کاروانِ آخرت بر ق رفتاری کے ساتھ دن بدن اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے ۔ یہ اپنے ساتھ ایسے لعل و گوہر سے بھی زیادہ قیمتی مشاہیر اور چراغِ راہ جیسی شخصیات کو اپنے ساتھ بہالے جا رہا ہے ۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جن کی مثل اور نظیر ملنی مشکل ہے ۔ دستِ اجل کے بے رحم ہاتھوںنے میری خالہ جان زہرہ کو ہم سے دور کر دیا۔
وہ جب دنیا میںآئیں تو خوبصورت پھول کی مانند ہوں گی اسی لیے زہرہ کہلائیں ۔ جوان ہونے پراللہ سے محبت اور عشقِ رسولؐکی سر شاری میں گراں قدر دینی ، علمی اور سماجی خدمات انجام دیں جس کے بدلے میں بحکم ربی انہیں زہرہ کا مقام ملا۔ وہ تمام عمر زہرہ ستارے کی مانند آسمان دنیا پر چمکتی رہیں۔دم رخصت ان کا چہرہ روشن، بلاشبہ وہ ہر لحاظ سے زہرہ ہی تھیں۔
مجھے وہ دن یاد نہیں ہے کہ میں کب اپنی عزیز خالہ جان زہرہ سے ملی تھی ۔ ان سے میرا تعلق میری پیدائش سے پہلے ہی قائم ہو گیا تھا۔ ان کا سراپا، ان کی محبت و خلوص میرے رگ و پے میںشروع سے ہی موجود تھی۔آپ کی ذات گو نا گوں صفات کی حامل ، محنت اورمتنوع صلاحیتوں کی جامع تھی ۔ ان کی شخصیت میں رعب ، دبدبہ ، جرأت اورقوتِ فیصلہ جیسی صفات نمایاں تھیں۔
اللہ تعالیٰ جب اپنے خاص کاموں کے لیے اپنے کسی بندے کومنتخب کرتا ہے تو اسے غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازتا ہے تاکہ اس کی مخلوق کی بہتری کے کام ہو سکیں۔
میری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہےلالے کی حنا بندی
آپ جماعت اسلامی کی رکن ، فی سبیل اللہ ٹرسٹ کی بانی ادارہ بتول ٹرسٹ کی چیئر پرسن ، کامیاب معلمہ و مدرسہ اور متحرک سماجی کارکن تھیں۔ گھر کا محاذ الگ تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیںکثیر العیال بنایا۔ تیرہ بچوں کی والدہ ہونے کی ذمہ داری نبھانے کے ساتھ ساتھ بیرونی ذمہ داریاں بھی خوب خوب نبھائیں ۔ ان تمام فرائض کے ساتھ خدمت خلق کا جو بھاری پتھر اٹھائے رکھا وہ بے مثل ہے ۔ نہ ہی وہ اس کام سے تھکیں اورنہ ان کے قدموںمیںکوئی لغزش آئی ۔
وہ دلوںپر حکومت کرنے کا گر جانتی تھیں ۔ جو کوئی ان سے ایک بار مل لیتا ان کے اعلیٰ اخلاق اور حسنِ سلوک کا گرویدہ ہو جاتا ۔ لوگوںکو کھانا کھلانا تحفے تحائف دینا ان کا خاص وصف تھا ۔ شاذو نادر ہی ہوگا کہ کوئی ان کے گھر سے خالی ہاتھ جائے ۔جب بھی ان کے ہاں جانا ہوتاچائے یاکھانا کھلائے بغیر نہ جانے دیتیں ، بے حد مہمان نواز اور ملنسار تھیں۔کئی بے سہارا بچیوں کو سہارا دیا ، انہیںبھٹکنے سے بچانے کے لیے ان کے والدین تک رسائی کی اورانہیں ان کے گھر پہنچایا ۔ ایک عیسائی لڑکی نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اس بچی کی شادی کروائی اورپورا جہیزدے کر اسے اپنے گھر سے رخصت کیا۔
میری امی منور سلطانہ ( جن کا قلمی نام رخشندہ کوکب تھا) کی وفات کے بعد ان کی دینی ساتھیوں اور عزیز ازجان سہیلیوں نے مجھے تمام عمراپنی محبت اور شفقت کے سائے میںرکھا۔ میں جب جب ان سے ملی انہوں نے رخشندہ کوکب کا تذکرہ کیا اوران سے بے پایاں محبت کا اظہار کیا ۔میں ان کی محبتوںکی اسیر ہو کر رہ جاتی ۔ مگر زہرہ خالہ ایک ایسی ہستی تھیںجنہیںمیںنے ہر دم ہر موقع پر اپنے پاس پایا اور ان کی محبت کی سب سے بڑی وجہ رخشندہ کوکب تھیں جو ان کی لڑکپن کی ساتھی تھیں ۔ اکثر بتایا کرتیںکہ میںاور رخشندہ مولانا مودودی صاحب سے قرآن کا ترجمہ پڑھنے جایا کرتی تھیں ۔ ان دونوں کے علاوہ کلاس میں بیگم مودودی ، بیگم غلام علی ، بیگم فاطمہ (فیصل آباد ) آپا سرور بیگم اہلیہ نصر اللہ خان عزیز (ایڈیٹر ایشیا )اور ام زبیر شامل ہوتیں ۔ ہم لوگ پردے کی اوٹ میں پڑھا کرتے تھے ۔ ہمارے دن کابیشتر حصہ مولانا کے گھر پر گزرتا ۔ ہم لوگ پڑھائی سے فارغ ہو کرمولانا کے گھر کے پچھلے صحن میںلگا ہؤا جھولا جھولا کرتے اور ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلفانہ گفتگو کرتے جس سے ہمارے پیار میں مضبوطی اور گہرائی آگئی ۔
خالہ جان کی محبتوں کی وجہ سے میری ان سے بے تکلفی تھی ۔ جب جی چاہتا فون کرلیتی دوسری طرف سے آواز آتی ’’ جی بیٹے ‘‘ میں سلام کرنے کے بعد بات شروع کر دیتی ۔ ایک روز میں نے ان سے کہا آپ کو ہزاروں فون آتے ہیں آپ نے کبھی مجھ سے نہیںپوچھا کہ آپ کون ؟ تو ہنس پڑیں اور بولیں، میں تمہاری آواز بھول سکتی ہوں کیا !
یہ اسّی کی دہائی کی شروعات تھی ۔ ان دنوں میرے دو بچے تھے ۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اب وقت ہے اسے اپنے کاموں میں شامل کرنا چاہیے۔آپ اور آپا زبیدہ بلوچ میرے گھر تشریف لائیں ، انہوںنے مجھے خواتین کے ادبی پروگرام میںشرکت کی دعوت دی ۔ ادب کاپلیٹ فارم انہوںنے مجھے مہیا کیا میری رہنمائی کی۔ میرے ہاتھوں میںقلم پکڑانے والی یہ دونوںہستیاں ہیں اور یہ ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے ۔ اورپھر ان سے رابطوں کا سلسلہ تمام زندگی رہا ۔ ان کے اور ہمارے گھر کے درمیان ایک سڑک کا فاصلہ تھا ۔ ہم ذیلدار پارک میں رہتے تھے اور وہ سلطان احمد روڈ پر رہائش پذیر تھیں درمیان میں فیروز پور روڈتھی ۔ ہمارے اکثر ملازمین بھی مشترکہ تھے جو ہمارے گھر کے پیچھے واقع احاطہ مولچند سے آیا کرتے تھے ۔
خالہ جان کا تحریکی گھرانہ تھا جہاں صبح سے لے کر رات تک اقامتِ دین کے سبق سکھائے جاتے ۔ ان کے شوہر بھی ان کے ہم خیال تھے ، ان دونوں نے مل کر اللہ اور اس کے رسولؐ کی سنت کی اتباع کے لیے اپنے دن رات وقف کیے رکھے ۔ خالہ جان سے ہمارا خاندانی تعلق 1948ءسے قائم ہے وہ بتایا کرتی تھیں کہ میری خالہ نسیم اختر کےدونوں بڑے بیٹوں کے نام انہوںنے رکھے تھے ۔
ان کی رخشندہ کوکب سے چاہت کا ثبوت آج سے کچھ سال پیشتر 2020ء میں مجھے ملا۔ ایک روز فرزانہ چیمہ بہن کا فون آگیا، بولیںمیں خالہ جان زہرہ وحید کے گھر ان کے پاس بیٹھی ہوں ، میں ان کے انٹرویو کے لیے آئی ہوں ۔ میں نے ان سے پوچھا ہے کہ آپ زندگی میں بے شمار لوگوں سے ملیںبہت سوں سے دوستی ہوئی آپ کی بہت سی سہیلیاں ہوں گی ، آپ کی سب سے عزیز ترین سہیلی کون سی ہیں کسی ایک کا نام لیں، تو بولیں رخشندہ کوکب ۔ فرزانہ کہتی ہیں میں بولی کہ ان کی وفات کو ساٹھ برس سے اوپر ہونے کوآئے ہیں ، آپ کسی اور کا نام لیں، تو تب بھی انہوں نے کہا رخشندہ جیسی کوئی دوسری نہیں ہو سکتی۔
یہ سن 2004ء کی بات ہے زندگی میں چند لمحات فرصت کے میسر ہونے لگے ۔ بچے ماشاء اللہ بڑی کلاسوں میں چلے گئے تھے ، بڑی بیٹی بیاہ کے اپنے گھر چلی گئی تھی۔ مجھے لگا شب و روز بیکار ہو گئے ہیںکرنے کو کچھ نہیںرہا ۔ سوچا بیکار بیٹھنے سے بہتر ہے کچھ پڑھ لیا جائے اوراپنی تعلیمی قابلیت بڑھانے کے لیے سوچ بچار شروع کردی ۔ آخر گھر والوں سے مشورے کے بعد فیصلہ ہؤا کہ کیوںنہ پی ایچ ڈی کرلی جائے ۔جیسے ہی سوچا ویسے ہی فوراً ایم فل میں داخلے کے لیے پنجاب یونیورسٹی میںٹیسٹ دے دیا۔ اب میری عادت تھی جب بھی کسی کام کا ارادہ کرتی خالہ جان سے ضرور مشورہ کرتی بعد میں سوچا یہ میںنے کیا کیا ، ان سے تو مشورہ میں نے کیا ہی نہیں ۔ میں نے انہیں اپنے پروگرام کے بارےمیںبتایا انہوںنے کہا تم کیوں پی ایچ ڈی کرنا چاہتی ہو ! میں اپنی تعلیمی استعداد بڑھانا چاہتی ہوں اور پھر میرے نام کے ساتھ ڈاکٹر بھی تولکھا جائے گا ، میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔ تو یوں کہو نا نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھنا چاہتی ہو ، وہ بولیں۔ پھر قدرے توقف سے پوچھنے لگیںکیا تم نے جاب کرنی ہے ؟ میں نے کہا نہیںتو بولیںپی ایچ ڈی تو وہ کرتے ہیں جنہیں جاب میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہو یا وہ کوئی ریسرچ کر رہے ہوں ، اچھا کون سے مضمون میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتی ہو ۔ میں نے بتایا تو بولیںسب کچھ چھوڑو اورقرآن پڑھنے اور پڑھانے پر توجہ دو ، اگر جاب یا ریسرچ کا ارادہ ہے تو اوربات ہے ۔ ان کی بات سن کرمیرے دل کو اطمینان سا ہو گیا۔ انہوںنے کہا کل سے ہی قرآن پڑھانا شروع کر دو مگر میں اتنی باعمل مسلمان نہیں ہوں، میںنے اپنی کم مائیگی کا اظہارکیا تو بولیں قرآن پڑھنے اورپڑھانے سے اعمال خود بخود درست ہونے لگ جاتے ہیںاور پھر میںاپنا ایم فل کے ٹیسٹ کا رزلٹ دیکھنے پنجاب یونیورسٹی نہ گئی۔
جن دنوں مجھے رسالہ بتول کی نائب مدیرہ کی حیثیت سے ذمہ داری سونپی گئی اس کے کچھ عرصہ بعد مجھے خالہ جان کے پاس جانے کا اتفاق ہؤا۔ کچھ دیر گفتگو کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا ، معاشرے کے بگاڑ اورسدھار میںایک ایڈیٹر کاکردار بہت اہم ہوتا ہے ۔ ایک ایڈیٹر کے پاس ہر طرح کی معلومات ہونی چاہئیں ، بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے اس کی نگاہ حکومتی اقدامات پر ہونی چاہیے ۔ اس کے پاس اقدار و روایات کی بہتری کے لیے شاندار منصوبہ بندی ہونی چاہیے ۔ جب سوسائٹی میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے تو صحافی کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں ۔ ایک اچھے صحافی کا کام ہے برائیوں کی نشاندہی کرے اور ان کی درستی کے لیے حکومت کو بہترین مشورے دے ۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کی عدالتیں انصاف بانٹ رہی ہیںیا نہیں۔ اس کی بہتری کے لیے ہمارے پاس کیامنصوبے ہیں ۔ ہماری حکومت کی خارجہ پالیسی کیا ہے ، کن ممالک کے ساتھ پاکستان کے دوستانہ تعلقات ہیں اور کن سے نہیں ، ان کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔ ہماری وزارت ِ داخلہ کیا خدمات انجام دے رہی ہے ۔ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے حکومتی اقدامات کیا ہیں ، تعلیم ، صحت ،زراعت، صنعتی و کاروباری ادارے ، تعمیراتی کمپنیاں، اسلامی بینکنگ اسلامی نظریاتی کونسل، کھیل کے میدان …. ہماری فوج کی حکومتی معاملات میںمداخلت کس حد تک درست ہے ۔
قدرے توقف کے بعد بولیں، یہ سب معلومات تمہارے پاس ہونی چاہئیں کیا تم مجھے ان سب سوالات کے جوابات دے سکتی ہو ؟ میں تو خالہ جان کو سیدھی سادھی خاتون سمجھتی تھی جو اپنے حلقوں میں قرآن و حدیث پر درس دیتی رہتی ہیںیا سوشل ویلفیئر کے کاموںمیںبہتر منصوبہ بندیاں ہو رہی ہیں یا نہیں۔میں مصروف رہتیں ۔ ان کی ملکی معاملات پر اتنی دانشورانہ بریفنگ پر میں حیران ہو کر انہیں دیکھنے لگی اور پھر انہوں نے خود ہی تمام سوالات کے جوابات دینے شروع کر دیے ۔مجھے ان کی شخصیت میں چھپا ہؤا مدبر صحافی اورلیڈر واضح طورپر دکھائی دے رہا تھا ۔ میرے دل کو ایک اطمینان سا ہو گیا کہ میرے پاس ایک بہترین رہنما موجود ہے جس سے میںجب چاہوںفائدہ اٹھا سکتی ہوں۔
جب بھی ان سے ملاقات ہوئی ان کی شخصیت کا ایک نیا پہلومیرے سامنے آیا ۔ہم کچھ نہ کچھ ان سے سیکھ کر ہی اٹھتے تھے ۔ اسی طرح ایک بار ہم کچھ خواتین ان کے پاس بیٹھے مولانا مودودی ؒ کی تحریر کردہ کتابوں پر بات کر رہے تھے کہ کس نے کون سی کتاب پڑھی ہے اور کون سی نہیں تو بتانے لگیں کہ میںنے سولہ برس کی عمر میں مولانا کا جتنا لٹریچر اس وقت چھپا تھا وہ سب ہی پڑھ لیا تھا ۔ جب بھی مجھے کوئی کتاب ملتی میںایک رات میں ہی اسے پڑھ لیتی تھی۔ میں نے حیرت سے انہیںدیکھا ۔ جس عمر میں بچیاں ستاروںاورپھولوں کے خواب دیکھتی ہیںاس عمر میں انہوں نے اتنا ٹھوس اوردقیق مطالعہ شروع کردیا تھا۔
ایک ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ چند دن پیشتر ان کی ملاقات ملک کے بہت بڑے عالم دین جومفتی بھی ہیں ان سے ہوئی جو پاکستان کے بینکوںمیں بلا سود بینکاری پرکام کر رہے ہیں ۔ خالہ جان نے مفتی صاحب کو بتایا کہ آپ کے بنائے ہوئے نظام میں بہت سے جھول ہیں ، یہ خالص اسلامی بینکاری نہیں ہے اسے درست کیجیے،اور ان شقوں کی نشاندہی کی جن پر ابھی کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ مفتی صاحب نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اورانہیں بتایا کہ اس پر کام ہو رہا ہے ۔
جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کی رکن ہونے کے ناطے ہر کوئی ان کی رائے کا احترام کرتا ۔ قاضی حسین احمد مرحوم جب امیر جماعت اسلامی تھے تو مردوں کی مجلس شوریٰ میںانہیںمدعو کرتے ، معاملات کی درستی کے لیے ان کی رائے اور مشورے کو اہمیت دی جاتی اور وہ ببانگ دہل اپنے خیالات کااظہار کرتیں ۔
خوابوں کی دنیا بھی عجیب دنیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اکثر خواب میں دوسروںکی حقیقت دکھا دیتے ہیںاور ہم ان رازوں کوجان لیتے ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں سے چھپا کر رکھے ہوتے ہیں ۔
ایک بار میں نے خواب دیکھا کہ میںخالہ جان کے گھر کی جانب چلی جا رہی ہوں ۔ ہمارے گھروں کے درمیان ایک سٹرک ہے میںسڑک پر کھڑی ہوں۔ دوسری جانب کی تمام عمارتیں منظر سے غائب ہو گئی ہیں ۔ میری نگاہوںکے سامنے ایک قلعہ ہے جس کے نیچے بہت سی بیسمنٹ بنی ہوئی ہیں ، اس میں بہت سے بازار ہیں جیسے شاپنگ مالز میں بنے ہوتے ہیںاوربہت چہل پہل ہےیوں تھا جیسے وہاں ایک شہر آباد ہے ۔ میں اس قلعے کی جانب چلی جا رہی ہوںاور کہہ رہی ہوں یہ تو خالہ جان کا گھر ہے ۔
اگلے روز میں نے خالہ جان کو اپنا خواب سنایا تو بولیں تم نے بالکل ٹھیک خواب دیکھا۔
بلا شبہ ان کا گھر ایک قلعہ تھا اور وہ ایک ملکہ تھیں جس سے بے شمارمخلوق فیض پا رہی تھی۔ان کے تمام گھریلو ، سماجی تحریکی امور ، ان کے فیصلے اور احکام یہیں سے جاری ہوتے تھے۔
خالہ جان نے تمام زندگی اپنا رہن سہن سادہ رکھا ۔ان کا گھر بظاہر قدیم دور کا بنا ہؤا تھا جس کا فرنیچر بھی خصوصاً ان کے اپنے کمرے کا شاید اسی دور کا تھا جب یہ گھر تعمیر ہؤا ہوگا ۔ اتنی سادگی و پر کاری شاید آج کے دور میں نہیں مل سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے خواب میں دکھا دیا کہ جس گھر کو بظاہر تم معمولی سمجھتے ہو میرے نزدیک وہ قلعے سے کم نہیں ۔ ان کے تقریباً تمام بچے شہر کے پوش علاقوں میں بڑی کوٹھیوں میں رہائش پذیر ہیںمگر انہوں نے اپنی ذات کے لیے ہمیشہ سادگی کو ترجیح دی۔
ایلیٹ کلاس کے لوگ ان سے ملنے اسی گھر میںآتے اوران کی اعلیٰ جاہ و حشمت سے متاثر ہوکر ان سے فیض یاب ہوتے ۔بلا شبہ ان کا گھر ایک درویش کا ڈیرہ تھا ، جب جس کا جی چاہا بلا جھجک بلا روک ٹوک بغیر اجازت کے ان کے گھر چلا جاتا ۔دروازہ کھلا ملتا ملازم لڑکیاں کام کر رہی ہوتیں ڈرائیور حضرات باہر بیٹھے ہوتے ۔ کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ آپ کہاں سے آئی ہیں کس سے ملنا ہے کون ہیں ۔ آنے والوں کا کھلے دل سے خیر مقدم ہوتا۔
زندگی جینا آسان نہیں ہےخالہ جان نے بھی اپنی زندگی میں بہت تنگدستی کے دن دیکھے آپ کے میاںوحید خان صاحب کوہستان اخبار کے ایڈیٹر تھے بعد ازاں اسلامک پبلک کیشنز کے ڈائریکٹر بھی رہے۔جیلوں میں بھی دن گزارے گھر میں بچیوںکا سکول دبستان ِ زہرہ کے نام سے کھلا ہؤا تھا صبر شکر سے گزارہ کیا ۔ ان کے مطابق زندگی گزارنے کے کئی طریقے ہیںاسے آسان بنانا پڑتا ہے ۔ خود کو پر سکون رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ آپ کی ذات سے کسی کو تکلیف نہ ہو کچھ جگہوںپر صبر سے کام لینا پڑتاہے اور بہت سے موقعوں پر نظر انداز اور درگزر کرنا پڑتا ہے تبھی زندگی پر سکون گزرتی ہے ۔
خالہ جان زندگی کا روشن پہلو دیکھنے کی عادی تھیںوہ ہر بات کامثبت پہلو نکال لیا کرتیں اللہ کا حکم ہمیشہ پیش نظر رہتا کہ اچھا گمان کرناچاہیے۔
ایک بار کسی بچی نے شکایت کی کہ میرے والدین نے نہ جانے مجھے کس شخص سے بیاہ دیاہے میرے شوہر کی ملازمت ایسی ہے کہ وہ مہینے میںصرف دو دن کے لیے گھر آتا ہے ۔ گھر کی تمام ذمہ داری بچوں کی پرورش سسرال کی دیکھ بھال سبھی مجھ اکیلی کو کرنا پڑتی ہے ۔ انہوں نے اسے سمجھایا کہ وہ ملازمت پر جاتا ہے کسی غلط جگہ پر تو نہیں جاتا ۔شکر کرو ہر ماہ دو دن کے لیے آ تو جاتا ہے وہ بھی تو ہیں جن کے شوہر بیرون ملک مقیم ہیں، وہ سال کے بعد آتے ہیںاوروہ بھی تو ہیں جن کے شوہر کبھی بھی نہیں آتے وفات پا چکے ہوتے ہیں ، اس لیے ہر حال میں خوش رہنا سیکھو ۔ کچھ ایسے ہی اسباق انہوں نے اپنی بچیوں کو سکھائے ہوں گے ۔ آج ان کی نو بیٹیاں سبھی اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں۔
اللہ تعالیٰ جب اپنے انعام یافتہ لوگوں کو علم کی شمع سے نوازتے ہیں تو اس کے نور سے سبھی لوگ مستفید ہوتے ہیں ۔پھر ایک یونیورسٹی کا علم اورایک بندے کا علم برابر ہو جاتے ہیںاور وہ صاحب ِکرم بندہ ایک ادارہ بن جاتا ہے ۔
کچھ سال بیشتر کی بات ہے رمضان کے آخری عشرے میں ان کی ایک شاگرد شبانہ صاحبہ کے ہاں ختم ِ قرآن کا پروگرام تھا ۔ مجھے بھی گل رعنا صاحبہ کی ہمراہی میںاس پروگرام میںشرکت کاموقع ملا ۔ تمام کمرہ خواتین سے کھچا کھچ بھرا ہؤا تھا۔ خالہ جان ، ان کی دو صاحبزادیاں اورشاگرد بچیاں ہاتھ میں مائیک پکڑے پوری تیاری کے ساتھ موجود تھیں۔ہم بھی ان کے فیض سے اکتساب کرنے والوں میںشامل ہو گئے۔ خالہ جان نے بتایا کہ آج ہم نے پورے قرآن کے موضوعات اور واقعات کو دہرانا ہے ۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے میں نے سوچا مگر یہ سب انہوں نے کر دکھایا ۔ سورۃ فاتحہ سے لے کر سورۃ الناس تک پورے قرآن کا خلاصہ ہم نے دو تین گھنٹوںمیںسن لیا۔
سورۃ فاتحہ کی مختصر سی تشریح کے بعد سورۃ بقرہ میں پیش کردہ احکام و مسائل پر ایک کوئیز پروگرام تشکیل دیا گیا تھا۔سورۃ نور سورۃ حجرات سورۃ احزاب میں جو احکام بتائے گئے وہ بھی اسی کوئیز میںشامل تھے ۔ نبیوں کے حالات، ان سے حاصل ہونے والے اسباق جنگوںکے واقعات مختصر پیرائے میںمختلف بچیوں نے پیش کیے جن میں سورتوں کی شان نزول بھی شامل تھی۔ میںحیرت زدہ سی بیٹھی یہ پروگرام دیکھ اورسن رہی تھی ۔ اس کو پیش کرنے والی میری خالہ جان زہرہ وحید تھیں ۔مجھے لگا میںدنیا کی کسی بڑی یونیورسٹی کے ہال میںبیٹھی قرآن کے فہم سے مستفید ہو رہی ہوں ۔ میںان کے علم ،فراست ، نظم قرآن کی تربیت اوربیانیے پرعش عش کراٹھی ۔ آج یہ بزم قرآن ایک بہترین استاد سے محروم ہو گئی۔
بحیثیت سماجی کارکن انہوں نے فی سبیل ا للہ ٹرسٹ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنایا جس کے تحت بہت سے سکول اورادارے چل رہے تھے ۔ دلو خورد میںواقع بچوں کا سکول ، مدرسہ ،مسجدبچوں کا ہاسٹل اورشاہدرہ میںواقع سکول ،فری ڈسپنسری اور بعد میںسلائی سکول بھی کھولا گیا ۔ یہ ان کے بڑے پراجیکٹ تھے ۔پنجاب اور خیبر پختون خوا کے پچاس سے اوپر سکولوںاور اداروںکی معاونت فی سبیل للہ ٹرسٹ کے ذمہ تھی ، ان سکولوںمیںبچیاںتعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی حاصل کرتی ہیںطالبات دلو خورد کے سکول کے ہاسٹل میں دوردراز کے شہروں ،قصبوں اور دیہاتوں سے تعلیم حاصل کرنے آتی ہیںاور وہیںپر قیام کرتی ہیں ۔ عالمہ فاضلہ کے کورس کے ساتھ انہیںمیٹرک اورایف اے کے پیپر ز کی تیاری بھی کروائی جاتی ہے ۔ بعد میں ان کا اچھے کالجوںمیںداخلہ بھی ہوجاتا ہے یا پھر وہ واپس اپنے گائوںیاشہروںمیںچلی جاتی ہیں ۔انہی بچیوں نے یہاںسے تعلیم و تربیت حاصل کر کے اپنے علاقوںمیںسکول کھولے اوران سکولوں کی مالی امداد فی سبیل للہ ٹرسٹ کے ذمہ تھی ۔ مالی تعاون کرنے والے لوگوں کے لیے خالہ جان زہرہ کا نام ہی کافی تھا ۔ لوگ آنکھیں بند کر کے ان کے ٹرسٹ کو فنڈز دیتے ۔
فی سبیل للہ ٹرسٹ میںجن لوگوںنے ان کےشانہ بشانہ کام کیا اور مالی تعاون کیا ان میں آپا زبیدہ بلوچ،ڈاکٹرنبیہ حسن پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج، محترمہ شمیم صاحبہ ، ڈاکٹرثمین ذکاء ، گل رعنا مسعود، ریحانہ رفیق، نعیمہ جہانگیر ، بیگم خورشید نیازی، ذکیہ ظفر ، تسنیم نعیم ،قمر پرویز ، نگہت زمان ، انجم ہارون، فرحت روشن، فرزانہ فوزیہ، شہلا صحاف ، آسیہ راشد ، ڈاکٹرراشدہ ،ڈاکٹر سعیدہ، ڈاکٹر زینب ، ڈاکٹر خورشید ، ڈاکٹرجمیلہ ، عذرا سعید ، عطیہ افضل ،ڈاکٹر مسرت سہیل وغیرہ شامل ہیں۔
تقریباً ایک سال بیشتر کی بات ہے ہمارا ادارہ بتول کی تاریخ لکھنے کا پروگرام بن رہا تھا ، ہم ان کی یاد داشتوںسے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے ۔ میںذروہ کے ہمراہ ان کے اچھرے والے گھرگئی ۔ ان کی بیٹی راحیلہ کو ہم نے وہاںبلالیا۔راحیلہ شکل و صورت اورعادات میںان سے بہت مماثلت رکھتی ہیں ۔ خیر ہم نے ان سے ہلکی پھلکی بات چیت شروع کی مگر وہ کچھ خاص باتیںبتانہ پائیں، ان کی یاد داشت کمزور ہو رہی تھی ۔ دوبارہ ان کی طرف جانے کاپروگرام نہ بن سکا ۔ بعد میںمعلوم ہؤا کہ کمزوری کی بنا پر اب وہ تمام معاملات کو دیکھ نہیںپا رہیں لہٰذا انہیں ان کے بیٹے ڈیفنس میں اپنے پاس لے گئے ہیں۔
اور پھر ایک روز معلوم ہؤا کہ ان کے بڑے صاحبزادے راشد حمید نے پیغام بھیجا ہے کہ امی کے پاس وقت کم رہ گیا ہےجو کوئی ان سے ملنا چاہتا ہے مل لے ۔ یہ سننا تھاکہ دل دھک سے رہ گیا ۔ اگلے ہی روز میں اپنے بیٹے اسامہ کے ساتھ ان کے ڈیفنس والے گھر پہنچ گئی۔ان کی بیٹیاں اور بہو ان کے پاس موجود تھے ۔خالہ جان بستر پر بیٹھی تھیں۔ اتنا روشن، اتنانورانی چہرہ اتنی دلکشی پہلے کبھی نہ دیکھی تھی ۔ میں آگے بڑھ کر ان سے ملی اور سلام کیا بہت محبت سے سلام کا جواب دیا ، پھر راحیلہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگیں انہیںکھانا وانا کھلائو ، جیسے بڑے لوگ فکر مندی سے کہتے ہیں ۔ گویا وقت رخصت بھی مہمان نوازی کی جارہی تھی ۔
کچھ ہی دیر میں ذروہ احسن اورمینا خالہ کی بیٹی عینی بھی ملاقات کے لیے آئیں ۔ ہم سب ان سے بات کرتے تو وہ بغور سنتیں اور جواب دیتیں ۔ میں نے ان سے کہا خالہ جان میرے اورمیرے بچوںکے لیے دعا کریں ۔ پولیں کیا دعا کروں،میںانہیںکچھ بھی نہ بتا سکی کہ مجھے کیا چاہیے ۔
میںنے حیرت سے انہیںدیکھا دنیا سے جاتے جاتے بھی مجھ سے پوچھ رہی ہیںبتائو تمہیںکیا چاہیے ۔میری آنکھیں بھیگ گئیںمیں نے اپنا سر جھکا لیا ۔میںانہیںکچھ بھی نہ بتاسکی ۔ اب سوچتی ہوں کاش ہمت کر کے کچھ کہہ ہی دیتی شاید قبولیت کاوقت تھا ۔ وہ تو مردم شناس تھیں جان گئی ہوں گی کہ مجھے اپنے اوراپنے بچوں کے لیے کیا چاہیے۔
ان کی بہو ناصرہ نے میری طرف اشارہ کر کے ان سے پوچھا امی یہ کون ہیںکیا آپ انہیںپہچانتی ہیں ؟ توانہوںنے بغور میرے چہرے کودیکھا اوربولیں ’’ رخشندہ کوکب ‘‘ ۔انہیں میرے چہرے میں رخشندہ کوکب کی شبیہ دکھائی دے رہی تھی وہ جاتے جاتے مجھے اتنے بڑے خطاب سے نواز گئیں ۔ان کے پاس بیٹھ کر ایک دفعہ بھی یہ احساس نہ ہؤا کہ ان کے دنیا سے جانے کادن قریب ہے ۔ وہ ترو تازہ چہرے کے ساتھ مسکراتے ہوئے سبھی سے مل رہی تھیں۔ میرے دل میںخیال پیدا ہؤا کہ راشد بھائی کو یقیناً غلط فہمی ہوئی ہے، امی تو بھلی چنگی ہیں۔ اس عمر میںکئی بار ایساہوتا ہے کہ انسان کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے مگر پھر کھانے لگ جاتا ہے ۔
چار سہیلیوںکی چار بیٹیاں امی کے پاس بیٹھی تھیں ایک دوسرے کے حال احوال پوچھ رہی تھیں ۔ زہرہ ،رخشندہ کوکب ، سعیدہ احسن، بنت مجتبیٰ مینا کی بیٹیاںوہاںبیٹھی تھیں۔ان کی پانچویں سہیلی ثریا اسما صاحبہ ان کی بیٹی صائمہ اسما کی کمی کوسبھی نے محسوس کیا ، وہ شاید کسی اور وقت خالہ جان سے ملنے آئی ہوں گی ۔ ان کے سبھی چاہنےوالے باری باری ان سے ملنے آرہے تھے ۔ ہم سب ہمیشہ ملتے رہنے کے وعدے کے ساتھ جدا ہوئے ۔
جب کوئی اپنا کوئی پیارا دنیا سے رخصت ہو رہا ہوتا ہے تو دل کی عجب کیفیت ہوتی ہے ۔ ہمیں پہلے سے ہی سگنل ملنے لگ جاتے ہیں ، ان کی وفات سے ایک رات قبل میرے دل میں بہت بے چینی تھی میںبے قرار سی کبھی ایک کمرے میںجاتی کبھی دوسرے میں ۔میری دونوںبیٹیاں بیرون ملک سے اپنے بچوں سمیت آئی ہوئی تھیں ۔ گھر میںشور شرابا تھا ایک ہنگامہ برپاتھا مگر میرادل بے طرح دھڑک رہا تھا ۔ایک گھبراہٹ کی سی کیفیت تھی یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی بہت بڑا حادثہ ہونے والا ہے ۔ میں کبھی اپنے بچوں کو دیکھتی کبھی اپنے میاںکو کبھی اپنے بارے میں سوچتی ۔ خالہ جان کی طرف میرا خیال ہی نہیںگیا ، انہیں توہم اچھا بھلا چھوڑ کے آئے تھے ۔ یہی خیال آتا رہا کوئی بچھڑنے والا ہے ، کوئی دنیا سے جانےوالا ہے ۔
اسی بے چینی میں سوتے جاگتے رات گزری۔ صبح دم ذروہ کا فون آگیا خالہ جان کاانتقال ہو گیا ہے ۔ اِنّاللہِ وَاِنَّا اِلَیْہٖ راجعْون۔ رات والی بے چینی کی اب سمجھ آگئی تھی ۔ ایک مشفق ہستی جنہیںمجھے ’ امی ‘ کہنا اچھا لگتا تھا آج ہم سے بچھڑ گئیں ۔ وہ آج ہم میںنہیںہیں ۔
وقتِ رخصت خالہ جان کا چہرہ یوں تھا جیسے وہ سکون سے سو رہی ہوں۔اپنے رب سے ملاقات اور جنت میں جانے والے اجازت نامے کے حصول کے لیے دین کی خدمت میں مصروفِ عمل ، اپنے رب کریم کے احکامات بجا لانے والی مشفق ہستی اپنے اچھرہ والے گھر سے رخصت ہوئیں۔ ان کا کیسے استقبال ہؤا ہوگا ، جنت کی حوروں نے کیسے لعل وجواہر کے ہار انہیںپہنائے ہوںگے ، سونے کے کنگن ،گائو تکیے آرام دہ مسندیں ان کی منتظر ہوں گی انشاء اللہ۔ ہم جاگتی آنکھوں سے یہ تمام مناظر دیکھ سکتے ہیں۔
ہر انسان کادنیا سے جانے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے ۔ کوئی مدتوںبیمار رہتا ہے اور یہی بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ۔ کوئی اچانک دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے اسے تو بہ کرنے کا موقع بھی نہیںملتا ۔بعض کی موت پر لوگ شکر ادا کرتے ہیںاور سکون کا سانس لیتے ہیں ، بعض کی موت ایک جہان کے لیے نا قابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے ۔ بزم قرآن کی روح رواںخالہ جان زہرہ کی دنیا سے رخصتی پر جنازے میںشریک ہرفرد کو لگ رہا تھا میری امی ، میری دوست، میری غمگسار،میری مربی، میری محسن، میری استاد ، میری مشفق آج دنیا سے چلی گئی ۔ ان کے مبتلائے الم رفقائے کار اپنے سینوںمیں بے پایاںدردچھپائے ہوئے ہیں۔
تیز رکھیو سرِہر خار کو اے دشتِ جنوں
شاید آجائے کوئی آ بلہ پا میرے بعد
’’ اے نفسِ مطمئن چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اپنے انجام نیک سے خوش اور اپنے ( رب کے نزدیک ) پسندیدہ ہے ، شامل ہو جا میرے نیک بندوںمیںاوداخل ہو جا میری جنت میں ‘‘(سورۃ الفجر 27تا30)۔٭
٭٭