آپا زہرا – محمد اظہار الحق

کوئی تبصرہ نہیں

تین دن قیام کرنے کے بعد ، واپس آتے ہوئے، نوجوان ڈاکٹرسے الوداعی کلمات کہے توضبط کا بندھن ٹوٹ گیا ۔ وہ بھی رونے لگا اور میں بھی!
اس کی والدہ، اُسے چھوڑ کر اگلی منزل کی جانب روانہ ہوگئی تھیں! میں نے اُسے کہا کہ اب اُسے محتاط اور ہوشیار رہنا ہوگا کیونکہ حفاظتی حصار اس کے ارد گرد تھا ، وہ اٹھ گیا ہے اوریہ کہ اب He is on his own۔ روایت ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نہ رہیں توانہیں وارننگ دی گئی کہ اب ذرا سنبھل کر کہ معاملات پہلے جیسے نہیں ! اب پشت پرماںکی دعائیں نہیں رہیں!
ماں باپ کی قدرجیتے جی کم ہی ہوتی ہے! اس لیے کہ ہمارے پاس اس زندگی کا تصورنہیں ہوتا جو اُن کے بغیرہو سکتی ہے ۔ وہ ہماری زندگی کا ، ہماری ذات کا ، ہمارے وجود کا ، یا ہم ان کے وجود کا حصہ ہوتے ہیں ! ہم انہیں Taken for granted لیتے ہیں ! بالکل اسی طرح جیسے ہم ہاتھوں یا آنکھوں کے بغیر اپنی زندگی کا تصورنہیں کر سکتے ! ہاتھوں کی معذوری یا آنکھوں کی بے نوری کا احساس اسی کو ہوتا ہے جس سے یہ چیزیں چھن جائیں ! ہم آئے دن فقیروں کی صدا سنتے ہیں ’’ آنکھوںوالو! آنکھیں بڑی نعمت ہیں ‘‘ مگر کبھی اس جملے کی گہرائی پرغورنہیں کرتے ! کر بھی نہیں سکتے !یہ توتجربے کا معاملہ ہے ! آنکھوں، ہاتھوںاوردیگر اعضائے بدن کی طرح ماں باپ بھی نعمت ہیں مگرہم ادراک نہیں کر سکتے ! ماں نعمت کے علاوہ ایک معجزہ بھی ہے ! غورکیجیے ! ہم توبنتے ہی ماں کے پیٹ میں ہیں ،وہیں ڈھلتے ہیں ، وہی صورت پذیر ہوتے ہیں ۔ کوئی کسی بے سہارا کو چند دن بھی اپنے گھر میں رکھے تو وہ تا دم ِ مرگ اس کا احسان مند رہتا ہے اور ماں ہمیں اپنے گھر میں نہیں ،اپنے کمرے میں نہیں ، اپنے اندر ، اپنے وجود کے اندر رکھتی ہے ۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی پناہ دے سکتا ہے ۔ فرض کیجیے یہ بات آپ زندگی میں پہلی بار سن رہے ہیں ! تو کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں ؟ اورچند دن نہیں ، چند ہفتے نہیں ، نو ماہ اپنے اندر رکھتی ہے ۔ دنیا کا کوئی مرد اُن تکالیف کا احساس نہیں کر سکتا جن کا ماںان نو ماہ کے دوران سامنا کرتی ہے۔ وہ اپنی خوراک ، اپنے پانی، اپنے خون ، اپنی توانائی ، اپنی سانسوں کا ایک حصہ اس بے سہارا انسان کو دیتی ہے جس کی پوری دنیا میں ماں کے پیٹ کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں ۔ ماں کے چہرے پرداغ پڑ جاتے ہیں ، اس کا حسن مرجھا جاتا ہے ۔ کبھی وہ قے کرتی ہے کبھی اسے غش پڑتا ہے۔ کبھی وہ کچھ کھا نہیں سکتی ۔اس تکلیف کا تو بیان بھی انسان کے بس کی بات نہیں ۔ اس تکلیف کو خدا ہی بیان کر سکتا تھا۔ یہ جو فرمایا گیا ہے’’ وھنا علی وھن‘‘ یعنی ماں نے ضعف پرضعف اٹھا کرپیٹ میں رکھا توعجیب ہی جامع اظہارہے ۔کمزوری پرکمزوری ، ہرروز ، ہر ہفتے ، ہر ماہ بڑھتی ہوئی کمزوری ۔ علامہ اسد نے ’’ وھنا علی وھن ‘‘ کا ترجمہ Strain upon strainکیا ہے۔پھرجنم دینے کے بعد وہ اپنے خون کودودھ بنا کرپلاتی ہے ۔ فیضی کے اس شعر نے جو اس نے ماں کی وفات پر کہا تھا ، مجھے مدتوں نڈھال رکھا ۔
خوں کہ از مہرِ تُو شد شیر وبطفلی خوردم
باز خوں گشتہ واز دیدہ بروں می آید
تیری محبت سے جوخون دودھ بن گیا تھا اورمیں نے بچپن میں پیا تھا ، اب وہ دوبارہ خون بن کرمیری آنکھوں سے باہرآرہا ہے ۔
اب یہ بے یارو مدد گار انسان ماں کے لیے ایک اورامتحان ہے۔ہل سکتا ہے نہ اُٹھ بیٹھ سکتا ہے، نہ بول ہی سکتاہے، نہ بول و براز کا کوئی وقت مقررہے۔(اب تو ڈائپرآگئے ہیں ،ہماری مائوں نے ، اور میری بیوی نے بھی ، راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر پوتڑے دھوئے تھے ۔ یہ سہولت تواب ہماری بیٹیوں اوربہوئوں کے دور میں آئی ہے ) جوماں کے سامنے اکڑے ، اُس تیرہ بخت کویاد کرنا چاہیے کہ وہ نو ماہ کس پوز اورکس پوزیشن میں کہاں پڑا رہا اورپیدائش کے بعد اس کی کیا حالت تھی۔
آپا زہرا سے میرا تعلق تقریباً بیس برس قبل قائم ہؤا جب انہوں نے اپنے ڈاکٹر فرزند کے لیے میری بڑی بیٹی کا رشتہ لیا ۔ وہ ایک عام عورت نہ تھیں ۔انہیں دیکھ کر، اُن کے پاس بیٹھ کر اوران سے معاملات طے کرکے معلوم ہوتا تھا کہ خاندانی بیبیاںکیسی ہوتی ہیں ۔ اعوان تھیں ، شخصیت میں رعب تھا اوردبدبہ ۔قوتِ فیصلہ میں کئی مردوں سے آگے تھیں۔میں وہ منظرنہیں بھول سکتا جب تقریب کے اختتام پررخصتی کا وقت آیا تومیری بیٹی کے سراورکندھوں پرپہلے انہوں نے چادر ڈالی ، کبھی ایسا نہ ہؤا کہ ہم گئے ہوں اور آتے ہوئے ہمارے ڈرائیورکو انہوں نے اچھی خاصی رقم نہ دی ہو۔ نصف درجن ملازم مستقلاً ان کے ہاں تین وقت کا کھانا کھاتے تھے اورکھانا بھی ایسا جیسے مہمانوں کے لیے ہوتا ہے ۔ بے پناہ مہمان نواز تھیں ۔ ملاقاتی کو یا مہمان کو تحائف دے کررخصت کرتی تھیں۔دو تعزیتی فقرے کبھی نہیں بھولتے ۔دادی جان کی وفات ہوئی تو میرے علاقے کی ایک بزرگ خاتون ( بریگیڈیئر زرین خٹک کی والدہ) نے مجھے روتا دیکھ کر کہا ’’ رو کیوں رہے ہو ؟ توکیا اب ہم مریں بھی نہیں ؟‘‘ جب والدگرامی نے کُوچ کیا تو آپا زہرا نے مجھے جتلایا ’’ محروم ہوگئے نا؟‘‘ آج بھی یہ فقرہ یاد آتا ہے تو چشمہ اُبل پڑتا ہے ۔
مگرآپا زہرا کااصل کام اورتھا ، وہ بلند پایہ عالمہ تھیں ، نہ صرف عالمہ بلکہ ایک لائق معلمہ بھی ۔ عالمہ فاضلہ ہونا اوربات ہے اورساتھ معلمہ ہونا یکسرمختلف، ساری زندگی قرآن کی تدریس کی ، ہزاروں خواتین نے اکتسابِ فیض کیا ۔آپا کے بچے جہاں رہیں یا جہاں جائیں کوئی نہ کوئی خاتون انہیں ملتی ہے اور بتاتی ہے کہ اس نے قرآن کے رموز واسرار ان کی امی جان سے سیکھے یا کوئی مرد بتاتا ہے کہ اس کی ماں یا بہن یا بیوی ان کی شاگرد تھی ۔ایک وقت وہ بھی تھا جب آپا زہرا پچپن (55) سکول چلا رہی تھیں اور ہرسکول کا معائنہ اورنگرانی خود کرتی تھیں ۔کئی ٹرسٹ اُن کی نگرانی میں چل رہے تھے ۔ غیرمسلم خاتون نے ان کے ہاتھ پراسلام قبول کیا تو اُسے اپنے گھر میںگھرکا فرد بنا کررکھا ۔پھر شادی کی اوربہت کچھ دے دلا کررخصت کیا ۔ جنازے میں ان کی شاگرد خواتین کے شوہروں اور بیٹیوں کا اژدہام تھا ۔ مٹی ڈالنے کے بعد ، قبر پر ، عموماً پیشہ ور حفاظ سے تلاوت کرائی جاتی ہے ۔آپا زہرا کے فرزندوں نے ، جو دنیاوی اعتبار سے اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں اورفائز رہے ہیں ، خود تلاوت کی ،انہیں ایسا ہی کرنا چاہیے تھا کیونکہ وہ آپا زہرا کے بیٹے تھے ۔ مرحومہ نے بیٹیوں کو بھی اعلیٰ تعلیم دلائی۔ علم وادب اس گھر کا سب سے بڑا اثاثہ تھا ۔ ان کے مرحوم شوہر ، جونسلاً یوپی کے روہیلہ پٹھانوں میں سے تھے ، اپنے وقت کے سب سے بڑے روزنامے ’’ کوہستان‘‘ کے چیف ایڈیٹرتھے اورکئی کتابوں کے منصف ۔
مرنا تو سب نے ہے ۔
آخر سب اپنی اپنی سنا کر ہوئے خموش
تھی داستاں طویل توکیا ، مختصر توکیا
مگر جس طرح انسان اورانسان میں فرق ہے اسی طرح مرنے اورمرنے میں بھی فرق ہے ۔ بعض کی موت سے لوگ سکون کا سانس لیتے ہیں اورخس کم جہاں پاک کا نعرہ لگاتے ہیں ۔ بعض مرتے ہیں تولاتعداد لوگ ان کی موت کو اپنا ذاتی نقصان سمجھتے ہیں ۔معلوم نہیں کس کا ہے مگرقطعہ بے مثال ہے :
یاد داری کہ وقت ِ زادنِ تو
ہمہ خنداں بُدند و توگریان
آنچناں زی کہ وقت مردنِ تو
ہمہ گریاں بوند و توخندان
کالم کا دامن تمام ہؤا ۔ ترجمہ پھرکبھی۔
روزنامہ دنیانیوز جنوری2024
٭…٭…٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp