا نفسی کے دور میں یہ ایک بہت بڑی مثال ہے، ایسے لوگوںکے نقش قدم پر چلنا چاہیے ۔
(ان کےچند متفرق جملے )
اولاد کے بعد کتاب صدقہ جاریہ ہے ۔ اپنے ہاتھ سے کسی کوکتاب کا تحفہ دینے کا بھی اجر ہے ۔
زندگی میں اگر اپنے تمام اعضا کواللہ کی راہ میں استعمال کریںگے تو تمام اعضا صحیح کام کریں گے ۔
ہنر کہیںسے بھی سیکھا جا سکتا ہے مگر قرآن کوئی کوئی سکھاتا ہے ۔ جوچیزیں ہم بچپن میںدیکھتے ہیںوہی چیزیںہمارے اندر سرایت کر جاتی ہیں اور ہم انہی راستوں پر چلتے ہیں۔
اچھا خالہ جان آپ کا بہت بہت شکریہ ۔ آپ نے اپنا قیمتی وقت دے کر ہمیں ملاقات کا شرف بخشا۔
٭٭٭