جونہی ذہن ماضی کی طرف پلٹتا ہے آنکھوںکے سامنے ایک سراپا گھوم جاتا ہے ۔ بے حد خوبصورت ناک نقشہ گورا رنگ درمیانہ قد ایک بہت ہی خوبصورت پرسنیلٹی خوبصورت آواز اور سب کے ساتھ بہت محبت سے پیش آنا ۔یہ تھیں ہماری زہرہ آپا جو ہماری اماں جان کی شاگرد تھیں ، روزانہ ہمارے گھر 5۔ اے ذیلدار پارک آتی تھیں اورہماری اماں جان سے قرآن شریف کا ترجمہ پڑھتی تھیں۔
زہرہ آپا اچھرے کے گھر میں رہتی تھیں ۔ گھر کے چاروں طرف سبزیوں کے کھیت تھے اور درمیان میں اِکّا دُکاّ گھر تھے ۔ زہرہ آپا صبح کے وقت آتیں ، تقریباً دس بجے ہماری اماں جان ان کوقرآن شریف ترجمے سے پڑھاتیں، پڑھاتے وقت مجھے اور اسما کو بھی شامل درس کر لیا کرتی تھیں۔ہم تینوںقرآن شریف پڑھتے ، درمیان میں اِدھر اُدھر دیکھنے کی اجازت نہیںتھی ۔ اماںجان کا اصرار تھا کہ پورادھیان قرآن شریف کے ترجمے کی طرف ہونا چاہیے۔
جب ہم سبق سے فارغ ہو جاتے تو شام تک ہمارا کھیل کود کا وقت ہوتا تھا ۔ہم زہرہ آپا کے ساتھ چھپن چھپائی کھیلتے تھے ، رسّی کودتے تھے جھولا جھولتے تھے ۔ جب کھیل کود سے فارغ ہوجاتے تھے تو زہرہ آپا کے ساتھ مل کر علامہ اقبال کی نظمیں گاتے تھے مثلاً ’’ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری ‘‘ اور سب سے بڑھ کر یہ نظم :
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لیے
بادلو ہٹ جائو دے دو راہ جانے کے لیے
یادرہے کہ اس وقت ہمارے ابا جان جیل میں تھے اورگھر میں اداسی اور پریشانی کے ڈیرے تھے ۔
زہرہ آپا نے ہمیں سوئی میںدھاگہ پرونا سکھایا۔ ہماری امی ہمارے کپڑے کاٹ کردے دیتی تھیں اور زہرہ آپا ہمیںسلائی مشین سے وہ کپڑے سینے سکھاتی تھیں۔شلوار کےپائینچے بنانے ہمیں انہی نے سکھائے ۔ جب سردی آگئی تو انہوںنے ہمیںسویٹر بننے سکھائے۔ زہرہ آپا نے آپا کلثوم کے اسکول سے میٹرک کیا تھا اس لیے ہماری پڑھائی میںبھی وہ کافی مدد کردیا کرتی تھیں۔
اسی اثنا میں ابا جان جیل سے رہا ہو کر آگئے ۔ سارا گھر خوشیوں سے بھر گیا ۔ زہرہ آپا بھی بہت خوش خوش تھیں ۔ اسی عرصے میں آپا منور سلطانہ ( قلمی نام رخشندہ کوکب) بھی ترجمہ قرآن کی کلاس میںشامل ہو گئیں۔ ایک مرتبہ ابا جان نے کہا تھا کہ میں تین بیٹیوںکا باپ نہیںمیںپانچ بیٹیوںکا باپ ہوں، زہرہ اور منور سلطانہ بھی میری ہی بیٹیاں ہیں۔
ہمیںشدید جذباتی دھچکا اس وقت لگا جب زہرہ آپا کی شادی ہوئی ۔ جب زہرہ آپا دلہن بنی بیٹھی تھیں دلہن بن کر انہوں نے ایک دفعہ بھی میرے اور اسما کے ساتھ آنکھ نہیںملائی ۔ یقین نہیں آتا تھا کہ یہ وہی زہرہ آپا ہیںجو ہمارے ساتھ چھپن چھپائی کھیلتی تھیں ،جھولا جھولتی تھیں ، رسی ٹاپتی تھیں ہمارے ساتھ مل کرعلامہ اقبال کی نظمیں گاتی تھیں ۔ زہرہ آپا کی شادی کے بعدوہ سب مشغلے اور کھیل کود خواب و خیال بن گئے ۔
شادی کے بعد جب زہرہ آپا اپنی ساس صاحبہ کے ساتھ ہمارے گھر آئیں تو وہ ایک اور ہی شخصیت بن چکی تھیں ۔ ہم بڑی حسرت کے ساتھ دور سے انہیںدیکھ رہے تھے اور پرانے دن یاد کر رہے تھے ۔ ایک دن میںنے اماںجان سے کہا کہ جس طرح آپ نے زہرہ آپا کو ہم سے چھینا ہے کیا آپ منور آپا کو بھی ہم سے چھین لیں گی ؟ زہرہ آپا کی شادی کے بعد منورآپا ہم سے بہت پیار کرنے لگی تھیں، وہ ہماری اداسی کی وجہ سمجھتی تھیں ، ہمارے کپڑے سیتی تھیں ،سویٹر بنتی تھیںاور ہمیں کہانیوںوالی کتابیںلا کر دیتی تھیں۔
اب 5 ۔اے ذیلدار پارک کے پرانے دن یاد آتے ہیںتو دل میں اک ہوک اٹھتی ہے ۔ کہاںگئے وہ پرانے دن …. کہاں گئے وہ محبت کرنے والے لوگ ! بے اختیار یہ شعر ذہن میں آتا ہے۔
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
٭٭٭