مصائب پر صبر – قانتہ رابعہ

کوئی تبصرہ نہیں

صبر اللہ کی راہ کا بہترین توشہ ہے، کیونکہ یہ راہ مشکلات اور کانٹوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہ طویل اور پر مشقت راستہ ہے جس میں جگہ جگہ ابتلاو آزمائش ہے۔ہر جگہ چوٹ ،اذیت اور جان کی قربانی کے مواقع ہیں، اور بار بار ایسے مقامات آتے ہیںجہاں صبر کی ضرورت پیش آتی ہے۔انسانی خواہشات پر صبر، نفس کے مرغوبات پر صبر، ہر قسم کی طمع و لالچ اور آرزؤوں پر صبر، اپنے ضعف اور نقص پر صبر، مزاج کے انحراف پر صبر، نفس کی جلد بازی اور افسردگی پر صبر، کرب اور بے چینی کے اوقات میں شیطانی وسوسوں پر صبر اور تمام انفعالات اور نفسیاتی تاثرات پر صبر!
صبر مومن کے دل کی خوب صورتی اور زینت کو بڑھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے صبر کرنا اور تکالیف و ایذائیں برداشت کرنا درجات کو بلند کرتا ہے۔
رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’صبر ایک روشنی ہے‘‘۔(متفق علیہ)
مزید فرمایا: ’’جو صبر کی کوشش کرے، اللہ اسے صبر عطا کرتا ہے اور صبر سے بہتر اور وسیع کسی کو کوئی چیز نہیں ملی‘‘۔ (رواہ البخاری)
صبر کی صورتیں
صبر کی کئی صورتیں ہیں:
ث ابتلاوآزمائش پر صبر؛ یعنی نفس کو غصّے اور جزع فزع سے روکنا۔
ث نعمتوں پر صبر؛ یعنی نفس کو شکر میں قید کر لینااور اللہ کی نافرمانی اور سرکشی سے بچانا۔
ث اطاعت پر صبر؛ اور اس میں مداومت اختیار کرنا اور اس کی حفاظت کرنا۔
ث معاصی پر صبر؛ اپنے نفس کو گناہ اور عصیان سے روک کر رکھنا۔
مومن کی زندگی صبر سے مربوط
اس دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جسے ابتلاء اور آزمائش کا سامنا نہ ہو، لیکن مومن کی زندگی سراپا خیر ہے۔حضرت صہیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’مومن کا معاملہ بھی خوب ہے، اس کا معاملہ سراسر خیر ہے، اور ایسا مومن کے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں۔جب اسے خوشی ملی تو اس نے شکرادا کیا،یہ شکر اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ اور اگر اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور یہ صبر اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ (رواہ مسلم،۲۹۹۹)
آزمائش پر صبر پیروں تلے آ جانے والے کانٹوں کی تکلیف کو کم کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور ہم ضرور تمہیں خوف وخطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے۔ اور (ان حالات میں) صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیں‘‘۔ (البقرۃ،۱۵۵)
صبر مومنین کی تربیت کرتا ہے۔ اسی لیے مومن کو مصائب کی بھٹی سے گزارا جاتا ہے۔ خوف وخطر میں مبتلا کر کے جان و مال کا تقصان دے کر، اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے اللہ طالبِ صادق کے عزمِ صمیم کا امتحان لیتے ہیں۔
اگر مصائب پر صبر کی تربیت نہ ہو تو کوئی مومن تکلیف برداشت نہ کرے اور وہ اس نظریے ہی کو چھوڑ دے جو کانٹوں کی راہ ہو۔یہ راستے کے مصائب ہی توہیں جو کسی نظریے کو عزیز تر از جان بنا دیتے ہیں۔ مصائب پر مومنین کا صبر مخالفین کو بھی اس نظریے کی جانب متوجہ کرتا ہے۔ لوگ ان کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں اور خود بخود اس کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں اللہ کی مدد اور نصرت آ پہنچتی ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو مصیبت سے دوچار کر دیتا ہے‘‘۔ (رواہ البخاری،۵۶۴۵)
دنیا کے مصائب وآلام اور تکلیفیں، بیماری، فقر، غربت اور جان و مال کا نقصان وغیرہ مشکل معاملات ہیں مگر ان میں مومن کے لیے بھلائی کا پہلو بھی ہے۔ بندہ مصائب میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس کی دعائیں اور التجائیں اسے رب کے قریب کرتی ہیں اور مصائب پر صبر گناہ جھاڑنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
مصائب میں مومن کا رویہ
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو‘‘۔ (المدثر،۷)
رسول اللہ ؐ کو ابتدائی دور ہی میں یہ تلقین کی گئی، کیونکہ دعوتِ اسلامی کی راہ میں صبر ہی اصل ساز و سامان ہے۔یہ ایک چو مکھی لڑائی ہے۔ ایک طرف اپنی خواہشات اور میلانات کے خلاف جنگ اور دوسری جانب اسلام کے دشمنوں کے خلاف معرکہ آرائی کرنا ہوتی ہے۔
رسول ِ کریم ؐ کی دعوتِ حق کی آواز بلند ہوتے ہی با اثر طبقات نے جو بے ہودگی اور بد تمیزی کی ایک مہم شروع کر دی تھی اس کا جواب غم و غصّہ اور جھنجھلاہٹ سے دینے کے بجائے شریفانہ صبر کرنے کا نادر نسخہ بیان کیا گیا۔
’’اور جو باتیں لوگ بنا رہے ہیں ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ ان سے الگ ہو جاؤ‘‘۔ (المزمل،۱۰)
یقیناً صبر بہترین ڈھال بھی ہے اور بہترین اسلحہ بھی! صبر بہترین قلعہ اور پناہ گاہ ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا وہ مومن بندہ جس کی محبوب ترین چیز میں واپس لے لوں ، پھر وہ ثواب کی نیت سے (صبر ورضا کا مظاہرہ کرے) اس کے لیے میرے پاس جنت کے سوا کوئی بدلہ نہیں ہے‘‘۔ (رواہ البخاری،۶۴۲۴)
محبوب چیزوں میں اولاد، بیوی، والدین وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی وفات کو اللہ کا حکم سمجھ کر قبول کرنا اور جزع فزع نہ کرناایمان کی علامت ہے۔ آپؐ کے پیارے بیٹے ابراہیم وفات پا گئے تو آپ کے صابرانہ کلمات کچھ یوں تھے: ’’بے شک آنکھ آنسو بہاتی ہے، اور دل غمگین ہوتا ہے، اور زبان وہی کہے گی جو اللہ کو پسند آئے۔ اے ابراہیم ہم تیری جدائی پر غمزدہ ہیں‘‘۔ (متفق علیہ)
اذیتوں پر صبر
رسول اللہ ؐ کا اخلاق صبر سے مزین تھا۔آپؐ کو دشمنانِ دین نے اذیتیں پہنچائیں، مگر آپؐ نے صبر کیا اور اپنی ذات کی خاطر بدلہ نہیں لیا، الا یہ کہ اللہ کی حرمتوں کو توڑا گیا ہو۔اور جب آپؐ کی قوم کی جانب سے اذیتیں بڑھ گئیں تو آپؐ نے ان سے نرم رویہ اختیار فرمایا، انہیں ہدیے بھی عطا فرمائے۔جب طائف کے دن آپؐ سے انتہائی بدسلوکی کی گئی، اور آپ کا بدن لہولہان ہو گیا، اور آپؐ نے ایک باغ میں پناہ لی تو پہاڑوں کے فرشتے نے حاضر ہو کر عرض کیا: ’’اے محمدؐ! آپؐ کہیں تو میں (مکہ کے پہاڑ) بو قبیس اور قعیقعان کو ان پر الٹ دوں؟ آپؐ نے فرمایا:’’ نہیں، بلکہ میں اللہ سے امید کھتا ہوں کہ وہ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا کرے گا جو اللہ وحدہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں گے‘‘۔
مرض پر صبر
ہر تکلیف پر صبر کا اجر ہے، اور بعض امراض پر صبر جنت میں داخلے کا ذریعہ بن جاتا ہے، جیسے آنکھوں کی بینائی ختم ہو جانا۔ایک عورت رسول اللہ ؐ کے پاس آئی اور درخواست کی، کہ مجھے مرگی کا مرض ہے، آپؐ میرے لیے شفا کی دعا فرمائیے۔ تو آپؐ نے اسے صبر کرنے پر جنت کی بشارت دی۔ اس نے کہا پھر میرے لیے دعا فرمائیے کہ اس مرض میں میرے ستر کی حفاظت رہے۔
تنگ دستی پر صبر
بندۂ مسلم تنگ دستی پر صبر کرے تو یہ صبر اس کے لیے نافع ہے۔ اور اپنی ہر تکلیف پر گھبراہٹ اور جزع فزع کے بجائے اللہ کو اپنی حالت بیان کرے اور اسی سے کشادگی کی دعا مانگے۔ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ : ’’بھتیجی! ایک چاندکے بعد دوسرا اور تیرا طلوع ہو جاتا اورپورے دو مہینے اس حال میں گزر جاتے کہ رسول اللہ ؐ کے گھر میں چولھا نہ جلتا تھا۔ انہیں نے پوچھا: پھر آپ کا گزارا کیسے ہوتا تھا؟ فرمایا: ہمارا گزارا دو سیاہ چیزوں ، کھجور اور پانی پر ہوتا تھا‘‘۔(رواہ البخاری،۲۵۶۷)
پہلی چوٹ پر صبر
فقہاء کہتے ہیں: ایمان کے دو حصّے ہیں؛ نصف صبر ہے اور نصف شکر۔اور ایمان میںصبر کی حیثیت سر کی مانند ہے۔اور جس میںصبر نہیں وہ گویا بے سر کا جسم ہے۔حضرت عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں: ہم نے بہترین زندگی کو صبر کے ذریعے پہچانا‘‘۔صبر کرنے سے اللہ کاساتھ ملتا ہے۔’’اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے‘‘۔ (آل عمران،۱۴۶)
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صابرین کو تین بشارتیں دی ہیں: ’’اور خوشخبری سنا دیں صبر کرنے والوں کو، جنھیں جب کوئی مصیبت پیش آئے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی جانب ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایت ہو گی، اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رو ہیں‘۔ (البقرۃ،۱۵۵۔۱۵۷)
رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ صبر وہی ہے جو پہلی چوٹ پر کیا جائے۔حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے: ’’رسول اللہ ؐ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر پر رو رہی تھی۔آپؐ نے فرمایا: ’’اللہ سے ڈر اور صبر کر‘‘۔ وہ بولی: ’’آپؐ کو مجھ سے کیا؟ آپؐ کو وہ مصیبت نہیں پہنچی جو مجھے پہنچی ہے‘‘۔ وہ آپؐ کو نہیں پہچانتی تھی۔اسے بتایا گیا کہ آپؐ رسول اللہ ہیں۔ پھر وہ کچھ دیر بعد آپؐ کے پاس آئی۔اور بولی: ’’میں نے آپؐ کو پہچانا نہیں تھا‘‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’’صبر پہلی چوٹ پر ہے‘‘۔(سنن ابی داؤد،۳۱۲۴)
حق وباطل کی کشمکش میں صبر
صبر مضبوطی سے حق کو پکڑ لینے کا نام ہے۔ اس کے نتیجے میں مصائب کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور مشکلات کے بعد آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔وہ امت جسے پوری دنیا میں عدل قائم کرنا ہے اور پوری انسانیت کی امامت اور نگرانی کا فرضہ ادا کرنا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ صبر کی دولت سے مالا مال ہو۔
’’ جو تنگی اور مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راست باز لوگ اور یہی متقی ہیں‘‘۔ (البقرۃ، ۱۷۷)
اس میں حالتِ فقر اور حالتِ مرض اور بخار کی کیفیت مراد ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے جس بندے کو مرض سے آزمایاتو کوئی شک نہیں کہ میں اسے اس کے گوشت سے بہتر گوشت اور اس کے خون سے بہتر خون عطا فرماؤں گا۔اور میں نے اسے اپنے پاس بلا لیا تو اسے رحمت عطا کروں گا اور اسے شفا یاب کیا تو اسے عافیت عطا کروں گا، کہ اس پر کوئی گناہ نہ ہو گا۔ آپؐ سے پوچھا گیا: گوشت سے بہتر گوشت اور خون سے بہتر خون سے کیا مراد ہے: فرمایا: ایسا گوشت جس نے کبھی گناہ نہ کیا ہو اور ایسا خون جس نے کبھی گناہ نہ کیا ہو۔(الحاکم،۱۲۹۰)
صبر کی جزا
اہلِ ایمان کی پوری زندگی صبر سے عبارت ہے۔ ہوش سنبھالنے یا ایمان لانے سے مرتے دم تک ایک صابرہ زندگی گزارنامومن کا طریقہ ہے۔ وہ اپنی ناجائز خواہشات کو دباتا اور اللہ کی باندھی ہوئی حدوں کی پابندی کرتا ہے۔ اور استقلال کے ساتھ فرائض ادا کرتا ہے اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنا وقت، اپنا مال، اپنی محنتیں، اپنی قوتیں اور قابلیتیںحتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر اپنی جان تک قربان کر دیتا ہے۔ اللہ کے راستے میں حائل ہر خطرے اور تکلیف کو برداشت کر لیتا ہے اور ہر اس فائدے سے دست بردار ہو جاتا ہے جو حرام طریقے سے حاصل ہو۔اسے اللہ کے وعدے پر اعتماد ہوتا ہے کہ صبر کا بدلہ اسے دنیا ہی میں نہیںبلکہ مرنے کے بعد بھی ملے گا۔اور یہ بدلہ منزلِ بلند کی صورت میں ملے گا:
’’آج ان کے صبر کا میں نے یہ پھل دیا ہے کہ وہی کامیاب ہیں‘‘۔ (المؤمنون،۱۱۱)
یہ ایسا طرزِ عمل ہے جو مومن کی پوری زندگی کو صبر بنا دیتا ہے۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’(اللہ تعالیٰ) ان کے بدلے میں انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا کرے گا‘‘۔ (الدھر،۱۲)
مزید فرمایا: ’’صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا‘‘۔ (الزمر،۱۰)
صبر فراخی کی کنجی
دنیا میں مصائب پر صبر فراخی کی کنجی ہے۔ اللہ تعالیٰ’’ عسر‘‘ تنگی کے بعد یقیناً’’ یسر ‘‘فراخی عطا فرماتا ہے۔اور جو لوگ دعوت ِ دین کی راہ میں مشکلات اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں مشکلات کے ہجوم میں آسانی اور تنگ دستی میں فراخی عطا فرماتے ہیں۔حتیٰ کہ جنت عطا فرما کر اللہ تعالیٰ یہ نہ کہے گا کہ یہ تمہاری نماز، زکوٰۃ اور روزے کا بدلہ ہے بلکہ اسے ’’صبر کا بدلہ‘‘ کہے گا۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کی وسعت کے مطابق ہی ابتلا و آزمائش میں مبتلا کرتا ہے۔ سب سے زیادہ مصائب انبیاء علیھم السلام کو پیش آئے ہیں۔ جس قدر بڑی آزمائش ہو گی اسی قدر بلند اس کا صلہ ہو گا۔
سعد بن ابی وقاص روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ؐ سے پوچھا: ’’کس کی آزمائش زیادہ سخت ہوتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: انبیا علیھم السلام کی۔پھر جو ان سے قریب ہو، اور جو ان سے قریب۔ بندے کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔اگر اس کا دین قوی ہو تو اس کی آزمائش بھی شدید ہوتی ہے اور جس کے دین میں کمی پائی جاتی ہے اس کو ویسی ہی آزمائش آتی ہے۔ اور بندے پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں حتیٰ کہ وہ زمین پر اس حال میں ہوتا ہے کہ اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوتا‘‘۔(رواہ الترمذی؛الترغیب والترہیب،۲۲۱۔۴)
صبر کی تلقین
اسلامی معاشرہ انسانوں کو ایک ایسے مضبوط بندھن میں باندھتا ہے، جہاں وہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ اور بے نیاز نہ رہیں۔ اگر ان کا کوئی بھائی مصائب کا شکار ہو تو اسے صبر کی تلقین کریں۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ بندے کو جب بھی مصیبت پیش آئے اسے رسول اللہ ؐ کے مصائب کو یاد کر لینا چاہیے، کہ اتنے مصائب اور مشکلات کے باوجود آپؐ سب سے مسکرا کر ملتے تھے۔یہ احساس ہی بندے کی تکلیف کو کم کر دیتا ہے کہ اس مصیبت پر میں صبر کا دامن تھام لوں تو مجھے اللہ کی معیت ملے گی۔
صبر کی دعا
مشکلات کے ہجوم میں بندۂ مومن کا سہارا اللہ تعالیٰ ہے، وہی بندے کی ہمت بندھاتا ہے اور اسے صبر عطا فرماتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:’’صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو‘‘۔ (البقرۃ،۴۵)
فرعون کے دربار میں جادوگر حق شناسی کے نتیجے میں ایمان لے آئے اور فرعون نے انہیں قتل کی دھمکی دی تو انہوں اللہ کی جانب ہاتھ پھیلا دیے: ’’اے رب! ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں‘‘۔ (الاعراف،۱۲۶)
ث اے اللہ مجھے دائمی صبر عطا فرما۔
ث اے ہمارے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمارے قدم جما دے اورکافر قوم پر ہمیں نصرت عطا فرما۔
ثاے اللہ، ہمارے دنیا کے تمام غموں اور پریشانیوں کو دور فرما دے، اور آخرت میں ہمیں کشائش اور فراخی عطا فرما۔ ہمیں وہاں سے رزق دے جہاں سے گمان بھی نہ کیا ہو۔ہمارے گناہ اور قصور بخش دے، ہماری امیدیں تمام دنیا سے ہٹ کر تجھ ہی سے وابستہ ہیں۔
ث اے اللہ ہم اپنی تکالیف اورغموں کا تجھ ہی سے اظہار کرتے ہیں۔ تو ہمیں بھی سر بلندی عطا فرما اور امتِ مسلمہ کو بھی۔اسلام اور مسلما نو ں کو عزت اور تکریم عطا فرما، ان کی مدد فرما۔ دنیا کے تمام مستضعفین اور کمزوروں اور مجاہدین فی سبیل اللہ کی مدد فرما۔
ث اے اللہ غزہ کے معصوم شہریوں، محصور مسلمانوں اور مقہور باشندوں کی مدد فرما۔ ان کی ہر مشکل سے نجات اور اور تکلیف سے راحت عطا فرما۔آمین
٭٭٭

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp