یادش بخیر یہ انیس سو اسی کی دہائی تھی جب میں نے میٹرک کا امتحان دیا۔ جہانیاں کوئی پسماندہ علاقہ نہیں تھا کہ وہاں کالج ،یونیورسٹی کاقیام مشکل تھا اور نہ ہی اتنا چھوٹا کہ وہاں اعلٰی تعلیم کے دروازے بند رہتے ۔جہانیاں سے کہیں زیادہ پسماندہ اور چھوٹے علاقوں میں اس وقت ہائی سیکنڈری سکول اور کالجز قائم تھے۔مگر جہانیاں شہر میں لڑکیوں کے لیے ہی نہیں لڑکوں کے لیے بھی میٹرک کے بعد کوئی کالج نہیں تھا اور نجی تعلیمی ادارے جو آج کھمبیوں کی طرح پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں ان کا آغاز نہیں ہؤا تھا۔
وجہ صرف اور صرف ایک ہی تھی اور وہ تھی مخصوص جاگیر دارانہ سوچ کہ عوام الناس کے بچے بھی پڑھ لکھ گئے تو ہمارے بچوں کے مقابلے میں آجائیں گے۔ یوں میں نے جب میٹرک کا امتحان پاس کیا تو اچھے نمبروں کے باوجود مزید تعلیم ممکن نہ تھی۔آمدم بر سر مطلب ،بسوں ویگنوں پر لٹک لٹکا کر دوسرے شہروں میں بغرض تعلیم روزانہ دھکے کھاتے ہوئے جانے کی ہمت نہیں تھی اور ہاسٹل میں رہنے کی گھر والوں کی طرف سے اجازت نہیں تھی۔اب قانتہ جائے تو کہاں جائے اور کرے تو کیا کرے !
ایسے میں قدرت نے ہاتھ تھام کر تحریک کے حوالے کر دیا۔ طبیعت میں شروع سے بڑوں کی صحبت میں رہنا تھا لہٰذا جمعیت کی بچیوں کا ساتھ بہت مختصر سا رہا۔خاندان میں بھی چچازاد ماموں زاد یا خالہ زاد بہنوں کی بجائے ماموں وحید ،رشیدہ چچی سے قلبی تعلق رہا۔ اس وقت حلقہ خواتین کی سربراہ محترمہ نیّر بانو صاحبہ تھیں، دیدہ ور اور جہان دیدہ! ان کی نظریں ایکسرے کی طرح مخاطب کی صلاحیتوں کو اندر سے بھانپ لیتی تھیں۔ یوں قرعہ فال ان کے نام نکلا اور میں اوائل عمری میں ہی جماعت کو پیاری ہوگئی اور خالہ ام زبیر ،نیّر بانو ،آپا زبیدہ بلوچ ،بلقیس صوفی سے ہوتی ہوئی زہرا وحید کے اخلاق کی گرویدہ ہو گئی۔
ہر ایک کا الگ مزاج الگ اطوار۔ بیٹی مجھے آپا نیّر بانو نے بنایا، دن رات کا ساتھ رہا، انہوں نے بہت محنت کی مجھ کم فہم اور کم علم کے لیے لیکن ان سے آخر تک دل کی بات بلا جھجھک کرنے میں کوئی چیز آڑے آتی رہی۔ میں بس خاموشی سے انہیں تکتی رہتی تھی انہیں سنتی رہتی تھی۔آپازبیدہ بلوچ سے بس چند ایک ملاقاتیں رہیں۔ وہ صحیح معنوں میں اقبال کے کلام کا فہم رکھتی تھیں اور نسبتاً سنجیدہ کم گو جبکہ بلقیس صوفی کی تو صورت ہی مرعوب کرنے کے لیے کافی تھی، ان سا جاہ و جلال میں نے بہت کم خواتین میں پایا۔ دبنگ اور دو ٹوک بات کہنے کی عادی۔
مجھے چاہیے تھی ایسی خاتون جو عمر علم عمل سب میں بہت آگے ہو لیکن سہیلیوں کی طرح! عمر چاہے جو بھی ہو ،چلے گا۔کہنے کو میناؔ پھپھو سے بھی دل کا رشتہ تھا لیکن ان کی نفیس اور شاعرانہ فطرت ،میری چلبلی عادات۔اس کے علاوہ ان کا شین قاف ان کی نستعلیق گفتگو…بات چیت کے آگے بند بن جاتی۔
زہرا وحید سے ملاقات ہوئی، ان کے اندر وہ ساری خوبیاں تھیں جو مجھے ایک ہمراز بنانے کے لیے چاہیے تھیں اور سب سے بڑا ان کا پنجابی ہونا!
بس جب لاہور جانا ہوتا تو ان سے ملاقات کے بغیر واپس آنا ناممکنات میں سے تھا۔ملتان روڈ پر منصورہ کی بستی آباد ہو چکی تھی مرکز کا قیام بھی عمل میں آچکا تھا لیکن خواتین کے دن میں ہونے والے پروگرام بخوبی ہوتے۔ مرکزی قیادت کے لمبے قیام کے لیے ابھی بہت سا کام باقی تھا ایسے میں کئی مرتبہ انہی کے گھر میں رہائش کا موقع ملا۔
ان کا گھر کیا تھا بڑے سے برآمدے اور کمروں والی پکی حویلی جہاں ہر سائز اور ہر عمر کی شہزادیاں پائی جاتیں۔ایک دو مرتبہ کے قیام کے بعد مجھے ان میں سے راحیلہ سے انسیت ہوگئی ۔بس کبھی زہرا خالہ اور کبھی راحیلہ ،دنیا کے ہر موضوع پر میں بے تکان بولتی، انٹ شنٹ بولتی ، بے سروپا ،لیکن اس وقت میں یہ سوچ کر ہواؤں میں اڑ رہی ہوتی تھی کہ یہ سب مجھےسنتے ہیں ،شوق سے سنتے ہیں تو کچھ نہ کچھ تو ہے ناں!
ان کے گھر میں جوان بچیاں تھیں اور وہ ان کی تعلیم تربیت سے ایک لمحہ کے لیے غافل نہیں تھیں۔ ان کی بچیوں کے منہ سے سلجھی گفتگو ، کھانا بنانے سے صفائی ستھرائی تک میں ان بچیوں کو متحرک دیکھتی ،ہمہ وقت کاموں میں مصروف نئے نئے پکوان بنانا اور کھلانا، مزید اپنے سکول پلس مدرسہ کو چلانا ،آج بھی وہ رات کا کھانا یاد ہے جس میں ان کی بیٹیوں نے کھانے کے بعد بطور سویٹ ڈش شکرقندی کا حلوہ بنایا۔ آپانیّر بانو نے اس کی باقاعدہ ترکیب پوچھی۔حلوہ سے بھرا وہ ڈونگہ منٹوں میں خالی ہوگیا تھا۔
ایک ڈیڑھ درجن افراد پر مشتمل کنبہ کے انتظامات اوراس کے باوجود تحریک کے کاموں میں سب سے آگے رہتیں۔لاہوری ہونے کے ناطے کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو بطور میزبان زہراخالہ ہی منگواتی تھیں۔ ڈرائیوروں سے ان کا اخلاق بہت اچھا ہوتا، ہر ایک کی مدد کے لیے پیش پیش رہتیں۔ قدرت نے انہیں ہر فن مولا قسم کی صلاحیت عطا کی تھی۔ میں نے انہیں جلال میں بھی دیکھا اور جاہ و جلال میں بھی ،ان کے انداز میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔مشورے بہت عمدہ دیتی تھیں۔ ہنسنے والی باتوں پر بے ساختہ ہنستیں۔ ان کی فطرت میں کنجوسی نہیں تھی ۔ان کی نظر میں ہر ایک کے لیے ممتا کی شفقت تھی۔ اگر ان کی شخصیت پر چند جملے لکھنے کا کہا جائے تو پہلا فقرہ یہی ہوگا کہ وہ ’کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو عقاب کی نظر ‘پر عمل پیرا تھیں۔شاید اسی لیے قدرت نے انہیں آدھی درجن سے زائد بچیوں کی ماں بنایا کہ ان کے ہاتھوں سے نسلوں کو سنوارنے والی بچیاں تربیت پائیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ منصورہ مرکز کا قیام عمل میں آچکا تھا اور میں نیّر بانو مرحومہ کے ساتھ ہی تھی۔ میں نے اس وقت کے مشہور جرسی کپڑے کا گرے رنگ کا نیا سوٹ پہنا تھا۔ درزن سے جب کپڑے وصول کیے تو لاہور کی روانگی کا وقت تھا ،بغیر دیکھے بیگ میں رکھ لیے اور جب وہاں قمیص پہنی تو مجھے اس کا گلا کافی کھلا محسوس ہؤا ۔دوپٹہ گردن کے گرد لپیٹ کر مطمئن ہوگئی۔ کسی کام کے لیے جھکی تو دوپٹہ کھسک گیا۔لا ابالی عمریااور بے دھیانی میں کام میں مگن رہی۔ ایک دم ان کی سخت لہجے میں آواز سنائی دی۔
’’قانتہ ،دوپٹہ صحیح کرو یا سوٹ بدل لو‘‘۔
آپ یقین کریں کہ اس وقت مجھے ان کا ٹوکنا قطعی برا نہیں لگا بلکہ دل میں توقیر بڑھ گئی۔
ایسے ہی ایک اور موقع پر جب میں مرکزی قیادت کے ساتھ ان کے گھر میں تھی تو رات گئے تک ہم باتیں کرتے رہے۔ ان کی باتیں ان کی زندگی کا نچوڑ تھیں۔ رشتے ناطوں کے سلسلے میں ان کی دو ٹوک رائے، طرز حیات کیا ہونا چاہیے ،مجھے ان کی باتوں میں سچائی نظر آئی۔
بہت مدت تک میں ان کے گھر میں جاتی رہی ۔کئی مرتبہ رات رہنے کا بھی موقع ملا لیکن میں نے کبھی ان کے بیٹوں کی جھلک تک نہیں دیکھی تھی ،بے حد محتاط رہتیں۔ پھر سکول پلس مدرسہ کی بچیوں کے لیے مطالعہ کروانا ان کی دل پسند کتب فراہم کرنا ،مجھے سلمٰی یاسمین نجمی کی طرف سے نئی نکور’’ بوئے گل ‘‘تحفہ میں ملی وہ انہوں نے بچیوں کے لیے مجھ سے عاریتاً لی۔ لیکن سال ایک بعد واپس ملی تو اس کا حلیہ بتا رہا تھا کہ یہ کتاب کم از کم سو ایک ہاتھوں میں ضرور رہ چکی ہے ۔جلد سلامت تھی لیکن مسلسل ورق گردانی کی وجہ سے اس کے صفحات بوسیدہ ہوچکے تھے، کسی کسی جگہ پر جملے نشان زد بھی تھے۔خیر میری چار دہائیاں قبل کی یادوں میں ان کابیٹیوں سے زیادہ بیٹوں کے اچھے جوڑ کے لیے فکر مند ہونا تھا ۔ممکن ہے وجہ یہی ہو کہ بیٹیاں تو نظروں کے سامنے رہتی ہیں بیٹیوں کے مزاج کا علم ہوتا ہے لیکن بیٹوں کے لیے ہم مزاج جوڑ ڈھونڈناہمارے معاشرے میں اتنا اہم نہیں سمجھا جاتا۔
ایک دو مرتبہ انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی کی کسی خاص موقع پر اونچ نیچ کا بھی تذکرہ کیا تھا۔ شاید اس کی بھی وجہ یہی ہو کہ میرے جیسی لڑکیاں جو ان کو بہت بڑے لوگوں میں شمار کرتی ہیں انہیں آئیڈیلائز کرتی ہیں تو یہ بتانا کہ ازدواجی زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے ،میاں بیوی میں سو مواقع پر اختلاف ہوتے ہیں سمجھدار بیویاں ایسے مواقع پر حکمت کے ساتھ اختلاف رائے کا حق استعمال کرتی ہیں۔
1989ء میں مئی کی پچیس تاریخ کو میری زندگی کا دوسرا باب شروع ہؤا ۔اس کے بعد بہت مدت تک پرانے روابط بحال نہ ہوسکے۔ سابقہ مشاغل منقطع ہوئے، دانہ خاک میں مل جب گل و گلزار ہؤا تو تنظیمی سیٹ اپ نئے تروتازہ لوگوں کے پاس آ چکا تھا۔ جب کبھی کسی پروگرام میں شرکت کا موقع ملا تو نظریں انہی چہروں کو ڈھونڈتی رہیں۔بہت سے سال یونہی گزر گئے اور پھر ایک دن پتہ چلا کہ دھند آلود سرد دنوں میں وہ بھی تہہ ِخاک سو گئیں۔ آسمان ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے، ان کی سیئات سے درگزر فرمائے اور ان کی حسنات کو بڑھ چڑھ کر قبول فرمائے آمین۔
٭٭٭