چوں….چوں….چرر….چوں…. چرر
چنیوٹی جھولے کی ناگوار آواز مسلسل آ رہی تھی۔ لیکن اس سے بےنیاز اس پر بیٹھی رخشی کا ہاتھ ننھے اسجد کو تھپکنے میں مصروف تھا۔ رمضان کا اٹھائیس واں روزہ تھا۔ عصر کی نماز پڑھ کر اس نے بھابی کا کچھ ہاتھ بٹایا۔ ابھی روزہ کھلنے میں آدھا گھنٹہ باقی تھا۔ ان کے گھر کا اصول تھا کہ روزے کے آخری لمحات کچن میں ضائع نہیں کرنے، پہلے سے فارغ ہو کر افطار تک دعا کے وقت کا فائدہ اٹھانا ہے،خوب دعائیں مانگنی ہیں۔سوڈرائنگ روم میں سب گھر والے جمع تھےاور امی با آواز بلند دعائیں مانگ رہی تھیں۔
تین ماہ کا چھوٹا سا اسجد کافی دیر سے سونے کے لیے مچل رہا تھا۔ اس کے رونے سے سب ڈسٹرب ہو رہے تھےاس لیے رخشی اس کو اٹھا کر برآمدے میں چلی آئی۔
’’ارے گڑیا تم یہاں کیوں بیٹھی ہو۔ چلو نا اندر‘‘احمد بھائی اسے ڈھونڈتے ہوئے برآمدے میں پہنچے۔
’’جی بھائی۔ میں اس کو سلا رہی تھی‘‘۔
’’اچھااچھا۔ یہ جھولا کتنی آواز کر رہا ہے۔ اس کے کنڈوں میں گریس ڈالنا پڑےگا۔ ہر چیز توجہ مانگتی ہے۔ مینٹ ننس نہ ہو سکی، ذرا چوک ہوئی اور گڑبڑ شروع‘‘۔
احمد بھائی کہہ رہے تھے۔
رخشی کا دماغ لفظ مینٹ ننس میں الجھ کر رہ گیا ۔ واقعی ہر چیز توجہ مانگتی ہے چاہےبےجان چیزیں ہوں یا پھر کمزور پڑتے ہوئے رشتے….اس نے آنکھیں موند کر جھولے کی موٹی سی زنجیر سے سر ٹکا دیا۔ احمد نے غور سے اسے دیکھا اور کرسی کھینچ کر قریب ہی بیٹھ گئے۔
’’کیا بات ہے میری چھوٹی سی بہن اتنی اداس لگ رہی ہے؟‘‘
’’جی؟‘‘
رخشی نے آنکھ کھول کر بھائی کو دیکھا۔ اففف کیا تھا اس نظر میں…. احمد اندر تک لرز کر رہ گیا تھا۔ کتنی اذیت ،کتنا دکھ تھا، وہ بے ساختہ نگاہ چرا گئے۔
اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور آنسو دعا کے ساتھ ساتھ خاموشی سے بہتے رہے۔
تراویح سے فارغ ہو کر رخشی نے قرآن مجید اٹھایا۔ آج شب قدر تھی، دعائیں قبول ہونے کی رات، معافی مانگنے کی رات۔ ہو سکتا ہے کل چاند رات ہو….کتنے ارمان ہوتے ہیں، کتنی خوشی کا موقع ہے ۔ لیکن میری عید…. کیسی عید….کیسی خوشی….!!
اور پھر اس کے ذہن میں گزرے ہوئے ایک سال کے تلخ و شیریں واقعات کسی فلم کی طرح چلنے لگے۔
ابھی ولیمے کے دوسرے ہی دن، وہ جب گھومنے کے لیے اسلام آباد گئے۔
ڈنر کے لیے ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں جانا تھا۔ اس نے ریڈ کلر کا ڈریس پہنا۔ میچنگ لپ سٹک لگائی۔ اچھی طرح تیار ہوئی تھی۔ ظاہر ہے نئی دلہن تھی۔ اس کے لبوں پر شرمیلی مسکراہٹ سجی ہوئی تھی۔ لیکن جیسے ہی شہزاد کی نظر اس پر پڑی، وہ تیزی سے اس کی طرف آیا اور دونوں کندھے پکڑ کر اس کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ وہ اس کے لیے قطعاً تیار نہیں تھی، لڑکھڑا کر گر پڑی۔ ہیل پہنی ہوئی تھی تو چوٹ بھی لگی۔
اور وہ وحشی اسے اٹھانے کی بجائے زور زور سے چیخنے لگا…. کس کے لیے اتنا تیار ہو رہی ہو…. کھانا کھانے نیچے ہی تو جانا ہے….اور یہ ریڈ لپ سٹک زہر لگتی ہے مجھے، آئندہ کبھی مت لگانا۔اور ٹشو سے رگڑ رگڑ کر اس کی لپ سٹک صاف کر دی۔
وہ حیرت، ذلت، تکلیف اور دکھ کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اس کو دیکھتی ہی رہ گئی۔ اس وقت کتنی ڈر گئی تھی…..کیوں کہ گھر میں اس کے ساتھ کبھی کسی نے اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی۔ انگلی تک نہیں لگائی تھی۔
پھر کہنے لگا…. اٹھو جلدی…. مجھے بھوک لگی ہے۔ اور ہاتھ پکڑ کر گھسیٹ کر کھڑا کیا اور کھینچتے ہوئے لفٹ میں لے گیا۔
وہ اتنی سہم گئ تھی کہ منع بھی نہیں کر سکی۔ لفٹ کی چمکتی دیوار میں اپنا عکس دیکھا تو وہ خود کو پہچان نہیں پائی۔اس نے آنسو صاف کئے پھیلی ہوئی لپ سٹک صاف کی۔جیسے تیسے کھانا زہرمار کیا۔ اسے یہ سب کچھ ایک بھیانک خواب سا لگ رہا تھا۔
لیکن کمرے میں آنے کے بعد شہزاد کا انداز یکسر بدلا ہؤا تھا۔ اس نے بہت گڑگڑا کر معافی مانگی۔ اس کو پلنگ پر بٹھا کر خود قالین پر بیٹھ گیا۔ باقاعدہ آنکھ میں آنسو بھر کر کہنے لگا۔
’’پتا نہیں کیا ہو گیا تھا مجھے۔ پلیز مجھے معاف کر دو‘‘۔
اس کا ذہن ماؤف ہونے لگا تھا۔ پھر جب اس نے اپنے ہاتھ سے آئس کریم کھلائی تو اسے زبردستی نگلنی پڑی۔ وہ خوفزدہ بھی تھی کہ اگر منع کروں گی تو کہیں دوبارہ غصہ نہ آ جائے۔
بےبسی سی بےبسی تھی۔
اس کے بعد آٹھ دن وہ ناران ، کاغان ، مری، بھوربن گھومتے رہے۔ اس دوران شہزاد کا رویہ بے حد خوبصورت رہا۔ وہ بھی آہستہ آہستہ نارمل ہو رہی تھی۔ جب بھی وہ اس کے غصہ ہونے کے بارے میں سوچتی، اسے گمان گزرتا کہ شاید وہ چاہتا ہے کہ اس کی دلہن کو صرف اسی کے لیے تیار ہونا چاہیے، اور یہ تو خوش آئند بات ہے۔
اس کے بعد وقتاً فوقتاً اس کو ایسے ہی دورے پڑتے رہے۔ کسی بھی معمولی بات پر ناراض ہو کر ہاتھ اٹھاتا ، وہ بھی عادی ہوتی جا رہی تھی۔
اس کے دفتر سے واپسی کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا۔ایک دن بہت جلدی آ گیا۔ وہ کچن میں مصروف تھی،یہ دیکھ کر بری طرح چڑ گیا کہ یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے۔ شوہر گھر آئے تو بیوی کا حلیہ صاف ستھرا ہونا چاہیے۔ بہت برا بھلا کہا اور کچھ کھائے پیے بغیر گاڑی لے کر نکل گیا اور رات دیر سے واپس آیا۔ اور وہ بےچاری تب تک ہولتی رہی۔
اگلے دن اس نے جلدی جلدی کام نمٹائے اور خوب اچھی طرح تیار ہو گئی۔ لیکن وہ پتا نہیں کہاں رہ گیا تھا۔ گاڑی کی آواز پر بالکونی میں آ کر دیکھنے لگی۔ شہزاد نے بھی اس کو دیکھا تھا۔ پہلے ستائش جھلکی تھی۔ لیکن فوراً ہی اس کا چہرہ سخت ہؤا، جبڑے بھینچ کر اوپر آیا اور اس کے بال پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے اندر لے گیا کہ شریف عورتیں اس طرح تیار ہو کر بالکونی میں کھڑی نہیں ہوتیں،طوائفیں کھڑی ہوتی ہیں….آئندہ بالکونی میں نظر نہ آنا۔
ایسے بہت سے واقعات ہوتے رہے۔ وہ سہتی رہی کیوں کہ میکے میں ابو تو تھے نہیں، امی بیمار رہتی تھیں اور بھائی کی اب شادی ہو چکی تھی۔ کیسے بتاتی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ بھابی کے سامنے کوئی ایسی ویسی بات ہو۔
البتہ شہزاد کی امی کو جب بھی پتا چلتا کہ ایسا کچھ ہؤا ہے یا اس کے منہ یا ہاتھ پر کوئی نشان دیکھتیں تو دکھ سے کہتیں کہ’’مجھے معاف کر دینا بیٹا، ہم سمجھے تھے کہ شادی کے بعد یہ ٹھیک ہو جائےگا۔ اس کی دوا تو چل رہی ہے مگر یہ خود سائکیاٹرسٹ کے پاس نہیں جانا چاہتا، کہتا ہے کہ میں کوئی پاگل ہوں! بس تم یہی کوشش کیا کرو کہ اس کو غصہ نہ آنے پائے۔ تم ہی اس کو سنبھال سکتی ہو‘‘۔
وہ ان کے آنسو دیکھ کر پگھل جاتی، اور پھر سے نئے عزم کے ساتھ حالات کو بہتر کرنے کے مشن پر لگ جاتی۔ پھر اسجد کی خوش خبری کے بعد کچھ بہتری آئی۔ مگر اس دوران بھی دو تین مرتبہ ایسے ہی ہاتھ اٹھایا تھا۔ الله نے اسجد کو محفوظ رکھا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔
اس دن وہ اسجد کو نہلا کر باہر نکلی۔ ہاتھ روم کا دروازہ ٹھنڈ کی وجہ سے بند کیا ہؤا تھا ۔ باہر نکلی تو یہ حضرت کمرے میں شدید غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے تھے ۔ انھوں نے اسجد کو گود سے چھینا اور زور سے بستر پر پٹخ دیا اور اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ دیا ۔
’’کب سے آوازیں دے رہا ہوں۔ تم بس اسی کی خدمت میں لگی رہتی ہو۔ جب سے یہ پیدا ہؤا ہے، مجھے تو وقت ہی نہیں دیتی ہو‘‘یہ کہہ کر اس کا سر پکڑ کر دیوار سے ٹکرا دیا۔ شکر ہے سر پھٹا نہیں صرف گومڑ نکلا تھا۔ لیکن سر بری طرح چکرا گیا تھا۔
اس پر بھی وہ چیختا رہا۔ ادھر اسجد بری طرح رو رہا تھا۔ وہ تڑپ کر گرتی پڑتی اسجد کے پاس پہنچی ۔ اس کو سینے سے لگا لیا۔ بری طرح سہم گیا تھا بےچارا۔ دو مہینے کی جان،وہ سوچ کر ہی ہول رہی تھی کہ اگر اس کو کچھ ہو جاتا تو۔
بےچارا رو رو کر بہت دیر میں چپ ہؤا تھا۔ ادھر وہ وحشی انسان اطمینان سے نہا دھو کر فریش ہو گیا اور نکل کر فرمائش کر ڈالی کہ’’جلدی سے ایک کپ چائے دے دو، رخشی ڈیئر‘‘جیسے کچھ ہؤا ہی نہ تھا ۔
وہ اب تک بیڈ پر ہی بیٹھی تھی۔ اس کے چائے مانگنے پر ہوش میں آئی۔ جلدی سے اٹھ کر کمرے سے باہر آئی۔ بچے کو سینے سے لگائے لگائے چائے بنائی اور حمنہ کے ہاتھ اس کو بھجوا دی۔ جیسے ہی وہ آفس کے لیے روانہ ہؤا، اس نے اپنا اور اسجد کا سامان جلدی جلدی پیک کیا اور امی کے گھر آگئی تھی۔
تراویح کے بعد بھائی بھابی دونوں اس کے کمرے میں آئے۔ امی بھی ساتھ ہی تھیں۔ اس نے اب تک گھر میں کچھ نہیں بتایا تھا۔ اب ہر بات ان کے سامنے کھول کر رکھ دی۔ اس کے دل و دماغ پر جو بوجھ تھا وہ ناقابل برداشت ہو چکا تھا۔
’’امی، صرف میری حد تک بات رہتی تو میں کسی طرح برداشت کر لیتی مگر اس کو اسجد کی بھی پروا نہیں، تب میں نے سوچا، اپنے بچے کو اس وحشی کے ہاتھوں نقصان نہیں پہنچنے دوں گی۔ وہ شخص بالکل بھی ساتھ رہنے کے قابل نہیں ہے امی۔سائکو ہے بالکل۔ اچانک ہی موڈ بدل جاتا ہے۔ میں نے بہت مشکل سے گزارا ہے یہ وقت‘‘۔
وہ امی کے کندھے سے لگ کر بلک بلک کر رو پڑی تھی۔ انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
’’مجھے تو اسکے ماں باپ پر حیرت ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے کسی کی بیٹی کی زندگی کیوں خراب کی انھوں نے؟ کیسے ماں باپ ہیں…. خود غرض، بےحس…. لیکن گڑیا …. قصور تو تمہارا بھی ہے ناں! تمہیں بتا دینا چاہیے تھا۔ شروع میں ہی بتا دیتیں تو اتنی اذیت نہ جھیلنی پڑتی تمہیں۔پتا نہیں لڑکیاں کیوں برداشت کر لیتی ہیں اپنے آپ کو میکے کی عزت کی خاطر اور کبھی بچوں کی خاطر قربان کر دیتی ہیں…. نباہ کرنے کی ضرور کوشش کرنی چاہیے،لیکن جب جسمانی تشدد پر بات آ جائے تب خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ ہم بات کریں گے شہزاد سے اور اس کے والدین سے۔ لیکن پھر بھی یہ بات ایسی نہیں کہ علیحدگی ہو جائے۔ یہ معاملات آپس میں بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں‘‘۔
بھائی نے بھی اس کو تسلی دی۔
’’گڑیا…. میں اور امی ان کے گھر جائیں گے۔ اگر وہ بات کو سمجھ لیتے ہیں وعدہ کر لیتے ہیں کہ تمھارے ساتھ برا سلوک نہیں ہوگا تو ایک موقع دے سکتے ہیں۔ کیا خیال ہے تمھارا؟لیکن اگر تم اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو تمہیں اسجد کی جدائی برداشت کرنی پڑےگی۔ کیوں کہ وہ خود بھی اسجد کو تم سے لے سکتے ہیں اور میں بھی چاہوں گا کہ جن کی اولاد ہے وہی سنبھالیں‘‘۔
’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بھائی میں اسجد کے بغیر نہیں رہ سکتی‘‘ رخشی تڑپ کر بولی تھی۔
اس بات چیت کودو دن گزر چکے تھے مگر رخشی ابھی تک شدید کشمکش میں تھی۔اس کی سرخ آنکھیں اس کے رتجگے کی غمازی کر رہی تھیں۔
ظہر کی نماز کے بعد امی اور بھائی شہزاد کے گھر جانے کی تیاری میں تھے۔ انہوں نے پھل، مٹھائی اور شہزاد کے لیے عید کا جوڑا وغیرہ لوازمات کا بھی اہتمام کیا تھاکہ یہ سب اس رشتے کے تقاضے تھے۔ رخشی لاتعلق سی بیٹھی ہوئی تھی۔
امی نے آخری مرتبہ اسے سمجھانا چاہا۔
’’بیٹے تم کیا سوچ رہی ہو؟ علیحدگی کے لیے تو میرا دل نہیں مانتا۔ یہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔اس ننھے اسجد کا کیا کروگی؟ سوچو ذرا! تم دونوں کے ٹوٹنے والے رشتے کا اس پر کیا اثر ہوگا؟ اگر وہ بچہ لینا چاہیں تو….اس لیے میں اس رشتے کو ختم کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ میں نے بہت سوچا۔اسجد کی خاطر اگر تم اس کو ایک موقع دے کر دیکھو۔ بچے کو ماں اور باپ دونوں کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔
اس کی متورم سرخ آنکھوں سے پھر موتی کی لڑیاں برسنے لگی تھیں۔ امی نے اسے گلے لگا لیا۔
یہ گفتگو جاری تھی کہ اتنے میں اطلاعی گھنٹی بج اٹھی۔ باہر شرمسار سا شہزاد اپنے والدین کے ہمراہ کھڑا تھا۔
احمد سب کو اندر لے آیا۔ان کی امی نے رخشی کو لپٹا کر پیار کیا۔
’’کیسی ہو رخشی بیٹے، ہمارا گھر تو سونا ہو گیا، تمہارے اور اسجد کے بغیر۔ میرا پوتا کیسا ہے؟اسے میرے پاس لے آؤ۔ میری تو آنکھیں ترس گئی ہیں اس کو دیکھنے کے لیے‘‘۔
رخشی جیسے ہی اندر گئی، اس کی ساس رخشی کی امی سے کہنے لگیں۔
’’دیکھیے بہن، کان پکڑ کر لے آئی ہوں اس کو ۔ اب جو سزا دینا چاہیں دے دیں‘‘۔
شہزاد کہنے لگا۔
’’احمد بھائی ہم سب مل کر رخشی کو لینے آئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں ہم عید ساتھ میں ہی منائیں۔ میں بہت شرمندہ ہوں۔اور آئندہ کبھی بھی میری طرف سے رخشی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچےگی۔ یہ میرا وعدہ ہے‘‘۔
احمد نے بھی خوش دلی سے اس کا ہاتھ تھام لیا اور کہا۔
’’بھئ، ہم خود اس سلسلے میں آپ کی ہی طرف آ رہے تھے۔ رخشی ہمیں جان سے زیادہ عزیز ہے۔ وہ اذیت میں ہو یہ ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ باقی جہاں تک رخشی کے واپس جانے کی بات ہےتو اس کا فیصلہ وہ خود کرے گی۔ میں اسے بلاتا ہوں‘‘۔
احمد اسے اندر سے بلا لایا۔شہزاد نے مسکراتے ہوئے بہت امید سے رخشی کی طرف دیکھا۔
’’چاند رات مبارک ہو رخشی‘‘۔
اس نے سرخ گلابوں والا گلدستہ رخشی کی طرف بڑھا دیا۔
رخشی نے گلدستہ لے کر ایک جانب رکھ دیا۔ کچھ دیروہاں بیٹھ کروہ اندر چلی گئی کیوں کہ اسجد کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔
اس کے بعد کافی دیر تک امی اور بھائی نے ان سے بات کی۔ کچھ بحث بھی ہوئی۔ لیکن احمد نے نرمی کے ساتھ شہزاد کو علاج کی اہمیت اور ضرورت سمجھائی۔ اس رشتے کو قائم رکھنے کے لیے کچھ مہینوں کا علاج کس قدر لازم و ملزوم ہے اس کی طرف توجہ دلائی تھی۔ اور یہ اچھی بات تھی کہ شہزاد نے کسی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ بلا چوں چرا کے مان گیا تھا۔ شاید اتنے دن کے فراق نے اسے بیک فٹ پر جانے کے لیے مجبور کر دیا تھا۔
شہزاد کی امی نےرخشی کو ساتھ چلنے کا کہا۔ رخشی نپے تلے الفاظ میں کہنے لگی۔
’’جی۔ میں ضرور آپ کے ساتھ گھر چل سکتی ہوں ۔ امی اور بھائی کے اصرار پر میں اس رشتے کو ایک موقع دینا چاہتی ہوں ۔لیکن اس کے لیے میں آپ کو ایک سال کا وقت دیتی ہوں۔ اس دوران آپ ان کا مناسب علاج کروائیں۔ اگر یہ ٹھیک ہو جاتے ہیں تو میں دوبارہ اس گھر میں آنے کے بارے میں ضرور سوچوں گی۔
لیکن….آج نہیں….ان شا اللہ اگلی عید پر!‘‘
٭٭٭