قارئین کرام سلام مسنون!
حج اور قربانی کے مناسک اس بارشدت کی گرمی میں آئے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ان جسمانیاورمالی عبادات کو قبول و منظور فرمائے اور اپنے بندوں کااجر محفوظ کرلے۔آگ برساتے موسم میںسڑک پہ چلنے والوں ،محنت مزدوری کرنے والوں کا خیال رکھنا، ان سے نرمی سے پیش آنا، ان کےلیے آسانی کرنا وہ کم سے کم صدقہ ہے جو ہم اپنی سہولتوں بھری زندگی کے بدلے دے سکتے ہیں ۔ملک میں گندم کی پیداوار سے متعلق ایک نیا بحران پیدا ہو گیاہے۔ پنجاب حکومت نے سرکاری سطح پرگندم خریدنے سے انکار کر دیا ہے۔طلب کم ہونے سے گندم کی قیمت لاگت سے کم پہ چلی گئی ہے جس کی بنا پہ کسان طبقہ بے حد پریشان ہے۔اکثر کسان قرض لے کرفصلیں اگاتے ہیں اور فصل بکنے پر ادائیگی کرتے ہیں۔ان کی دن رات کی محنت رائگاں جارہی ہے۔ہمارے ملک کی معیشت زراعت پر کھڑی ہے۔ کسان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔نیز ہماری آبادی کی بڑی اکثریت کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔کسان کو خوشحال رکھنا اور زرعی شعبے کے لیے دانشمندانہ پالیسیاں بنانا بہت اہم ہے۔ ہم جو پہلے ہی بیرونی امداد پہ چل رہے ہیں، حکومتی سطح پر کسان دشمن اقدامات سے خود کومزید کیا نقصان پہنچائیں گے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اوپر سے کسانوں کے احتجاج پر گرفتاریاں اور چھاپے مارنےکا رویہ ہے جو بے حد قابلِ مذمت ہے۔ ناجائز ریاست اسرائیل کی قابض فوج نے رفح کے علاقے میں جسے محفوظ قرار دیا گیا تھا، پناہ گزین شہریوں پر میزائل برسا کراپنی بدبختی کا مزید ثبوت دیا کیا ہے۔غاصب اسرائیلی دہشت گرداپنے جرائم کی فہرست طویل کر کے اپنے خلاف مقدمہ خود مضبوط کررہے ہیں۔ دنیا میں جہاں جہاں بھی انسان کا ضمیر بیدار ہے ، اسرائیل کی طرف سے جاری قتلِ عام کے خلاف لوگ بپھرے ہوئے ہیں۔ بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب،لوگ فلسطینیوں کے حق میں ڈٹ کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ مزید خوش آئند یہ ہے کہ ریاستی سطح پر فلسطین کی حمایت میں اضافہ ہورہا ہے۔ یورپ کے اہم ممالک فلسطین کے حق میں بول پڑے ہیں اور اس کے وجود کو اقوام متحدہ میں تسلیم کررہے ہیں ۔خصوصاًناروے کی حمایت بہت معنی رکھتی ہے کیونکہ یہ اوسلو معاہدہ تھا جس کے تحت یاسر عرفات نے مغربی کنارے پر 1967کےناجائز قبضے کے مطابق اسرائیل کا جزوی حق تسلیم کرلیا، اس امید پر کہ وہ بقیہ بچے کھچے فلسطین کو آزاد مملکت کے طور پہ تسلیم کروالیں گے۔مگر آنے والے وقت نے ثابت کیا کہ قدم جمانے کے بعد اسرائیل ظلم میں مزید بڑھتا گیا،دو ریاستی حل کے ساتھ ساتھ امن بھی ایک کبھی نہ پورا ہونے والا خواب اور ایک ناکام حسرت بن کر رہ گیا۔اب یہی ناروے آخرکار اسرائیلی فوج کی درندگی پر چیخ اٹھا ہے۔1991سے اب تک یہ حقیقت بار بار ثابت ہوچکی ہے کہ اسرائیلی توسیع پسندانہ عزائم کے سامنے دوریاستی حل ناممکن العمل ہے۔یہ وہ ملک ہے جس کی پارلیمان پر کندہ ہے کہ اے اسرائیل تیری سرحدیں نیل سے فرات تک ہیں۔دوسری طرف فلسطینی اپنی زمین کے ایک انچ سے بھی دست بردار ہونے کو تیار نہیں، اور جب تک ان کا یہی موقف رہے گا، ہمارا بیانیہ اور موقف بھی یہی ہونا چاہیے۔قائد اعظم کا بھی یہی دوٹوک اصولی فیصلہ تھاجس کےمقابل بین الاقوامی طاقتوں کا کوئی حکم ہمیں منظور نہیں ہونا چاہیے۔ اسرائیل کا ساتھ دینے والے ممالک کے اپنے عوام اپنی حکومتوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ فرانس، جرمنی اور امریکہ میں بڑے بڑے مظاہرے ہورہے ہیں جواسرائیل کی حمایت اوراسے ہتھیاروں کی فراہمی پر اپنی حکومتوں سے ناراض ہیں۔امریکی یونیورسٹیاں جنہیں صیہونی ادارے فنڈ کرتے ہیں، فلسطین کے نعروں سے گونج اٹھی ہیں۔اورانتہائی ترقی یافتہ سیکولر لبرل حکومتیں،کیمپس میں اظہار رائے کرنے والے طلبہ کے ساتھ،تیسری دنیا کے فرسودہ اور رجعت پسند معاشروں کی تنگ نظر حکومتوں کا سا سلوک کرنے پر اتر آئی ہیں۔ وہی پکڑ دھکڑ،وہی جابرانہ ہتھکنڈے، وہی ڈگریاں روک لینا،وہی عدم برداشت۔افسوس کہ انصاف، رواداری، انسانی حقوق اور آزادی پر مبنی ان کی تمام جمہوری اقدار اس ریلے میں بہہ گئی ہیں اورحق و باطل کے اس معرکے نے ان کی اصل دنیا کو دکھا دی ہے۔یہ بہترین وقت ہے کہ پاکستان فلسطین کو تسلیم کرنے والے تمام 146ممالک کی کانفرنس بلائے اور اس اشتراک کو مزید مؤثر بنانے کی پلاننگ کرے۔
ایک افسوسناک حادثے میں ایرانی صدرابراہیم رئیسی جاں بحق ہوگئے۔ ایرانی قوم کو شدید صدمہ پہنچاہے۔صدر رئیسی نے ایران پر پابندیوں کے بعدبڑی کامیابی سے غیرمغربی ممالک سے تعلقات بڑھائے اور ملک کی ترقی کو ممکن بنایا۔ ایران کے نیوکلئیر پروگرام کو کامیابی سے آگے بڑھانے میں بھی ان کا کردار مثالی رہا۔سادہ زندگی بسر کرنے والے درویش صفت انسان تھے۔ مستقبل میں ان کو روحانی لیڈرعلی خامنہ ای کا جانشین سمجھا جارہا تھا۔اللہ تعالیٰ ان کو غریقِ رحمت کرے آمین۔
حمیدہ شاہین کی خوبصورت غزل کے ساتھ اجازت اگلے ماہ تک بشرطِ زندگی۔
چڑیاں ترے سب کھیت چگے جائیں ہمیں کیا
جو مفت لگا ہے وہ سبھی کھائیں ہمیں کیا
جب شہر تمنا سے اسے بھیج دیا ہے
اب لوگ جہاں بھی اسے ٹھہرائیں ہمیں کیا
جن کو تری سرکار میں درکار ہے مسند
وہ اونچے سُروں میں ترے گن گائیں ہمیں کیا
اک سیدھ میں چلنے کا سلیقہ نہیں سیکھے
اب جائیں کبھی دائیں کبھی بائیں ہمیں کیا
اس خوف سے رخصت نہیں چاہی کبھی ہم نے
جھلّا کے وہ کہہ دیں کہ ارے جائیں ہمیں کیا
دعاگو، طالبہِ دعا
صائمہ اسما